خامنائی کے بیٹے حزب اللہ اور حماس کے ہمراہ اسرائیل سے کیوں نہیں لڑتے
جس طرح افغان ”مجاہدین“ اپنے خداؤں کے لیے بوجھ بن گئے تھے اسی طرح نئے حالات میں حماس اور حزب اللہ بھی بن چکی ہیں اور اب دونوں برق رفتاری کے ساتھ اپنے اپنے عبرت ناک انجام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ ہانیہ اور حسن نصراللہ کی ”شہادتیں“ آغاز سمجھیں۔
یہ خاکسار ڈاٹ کام کا تجزیہ ہے اور وقت ثابت کردے گا کہ یہ بات غلط نہ ہے۔ بس یہ یاد رکھیں کہ جب عراق میں صدام کو پھانسی دی گئی تھی تو چونکا دینے والی یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ عراق کے مشہور شیعہ رہنما مقتدی الصدر عین پھانسی کے وقت امریکیوں اور اتحادیوں کے لوگوں کے ساتھ موقع پر موجود تھے، مقتدی الصدر وہاں کیوں وجود رکھتے تھے؟ بظاہر تو ایرانی حمایت یافتہ امریکہ کے دشمن کہلاتے ہیں؟ تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ایران تو اس دنیا میں اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن کے طور بھی مشہور یا بدنام ہے لیکن جولین اسانج وکی لیکس میں یہ سنسنی خیز انکشاف کر چکے کہ ”ایران عراق سے اپنی آٹھ سالہ جنگ کے دوران اسی اپنے“ سب سے بڑے دشمن ”اسرائیل سے اسلحہ لیتا رہا تھا“
اور وکی لیکس کے اس انکشافی دعوے کی تردید کی جرات آج تک ایران نہ کر سکا ہے اور لکھ لیجیے کہ بدلتے حالات و معاملات میں حماس اور حزب اللہ کی اب ایران کو بالکل بھی ضرورت نہ رہی ہے بلکہ یہ عسکری جتھے اس کے لیے اب بہت بڑا بوجھ بن چکے ہیں، بالکل ایسے ہی سعودی عرب کے لیے عرب مجاہدین بوجھ بن گئے تھے (ہیں ) اور بہت سوں کو جنرل مشرف کے ذریعے مروا دیا گیا اور بہت سوں کو گوانتانامو بے، ابو غرائب اور دیگر جگہوں میں پہنچوا دیا گیا، بہت سے بلکہ سینکڑوں تاریک راہوں میں مارے گئے، سینکڑوں پراسرار طور پر غائب ہو گئے یا کر دیے گئے، کم انتہاپسندوں کو رعایت مل گئی اور وہ شریف بچے بن گئے لیکن شامت ان کی بھی ہر بڑے دہشت گردی کے واقعے کے بعد زوردار کریک ڈاؤن میں آتی رہتی ہے، وہ نہ زندہ رہے اور نہ ہی مردہ کہ لمحہ بھر سکون نہ لے سکتے ہیں اور ریاست ادارے ہر وقت انہیں گلی کا پتھر سمجھ کر ٹھوکریں مارتے لڑھکاتے رہتے ہیں۔
حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کو ”پیجرز اٹیک“ میں الجھا کر پہلے خوفزدہ کیا گیا اور وہ انتہائی باوسائل تنظیمیں بچوں کی طرح ٹریپ ہوتی چلی گئیں اور زمیں دوز بنکروں میں ڈمپ ہو گئیں اور حسن نصراللہ تک جیسے لوگ اپنی بیروت کی زمین میں 14 منزلہ پر بنی محفوظ پناہ گاہ میں بھی اسرائیل کی کھلی دہشت گردی کا شکار ہو گئے ہیں اور ہانیہ اور حسن نصراللہ کے لاشوں کے بعد پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ صرف خوف اور بے پناہ خوف۔ اسرائیل نے پیجرز اٹیک کے بعد حزب اللہ اور حماس کے لوگوں میں ایسا خوف پیدا کر دیا ہے کہ وہ چھپتے پھر رہے ہیں اور حسن نصراللہ کی موت کو لیبیا کے کرنل قذافی کی موت سے جوڑا جا رہا ہے جو موت کے خوف سے ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے، کیا حسن نصراللہ جیسے لیڈر کو ڈر کر یوں چھپنا زیب دیتا تھا؟
بہرحال سنگین حادثہ ہو چکا ہے اور ان کی موت کا بدلہ لینے کی بڑھکیں اب ایران مارتا رہے گا لیکن سوچیں کہ اس نے اسماعیل ہانیہ کو گھر بلا کر اسرائیل سے احمقانہ انداز میں مروا دیا اور اس کی ”تیز طرار“ ایجنسیاں منہ دیکھتی رہ گئیں اور کئی ماہ ہوچکے اور بڑھکیں مارنے والا ایران دم سادھے بیٹھا ہے کہ نہیں؟ اس کے گھر آ کر اس کا ”سب سے بڑا دشمن“ اسرائیل اس کے سب سے پیارے مہمان ہانیہ کو لہولہان کر گیا لیکن ایران کچھ بھی نہ کر سکا، بدلے کی دھمکی خالی دھمکی ہی ثابت ہوئی اور اب حسن نصراللہ کی موت کے بعد پھر کہہ رہا ہے کہ ٫ایران بیروت اور گولان کی پہاڑیوں پر اپنی فوج بھیجے گا ”
یہ بچگانہ سی بات ہے جس پر مان لیتے ہیں کہ ایران عملدرآمد کر بھی لیتا ہے تو کیا ہو جائے گا؟ اسرائیل حملہ کردے گا اور ایران جواب دینے کی پوزیشن میں بھی نہ ہو گا کہ اسرائیل کے مقابلے میں اس کی حیثیت کمزور ہے اور کمزور کی کوئی بھی میں مانتا ہوتا اور دوسری بات یہ ہے کہ خاکسار دوسرے تجزیہ نگاروں سے بالکل اتفاق کرتا ہے کہ ایران ادھر اپنی فوج نہیں بھیجے گا، اس کے اندر اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ ایسا کرے اور پھر اسے علم ہے کہ اس کے نتائج کیا یوں گے؟
ایران جو پہلے ہی بے تحاشا عالمی پابندیوں کا شکار ہے وہ یہ رسک کیونکر لینا چاہے گا؟ اور پھر دوسرے ملک و قوم کے لیے؟ کسی ایسی عسکری تنظیم کے لیے جس کے بارے دنیا کی رائے منفی ہو؟ اس لیے یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ایران خاموشی اختیار کرے گا کہ اس کو اپنی بقا سب سے زیادہ عزیز ہے اور پھر اسے اپنی عسکری طاقت کا بھی بخوبی علم ہے، بڑھکیں مارنا اور بات ہے اور میدان میں آنا دوسری۔
یاد رکھ لیجیے کہ اسرائیل مسلمان ملکوں میں صرف پاکستان سے خوف کھاتا ہے اور اسے علم ہے کہ وہ پس پردہ رہ کر پاکستان کے خلاف جو مرضی کر لے لیکن کھل کر جس دن بھی اس نے پاکستان کی طرف ایک کنکر بھی پھینکا تو جواب میں اسے نہ کسی دھمکی دی جائے گی اور نہ ہی لمحہ بھر انتظار کیا جائے بلکہ اگلے دو تین گھنٹوں میں اس کو ایسا سبق سکھا دیا جائے گا کہ اس کی بچی کھچی نسلیں تک یاد رکھیں گی کہ کس سے پنگا لیا تھا، اسے کوئی دیوانے کہ بڑ سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے مگر یہ ریاست کی پالیسی ہے اور اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے اور پھنے خان سے مشاورت کی جائے گی اور نہ ہی اجازت لی جائے گی اور نہ ہی ڈرا جائے گا۔
