ہم نام کا روزنامچہ
وحید الزمان طارق، میرے ہم پیشہ و ہم راز نہیں ہیں۔ وہ کبھی میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ بھی نہیں رہے لیکن وہ میرے ہم نام ضرور ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ وحید ِ یگانہ ہیں اور میں سبزۂ بے گانہ۔ وہ مردِ سپاہ ہیں اور میں روسیاہ۔ وہ طارق ہیں اور میں متروک۔ وہ سفینہ سوز ہیں اور میں غرقِ دریا۔ غرض یہ کہ ہم دونوں میں بعد المشرقین ہے لیکن کبھی کبھی ہمارے ستارے ایک برج میں یک جا بھی ہو جاتے ہیں، گو میرا ستارہ قدرے دم دار ہے لیکن اس کے باوجود ’قرآن السعدین‘ ہو ہی جاتا ہے۔
ہم نامی کے علاوہ بھی ہمارے چند اشتراکات ہیں، مثلاً یہ کہ وہ ماہرِ اقبال ہیں تو یہ خاکسار بھی اقبال کا مداح ہے۔ انہیں دیوانِ حافظ زبانی یاد ہے تو دیوان کا مطلع ہم بھی سنا سکتے ہیں، ایہا الساقی! وہ اگر فارسی کے زبان دان ہیں تو تیل بیچنے کا ہنر ہم بھی جانتے ہیں۔ وہ اگر پروفیسر ہیں تو بھولنے کی بیماری ہمیں بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ نرے پروفیسر نہیں ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ کچھ سابقے بھی لاحق ہیں جن سے ان کا اسمِ گرامی مزید پرشکوہ ہو جاتا ہے۔
لیکن ان کے مزاج میں ایسی سادگی اور درویشی ہے کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے ایم بی بی ایس کے علاوہ پی ایچ ڈی کا ہفت خواں بھی طے کر رکھا ہے، وہ اپنے نام کے ساتھ صرف ایک بار ’ڈاکٹر‘ تحریر کرتے ہیں۔ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اپنا نام یوں نمایاں کرتا: برگیڈیئر (ریٹائرڈ) پروفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر وحید الزمان طارق۔ مگر وحید الزمان صاحب صرف ایک مرتبہ ’ڈاکٹر‘ رقم کرتے ہیں اور یوں وہ نہ صرف تکرارِ لفظی سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ روشنائی کی بچت الگ سے ہوتی ہے۔
خیر یہ تو ہنسی مذاق کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحید الزمان کی ذات، تنوعات کا مرقع ہے۔ ان کی شخصیت ایک ہفت پہلو نگینہ ہے جس میں عطاری، سخن وری اور سپاہ گری کے رنگ جمع ہو گئے ہیں لیکن اہلِ دنیا سے انہیں شکوہ ہے کہ وہ انہیں مجموعۂ اضداد خیال کرتے ہیں اور ان کی صفات کو یوں خلط ملط کرتے ہیں کہ ہنر کی، عیب کی صورت بدلتی جاتی ہے۔ ان کے بقول ”میں کسی کی نظر میں فوجی افسر تھا اور کسی کی نظر میں فزیشن۔ مجھے کسی محفل میں نیچا دکھانا ہوتا تو اہلِ ادب و فضل و دانش مجھے فزیشن کہہ دیتے اور کبھی کبھار فوجی۔ یہی رویہ میری ترقی کی بابت بھی اپنایا گیا۔“
اہل دنیا سے کیا شکوہ؟ لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری! میرے خیال میں تو زمانے کو اس وقت وحید الزمان جیسے صاحبِ دل کی ضرورت ہے جو میدانِ سخن ہی میں نہیں، میدانِ جنگ میں بھی غزل سرائی کا قائل ہو اور جو زندگی میں ”بجنگ آمد“ کا نہیں، ”بسلامت روی“ کا خوگر ہو۔ ہائے ہائے، زبان پر بارِ خدا یہ کن کتابوں کا نام آیا ہے جنہیں میں نے پہلی بار لڑکپن میں پڑھا تھا اور پھر عمر بھر کے لیے ان کے مصنف کرنل محمد خان کا عاشق بن گیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ کرنل صاحب سے وحید الزمان کو بھی محض پیشہ ورانہ ہی نہیں، ذہنی اور ذوقی نسبت بھی ہے کیوں کہ ان کی تصنیف ”کپتان کا روزنامچہ“ میں بھی کہیں کہیں شگفتہ واقعات بیان ہوئے ہیں۔ اس میں دو چار بہت ”نرم“ مقام آتے ہیں۔ اس تصنیف سے یہ خبر ملتی ہے کہ وحید الزمان کے پاس ”ہمتِ مرداں“ کے ایسے جادو اثر نسخے ہیں کہ بے اولاد، اولادِ نرینہ کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں۔ صادق کھوجی کا واقعہ ثبوت کے طور پر نقل کیا جا رہا ہے :
”ایک اونچے لمبے قد کا حوالدار فور۔ ایف۔ ایف میں ہوا کرتا تھا جس کا نام تھا صادق جسے لوگ کسی وجہ سے کھوجی کہا کرتے تھے۔ مجھے ایک دن میرے سی۔ او نے اپنے دفتر میں بلوایا اور اس سے ملوایا۔ اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اس کی شادی کو بارہ برس بیت چکے تھے اور وہ ابھی تک بے اولاد تھا۔ میں نے جب اس کی مکمل روداد پوچھی تو پتہ چلا کہ وہ شادی کے فوری بعد یونٹ کے ساتھ مشرقی پاکستان چلا گیا تھا۔ وہاں پر 1971 ء کی جنگ لڑنے کے بعد وہ جنگی قید بن کر بھارت کے کسی کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا۔
پھر بلوچستان اور لاہور اور وہاں سے یہاں آ گیا۔ آج تک کبھی اسے اپنی بیوی کے ساتھ اچھی طرح رہنے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا تھا۔ یہ معاملہ ہر ایک سپاہی کے ساتھ پیش آ رہا تھا مگر اکثر لوگ خوش بخت تھے اور وہ اپنی تھوڑی بہت فرصت کا بھرپور فائدہ اٹھا لیتے تھے مگر صادق ان لوگوں میں سے نہیں تھا۔ خالق حقیقی کی تخلیق کے اصول بھی غیر مبہم اور واضح ہیں۔
میں نے کہہ کہلا کر اسی ایریا میں اس کے رہنے کے لیے کچی مٹی سے تعمیر شدہ ایک کٹیا میں عارضی رہائش کا انتظام کروا دیا اور کمانڈ سے اسے اپنی بیوی کو وہاں لا کر بسانے کی اجازت بھی لے دی۔ جب ہماری طرف سے سب انتظام مکمل ہو گیا تو وہ پھر بھی اپنی بیوی کو وہاں لانے سے جھینپ رہا تھا کیوں کہ ہمارے اردگرد کا ماحول بے رنگ و صوت اور سخت مردانہ قسم کا تھا۔ وہاں پر عورت ذات سیمرغ کی طرح ناپید بلکہ عنقا کی مثال تھی۔
ہم لوگ سول آبادی سے دور ہی رہتے تھے۔ اگر کسی چیل کے درخت پر بھی کوئی رنگین کپڑا لٹک رہا ہوتا تو سپاہیوں کے جذبات میں ہلچل مچ جایا کرتی تھی اور پھر انہیں ایک ایک کر کے چھٹی پر بھیجنا پڑ جاتا تھا۔ تین ماہ بعد دس دن اور سال میں ایک بار دو ماہ کی چھٹی وہاں کا معمول تھا۔ لوگ گھروں کو آتے جاتے رہے اور قدرت ان پر مہربان بھی رہی۔
صادق اپنی بیوی کو اس ایریا میں لے تو آیا مگر اس نے اس بات کا پورا خیال رکھا کہ اس نیک بخت پر کسی اور کی نظر نہ پڑ جائے اور وہ بھی اس کے ساتھ کٹیا میں بند ہو کر دروازے کو اندر مقفل کر کے بیٹھ گیا۔ دن کو تو وہ ڈیوٹی دیتا اور پھر سرشام اندر بند۔ اس کو طفل تسلی کے لیے میں نے وٹامن۔ بی کمپلیکس کی کچھ گولیاں بھی بطور علاج دے دی تھیں۔ وہ سادہ لوح انسان ان پر اعتقاد کر کے بیٹھ گیا۔ اللہ کسی کی محنت کا ضائع نہیں کرتا اور وہ بھی جب جذبہ صادق ہو اور انسان کو سب کی دعائیں بھی ہوں۔
