برین ڈرین ہونے سے بچائیے!
وطن سے محبت کہیں دلوں کے بھیتر ایسی بستی ہے جیسے پھولوں میں خوشبو۔ وطن کی محبت بارش کی لطافت سے سرخ پھولوں کو نمو بخشتی ہے۔ کبھی وطن سے دور رہنا پڑے تو طبیعت میں گرانی اور تھکاوٹ اترنے لگتی ہے۔ اپنے وطن اور اس میں بکھری ہر سہولت کو چھوڑ کر کون کافر اجنبی دیسوں میں جانا چاہے گا۔ مگر ہمارے سیاست دان بغیر سوچے سمجھے نجانے وطن اور اس کے اداروں کو کس طرف ہانکے لیے جا رہے ہیں۔ دہائیوں پہلے سُنا کرتے تھے کہ برین ڈرین کیے جا رہے ہیں۔
نوجوان اس وطن میں رہنا نہیں چاہتے کیونکہ خوش حالی کے پنچھی تو کب سے یہاں سے کوچ کر گئے ہیں۔ ہمارے مقتدر حلقے اور اربابِ اختیار یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ وطن کی فلاح کا تعلق روزگار اور نوجوانوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے سے ہے۔ سُنا کرتے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اب تو دیکھ بھی رہے ہیں۔ دنیا بدل چکی ہے۔ حکومتیں تو مائی باپ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اپنے عوام کو زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کرنا ہر ملک کی سرکار کا نہ صرف شیوہ بلکہ فرض ہے۔
لیکن اب ملک کے حالات اتنے مخدوش کر دیے گئے ہیں کہ ہر طرف جیسے جھاڑو سا پھر گیا ہے۔ میڈیکل سٹورز پر دوا لینے کو بھیجیں تو دوا ندارد۔ بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر بھیجیں تو مطلوبہ سامان دستیاب نہیں کہ پیچھے سے سپلائی نہیں آ رہی۔ کچھ سال پہلے لوگ کم از کم پیٹ بھر کھاتے تھے۔ سفید پوش طبقہ جسے مڈل کلاس بھی کہا جاتا تھا عزت دار زندگی گزارنے کے متحمل تھے۔ اب تو سفید پوش بھی سسکیاں بھرتے ہیں۔ ڈر لگتا ہے ہم اپنوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے کھوتے چلے جا رہے ہیں۔
نوجوان لڑکے لڑکیاں وطن چھوڑ کر ان دیسوں میں جانا چاہتے ہیں جہاں روزگار ہے، زندگی بہتر رنگوں میں ملتی ہے۔ میں پچھلے دنوں چھے ماہ کا عرصہ امریکہ جیسی سُپر پاور کی سر زمینوں پر گزار آئی ہوں۔ یقین مانیے میں نے وہاں بھی اپنی آنکھوں سے غربت دیکھی۔ بڑے شہروں حتیٰ کہ نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر بھیک مانگتے گداگر دیکھے۔ کئی جگہوں پر ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر کھڈے دیکھے تو بے اختیار منہ سے نکلا ”ایسا امریکہ بھی ہوتا ہے کیا؟
“ وہاں کے مزدور طبقے کے لوگ بھی اپنے سیاست دانوں سے کچھ خاص خوش نہیں۔ وہ بھی ٹیکس ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جتنے ٹیکس ہم سے لیے جاتے ہیں اتنے امیروں سے نہیں لیے جاتے۔ البتہ ایک بات ہے کہ تمام چھوٹے شہروں اور قصبات میں ہر برانڈ موجود ہونے کی وجہ سے ایک تو لوگوں کو سب چیزیں اپنے ہی قصبے یا شہر میں مل جاتی ہیں۔ دوسرے وہیں کے لوگوں کو روزگار بھی مل جاتا ہے اور انہیں خوار ہو کر بڑے شہروں میں ہجرت نہیں کرنا پڑتی۔
