دیشت گردی کا تسلسل اور حکمت عملی کا فقدان


کیا ہمارے ہیلی کاپٹر صرف دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والوں کی لاشیں ڈھونے کے لیے ہی رہ گئے ہیں۔ کیا بلوچستان کے پہاڑوں میں دہشت گردوں کے قائم کردہ فراری کیمپوں کا سراغ لگا کر ان کو گھیر کر تباہ کرنے کے کام نہیں آ سکتے؟ بلوچستان کے سنگلاخ اور بے آب و گیاہ پہاڑ کون سے کوہ ہمالیہ ہیں جہاں ان دہشت گردوں کے قائم کئیے اڈوں کو ڈھونڈا اور تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ صرف چند اچھے سرویلنس ڈرون، اور چند گن شپ ہیلی کاپٹر یہ کام آسانی سے بغیر کسی نقصان کے پورا کر سکتے ہیں۔

جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مری قبیلے کی بغاوت ہوئی اور وہ لوگ بھی ان ہی پہاڑوں پر جا بیٹھے تھے تو ایران سے ہیلی کاپٹر لے کر ان کے خلاف موثر آپریشن کیا گیا تھا جس سے کچھ باغی ہلاک ہوئے، کافی تعداد نے ہتھیار ڈال دیے اور کچھ افغانستان فرار ہونے پر مجبور ہو گئے جو کچھ عرصے کے بعد ”صلح“ کر کے واپس آ گئے تھے۔ آج تو ہمارے پاس اس وقت کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت ہے تو آج ہم ان قاتل اور خونی دہشت گردوں کے خلاف ایسی موثر کارروائیاں کیوں عمل میں نہیں لا سکتے، ہم کیوں مختلف مقامات پر جامد پوزیشن میں بیٹھے ان دہشت گردوں کی اگلی کسی ایسی ہی کارروائی کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اس کی مذمت میں چند بیانات جاری کر کے، دہشت گردوں کی طرف سے ان کی کسی اور ایسی ہی کارروائی کا انتظار کیا جا سکے۔

تربت، پنجگور اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کا ہولڈ ہے تو فوری طور پر ان علاقوں کو کیوں فوری اور موثر کارروائیوں کے ذریعے کلیئر نہیں کیا جاتا، فوجی آپریشن میں دو بنیادی اصطلاحات ہوتی ہیں ایک ”سویپ“ جس میں کسی علاقے کو جھاڑو لگانے کی طرح ایک طرف سے پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کو پیچھے ہٹنے اور پسپا ہونے پر مجبور کر کے علاقہ کلیئر کیا جاتا ہے لیکن اندرون ملک اس طریقے کی نقصانات اس کے ظاہری فوائد سے بہت زیادہ ہوتے ہیں جس کی ایک مثال ہمیں سوات آپریشن کے دوران دکھائی دی جہاں دہشت گرد، ان کے خلاف آپریشن شروع ہوتے ہی ہزاروں کی تعداد میں پسپا ہو کر صحیح سلامت اپنے اسلحہ سمیت کئی سو کلو میٹر دور افغانستان جا پہنچے تھے۔

دوسرا طریقہ ”سراونڈ“ یعنی گھیرا ہوتا ہے جو اندرون ملک آپریشن میں موثر اور کارگر تریں نتیجہ خیز کارروائی کا طریقہ ہے جس میں دہشت گردوں کی موجودگی کے مقامات ”فراری کیمپوں کا ڈرون اور لینڈ ریکلولینس اور سرویلینس کے ذریعے پتہ چلایا جاتا ہے پھر ان کے بھاگنے کے ممکنہ راستوں پر مناسب و مضبوط بلاک لگا کر ان پر ایک طرف یا دو طرف سے حملہ کیا جاتا ہے اور جب وہ اس اچانک حملے سے بچنے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ان منتظر بلاکس میں پھنس جاتے ہیں تب ان کے پاس ہتھیار ڈالنے یا ہلاک ہونے کے بغیر کوئی آپشن نہیں بچتی، یہ ہی طریقہ اندرون ملک اپریشنز کے لیے زیادہ بہتر نتیجہ خیز اور موثر ہوا کرتا ہے۔ بھارتی فوج کا اندرون ملک ایسی کارروائیوں کے لیے خصوصی تربیت یافتہ دستہ“ راشٹریہ رائفلز ”مقبوضہ کشمیر اور دیگر علاقوں میں یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گرد عوام پر حملے کے لیے عام طور پر موبائل حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جن میں موٹر سائیکل سوار مسلح جتھے اپنے انتخاب کی جگہ پر حملے کر کے تیزی سے بکھر جاتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل بیلہ کیمپ پر ہوئے خود کش اور دہشت گرد حملے کے وقت وہاں کے مقامی شہریوں نے بتایا کہ شام سے ہی علاقے میں مسلح موٹر سائکل سوار جتھے گھومتے دیکھے جا رہے تھے بلکہ لوگوں کے مطابق اس حملے کا خود کش دھماکے سے آغاز کرنے والی لڑکی بھی فور بائی فور گاڑی خود چلاتی یہاں گھومتی دیکھی گئی تھی۔ لوگوں کے بقول ہم اسے ڈرائیونگ کرتے دیکھ کر حیران تھے کہ یہاں خواتین کا گاڑی چلانا رواج میں شامل نہیں۔

فورسز میں سے کسی نے ان مسلح موٹر سائکل سوار دستوں اور اس گاڑی کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور صبح سویرے انہوں نے کیمپ پر دو اطراف سے حملہ کر دیا۔ اگر ان کی یہ پراسرار اور غیر معمولی نقل و حرکت رات کو ہی چیک کر لی جاتی تو اتنے بڑے سانحے، نقصان اور حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔ ان دہشت گردوں کے مسلح موٹر سائیکل سوار جتھے کہاں سے آ کر شاہرات اور دیگر مقامات پر حملے اور قتل و غارت کرتے ہیں اور پھر اس وسیع کھلے علاقے میں کدھر کو غائب ہو جاتے ہیں کہ نہ تو ان کا فوری پیچھا کیا جا سکتا ہے نہ ان کو پھر ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

سرکردہ دہشت گردوں کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر دو دو کروڑ انعام رکھیں، پھر دیکھیں کس طرح ان کے ساتھی ہی ان کو فورسز کے حوالے کریں گے۔ ہر ہتھیار لے کر چلنے والے کو دہشت گرد سمجھا جائے اور اسی طرح ڈیل بھی کیا جائے، یہ پیغام واضح ترین الفاظ میں عوام تک پہنچا دیا جانا چاہیے کہ پیدل یا گاڑی، موٹر سائیکل پر ہتھیار لے کر چلنے والے کو دہشت گرد سمجھا اور اس سے ویسا ہی سلوک بھی کیا جائے گا۔

ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپس آنے والوں کے لیے راستے کھلے اور پرکشش ترغیبات رکھئیے، عام دہشت گرد کی گرفتاری یا ہلاکت پر پچاس پچاس لاکھ انعام رکھیں، کچھ تو ایسی پالیسی اختیار کریں جو واضح طور پر عوام تک اور دہشت گردوں تک اپنے واضح مقاصد کا موثر ابلاغ کرتی ہو، ابھی تک تو عوام کے سامنے حکومتی حلقوں کی طرف سے دہشت گردوں کی مذمت میں روایتی گھسے پٹے جملے، طنز و تشنیع اور طعنے تک ہی سننے میں آ رہے ہیں۔

فیلڈ میں ڈیپلائیڈ فورسز کے پاس موثر گشت اور سرویلنس کے لیے وسائل اور الات کی کمی بھی مشاہدے میں آ رہی ہے۔ شاید جامد پوزیشن میں دفاع پر بیٹھ رہنے کی وجہ بھی یہی ہو، ان تمام معاملات پر فوری طور پر توجہ کی ضرورت ہے ورنہ قوم اس نازک موقع پر اس پالیسی کو شدید غفلت، بدنیتی بلکہ نا اہلی سمجھنے میں پوری طرح حق بجانب ہو گی۔

