نئی جنگ :بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے


حال ہی میں اسرائیل نے حزب اللہ پر سائبر پلس حملے کیے ، لبنان میں پیجرز، واکی ٹاکی، اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپ، ریڈیو ڈیوائسز اور سولر پینلز میں نصب بارودی مواد کے ذریعے دھماکوں میں 32 افراد شہید اور 3250 زخمی ہو گئے، سینکڑوں کی حالت تشویشناک ہے، بیک وقت بیروت، جنوبی اور مشرقی لبنان سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں سے مختلف مقامات پر آگ لگ گئی، ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے، سب سے زیادہ دھماکے دارالحکومت بیروت میں ہوئے جہاں 1850 افراد زخمی ہوئے، مرنے والوں میں لبنانی وزیر کا بیٹا بھی شامل ہے جبکہ زخمیوں میں حزب اللہ کے متعدد ارکان کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں شہری اور ایرانی سفیر بھی شامل ہیں۔

یہ حملے ”بوبی ٹریپ“ کے ذریعے کیے گئے۔ ڈیوائسز میں بیٹری سے منسلک دھماکہ خیز مواد پہلے سے ہی پروگرام میں نصب تھا۔ اسرائیلی جاسوس اداریے موساد نے پانچ ہزار افراد کو ٹارگٹ کیا جن کے زیر استعمال پیجرز تھے۔ حزب اللہ نے یہ پیجرز اس لیے درآمد کیے تھے کہ موبائل فون سے جڑے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے جن سے اسرائیلی فوج اور اس کے جاسوس ادارے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پیجرز تائیوان سے امپورٹ ہوئے۔ یہ ’گولڈ اپالو ”برانڈ سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم ان پیجرز کی تیاری یورپی کمپنی نے کی تھی۔ یہ پیجرز اسی سال لبنان پہنچے، جن کے پہنچتے ہی اسرائیلی اداروں نے انہیں ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ موساد نے پیجرز میں بارود رکھوایا اور اسے ایک ڈیجیٹل کوڈ کے ذریعے قابل دھماکہ بنا دیا بقول علامہ اقبال:

”بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے“

پیجر 50 اور 60 کے عشرے میں ایجاد ہونے والی ڈیوائس ہے، اسے 80 اور 90 کی دہائی میں عروج ملا۔ پہلی پیجر ڈیوائس 1949 میں امریکہ کے الفریڈ گروس نے ایجاد کی۔ 1959 میں آفیشلی موٹرولا، نے اس کا نام پیجر رکھا۔ 1994 میں 6 کروڑ سے زائد پیجرز استعمال ہونے لگے۔ اسے بیپر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی واقعے سے متعلق معلومات اور مختصر پیغام یا انتباہ بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے بنائے گئے۔ زیادہ تر پیجرز بیس اسٹیشن یا سینٹرل ڈسپیچ سے ریڈیو فریکوئنسی کے ذریعے پیغامات وصول کرتے ہیں، جو نمبرز یا ٹیکسٹ کی شکل میں ہوتے ہیں۔

یہ ٹیکسٹ میسج کی ایک ابتدائی شکل تھی۔ اس میں پیغام وصول کرنے والا مختصر جواب دے سکتا ہے۔ صارف کو موبائل فون کی طرح ایک بیپ یا وائبریشن سے پیغام کی اطلاع ملتی ہے۔ 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں پیجرز کا استعمال بہت زیادہ تھا۔ موبائل فون عام ہوا تو پیجرز کا استعمال کم ہونے لگا۔ نئی نسل اس ڈیوائس سے بہت کم واقف ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس میں کسی حساس ادارے نے پیجرز میں بم رکھا اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد سمارٹ واچ اور موبائل فونز اور دیگر مکینیکل ڈیوائسز کا استعمال بھی اسرائیلی جاسوس ادارے مستقبل میں مینوپلیٹ کر سکتے ہیں۔ ان دھماکوں نے ثابت کر دیا ہے کہ موبائل فون، پیجر اور دیگر ڈیوائسز میں موجود بیٹری کو معمولی سے تبدیلی اور ہیکنگ کے بعد دھماکہ خیز مواد میں بدلا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ ہمارے پاس ایسی تباہی پھیلانے والی مزید ٹیکنالوجی موجود ہے۔

اب تو دنیا میں مچھر نما روبوٹ سے کسی بھی دشمن کو بائیو کیمیکل کے ذریعے نشانہ بنا کر کلر پوائزن داخل کرنا بھی ممکن ہے اور یہ ٹیکنالوجی اتنی جدید ہے کہ یہ مچھر صرف اپنے مخصوص ہدف کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ اسرائیل نے دہشت گردی کو ایک نیا رخ دے دیا ہے وہ جدید ٹیکنالوجی سے پورے خطے میں سراسیمگی پھیلانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

بے لگام اسرائیلی دہشت گردی سے خطہ پہلے ہی آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے، او آئی سی کے 57 ممبرز جب تک اسرائیل کی منہ زور، دہشت گردی کو نکیل ڈالنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے، اسرائیل کی پیش قدمی روکنا ناممکن ہے۔ مستقبل میں جغرافیائی منظر نامہ بھی بدل سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ دھماکوں سے تباہ ہونے والے ہزاروں پیجر اسرائیلی فرنٹ کمپنی بی اے سی کنسلٹنگ نے فراہم کیے، پیجر بنانے والے بھی اسرائیلی انٹیلی جنس افسر تھے۔

