چکوال کا نور خان گاندھی


چکوال شہر سے جانب شمال بمشکل آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دس بارہ گھروں پر مشتمل ڈھوک سارنگ آباد ہے۔ جب اٹھارہویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں چوہدری سارنگ خان نے اپنی اس بستی کی بنیاد رکھی تو اس وقت ”ڈھاب پڑی“ گاؤں کچھ فرلانگ کے فاصلے پر تھا لیکن انتظامی ریکارڈ میں ڈھوک سارنگ کو چک نورنگ جو ڈھوک سارنگ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر آباد تھا کا داخلی گاؤں قرار دے دیا گیا۔ آج چک نورنگ اور ڈھوک سارنگ میں وہی فاصلہ ابھی تک قائم ہے لیکن ڈھوک سارنگ اور ڈھاب پڑی آپس میں اس طرح مل چکے ہیں کہ اب یہ دونوں گاؤں ایک ہی گاؤں لگتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آج بھی ڈھوک سارنگ کی اپنی علیحدہ شناخت ہے اور چوہدری سارنگ خان کی یہ بستی آج بھی چک نورنگ کے داخلی گاؤں کے طور پر ہی جانی جاتی ہے۔

گاؤں کے دائیں کنارے پرایک سکول ہے جو گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ڈھاب پڑی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سکول میں اس وقت پانچ سو سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں۔ اگرچہ جماعت نہم اور دہم کی چند طالبات یہ ضرور جانتی ہیں کہ ان کا سکول 1936ء میں قائم ہوا لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ ان کی اس عظیم درسگاہ کا بانی کون تھا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سکول گیٹ کی قریبی دیوار پر لکھی جانے والی سکول کی مختصر تاریخ میں سکول کے بانی کے نام کا کوئی ذکر نہیں۔

لڑکیوں کا یہ سکول چوہدری سارنگ خان کے پوتے چوہدری نور خان نے 1936ء میں اس وقت تعمیر کرایا جس وقت ہمارے دیہات میں لڑکوں کی تعلیم کو بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا اور لڑکیوں کو سکول بھیجنا تو ایک لحاظ سے ”سماجی برائی“ کے زمرے میں آتا تھا۔ جب چوہدری نور خان نے لڑکیوں کے سکول کا اٹل فیصلہ کر لیا تو انہیں اپنے خاندان اور گاؤں کے لوگوں کی طرف سے طرح طرح کی باتیں سننا پڑیں۔ گاؤں کے ایک ”دور شناس“ آدمی نے اپنی دور شناسی جھاڑتے ہوئے یہ کہا کہ تم یہ کیا ظلم کر رہے ہو۔ ان لڑکیوں نے اگر کچھ حروف پڑھنا لکھنا سیکھ لیے تو یہ خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں گی۔ چوہدری نور خان چونکہ نہ صرف خود گاؤں کے چوہدری تھے بلکہ ایک با اثر شخص بھی تھے اس لیے ”دور اندیشوں“ کی مخالفت انہیں اپنے مقصد سے نہ ہٹا سکی اور انہوں نے 1936ء میں اس وقت لڑکیوں کے پرائمری سکول کی بنیاد رکھی جس وقت بڑے بڑے دیہات میں لڑکوں کے پرائمری سکولوں کا وجود تک نہ تھا اور لڑکیوں کا یہ پرائمری سکول غالباً ضلع جہلم (چکوال اس وقت ضلع جہلم کی تحصیل تھی) میں لڑکیوں کا پہلا پرائمری سکول تھا۔