اسرائیل کو پاکستان کی اس پالیسی کا ادراک بھی ہے اور متعدد بار اسے یہ باور بھی کروایا جا چکا ہے اور اسی لیے وہ پاکستان کے خلاف نہ کبھی کوئی سخت ترین بیان دینے کی جرات کرتا ہے اور نہ ہی کسی دھمکی دینے کی حماقت میں مبتلا ہوتا ہے، یاں پاکستان اس کے خلاف ہر فورم پر سخت بیانات داغتا رہتا ہے، ابھی وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نیویارک میں ریاست کی اسی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے نہ صرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کیا بلکہ اسرائیل کے خلاف وہاں سخت تقریر بھی کی اور میڈیا کو بیانات بھی دیے ہیں لیکن اسرائیل اپنے وزیراعظم کے بائیکاٹ پر بھی پاکستان کے خلاف مذمتی بیان دیتا ہوا نہیں ملتا ہے کیونکہ پاکستان اسے جھاڑ کر رکھ دیتا ہے اور بالکل بھی لفٹ نہیں کرواتا ہے۔
آخری بات یہ کہ دنیا میں اب مذاکرات پر ہی کچھ حاصل وصول ہو گا، عسکری جتھوں کا دور گزر گزرا گیا اور حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں سمیت باقی سب تنظیموں کو جتنی جلد یہ احساس ہو گا، بہتر ہو گا ورنہ ان کا انجام بھی افغانستان میں جاکر دنیا بھر سے جا جا کر روس کے خلاف ”جہاد“ کرنے والے ”مجاہدین“ جیسا ہو گا اور ان احمق ”مجاہدین“ کو جانے کب عقل آئے گی کہ جو لیڈران ان سے جہاد کروا رہے ہیں ان کے اپنے بچے امریکہ، برطانیہ پڑھتے ہیں اور ان عقل کے اندھوں سے وہ ”جہاد“ کرواتے ہیں ”پاکستان میں جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کے بیٹے آصف لقمان قاضی امریکہ پڑھتے رہے ہیں، کالعدم لشکر طیبہ کے حافظ سعید کا بیٹے طلحہ سعید امریکہ پڑھتے رہے ہیں، افغان جہاد کے سرخیل جنرل اختر عبدالرحمن، جنرل حمید گل، جنرل ضیاء الحق کے بیٹے افغان جہاد میں شہادت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے کیوں نہ بھیجے گئے تھے؟ عوام کے بچوں ہی کو کیوں بھیجا جاتا رہا تھا؟
اسی طرح ایران میں کیا رہبر اعلی خامنائی کے بچوں پر اسرائیل کے خلاف جہاد کرنے پر پابندی عائد ہے؟ خامنائی کے بیٹوں نے اسرائیل کے خلاف جہاد کے لیے حزب اللہ اور حماس میں شمولیت اختیار کیوں نہیں کی ہے؟ خامنہ ای کے بیٹے تو نامعلوم ذرائع سے حاصل کردہ اربوں روپوں کا بزنس سنبھالے پھرتے ہیں۔ کیوں؟
دیکھیے یہ تلخ و سنگین حقائق ہیں اور ان کے بارے لکھنا ہمیشہ سے برا سمجھا جاتا ہے اور فتوے فروش جاہلوں کی ایک بڑی تعداد لپک باز ہو کر شروع ہوجاتی ہے اور یہ نہیں دیکھتے اور سوچتے کہ یہ نام نہاد مذہبی اور سیاسی لیڈران انہیں ہی بے دردی، سفاکی اور بے حسی سے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کی اولادوں کو بھی اپنے مذموم مفادات کی بھینٹ چڑھاتے رہتے ہیں اور جتنی جلد وہ ان مکروہ وارداتیوں کو پہچان لیں گے ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہو گا۔

