دستور میں ہی بقا ہے
مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکج جو خفیہ طریقے سے رات کی تاریکی میں لایا جا رہا تھا وہ پارلیمانی نظام حکومت میں ایک شرمناک عمل تھا۔ ذرا تصور کریں مہذب اور سیاسی ساخت رکھنے والی ریاستوں اور قوموں میں اصلاحات کا عمل ایسے ہوتا ہے کہ اس کو بغیر عوامی آراِ کے نافذالعمل کیا جائے۔ انتخابات کی صورت میں جو پارلیمانی سیٹ اپ تشکیل دیا گیا ہے۔ جس میں اپوزیشن کا ایک واضح اور اہم کردار ہوتا ہے اور اُن کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کی اصلاحات کرنا سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
بلکہ افسوس تو اس امر کا ہے کہ اپنے کلیدی اور اہم اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا جن کے بل بوتے پر موجودہ حکومت کھڑی ہوئی ہے۔ جن میں نامور سیاسی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے سیاست کے مختلف ادوار دیکھے ہیں۔ آئین ایک عوامی دستاویز ہے اور ملک کے ہر شہری کو یہ جاننے کا حق ہے کہ پارلیمان اس دستاویز میں کون سی تبدیلیاں کرنا چاہ رہی ہے۔ یہ بات اپوزیشن سے زیادہ حزبِ اقتدار کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک اور عوام کا مفاد کسی بھی شخص، گروہ یا جماعت سے برتر ہے۔
اصلاحات کا مقصد محض چند طاقتور شخصیات کو تحفظ دینا نہیں ہوتا بلکہ ریاستی ڈھانچے کو، اداروں کو از سر نو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ خامیوں کو دور کرنا ہوتا ہے جو پائیدار ترقی میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔ اول تو جامع اور پائیدار اصلاحات کے لیے جمہوری رویوں کا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر باہمی مشاورت اور ہم آہنگی سے ایجنڈے پہ کام کیا جاتا۔
سوچنا چاہیے تھا پاکستان کی آئینی تاریخ جو انتہائی داغ دار ہے جو 1956 اور 1962 کے متنازع دساتیر کا پس منظر رکھتی ہے۔ بصد مشکل 1973 کے جمہوری آئین کا رخ دیکھ پائی جس کو بنانے میں سیاست دانوں کی ایک طویل جدوجہد ہے۔ اسی آئین سے قوم نے اپنی امیدیں وابستہ کر لی تھیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے وجود میں آنے والا دستور ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالے گا اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کی نوید لائے گا۔ اور ہم نے آئین کے ساتھ کیا کیا۔ چند ایک مثالیں آپ قارئین کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ سند رہے۔ آئین کے ساتھ چھیڑ خانی تو ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھیں۔ جنہوں نے پے در پے سات ترامیم کی تھی۔ اور رہی سہی کسر سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے پوری کر دی جنہوں نے
REVIVAL OF CONSTITUTIONAL ORDER NO 14
کے تحت پورے آئین کا حلیہ ہی بگاڑ دیا جس کا آسیب ایک لمبے عرصے تک پارلیمانی جمہوری نظام کا پیچھا کرتا رہا۔ پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدل دیا۔ وزیر اعظم اور صوبائی وزراء اعلی کے اختیارات چھین لیے گئے۔ صوبائی خود مختاری کا معاملہ اُلجھا دیا گیا۔ سابق صدر کے دور میں وطن عزیز نے وہ زخم کھائے جو آج تک مندمل نہیں ہو سکے۔
ماہر قانون ڈاکٹر فاروق حسن اپنے ایک کالم میں جو انہوں نے 24 فروری 1993 کو روزنامہ جنگ میں لکھا تھا، لکھتے ہیں کہ ”آٹھویں ترمیم کا مسودہ ابتدائی طور پر صدارتی حکم نمبر 14 برائے 1985 میں درج ہے، راقم الحروف (فاروق حسن) کو اس وقت جنرل ضیا الحق نے مشورے کے لیے امریکہ سے اسلام آباد بلایا تھا، انھوں نے مجھے مارشل لا کا تحریر شدہ ضابطہ دکھایا، میرے استفسار پر کہ مذکورہ تحریر تو درحقیقت نظام کی تبدیلی کے مترادف ہے، مرحوم ضیا الحق نے فرمایا کہ ’میرا یہی خیال تھا‘ ۔“
