مشترکہ محبوبہ اور مولوی صاب
ہم سب پر یارِ مہرباں ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا تازہ کالم ”میری دو کمزوریاں میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ“ پڑھا اور حسبِ سابق اوّلین فرصت میں پڑھا۔ ان کے کالم کا مرکزی موضوع ”شوگر“ یعنی ذیابیطس جیسا موذی مرض ہے جو دنیا بھر میں انسان کی جان کو آیا ہوا ہے۔ کالم میں اس تشویش ناک امر کا اعلان بھی ملتا ہے کہ ستّر برس کے ہمارے یہ نوجوان، فعال اور سرگرم لکھاری، دانش ور اور مفکر دوست بھی اس دشمن سے ہاتھ ملا بیٹھے ہیں۔ مگر صاحب، داد دیجیے ڈاکٹر صاحب کے اندر رچے بسے اُس ہنر مند قلم کار اور شگفتہ ادیب کی کہ مجال ہے کسی سطر پر غیر معقول تشویش کا بوجھل پن سایہ کر پایا ہو یا کسی لفظ میں غیر ضروری سنجیدگی نے پر پھیلانے کی جرات کی ہو۔ شروع سے اخیر تک گویا گیند کو پورے میدان میں گھماتے ہوئے، دائیں بائیں اچھالتے ہوئے، شائقین کی دھڑکنوں کو گِنتے ہوئے، آنکھوں آنکھوں میں مسکراتے ہوئے، گول کے چوکھٹے کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں ؛ ایک ایسے مشاق کھلاڑی کی طرح جو اپنے کھیل کا سٹائل بھی جانتا ہے اور اپنے ہدف کی پہچان بھی رکھتا ہے۔
کچھ اسی طرح ’بول چال‘ کے انداز میں وہ اپنی کم زوریوں میں کمی کی ’نوید‘ سناتے ہیں، اپنے شیرینی پسند ذوق کا تذکرہ کرتے کرتے جب اپنی سیکرٹری مارسیلینا کی کال، اپنے ڈاکٹر کی تشخیص اور ڈاکٹر لبنٰی مرزا صاحبہ سے تبادلۂ خیال کا ذکر کرنے لگتے ہیں تو قاری کے ذہن کے افق پر فکرمندی کی بدلی منڈلانے کو پر تولنے لگتی ہے مگر وہیں
DIABETES FOR DUMMIES
اپنی شگفتہ عنوانی کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور پڑھنے والا اس کے ممکنہ تراجم کی دل چسپی میں کھو جاتا ہے۔ اسی دوران میں مرض سے نمٹنے کے لیے احتیاطی
GLOVES
کا چھ رُکنی فارمولا اپنی تاثیر کے رنگ بکھیرنے لگتا ہے۔ پھر کیا؟ میٹھے لوگوں سے شروع ہوئی بات بقراط کی فکرِ رسا کے اوج سے ہوتی ہوئی کینیڈا میں سینئرز کے لیے ادویہ کے خصوصی رعایتی پروگرام پر جا کر سانس لیتی ہے۔ مگر بھولیے گا نہیں کہ گیند اب بھی کھلاڑی کے پاس ہے۔ وہ بس دم لینے کو رُکا ہے، تھکا ہرگز نہیں۔ اب کے زقند بھرتا ہے تو سیدھا مستطیل ’گول‘ کے سامنے۔ اور دوسرے ہی لمحے گیند گول کے اندر
”اب آپ مجھے بتائیں کہ پاکستانی حکومت اور عوام اپنے بزرگوں کا کس طرح خیال رکھتے ہیں؟“
کالم کی آخری سطر ہدف کے حصول کا اعلان کرتی دکھائی دیتی ہے۔
معلومات اور موازنہ پیش کرنے کے بعد دعوتِ فکر کی منزل کی جانب بلیغ اشارہ۔
میں ڈاکٹر خالد سہیل کے علم، حوصلے اور فن کاری کی غائبانہ داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
ابھی میں نے اس غائبانہ داد سے فارغ نہ ہوا تھا کہ فون پر برقی پیغام موصول ہونے کی گھنٹی بج اٹھی۔ دیکھا تو ڈاکٹر خالد سہیل صاحب ہی کا پیغام سامنے چہک رہا تھا
”قبلہ و کعبہ ملاقات ہونی چاہیے۔“
میں اس حُسنِ اتفاق میں قلب و فکر کی ہم آہنگی و ہم رفتاری کا پتہ لگانے لگا اور جی ہی جی میں مسکرا دیا۔ اور ان کے پیغام کے جواب میں انہیں فوری کال کیا۔ دوسری جانب سے وہی زندگی سے بھرپور لہجہ ابھرا
”مزاج کیسے ہیں آپ کے؟“
میں نے عرض کیا
میں تو ٹھیک ہوں۔ دن بھر دفتر کی سالانہ تقریب کے انتظامی امور میں پھنسا رہا۔ ابھی فرصت ملی اور ابھی آپ کا کالم پڑھ کر فارغ ہوا ہوں۔ اور ابھی آپ کو پیغام بھی مل گیا۔ اور میں مسکرا کر یہ سوچنے لگا کہ ڈاکٹرصاحب تو اب صرف میٹھے لوگوں ہی سے مِلا کریں گے یعنی دخترانِ خوش گل کا گھیرا ان کے گرد اب کچھ اور بھی تنگ ہو جائے گا۔ مگر آپ بھی کمال ہستی ہیں کہ کہ اب بھی نام نہاد ”مولویوں“ سے ملاقات کے خواہاں ہیں ”۔
