نسیم بیگم کی ’شہادت‘ !


سینئر صحافی اسلم ملک صاحب نے نسیم بیگم کی برسی کے موقع پر فیس بک پر ان کے بارے میں ایک پوسٹ لگائی۔ اس پوسٹ کے مطابق 24 فروری 1936 کو پیدا ہونے والی خوب صورت گلوکار نسیم بیگم 29 ستمبر 1971 میں زچگی کے دوران وفات پا گئیں۔

نسیم بیگم نے 6 بچے پیدا کیے اور خود نسیم بیگم کو، ان کے شوہر دین محمد کو یا کسی بھی اور کو یہ خیال نہیں آیا کہ اتنی بڑی گلوکار جس کے پاس اتنا ہنر اور صلاحیت ہے، وہ اتنے بچے کیوں پیدا کر رہی ہے۔ وہ کیوں بار بار اس خطرناک رستے پر چل رہی ہے۔ وہ صاحبِ اولاد تو ہو گئی تھی، پھر اسے کیا مجبوری لاحق تھی۔ ہمارے معاشرے میں آخر کتنی عورتیں ایسی ہوں گی جو ان جیسی قابلِ رشک صلاحیتوں کی مالک ہوں گی اور اپنے فن کا مظاہرہ گھر کی لکشمن ریکھا سے باہر بھی کر سکتی ہوں گی۔ نسیم بیگم کے پاس تو سب کچھ تھا مگر انھیں کس چکر میں الجھا دیا گیا! اور پھر اس موت کو جواں مرگی، شہادت کی موت، کم عمری کی موت جیسی جذباتی افسانوی باتوں میں لپیٹ کر پیش کیا گیا۔ حادثہ اور سانحہ کچھ اور ہوتا ہے۔ اس طرح کی موت تو سیدھا سیدھا قتل ہے۔

میرے ایک شاگرد نے ”صنف اور صحت“ کی کلاس میں زچگی کے دوران موت کے اعداد و شمار پڑھتے ہوئے، مجھ سے میری عمر پوچھی۔ میں نے بتایا کہ میں 45 سال کی ہوں۔ اس نے کہا، ”میری والدہ کا انتقال 45 برس کی عمر میں ہوا تھا۔ اور وہ اس عمر میں بہت بوڑھی لگتی تھیں، آپ تو ٹھیک لگ رہی ہیں۔“ اس نے مزید بتایا کہ موت کے وقت اس کی والدہ کا پندرہواں حمل چل رہا تھا۔ ”ہائے ہائے۔ اب بتائیے اس پینتالیس سالہ ماں نے کیا زندہ رہنا تھا۔ وہ 4 بچوں کی موت دیکھ چکی تھی، پانچویں کو اپنے ساتھ لے گئی اور دس بچوں کو اپنے پیار سے عمر بھر کے لیے محروم کر گئی۔

پھر ایسی عورتوں کو بیچاری، صابرہ، شاکرہ، جنت مکانی وغیرہ کہا جاتا ہے اور ماں کی محبت اور قربانی کے عجیب و غریب دیومالائی قصے گھڑے جاتے ہیں۔ خیر دیکھا جائے تو پدرسری دماغ نے دیومالائی دیویاں بھی ایسی ہی بنائی ہیں، بالکل بے کار۔ سیتا نے مرضی دکھائی تو راون اٹھا کر لے گیا، پھر صفائیاں ہی پیش کرتی رہی، اگنی پرکشا سے گزر کر بھی کیا بننا تھا، واپس دھرتی ماں کے بھیتر چلی گئی۔

مرد تخلیق کار کو پدر سری معاشرہ یہ آسانی فراہم کرتا ہے کہ اسے بھی اور عورت کو بھی یہ بخوبی علم ہوتا ہے کہ یہ عورت کا کام ہے، سو وہ بچے کو عورت کے حوالے کر کے اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر کام کرتا ہے اور اگر وہ پیسہ بھی اسی ذریعے سے کما رہا ہو تو پھر تو اسے مزید آسانی میسر ہوتی ہے۔ تخلیق کار عورت ساری عمر صفائیاں پیش کرتی رہتی ہے۔ اسے ہر وقت ہر کسی کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ بچے کو کتنا وقت دیتی ہے اور اس نے اس ضمن میں کیا کیا قربانی دی۔

مرد تخلیق کار کو کسی کٹہرے میں نہیں کھڑا ہونا پڑتا۔ ہماری کئی شاندار خواتین گلوکاروں سے ویسے ہی کام چھڑوا دیا گیا۔ ان کی بابت یہی کہا گیا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔ اس پر سب خوش ہو جاتے ہیں کہ وہ ایک اچھی عورت ہے، خراب عورت نہیں۔ ویسے تو عورت کے منہ سے مرضی کا لفظ سنتے ہی سب کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے مگر وہ معاملات کہ جن میں اس کی مرضی پدر سری سماج اور اپنے مرد کی خواہشات کے کے تحت ہو، ٹھیک بلکہ شاندار ہوتے ہیں۔