چوہدری نور خان نے سکول کے ساتھ ایک ہاسٹل بھی تعمیر کیا کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اس سکول میں دور دراز کے دیہات سے لڑکیاں آئیں گی جن کو اس وقت ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہاسٹل میں ٹھہرنے کی ضرورت پڑے گی۔ ہاسٹل کے علاوہ انہوں نے سکول کے ساتھ ایک چشمہ بھی کھدوایا تاکہ سکول میں زیر تعلیم طالبات کو پانی جیسی بنیادی سہولت بآسانی میسر ہو سکے۔ اتوار کو اس چشمے پر کوئی مرد نہیں جا سکتا تھا کیونکہ اتوار کو سکول کی طالبات چشمے پر کپڑے دھوتی تھیں۔ چوہدری نور خان نے سب سے پہلے اپنی چار بیٹیوں کو اس سکول میں داخل کرایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سکول میں دور دراز دیہات، حتیٰ کہ ضلع راولپنڈی کے علاقے سے بھی لڑکیوں نے داخلہ لیا۔ اس طرح ڈھاب پڑی اور کوٹ سارنگ کے مضافاتی دیہات میں لڑکیوں کی تعلیم کا ایک رجحان بن گیا۔ آج نور خان کا قائم کیا ہوا یہ سکول اٹھاسی برس کا ہو چکا ہے۔ سکول کی اٹھاسی سالہ کارکردگی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ڈھاب پڑی میں اگر کسی والدین کی تین بیٹیاں اور تین بہوئیں ہیں تو وہ چھ کی چھ یا تو استانیاں ہوں گی یا نرسیں۔ چوہدری نور خان نے قریبی گاؤں چک نورنگ میں بھی سکول کے لیے جگہ دی اور سکول بنوایا۔ آج چک نورنگ میں لڑکوں کا یہ ہائی سکول کامیابی سے چل رہا ہے۔

چوہدری نور خان ترقی پسند زمیندار تھے جنہوں نے زراعت میں جدید آلات اور بیج متعارف کرائے۔ یہ چوہدری نور خان تھے جنہوں نے اپنے علاقے کے کسانوں کو سب سے پہلے لوہے کے ہل استعمال کرنے پر اکسایا۔ اس سے پہلے کسان جانوروں کے پیچھے لکڑی کے ہل باندھتے تھے۔ چوہدری نور خان کی تعلیمی کاوشوں اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے لیے شاندار عملی جدوجہد اور زراعت میں جدید طریقوں کے فروغ کو سراہتے ہوئے اس وقت کی پنجاب حکومت (برطانوی راج) نے چوہدری نور خان کو تعریفی اسناد سے نوازا اور ساتھ کمالیہ میں زمین بطور انعام دی۔ تعلیم سے ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کمالیہ میں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ سکول بنائے۔ آج یہ سکول چک نمبر 236 میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ لڑکیوں کا سکول مڈل ہو چکا ہے جبکہ لڑکوں کا سکول ہائی ہو چکا ہے۔

چوہدری نور خان کی درست تاریخ پیدائش نامعلوم ہے کیونکہ اس وقت مسلمانوں میں تاریخ پیدائش درج کرنے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ تاہم ان کے خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی وفات سات نومبر 1971 ء کو ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 95 سال تھی۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ 1876 ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ مڈل سکول بھون میں داخلہ لیا اور اپنی پھوپھی کے پاس قریبی گاؤں کھائی میں رہے۔ والدہ کی مخالفت کے باوجود انہوں نے مڈل پاس کیا اور اس کا کریڈٹ ان کی پھوپھی اور ان کی اپنی علم سے محبت کو جاتا ہے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد وہ برطانوی فوج میں رسالہ کے شعبے میں بھرتی ہوئے۔ رسالہ یونٹ گھڑ سواروں پر مشتمل ہوتی تھی اور اس میں بڑے بڑے زمیندار بھرتی ہوتے تھے۔ چوہدری نور خان نے پہلی جنگ عظیم میں فرانس کے محاذ پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ جنگ کے بعد وہ رسالہ دار ریٹائرڈ ہوئے۔ پھر کچھ عرصہ کے لیے خان سرفراز خان کے ساتھ مل کر محکمہ مال میں بطور پٹواری بھی بھرتی ہوئے۔ لیکن جلد ہی نوکری چھوڑ کر گاؤں آ گئے اور اپنے آپ کو تعلیمی اور زرعی خدمات کے لیے وقف کر دیا۔

انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کے لیے ان تھک محنت کی۔ تاہم جاگیردارانہ ذہن رکھنے والے ممتاز دولتانہ نے 1935ء کے انتخابات میں نور خان کی بجائے ٹکٹ راجہ سرفراز خان کو دیا جس کی وجہ سے چوہدری نور خان نے مسلم لیگ کو چھوڑ دیا اور علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ خاکسار تحریک کے منشور میں ایک بنیادی نقطہ زندگی عاجزی سے گزارنا تھی اور چوہدری نور خان عاجزی و انکساری کا مجسمہ تھے۔ جس وقت مہاتما گاندھی سودیشی تحریک چلا رہے تھے جس تحریک کا مقصد برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ اور دیسی مصنوعات کا فروغ تھا اس وقت چوہدری نور خان اپنے علاقے میں لوگوں کو کھدر پہننے، عورتوں کو چرخہ کاتنے، زیور پہننے سے اجتناب کرنے، شادی پر جہیز جیسی لعنت پر پابندی لگانے اور دیسی کپڑا بنانے کے لیے کھڈیاں لگانے پر زور دے رہے تھے۔ آپ کی یہ فلاسفی اور نظریہ چونکہ مہاتما گاندھی کے نظریے اور فلسفے سے ملتا تھا اس لیے لوگوں نے آپ کو گاندھی کا خطاب دیا اور آپ نور خان گاندھی کے نام سے مشہور ہوئے۔

آپ نے ساری زندگی خود کھدر پہنا۔ یہ آپ کی تعلیمات کا اثر ہے کہ آج بھی ڈھوک سارنگ، ڈھاب پڑی اور آپ کے وارثان کے خاندان خواہ وہ چکرال میں ہوں یا چک ملوک میں ہوں، دھن دولت ہونے کے باوجود شادی پر جہیز دینا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ جو روایت چوہدری نور خان گاندھی نے قائم کی تھی ان کے وارثان آج تک اس روایت کو نبھا رہے ہیں۔ بیٹیوں کو جہیز تو نہیں دیا جاتا لیکن جائیداد میں حصہ اور استطاعت کے مطابق نقدی ضرور دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی لڑکی شادی کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہے تو یہ ذمہ داری بھی اس کے میکے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا یہ احساس جو نوے سال قبل چوہدری نور خان گاندھی نے بیدار کیا تھا کا نتیجہ یہ ہے کہ آج چکوال کے اس عظیم مصلح کے وارثان میں سے کئی مرد قانون دان ہیں اور کئی عورتیں مختلف تعلیمی اداروں میں علم کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔

نور خان گاندھی اگرچہ خود ایک بڑے زمیندار تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ جاگیردارانہ سوچ کی مخالفت کی۔

نور خان گاندھی علامہ اقبال کی شاعری کے گرویدہ تھے اور ان کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ وہ زندگی میں دو دفعہ علامہ اقبال ؒ سے ملے اور اپنے پوتے کا نام بھی علامہ اقبال کے نام کی نسبت سے شوق اقبال رکھا۔

آج چکوال کے اکثر عوام نور خان گاندھی کا نام تک نہیں جانتے۔ حتیٰ کہ ان کے اپنے خاندان کی نئی نسل بھی ان کی عظیم خدمات سے آگاہ نہیں۔ وہ چکوال بالخصوص علاقہ دھن کے عظیم محسن ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج چکوال شہر میں ان کے نام پر کسی سڑک کا منسوب ہونا تو دور کی بات ان کے اپنے بنائے ہوئے سکول کی دیوار پر بھی ان کا نام موجود نہیں۔ ڈپٹی کمشنر چکوال یوں تو ہر ہفتے چکوال اور تلہ گنگ کے کسی کونے میں اپنے نام کی تختی جڑ دیتی ہیں لیکن چکوال کے اس عظیم محسن کے نام کی تختی کب لگے گی؟ کوئی زندہ معاشرہ ہوتا تو آج تحصیل چوک یا ون فائیو چوک پر چوہدری نور خان گاندھی کا مجسمہ نصب ہوتا اور چکوال کی کسی مرکزی شاہراہ کا نام ”چوہدری نور خان گاندھی روڈ“ ہوتا۔

Facebook Comments HS