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ”پھر جنرل ضیا الحق نے کہا کہ ’میں نے بڑی مشکل سے اپنے سینے پر پارلیمانی طرز حکومت کا پتھر رکھا ہوا ہے، لوگ اس کے نام پر جاتے ہیں، میں بھی انھیں یہ نام دے دوں گا، میں ایسا وزیر اعظم چاہتا ہوں جو میرے چھڑی ہلانے سے لائن حاضر ہو جائے۔ ‘ سابق صدر جنرل پرویز مشرف صاحب کہا کرتے تھے، ’میرے خیال میں آئین محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے‘ ۔ یہ وہی جنرل تھے جنہوں نے دو بار آئین کو توڑا۔ یہ افسوسناک واقعات زیر بحث لانے کا واحد مقصد تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہے۔“
حکومت کی طرف سے کئی بار یہ کہا جا چکا ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم پیکیج کا مقصد پارلیمان اور عدلیہ کو مضبوط بنانا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پارلیمان اور عدلیہ کو مضبوط بنانے کے دعوؤں کے باوجود اس پیکیج میں شامل ترامیم کو تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ اس سلسلے میں اپوزیشن میں بیٹھی ہوئی جماعتوں بشمول جے یو آئی اور بی این پی نے حکومتی ارکان سے یہ تقاضا کیا ہے کہ اگر آپ ہم سے ووٹ لینا چاہتے ہیں تو ان ترامیم کا ڈرافٹ ہمیں دیں تاکہ ہم ان کا جائزہ لے سکیں۔ اگر حکومت واقعی کچھ غلط نہیں کر رہی تھی اور مجوزہ پیکیج کے ذریعے کسی ایک جماعت، گروہ یا شخص کو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچایا جا رہا تو پھر اس پیکیج کو خفیہ رکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
پہلے مرحلے میں مجوزہ آئینی پیکج کو ناکام بنانے میں اگرچہ مولانا فضل الرحمن صاحب کا ایک کلیدی کردار ہے جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ صحافتی حلقوں کی طرف سے بھی مجوزہ آئینی اصلاحات کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ سول سوسائٹی نے اس پیش رفت کو ریجیکٹ کیا ہے۔
اصلاحات ضرور کریں لیکن اُس سے پہلے ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام پر کام کرنا ہو گا۔ جیسے معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑُا ہوتا ہے اسی طرح جامع اور پائیدار اصلاحات کے لیے ایک بڑی ایکسرسائز کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی سے سیاسی اختلافات ضرور رکھیں لیکن دشمنی اور ذاتی عناد نہیں۔ اُن کو انگیج کریں۔ اُن سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر بات کریں۔ پی ٹی آئی کا بیانیہ جارحانہ ہو سکتا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر اُن کو سیاسی عمل سے باہر رکھنا اور اُن پر جبر کا ماحول مسلط کرنا وسیع تر ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ 9 مئی جیسے واقعات کو بہانہ بنا کر جس طرح ملک کی سب سے بڑی جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ خواتین کی تضحیک کی گئی۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ ہزاروں بوگس مقدمات بنائے گئے جو ایک میراتھون ریاستی اداروں کی تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کے باوجود ثابت نہیں ہو پائے وہ بھی تو کسی طرح سے جسٹیفائیڈ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی میں سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر اور لطیف کھوسہ سمیت متعدد ایسے رہنما ہیں جو ادارہ جاتی اصلاحات میں اہم کردار ادا سکتے ہیں۔ ان رہنماؤں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
المیہ ہے ہم آج بھی ہجوم کی حالت میں پھر رہے ہیں۔ ادراک ہونا چاہیے پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ دستور پر قائم رہنا ہے۔ اگر دستور باقی ہے تو اتحاد باقی ہے۔ یہ ایک کم از کم معاہدہ عمرانی ہے۔ دستور کسی قوم کی روایت، مزاج، اس کے اصول و ضوابط ہیں جن پر وہ قوم چلتی ہے۔ یہ قوم کے مزاج میں راسخ ہونا چاہیے۔