کوئی پوچھے کہ اگر عورت واقعتاً اپنی مرضی کے مطابق کوئی کام کرے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ خاص طور پر ان فنکاروں اور تخلیق کاروں کا تو خیال رکھنا چاہیے کہ جن کا نعم البدل کوئی ہو نہیں سکتا۔ نسیم بیگم نے جب ’اے راہِ حق کے شہیدو‘ ترانہ گایا ہو گا تو انھیں کیا پتا ہو گا کہ ایک شہادت ان کے حصے میں بھی لکھی گئی ہے، ایک ایسی شہادت جس پر کوئی تمغہ نہیں ملنا اور جس کا تاج پہننے کے بعد کوئی سرخروئی حصہ میں نہیں آنی۔ انھیں کسی نے اس طرح یاد نہیں کرنا جس طرح وہ شہیدوں کو پکار پکار کر سلام کہتی رہیں۔ انھیں کیا پتا ہو گا کہ ان کی دل سوز آواز کے قتل پر کوئی دل گیر دھن نہیں بنے گی اور کوئی دل ربا آواز میں نغمہ سرا نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “نسیم بیگم کی ’شہادت‘ !

  • 30/09/2024 at 11:55 شام
    Permalink

    کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر عمر عادل نے ایک خاتون اینکر کے بارے میں کہا تھا کہ ان کو آپریشن کرالینا چاہئے تاکہ مزید بچے پیدا نہ ہوں۔ خواتین نے ایک شور اور ہنگامہ ڈال دیا کہ کوئی اور یہ فیصلہ یا مشورہ دینے والا کون ہوتا ہے۔ آج سے 53 سال پہلے کثیر العیال ہونا اچھا سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم صحت اور ٹرانسپورت سب سستے زمانے تھے۔ نسیم بیگم کے شوہر لاہور کے مشہور پبلشر دین محمد یقیناً پڑھے لکھے شخص ہوں گے اور اگر یہ ان دونوں میاں بیوی کا مشترکہ فیصلہ تھا تو ہم اور آپ کون ہوتے ہیں اس پر انگلیاں اتھانے والے۔

    سروگیسی آج کا چلن ہے اس وقت تو پانچ چھ بچے پیدا کرنا عام بات تھی۔ ملکہ ترنم نورجہاں کو لے لیں پانچ چھ بچے تو انہوں نے بھی پیدا کردیئے تھے۔ جب کہ نسیم بیگم کے مقابلے میں وہ تو اداکارہ اور رقاصہ بھی رہی ہیں۔ ایک گلوکارہ کے حاملہ ہونے سے اس کے گانے کی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
    ویسے بھی نسیم بیگم کا انتقال بچے کی پیدائش کے بعد برین ہیمرج سے ہوا تھا (جو زچگی بگڑنے کی وجہ سے ممکن ہے ہوا ہو)۔ اسپتال بھی اس وقت کے لاہور کا سب سے بہتر یونائیٹڈ کرسچن اسپتال تھا۔

    جہاں تک شہادت کا سوال ہے اگر صحیح مسلم، داؤد، ماجہ اور مسند احمد میں ایک مستند حدیث موجود ہو جس کی رو سے اللہ کی راہ میں جان دینے والا، طاعون (یا وبا) میں مرنے والا، ڈوبنے والا، پیٹ کی بیماری (کینسر السروغیرہ) سے مرنے والا اور زچگی کے دوران یا اس کے مسائل سے بعد میں موت ۔۔۔ سب شہادت کی اقسام قرار دی گئی ہیں تو اس کا مذاق اڑانے کی کیا ضرورت ہے۔

    مذاق تو بے نظیر کا اڑنا چاہئے جسے لوگ شہید لکھتے نہیں تھکتے کہ گاڑی سے باہر سر نکالنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ قاتلانہ حملے کی پہلے ہی خبر تھی۔

    ویسے بھی زچگی پہلی ہو یا چھٹی ۔ موت تو کسی میں بھی آسکتی ہے۔ تو کیا اس ڈر سے عورتیں مائیں نہ بنیں جیسے کہ اب انڈیا اور ہالی ووڈ کی اداکارائیں کرتی ہیں یعنی سروگیسی۔

    کیا کسی کو یاد ہے ھندوستانی اداکارہ سمیتا پاٹل 31 اسل کی عمر میں بیٹے کی پیدائش کے بعد انہی حالات میں انتقال کرگئی تھی۔ تو کیا گارنٹی ہے کہ پہلے دوسرے یا تیسرے بچے کی پیدائش پر یہ مسائل پیش نہیں آئیں گے۔

    نسیم بیگم کی شادی 17 یا 18 سال کی عمر میں ہوچکی تھی۔ یوں 18 سال میں چھٹا بچہ کوئی اچھنبے کی بات بھی نہیں ہے۔ شاہ جہاں کی محبوب بیوی ممتاز محل بھی زچگی کے دوران انتقال کرگئی تھی جس کی وجہ سے تاج محل بنا۔

Comments are closed.