ہمارے وطن میں بھی ہر قصبے اور شہر میں ایسی مارکیٹیں، چھوٹے اسپتال، سکول اور کالج موجود ہوں تو کیا کوئی اپنا شہر چھوڑ کر نوکری کے لیے در بدر ہو گا۔ مگر بد قسمتی سے اس وطن کے باسی شہر تو دور اپنا پیٹ پالنے کے لیے وطن تک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جیسے اب بے موسمی سبزیاں اور پھل ملنے لگے ہیں اسی طرح اب مالیوں نے موسم کے دماغ بھی اگانے شروع کر دیے ہیں۔ پہلے ان دماغوں میں سے کُھرچ کر تمام تر حُب الوطنی نکالی جاتی ہے۔
مزید اس میں خاص مٹی ملا کر خود غرضی کے پانی کا چھڑکاو کیا جاتا ہے۔ جب تک متعلقہ صورتِ حال میسر نہیں ہوتی تب تک ہر ادارے کو تباہ کر دیا جاتا ہے تاکہ یہاں کے نوجوان ملک چھوڑ کر خود کو بچانے کے لیے باہر نکل جائیں۔ ایسی صورتِ حال نے ہمارے نوجوانوں کے کارخانہ نشوونما میں غلط اندیشوں کو جنم دیے کیونکہ حالات ناموافق بنا دیے گئے۔ پہلے بازار میں جنس کی مانگ پیدا کی جاتی ہے پھر وہ جنس مہیا کر دی جاتی ہے۔
وطنِ عزیز میں زندگیوں کو قید خانہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ مصائب تو دنیا میں ہر جگہ ہی ہیں۔ مہنگائی امریکہ میں بھی بہت زیادہ ہے مگر چونکہ تنخواہیں اچھی ہیں تو رنج کی گراں نشیناں زندگی کی رفتار کو روک نہیں پاتیں۔ ہمارے یہاں بہترین نجی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا جب صرف ساٹھ ستر یا زیادہ سے زیادہ نوے ہزار کی ماہانہ کی نوکری کرتے ہیں تو بھلا گھر کیسے چلا سکیں گے؟ الجھے ہوئے معاملات میں اپنے مسائل کا حل ہم چاہتے ہیں مگر چونکہ بے اختیار ہیں لہذا اس گورکھ دھندے کا حل نہیں نکال پاتے۔
جب ہمارے نوجوان سائنس اور فلسفہ پڑھتے ہیں تو سماج میں اُبھرتے ہوئے سوالات اپنے جواب دیتے ضرور ہیں مگر انہیں یہاں ملتے نہیں۔ اپنے ہی سمندر میں ہمارے نوجوان تیرتے ہوئے کنارے تک جانے کی تگ و دو میں ہاتھ پائوں مارتے ہیں مگر کنارہ نہیں ملتا تو عین بیچ سمندر میں ڈوبنے سے بچنے کے لیے وہ رُخ موڑ لیتے ہیں۔ تاریخ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ یورپ اور امریکہ کو ڈھائی سو سال لگے تو ایٹم بم بنایا۔ پاکستانیوں نے فقط پچاس سالوں میں ایٹم بم تیار کر لیا تو سُپر طاقتوں کو یہ کیونکر قبول ہوتا۔
لہذا سوچی سمجھی سکیم کے تحت مذہب کو سیاست میں دخل در اندازی کروا کر انتہا پسندی کی طرف ذہنوں کی مہاریں موڑ دی گئیں۔ جب تک ایک بار پھر سے سائنس، فلسفہ اور اقتصادیات کی تعلیم کی طرف نہیں آئیں گے یہاں سے برین ڈرین ہوتے رہیں گے۔ جب تک نوجوانوں کو دلشاد ماحول اور روزگار فراہم نہیں کریں گے برین ڈرین ہوتے رہیں گے۔ وطن واپس آنے کے بعد میرے بیٹے اور پوتے کی سالگرہ پر بیٹے کے ہم عمر چھبیس سالہ کزنز اور دوستوں کو بڑی تعداد میں دیکھ کر دل خوشی سے بھر آیا مگر آنکھیں چھلک پڑیں کوئی بھی ان میں سے پاکستان میں رہنا نہیں چاہتا۔ میں نے چھے ماہ میں امریکہ کی چار مختلف سٹیٹس میں چار نوجوان کہیں اکٹھے نہیں دیکھے کیونکہ ان کے پاس نوجوان ہیں ہی نہیں مگر ہم اپنے بچوں کی نوجوان اُمنگوں کی قدر نہیں کر رہے۔ خدارا اس ملک پر رحم کیجیے اور اپنے نوجوانوں کے برین ڈرین ہونے سے بچائیے!