برطانوی ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس حملے کے بارے میں جو نئی نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق 5000 مہلک اور سفاک ٹروجن ہارسز منکیز، اور ”بروٹیلٹی

کے علاوہ ”بندر“ کے نام سے جعلی کمپنیوں کے ذریعے دھماکہ خیز مواد سے لیس واکی ٹاکی تیار کیے گئے۔ اور ایسا خونی منظر دہرایا گیا کہ خون سے لتھڑے ہوئے مرد بستروں پر پڑے ہوئے تھے۔ کسی کے ہاتھ کا آخری حصہ پھٹا اور کسی کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ یہ تاریخ کی سب سے دلیرانہ انٹیلی جنس کارروائی ہے۔ جو ہوا وہ ایک غیر معمولی منظر تھا۔ لوگ گلیوں میں گر رہے تھے۔ ان کی پتلونوں کی جیبیں پھٹ گئیں۔ مرنے والوں کی تعداد 32 تک پہنچ گئی تھی اور ہزاروں زخمی تھے۔

حیرت انگیز طور پر اس کے بعد دھماکوں کی دوسری لہر شروع ہوئی۔ حزب اللہ کے ریڈیو پھٹنے لگے۔ رائٹرز کی دھماکہ خیز آلات کی تصاویر میں ایک اندرونی پلیٹ دکھائی گئی جس پر ”ICOM“ اور ”Made in Japan“ کا نشان نظر آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موساد کو ایک سے زیادہ سپلائی چین تک رسائی حاصل تھی۔ اسرائیلیوں نے پیجرز کو دھماکہ خیز مواد سے پیک کرنے اور انہیں حزب اللہ کے ارکان میں تقسیم کرنے کا انتظام انتہائی محتاط منصوبہ بندی سے کیا۔ دنیا بھر میں فرنٹ کمپنیوں کا ایک بڑا اور غیر شفاف نیٹ ورک ہے۔ اسرائیلی انہیں ”منکی“ کہتے ہیں۔

پیجر مینوفیکچرنگ سپلائی چین کے ساتھ کام کرنے والوں نے پیجرز کے اندر ایک سے دو گرام دھماکہ خیز مواد نصب کیا۔ اس کے بعد اسرائیلی ”ٹروجن ہارسز“ لبنان کو برآمد کیے گئے۔ دھماکہ خیز مواد PETN یعنی یا pentaerythritol tetranitrate تھا۔ یہ نائٹرو گلیسرین سے ملتا جلتا اور بہت زیادہ طاقتور ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق بوڈا پیسٹ میں قائم بی ای سی کنسلٹنگ ”اسرائیلی محاذ کا حصہ“ تھی۔ اس آپریشن میں شامل اسرائیلی انٹیلی جنس کے ارکان کی شناخت چھپانے کے لیے کئی اضافی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ حزب اللہ نے موبائل فونز پیجرز سے بدلے تو موساد اسی وقت کے انتظار میں تھی۔

اسرائیل مخالفین کو خفیہ طور پر نشانہ بنانے کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ اسرائیل نے مخالف عناصر کو ختم کرنے کے لئے خودکار ڈرونز، کار بم دھماکوں، ریموٹ کنٹرول آلات سمیت سائبر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال کیا۔ تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کو جس طرح پراسرار طور پر نشانہ بنایا گیا وہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے، اسی طرح 3 سال قبل وسطی ایران میں واقع زیرزمین جوہری تنصیبات کو ایک تباہ کن سائبر حملے سے نقصان پہنچایا گیا، جس کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی، ایک اور حملے میں ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخر زادہ کو تہران میں سفر کے دوران ریموٹ کنٹرول مشین گن کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ 2010 ءمیں کمپیوٹر وائرس سٹکسنیٹ کے ذریعے ایرانی جوہری سینٹری فیوجز میں خلل ڈال کر تباہی مچا دی تھی۔

اکیسویں صدی کا میدانِ جنگ سائبر ٹیکنالوجی، آرٹیفشل انٹلیجنس، نیوکلیئرپ اور اور ڈیجیٹل ہتھیاروں سے لیس ہے، آج کے انفارمیشن دور میں ٹیکنالوجی کسی ایک کی میراث نہیں رہی ہے، اگر آج ایک فریق پراسرار ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے تو کل یہی ٹیکنالوجی دوسروں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے اور پھر ہمیں ڈرنا چاہیے اس وقت سے جب ہماری جیب اور ہاتھوں میں موجود موبائل فون بھی اسی طرح دھماکے سے پھٹنے لگ جائیں۔

اسرائیل نے جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر دیگر ممالک کو بھی فکرمند کر دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے جنگوں میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے کون سے حریف ایک دوسرے کو کیا نقصان پہنچاتے ہیں، بہرحال ٹیکنالوجی کا منفی استعمال مزید تباہی پھیلا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS