موسمی اداسی: سیزنل افیکٹو ڈس آرڈر


Seasonal Affective Disorder

زید صاحب کے ساتھ ایک عجیب سا مسئلہ تھا۔ پورا سال ان کی طبیعت ہشاش بشاش رہتی، بلکہ وہ بہت اچھے اخلاق والے انسان تھے۔ اپنی فیملی کے ساتھ، اپنے محلے والوں کے ساتھ اور اپنے، دفتر والوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ مگر موسم خزاں کے آخر میں اور موسم سرما کے اوائل میں ان پر ایک عجیب سی اداسی طاری ہو جاتی تھی۔

ان کی نیند کا دورانیہ بہت بڑھ جاتا تھا۔ دوستوں سے ملنے ملانے میں وہ کترانے لگتے۔ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا یا باہر پکنک پر جانا ان کو ایک مصیبت لگنے لگتا تھا۔ کسی قسم کی کوئی واک یا ایکسرسائز کی طرف ان کی طبیعت مائل نہ ہوتی تھی۔ بلکہ ہر وقت مایوسی کی سوچیں اور یاسیت کا مزاج ان پر طاری رہتا تھا۔

یہ ڈپریشن کی ایک خاص قسم ہے جس کا تعلق موسم کے بدلنے سے ہوتا ہے۔ یہ پرابلم عموماً سال کے ایک مخصوص وقت پر شروع ہوتا اور ختم ہوتا ہے۔ اس ذہنی مسئلے کا تعلق موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسان کے مزاج اور رویے میں نمایاں تبدیلی سے نظر اتا ہے۔

اگر اپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو یہ اپ کی توانائی کھینچ سکتا ہے اور اپ کو انتہائی موڈی ثابت کرتا ہے۔ اس کو اکثر لوگ ونٹر بلوز winter blues یا سیزنل فنک seasonal funk سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، لیکن اپنے موڈ کو اور موٹیویشن کو برقرار رکھنے کے لیے مخصوص اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔

یہ مسئلہ موسم بہار یا موسم گرما کے آتے ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کو winter pattern SAD یا winter depression کہتے ہیں۔

علامات:
اس کی چند بنیادی اور اہم علامات یہ ہیں :
1۔ بہت زیادہ بے چینی کی کیفیت طاری ہونا
2۔ جنسی میلان میں کمی واقع ہونا
3۔ نا امیدی اور بہت زیادہ شرمندگی کے احساس ہونا
4۔ معاشرتی تعلقات اور ملنے ملانے میں کمی ہو جانا
5۔ بے انتہا اداسی محسوس کرنا
6۔ اپنے پسندیدہ مشاغل میں دلچسپی اور خوشی محسوس نہ کرنا
7۔ بہت زیادہ سونا خصوصاً دن کے اوقات میں غنودگی کا طاری رہنا
8۔ بہت زیادہ کھانا کھانا اور وزن میں اضافہ ہو جانا
9۔ توجہ قائم رکھنے میں مشکل پیش انا
10۔ اپنی زندگی کے ضائع ہونے کا احساس ہونا
11۔ مزید جینے کی خواہش نہ ہونا
12۔ کاربوہائیڈریٹ کی بہت زیادہ رغبت ہونا
12۔ چڑچڑا پن ہونا

وجوہات:

سیڈ کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

1۔ قدرتی گھڑی:

ہمارے اندر قدرتی طور پر ایک جسمانی گھڑی لگی ہوئی ہے، اس کو Biological and Cricedian Rhythms کہتے ہیں۔ سورج کی روشنی کی کمی ہمارے اس کلاک کو متاثر کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے ڈپریشن کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

2۔ دماغی کیمیکل:

اس کے علاوہ دماغی کیمیکل serotonin level جو کہ ہمارے نیورو ٹرانسمیٹر ہوتے ہیں، کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ڈپریشن آ جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت دو ہفتے سے زیادہ رہے تو اس کو ہم سیڈ کے زمرے میں لاتے ہیں۔

3۔ میلاٹونن لیول:

موسم کی تبدیلی دماغ کے ایک کیمیکل میلاٹونن melatonin کے لیول میں بدلاؤ لاتی ہے۔ یہ کیمیکل نیند کی روٹین، پیٹرن، دورانیہ اور موڈ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

4۔ وٹامن ڈی کا لیول:

بعض اوقات دھوپ کی کمی کی وجہ سے جب انسان کے اندر وٹامن ڈی کم ہو جاتا ہے تو یہ بھی انسان کے ڈپریشن کی وجہ بنتا ہے۔

بیماری کا پھیلاؤ:

جن لوگوں کو بائی پولر کا مسئلہ ہوتا ہے ان کو سیڈ ایپیسوڈ ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جو کہ خط استوا سے بہت دور رہتے ہیں۔

زیادہ تر 0.5 سے 3 فیصد لوگوں میں یہ مسئلہ ظاہر ہوتا ہے۔ depressive disorder کے ساتھ 10 سے 20 فیصد لوگوں کو یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ bipolar disorder کے ساتھ 25 فیصد لوگوں کو یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔

علاج اور پرہیز:

اس کا علاج سائیکوتھیراپی یا ٹاک تھیراپی ہے۔
اس کے علاوہ بعض اوقات مخصوص دوائیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ لائٹ تھیراپی اور فوٹو تھیراپی بہت مفید ہے۔
نوٹ: تمام نام فرضی ہیں کسی بھی قسم کی مماثلت اتفاقی ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS