عدلیہ کی آزادی یا ججوں کی آزادی؟
اگر ہمارے سامنے دو افراد یہ دعوی کریں کہ وہ شادی شدہ ہیں تو اس کا بات کا حتمی تعین کیسے ہو گا کہ وہ واقعی شادی شدہ ہیں کہ نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی دو افراد یہ اعلان کریں کہ وہ بطور کمپنی بزنس کر رہے ہیں تو اس کا فیصلہ کیسے ہو گا کہ ان کو کمپنی ماننا چاہیے یا نہیں۔ برطانوی عدالت اس کا سیدھا سادا جواب یہ دے گی کہ دونوں صورتوں میں مروجہ قوانین طے کریں گے۔ اگر دو افراد نے شادی کے قانون کے تحت تمام تقاضوں کو پورا کیا ہے تو وہ شادی شدہ ہیں چاہے وہ ہم جنس ہی کیوں نہ ہوں۔
اسی طرح کمپنی ایکٹ کے تحت اگر تمام مطلوبہ تقاضے پورے کر دیے گئے ہوں تو ایک فرد پر مشتمل بزنس بھی کمپنی قرار دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت اگر کچھ افراد خود کو سیاسی جماعت قرار دیں تو ان کو سیاسی جماعت تبھی تصور کیا جائے گا جب وہ سیاسی جماعت کے قانون کے ضابطوں پر پورے اترتے ہوں۔ وہ کسی بھی دو افراد کو شادی شدہ، کمپنی یا سیاسی جماعت نہیں قرار دیں گے اگر ان کا دعوی یہ ہو کہ کروڑوں افراد نے ان کو میاں بیوی، کمپنی یا سیاسی جماعت قرار دیا تھا۔
اگر قانون میں یہ شق موجود ہو کہ ان دعووں کو پرکھنے کا معیار الیکشن کے نتائج ہوں گے تو پھر عدالت قانون کی باقی شرائط کو نظر انداز کر کے عوامی رائے پر مبنی فیصلہ کرے گی۔ لیکن شادی، بزنس اور سیاسی جماعت سے متعلقہ قوانین میں درحقیقت ایسی کوئی شق موجود نہیں۔ موجودہ جمہوریتیں قدیم ایتھنز کی ریاستیں نہیں جہاں شہری براہ راست فیصلہ سازی میں شریک ہوتے تھے۔ موجودہ جمہوریتیں عوامی نمائندوں کے بنائے قوانین پر چلنے کی پابند ہیں۔
عوامی رائے صرف ریفرنڈم کے وقت اثر انداز ہوتی ہے۔ برطانیہ میں جب یورپی یونین سے نکلنے یعنی بریکزٹ سوال پر ریفرنڈم ہوا تو بریکزٹ کے حامیوں کو معمولی سی اکثریت ملی۔ اس وقت بہت سے مبصرین نے رائے دی کہ ریفرنڈم کا نتیجہ صرف ایک رائے ہے اور پارلیمنٹ چاہے تو اسے نظرانداز کر سکتی ہے۔ اس وقت کی حکومت نے تاہم عوامی رائے کا احترام کیا اور بریکزٹ کا قانون پاس کر کے عوامی رائے کو عملی شکل دے دی۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ جب تک پارلیمنٹ نے قانون پاس نہیں کیا تھا تب تک عدالتیں ریفرنڈم کے نتیجے کی پابند نہیں تھیں۔
میں پاکستان اور برطانیہ دو ملکوں کا شہری ہوں اس لیے اکثر انہی کا تقابل کرتا رہتا ہوں۔ گو وکالت کے پیشے سے وابستگی نہیں لیکن قانون کا ادنی طالبعلم رہا ہوں اس لیے دونوں ممالک کے نظام انصاف کا تجسس کے ساتھ مشاہدہ کرتا ہوں۔ برطانوی عدالتی کارروائی کا ایک دلچسپ قصہ یہاں رقم کئیے دیتا ہوں۔ یہ 2010 کا ذکر ہے جب برطانیہ میں انتخابات منعقد ہوئے۔ مانچسٹر کے ایک حلقے سے لیبر پارٹی کا امیدوار فل وولاز مدمقابل امیدوار سے معمولی برتری کے ساتھ الیکشن جیت گیا۔
مدمقابل لبرل ڈیموکریٹ امیدوار نے سیاسی نمائندگی کے قانون کے تحت اپیل دائر کی کہ کامیاب امیدوار نے الیکشن کمپین کے دوران جھوٹ سے کام لیتے ہوئے اس پر تخریب کاروں کا ہمدرد ہونے کا الزام لگایا تھا۔ خصوصی الیکشن کورٹ نے اپیل سنی اور دستاویزی ثبوتوں کی موجودگی کے باعث اپیل درست قرار دے کر فل وولاز کی کامیابی کو منسوخ کر دیا۔ فل وولاز اور اس کے حامیوں نے شور مچایا کہ عدالت کس طرح ووٹروں کے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
الیکشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف فل وولاز ہائی کورٹ پہنچ گیا جہاں عدالت کے سامنے اس نے وہی موقف اختیار کیا جو عمران خان نے پینتیس پنکچروں کے حوالے سے اپنایا تھا یعنی اس نے دفاع میں کہا کہ الیکشن کمپین کے دوران اس نے جو کہا تھا وہ فقط سیاسی بیان بازی تھی۔ عدالت نے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور الیکشن کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ فل وولاز نے اپنا کیس کمزور دیکھ کر اپنی حتمی شکست تسلیم کرلی۔
