گریٹر اسرائیل: ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
مشرقِ و سطیٰ میں لگی آگ پھیلتی جا رہی ہے۔ غزہ کی نسل کشی کے بعد اب اسرائیل کا نشانہ لبنان ہے۔ شہادتیں ایک ہزار سے متجاوز ہیں۔ ہر طرف ملبے کے ڈھیروں میں لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں تلاش کر کے دفن کا بندوبست کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ مسلم حکمران اور بے حس دنیا، اس بربادی کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ بربادی کی اس داستان کا آغاز پہلی عالمی جنگ کے بعد ہونے والے معاہدوں اور مشرقِ و سطیٰ کی تشکیلِ نو سے ہوا۔ فلسطین سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ صدیوں سے مسلمان ’عیسائی اور یہودی اس خطے میں امن و سکون سے رہتے تھے۔ کبھی مذہبی منافرت دیکھنے میں نہیں آئی۔ مسائل عربوں کی پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرنے اور اردن و سعودی عرب میں ترکوں کے خلاف گوریلا وار سے شروع ہوئے۔ عرب قبائلی لشکر کی ترتیب، تربیت تنظیم، رہنمائی اور اسلحہ بندی میں برطانیہ کا کردار بنیادی تھا۔ جنگ کے خاتمے پر سلطنتِ عثمانیہ سکڑ کر موجودہ ترکیہ تک محدود ہو گئی۔ اردن اور سعودی عرب کے ساتھ شام اور عراق کو ایک ہی خاندان کی مختلف شاخوں میں تقسیم کر کے بادشاہتیں قائم کر دی گئیں۔ عرب قومیت کا جذبہ سلطنتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے کے لیے استعمال ہوا۔
صہیونی تحریک 19 ویں صدی کے آخر میں متمول اور تعلیم یافتہ یہودیوں میں مقبول ہوئی۔ ایک منظم اور خفیہ منصوبہ بندی سے زمین اور جائیدادیں عربوں اور فلسطینیوں سے خرید کر یہودیوں کو بسایا گیا۔ فلسطین کو وقف بنا کر انتظام چلانے کے لیے برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔ یہ معاملہ بالفور معاہدے سے شروع ہوا، جس میں یہودیوں کے لیے فلسطین میں قومی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران فلسطین میں برطانوی فوج کے افسر ’آرچیبالڈ ویول (Archibald Wavell) نے پیرس معاہدوں کے بعد یہ تاریخی کلمات کہے۔
”جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ کے بعد اب وہ پیرس میں امن کے نام پر امن ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں“ آنے والے دور نے ان الفاظ کی سچائی ثابت کردی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی عزائم یہ ہیں کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں کو اردن میں دھکیل کر مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کر لیا جائے اور غزہ کے فلسطینیوں کو مصر بھیج کر وہاں یہودی آباد کاروں کی بستیاں تعمیر کر کے ”گریٹر اسرائیل“ کا صہیونی خواب پورا کیا جائے۔ یاہو کے اس مبینہ منصوبے کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کی بازگشت ہے۔ غزہ کی زمینی کارروائیوں میں کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ تھا کہ بعض اسرائیلی فوجی اپنے یونیفارم پر ’گریٹر اسرائیل‘ کے نقشے کا بیج پہنے ہوئے تھے۔ ماضی میں انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء بھی اس کا ذکر کرتے رہے ہیں۔