اس پر دوسری جانب سے ایک حیات افروز قہقہہ سنائی دیا اور پھر یہ جملے
بات یہ ہے کہ میٹھے لوگوں میں ہم آپ کو بھی شمار کرتے ہیں۔ آپ شاید بھول رہے ہیں کہ جہاں ہم دخترانِ خوش گل کا حلقہ رکھتے ہیں وہاں ہمارا ایک دائرہ احبابِ خوش گفتار کا بھی تو ہے۔ اور ہم ان کی شیریں بیانی کی بھی جی جان سے قدر کرتے ہیں ”۔
”! میں تو ڈر رہا تھا کہ اب پھر سے کہیں ہماری دوستی سے ’بن باس‘ نہ لے لیں“
میں نے انہیں چھیڑتے ہوئے پہلی ملاقات کے بعد برسوں کی بے اعتنائی کی جانب اشارہ کیا۔ وہ سمجھ تو گئے ہوں گے مگر پھر بھی بولے
”آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟“
”میں نے کہا“ رام جی بھی اپنے بن باس اور اپنی گوپیوں کے لیے مشہور ہیں اور آپ بھی دخترانِ خوش گل کے گھیرے میں رہتے ہیں۔ بس یہی سوچ کر۔
تو اُدھر سے مسکراتا ہوا جواب آیا
”میں تو آپ کی ظاہری مولویانہ وضع قطع کو دیکھ کر ازراہِ ادب ’احتیاطی‘ دُوری پر چلا گیا تھا۔“
آپ گویا مجھ تر دامن کو زاہدِ خشک سمجھ بیٹھے تھے۔ تب تک آپ نے میرا یہ شعر نہیں سنا ہو گا۔ یہ میرے دوسرے شعری مجموعہ ”گہری شام کی بیلیں“ میں شامل ہے
میری ہستی پہ نہ جاؤ، ذرا آگے آؤ
”ہاں، مِرے شہر کے آغاز میں ویرانہ ہے“
میں اپنا شعر سنانے کا موقع کہاں گنوانے والا تھا! سو، سنا دیا۔
”واہ، واہ۔ بہت عمدہ۔ بہت خوب۔“
داد دیتے ہوئے وہ بے ساختہ کھلکھلا دیے تھے۔
اور پھر ان کی انہی دل کش مسکراہٹوں کی جھلملاہٹوں میں ہم آئندہ ملاقات اور اپنی ”مشترکہ محبوبہ“ کے بارے میں بات کرنے لگے۔
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ ’مشترکہ محبوبہ‘ دراصل اُس زیرِ ترتیب کتاب کا نام ہے جو ”ہم سب“ پر شائع ہونے والی ہماری تحریروں کا ایک انتخاب ہے۔
کوئی دو برس قبل ڈاکٹر صاحب کی سُرخ سپورٹس کار اور دخترانِ خوش گل کے شیریں ذکر سے آغاز ہونے والا ہمارا ادبی مکالمہ مکتوبات، جنہیں ڈاکٹر صاحب ادبی محبت ناموں سے تعبیر کرتے ہیں، سے ہوتا ہوا ذاتی اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے اثرات اور وہاں سے ہماری پسندیدہ تخلیقی شخصیات، دل چسپ یادوں، خوابوں اور انٹرویوز تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران میں ہم نے پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب، اختر حسین جعفری صاحب، پروفیسر محمد حسن صاحب، یزدانی جالندھری صاحب، منیر نیازی صاحب، زاہد ڈار صاحب سے ملاقاتوں کے احوال بھی ایک دوسرے کو سنائے اور پھر عالمی ادب کے ساتھ ساتھ ٹورانٹو اور لاہور کی ادبی و ثقافتی فضاؤں کا بے تکلف تقابلی جائزہ بھی لیا۔ اب یہ سب مبسوط اور مجلد صورت میں محفوظ ہونے جا رہا ہے۔
”کہاں کھو گئے آپ؟“ فون پر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی آواز مجھے واپس لمحہ ٔ رواں میں لے آئی تھی۔
”جی، میں یہیں ہوں اور گزشتہ دو برس میں اپنی مشترکہ ادبی کوششوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔“
تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے
میں سمجھتا ہوں کہ ”مشترکہ محبوبہ“ سے ہمارے ذوق و شوق اور فکر کا اشتراک بھی واضح ہو کر سامنے آ جائے گا اور سماجی بہبود اور سوشل سائنسز میں ہماری دل چسپی بھی۔ اور یہ بھی کہ ہم دونوں کثیر الجہت لکھاری ہیں اور پھر یہ کہ پڑھنے لکھنے کا شوق ہمیں وراثت میں ملا ہے۔ ”۔
یہی نہیں ڈاکٹر صاحب، ایک مشترک شے اور بھی ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ ”میں نے ان کی بات آگے بڑھاتے ہوئے لقمہ دیا۔“
”وہ کیا؟“ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے کہا
”ذیابیطس۔“