ایک اور اہم قصہ 2019 میں برطانوی سپریم کورٹ میں اس وقت کے وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمانی اجلاس کو طویل مدت کے لئے ملتوی کرنے سے متعلق ہے۔ تب سپریم کورٹ کی براہ راست کارروائی میں نے ٹی وی پر دیکھی۔ تمام ججز خاموشی سے مختلف وکلا کے دلائل پر مبنی تقاریر سنتے تھے۔ مجال ہے کہ کوئی اضافی جملہ کسی نے بولا ہو۔ صرف ایک دفعہ ایک جج نے کچھ تلخ لہجے میں ایک وکیل کو یہ کہہ کر ڈانٹ پلائی کہ وہ منع کرنے کے باوجود سیاسی نکات اٹھا رہا تھا جبکہ عدالت صرف قانون کی تشریح کرنے تک کا اختیار رکھتی ہے۔
ابھی حال ہی میں میڈیا کی سب سے بڑی خبر یہ بنی کہ برطانوی عدالت کی طرف سے ماحولیاتی گروپ ”جسٹ سٹاپ آئل“ کے کارکنوں کو پانچ سال کی انتہائی سخت سنا دی گئی ہیں۔ ان کارکنوں پر ایک قومی شاہراہ کو بند کرنے کا الزام تھا۔ ماحولیاتی گروپ کے ہمدرد مبصر ان سزاؤں کی سختی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن نظام انصاف کو سوشل میڈیائی ہجوم کے بلووں کی کوئی پرواہ نہ کل تھی اور نہ آج۔ ماضی میں جب لندن میں جلاؤ گھیراؤ ہوا تھا تو تب بھی عدالتوں نے دن رات کام کر کے بلوائیوں کو انتہائی کڑی سزائیں سنائی تھیں۔
برطانوی آئین قانون کی حکمرانی جسے رول آف لا کہا جاتا ہے پر مبنی ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ خود مختار ہے اور جو قانون وہ بنا دے تمام عدالتیں اس پر چلنے پر پابند ہیں۔ یہاں عدالتیں خود کو قانون سے بالا تر نہیں سمجھتیں۔ یہاں عدالتیں کسی نظریہ ضرورت یا نظریہ اخلاقیات یا نظریہ ضمیریات کے تحت خود کو ہر قسم کی حدود و قیود سے بالا تر نہیں خیال کرتیں۔
ہمارے کچھ اہل علم اکثر عدلیہ کی آزادی کا نعرہ لگا کر یہ باریک نکتہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جمہوری ممالک اختیارات کی تقسیم (Separation of Powers) کے اصول پر چلا کرتے ہیں۔ اس اصول کو مشہور فرانسیسی لکھاری مونٹیسقیو نے اپنی کتاب ”دی سپرٹ آف دی لاز“ میں بیان کیا تھا۔ ہمارے اہل علم لیکن ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ فرانسیسی دانشور نے انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ میں اختیارات تقسیم کر کے انہیں ایک دوسرے پر نظر رکھنے کا ذریعہ بتایا تھا۔
اسی ”چیک اینڈ بیلنس“ کے اصول کو بنیاد بنا کر امریکی آئین کو تحریر کیا گیا تھا۔ امریکہ، برطانیہ اور انڈیا۔ سبھی جمہوریتوں میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا گیا ہے لیکن پارلیمان اور انتظامیہ سے مکمل لاتعلق کر کے ججوں کو مطلق العنان بھی نہیں بنایا گیا۔ سب اپنے آئینی دائروں کے اندر کام کرتے ہیں اور جب ایک ادارہ دوسرے کے اختیارات میں بیجا مداخلت کرے تو امریکہ میں بھی صدر روزویلٹ اپنے اختیارات کی دھمکی دے کر اس وقت کے ججوں کو آپے سے باہر ہونے سے باز رکھتا ہے۔
اکاؤنٹنگ مضمون کی درسی کتب اکاؤنٹنگ کو وہ پراسیس قرار دیتی ہیں جو بزنس ڈیٹا کو جمع کر کے فیصلہ سازی میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ پراسیس اکثر الٹا ہوتا ہے۔ سینئیر مینیجر حضرات فیصلہ پہلے کر لیتے ہیں اور بعد میں اکاؤنٹنگ کا استعمال فقط اپنے فیصلے کو جواز بخشنے کے لئے کرتے ہیں۔ اسے ناقدین اکاؤنٹنگ کا بارودی استعمال کہتے ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ پاکستان میں ہمارے جج حضرات مختصر فیصلہ پہلے سنا دیتے ہیں اور بعد میں اپنے سنائے فیصلے کو قانونی جواز بخشنے کے لیے کچھ قانونی نکات کی ڈھونڈ ڈھانڈ کرلیتے ہیں۔ قانون کے اس بارودی استعمال کے نتیجے میں خطرہ ہے کہ نہ سیاست بچے گی اور نہ نظام انصاف۔

