چوتھے ستون کا مرثیہ
منہاج برنا صاحب نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مرثیہ چہار ستون لکھا تھا۔ اس وقت انہوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ آنے والے دنوں میں صحافیوں کے حالات مزید بد تر ہوتے چلے جائیں گے۔ ِاور صحافت میں آنے کا مطلب سوئے مقتل جانا ہو گا۔ زیادہ دور کیوں جائیں صرف 2021 ء میں صحافیوں کے لئے خطر ناک ترین جگہ بلوچستان یا قبائلی علاقے نہیں بلکہ اسلام آباد تھا۔ جی ہاں، ان کے لئے اسلام آباد خطرناک ترین شہر بن چکا تھا۔ اس سال صحافیوں کے خلاف ہونے والے 148 واقعات میں سے 51 اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے تھے۔ اس دوران سات صحافی قتل ہوئے، سات پر قاتلانہ حملے ہوئے، پانچ کو اغوا کیا گیا، پچیس گرفتار ہوئے، پندرہ کو زد و کوب کیا گیا جب کہ ستائیس پر مقدمات درج کیے گئے۔
صحافی اسد طور کو ان کے فلیٹ میں زدو کوب کیا گیا۔ صحافی ابصار عالم کو ان کے گھر کے سامنے گولی ماری گئی جب کہ ایک سال پہلے مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا تھا۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں صحافیوں کو اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے بہت سے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ انہیں موت کی دھمکیاں ملتی ہیں، انہیں اغوا کیا جاتا ہے، ان پر تشدد ہوتا ہے اور کبھی انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ 2002.2022 کے دوران میں 90 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ایک خوف کی فضا پیدا ہوئی اور سیلف سنسر شپ کا رواج عام ہوا، جس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، کرپشن اور سیاسی دباؤ اور مظالم جیسے اہم مسائل کی کوریج کو محدود کر دیا ہے۔ پاکستان میں آزادیٔ اظہار کا جو برا حال ہے، اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ایکٹوسٹس کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ گو کہ پاکستان کا آئین آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسی قانونی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور اداروں کی طرف سے ایسی پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہ صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کر پاتے۔
آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق قومی سلامتی، دفاع یا مذہب کی بنیاد پر آزادیٔ صحافت پر کچھ مناسب پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں مگر حکومت اس آرٹیکل کی وضاحت اپنے طور پر کرتی ہے اور حزب اختلاف اپنے طور پر کرتی ہے۔ اکتوبر 2022 ء میں ٹی وی جرنلسٹ ارشد شریف کو نیروبی میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اپریل 2023 ء میں بول میڈیا گروپ کے آکاش رام مارکیٹنگ ڈائرکٹر کو اغوا کیا گیا۔
اس طرح کے واقعات کی بدولت صحافی سیلف سنسر شپ کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے عوام اہم معلومات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر دہشت گرد لنڈی کوتل میں کوئی کارروائی کرتے ہیں تو ایک صحافی جانتے ہوئے بھی اس گروپ یا جماعت کا حوالہ نہیں دیتا جس کے بارے میں اسے لگتا ہے کہ وہ اس کارروائی میں ملوث تھے کیونکہ وہ ان کی انتقامی کارروائی سے ڈرتا ہے۔ اگر اس کے نام سے ایسی کوئی خبر چھپ جائے تو اسے دھمکیاں ملتی ہیں اور وہ جان بچانے کے لئے چھپتا پھرتا ہے۔ بلوچستان کے صحافیوں کو بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا رہتا ہے۔ اس کی وجہ وہاں سیکیورٹی کی پیچیدہ صورت حال، قبائلی حرکیات اور مذہبی اثرات ہیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی 2012 ء کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صحافیوں کو زیادہ تر مشکلات کا سامنا فاٹا، بلوچستان، اندرون سندھ اور خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں کرنا پڑتا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال کافی سنگین ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کو اغوا، دھمکیوں، دھونس، حملوں اور دہشت کا ہر وقت سامنا رہتا ہے۔ دیگر مسائل میں کم اجرت، برطرفی کا خطرہ، اور کام کرنے کی مناسب سہولیات کا نہ ہونا ہے۔ صحافت کی آزادی پر پہلی پابندی تو خود میڈیا مالکان لگاتے ہیں۔ خود میڈیا کے اندر پریشر گروپس موجود ہیں۔ اس کے بعد معاشرے میں پھیلے ہوئے پریشر گروپس ہیں اور سب سے بڑا پریشر گروپ اشتہارات دینے والے سرمایہ دار ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر 2003 سے 2022 کے دو عشرے معلومات فراہم کرنے والوں یعنی صحافیوں اور ایکٹوسٹس کے لئے بے حد خطرناک تھے۔ عراق اور شام میں صورت حال سب سے زیادہ خوف ناک رہی جہاں گزشتہ بیس سالوں میں 578 صحافی مارے گئے۔ میکسیکو میں 125، فلپائن میں 67، پاکستان میں 93، افغانستان میں 81 اور صومالیہ میں 78 صحافی مارے گئے۔ پاکستانی صحافیوں کا اتنی بڑی تعداد میں مارا جانا ہمارے رہنماؤں کے لئے باعث شرم اور جمہوریت کی کمزوری کی نشانی ہے۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں سرکاری طور پر کوئی جنگ نہیں ہو رہی لیکن اس کے باوجود رپورٹرز محفوظ نہیں ہیں۔ پاکستان میں صحافی عسکریت پسندوں، باغیوں اور نا معلوم سرکاری اداکاروں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ حالیہ غزہ جنگ میں صحافیوں کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 6 جولائی 2024 تک ہونے والی 39,000 ہلاکتوں میں 108 صحافی شامل ہیں۔ اب تو اسرائیل کی جارحیت لبنان کو بھی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
اقوام متحدہ نے 2010 میں یونیسکو کی درخواست پر صحافیوں کی سیفٹی کے لئے ایک ایکشن پلان بنایا تھا۔ اس کے تحت کوئی پچاس ممالک صحافیوں کی سیفٹی کو در پیش نئے خطرات سے نمٹنے اور میڈیا فریڈم اور نئے ڈیجیٹل دور میں میڈیا کی تکثیریت سے وابستگی اور خاص طور پر خواتین صحافیوں کو خطرات سے بچانے کا عہد کرتے ہیں۔ اس ایکشن پلان کے تحت
٭درپیش خطرات کا تجزیہ اور انہیں کم کرنے، فرسٹ ایڈ، کمیونیکیشن کو محفوظ بنانے، تنازعات کی حساسیت رکھنے والی صحافت کی تربیت دی جاتی ہے۔
٭عملی اقدامات کیے جاتے ہیں جیسے 24 / 7 ہاٹ لائن، سیف ہاؤسز، سیفٹی فنڈز، سیفٹی کے آلات، قانونی مدد اور ہنگامی مدد وغیرہ کی فراہمی۔
٭ایڈووکیسی/پیروکاری:حملوں اور خطرات کی سطح کی مانیٹرنگ کرنا، بین الاقوامی سپورٹ یا اعانت کو مربوط کرنا، گائیڈز اور ہینڈ بکس تیار کرنا، اور حکومتوں کو بھی ان حفاظتی کارروائیوں میں شامل کرنا۔
پاکستان میں بھی صحافیوں کی حفاظت کا کمیشن بن چکا ہے۔