اس کی محنت رنگ لے آئی اور تمنا بار آور ثابت ہو گئی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ اس نے ایک دن یہ اعلان کر دیا کہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے اور وہ امید سے ہے۔ پھر جلدی سے وہ اپنے گاؤں اپنی بار دار بیوی کو ماں کے پاس گھر چھوڑ آیا کیوں کہ ماں کی خدمت میں کوتاہی ہو رہی تھی۔ سپاہیوں کے خیال میں ان کے ماں باپ کی خدمت ایک ایسا فرض کفایہ تھا جو بیویاں ہی ان کی طرف سے ادا کیا کرتی تھیں مگر ثواب خاوندوں کے حصے میں آتا تھا۔
میری چاروں اطراف میں مفت میں ہی واہ واہ ہو گئی کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بانجھ پن کا کوئی خاص علاج ہے اور وہ کسی کسی کو طلسماتی گولیاں سے نوازتے ہیں۔ اب کیا تھا کئی اور لوگ بھی اولاد کی آرزو لے کر میرا طواف کرنے لگے۔ سب سے دل چسپ شخص جو میرے پاس سوالی بن کر آیا وہ ہمارا پرانا ہر دل عزیز پینسٹھ سالہ میس ویٹر چاچا منگا خاں تھا۔ ”
واقعہ قدرے دراز ہو گیا۔ وحید الزمان کے قد کی طرح! مگر ہے لذیذ۔ اسی طرح ایک اور شگفتہ واقعہ بھی ہے جس کا مرکزی کردار ایک بندر ہے :
”یونٹ کے غیر شادی شدہ افسران کی سوچ کا اپنا ایک انوکھا بلکہ اچھوتا انداز تھا۔ انہوں نے ایک پالتو بندر رکھا ہوا تھا جو ان کے خیموں میں سر عام پھرا کرتا تھا اور وہ اسے پیار سے بیجو کہا کرتے تھے۔ اس لاڈ پیار نے اس کی عادتیں خراب کر دی تھیں۔ کمانڈنگ افسر اسے بالکل پسند نہیں کرتے تھے اور اکثر و بیشتر وہ انہیں بتانے کے لیے مجھ سے بندر سے پھیلنے والی امراض کی بابت پوچھا کرتے تھے۔ میں ایک تفصیلی لیکچر دے دیا کرتا اور اگلے دن مزید معلومات جمع کر کے بندر کی نحوست کی تفصیل بیان کر دیا کرتا۔
ایک دن وہی بندر میجر مختار کے خیمے میں گھس کر ان کی شیونگ کٹ کو کھول کر اپنی شیو بنانے کی مشق کرتا رہا کہ میجر مختار نے پکڑ کر اسے خوب مارا۔ وہ بندر بہت دل برداشتہ ہو کر واپس پہنچا تو سب کا خیال تھا کہ میں نے میجر مختار کے ساتھ مل کر یہ حرکت کی ہے۔ حال آں کہ مجھے اس کا علم بہت بعد میں ہوا۔ خیر بندر وہیں رہا اور میں اس کے ہوتے ہوئے وہاں سے واپس چلا گیا۔ بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ ایک موقع پر یونٹ کہیں جا رہی تھی اور بندر ٹرک پر بیٹھا ہوا تھا راستے میں کسی جنگلی درخت کے پاس پہنچ کر ٹرک رک سا گیا اور وہ جانور زقند مار کے اس شاخ پر چڑھ گیا پھر اچانک وہ ٹرک درخت کے نیچے سے گزر کر چلا گیا اور بندر شاخ سے معلق آزاد ہو گیا۔ شنید یہ ہے کہ اس کی گمشدگی نے ایک سوگ کی فضا پیدا کر دی۔“
وحید الزمان طارق کی خودنوشت یادوں کا ایک دل کش اور دل چسپ مرقع ہے۔ یہ ایک سادہ دل بندے کی رودادِ حیات ہے جسے سادگی سے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی عیاری نہیں، کوئی فریب کاری نہیں۔ یہ ایک صاف شفاف انسان کی داستان ہے جس کے دامن پر کوئی چھینٹ نہیں، دل پر کوئی داغ نہیں۔ اس تصنیف میں بہت کچھ بیان ہوا ہے، اس میں شکایتِ زمانہ ہے، شماتتِ ہمسایہ ہے، گلۂ ملامتِ اقربا ہے، تذکرۂ یاراں ہے، قبیلۂ کشتگاں ہے، یادِ رفتگاں ہے، اگر کچھ نہیں ہے کتاب میں تو وہ ’نامحرم خاتون‘ ہے۔ اس میں صرف ’نکاحِ مسنون‘ ہے۔ بہرحال یہ ایک پُرلطف اور دل چسپ کتاب ہے۔