’دا پرومسڈ لینڈ‘ (وعدہ شدہ زمین ) کے نقشے میں فلسطین، لبنان، اردن، عراق، ایران، شام، مصر، ترکی اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ بہت سے یہودی اس خطے کو ’ایرٹز اسرائیل‘ یا ’لینڈ آف اسرائیل‘ کا نام دیتے ہیں۔ جنوری 2024 میں اسرائیلی مصنف ایوی لپکن کا ایک انٹرویو وائرل ہوا جس میں ”گریٹر اسرائیل“ کے تصور کو اجاگر کیا گیا ”ایک دن، ہماری سرحدیں لبنان سے سعودی عرب کے عظیم صحراؤں سے ہوتی ہوئی، بحیرہ روم سے، نہرِ فرات (عراق) تک پھیلی ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مکہ، مدینہ اور طورِ سینا پر قبضہ کر کے ان جگہوں کو پاک کریں گے۔“ صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہرزل کے ’پرومسڈ لینڈ‘ نقشے میں بھی یہ تمام علاقے شامل ہیں۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم اور بیت المقدس کو ایک بین الاقوامی شہر قرار دیا تو اسرائیلی سابق وزیر اعظم مناہم بیگن نے کہا تھا کہ فلسطین کی یہ تقسیم غیر قانونی ہے۔ یروشلم ہمارا دارالحکومت تھا اور رہے گا اور ایرٹز اسرائیل کی سرحدوں کو بحال کیا جائے گا۔
ایڈرئن سٹائن کے بقول گریٹر اسرائیل کا تصور مختلف گروہوں کے لیے مختلف ہے۔ ”اسرائیل اور ملک سے باہر رہنے والے یہودی گریٹر اسرائیل کا مطلب مغربی کنارے (دریائے اردن) تک اسرائیل کی خودمختاری ہے۔ اس میں بائبل میں درج یہودیہ، سامرہ اور ممکنہ طور پر وہ علاقے شامل ہیں جن پر 1948 کی جنگ کے بعد قبضہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس میں سینائی، شمالی اسرائیل اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں۔ تجزیہ کار تقیٰ نصیرات کہتی ہیں کہ“ گریٹر اسرائیل کا تصور حکومت، فوج اور اسرائیلی معاشرے کے بہت سے عناصر میں رچا بسا ہے ”
تاہم مشرق و سطیٰ کے امور کے ماہر عمر کریم گریٹر اسرائیل کو ایک افسانوی تصور قرار دیتے ہیں۔ یہودی مذہب کے مطابق گریٹر اسرائیل سے مراد مشرقِ وسطیٰ کے سلطنت عثمانیہ کے وہ تمام قدیمی علاقے ہیں، جہاں یہودی آباد تھے۔ بنی اسرائیل مصر سے نکل کر فلسطین میں آباد ہوئے ’اسرائیلی حکومت اسے آج بھی جودیہ صوبے کا حصہ مانتی ہے۔
’دا پرومسڈ لینڈ‘ سے مراد حضرت یوسف کے دور کے فلسطین، بلادِ شام اور فرات کے کچھ علاقے ہیں، جہاں یہود حکمران تھے۔ گریٹر اسرائیل کا تصور یہیں سے آیا ہے کہ ’بنی اسرائیل کی اولاد جہاں جہاں پلی بڑھی وہ علاقے ہمارے ملک کا حصہ ہوں گے۔ گریٹر اسرائیل کا پھر سے موضوعِ بحث بننا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ 2023 میں دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر بیذلیل سموٹرز نے پیرس میں ایک تقریر کے دوران گریٹر اسرائیل کاجو نقشہ پیش کیا تھا اس میں اردن اور مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ اردن نے بیذلیل پر دونوں ممالک کے مابین امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا تھا۔
غیر قانونی اسرائیلی آباد کار، فلسطینیوں کو بے گھر کر کے مغربی کنارے میں نئی بستیاں، اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) اور نتن یاہو کے وزراء کی حفاظت میں قائم کر رہے ہیں۔ انھیں ’غیر ریاستی عناصر‘ کہا جاتا ہے لیکن انھیں کوئی نام بھی دیں، حقیقت یہی ہے کہ انھیں براہ راست نتن یاہو کی حمایت حاصل ہے جنھوں نے اس سال جولائی میں 5300 نئی بستیوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔
اسرائیل کے قیام سے یہودیوں کو ایک مذہبی ریاست کا تصور دوبارہ سے ملا، یہیں سے اس بحث کا آغاز ہوا کہ ہم نے اپنی مذہبی ریاست قائم کر لی ہے لہٰذا ہم اسے روایتی حدود تک پہنچائیں گے۔ یہ فینٹسی خصوصاً ان طبقات میں ہے جو پوری دنیا میں یہودیوں کی نشاءت ثانیہ کا خواب دیکھتے ہیں۔ اسی لیے با اثر اسرائیلی لیڈرز کی ایک بڑی تعداد اس خواب کی تعبیر میں لگی ہے۔ گریٹر اسرائیل ایسی فینٹیسی ہے جو مختلف شدت پسند گروہوں کے لیے ’سیاسی لائف لائن، ان کے نظریات کو زندہ رکھنے اور ان کے لیے معاشرے میں اپنی اہمیت دکھانے میں کارگر ہے۔