ذرا ٹھنڈے دل سے ان ”وجوہات“ اور حقائق پر بھی غور اور توجہ فرمائیے، اپ کو کبھی ان کے ترجمانوں کے موقف میں ان وجوہات و شکایات کی واضح تفصیل نہیں ملے گی بلکہ خود کو مزاحمت کار کہنے والوں کا ایجنڈا ہی نفرت، تعصب اور تشدد پر مبنی ہے۔ اپنے زیر اثر علاقوں میں یہ کوئی تعمیری کام چاہے اس کا تعلق خالصتاً عوام کی بہتری اور بہبود سے ہی کیوں نہ ہو، نہیں ہونے دیتے ان منصوبوں کی تعمیر میں شامل مشینری کو تباہ کرتے ہیں۔ موبائل فون ٹاورز کو تباہ کرتے ہیں گویا اس طرح عوام کو ہی رابطے اور سہولت سے محروم کرتے ہیں۔ کوئی سکول، کوئی سڑک یہ بننے نہیں دیتے، یہ دہشت گرد دودھ پیتے بچے نہیں ہیں کہ وہ معصومیت اور بے وقوفی میں ایسا کرتے ہیں۔

یہ سب ان کے ایک منظم پلان کا حصہ ہے جس کے منصوبہ ساز باقاعدہ سرحد پار بیٹھے اپنے غیر ملکی ایڈوائزرز کی مدد، رہنمائی سے سے منصوبے تشکیل دیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اس موجودہ دہشت گردی کی تحریک کا آغاز ہی کوئٹہ اور بلوچستان میں پچاس پچاس سال سے آباد ہو چکے غیر بلوچ ڈاکٹرز، پروفیسرز اور اساتذہ کے منظم اور مربوط قتل کی مہم سے کیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہاں مستقل طور پر آباد بلوچ نوجوان نسل کے یہ محسن جنہوں نے ان نوجوانوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں شاندار کردار ادا کیا تھا ان کے باقی ماندہ خاندان تک اپنی جائیدادیں اور مکانات اونے پونے فروخت کر کے بلوچستان چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے تھے اب تو یہ قتل و غارت کا بہیمانہ سلسلہ انتہائی غریب غیر بلوچ مزدوروں، حجاموں اور موچیوں تک پہنچ چکا ہے۔

امن کی بات چیت عوام کے ساتھ ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن ان کو اس بات چیت تک لانے کے لیے ان کے پیچھے موجود ان فراری کیمپوں، اور ان دہشت گردوں کے ہائیڈ آؤٹس اور اجتماعات کے مقامات کو اگے بڑھ کر منتشر اور تباہ کرنا انتہائی ضروری ہے ان دہشت گردوں کے عوام میں موجود سیاسی چہروں اور ان کا موقف اور پراپیگنڈہ عوام تک پہنچانے والوں کو بھی سختی سے کنٹرول کرنا لازمی ہے جس طرح گوادر اور سی پیک کی ترقی اور تعمیر کے خلاف چند بیرونی طاقتوں اور ان دہشت گرد گروہوں کے موقف میں واضح مطابقت اور ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے وہ اس سارے منصوبے اور ان کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ گوادر اور گرد و نواح کی مقامی آبادی جو گوادر کی ترقی سے سب سے پہلے مستفید ہوں گے۔ ان میں ایسا تاثر پھیلایا جا رہا ہے گویا گوادر کی تعمیر کے بعد ان کو یہیں چھوڑ کر کوئی گوادر کو گھسیٹ کر پنجاب لے جائے گا۔

بلوچستان کی پسماندگی اور وہاں کے عوام کی محرومی کے ذمہ دار سب سے زیادہ وہاں کے سردار اور سیاسی نمائندے ہیں جن میں سے اکثر بار بار اپنے اپنے علاقوں سے منتخب نمائندے بھی بنتے رہے ہیں صوبائی حکومتیں چلاتے رہے ہیں مرکز سے اپنے حصے سے کچھ زیادہ فنڈز لیتے رہے ہیں لیکن یہ فنڈز کبھی اپنے حلقوں میں خرچ نہیں کرتے، بلکہ ان فنڈز کا غالب حصہ خرد برد کر لیا جاتا ہے۔ خود اسلام آباد اور کراچی بلکہ اب تو بیرون ملک اپنی پرتعیش رہائش گاہوں میں مقیم رہتے ہیں ان کی اپنی اولادیں ملک اور بیرون ملک کے مہنگے ترین تعلیمی داروں میں پڑھتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے علاقوں میں آ کر وہاں کے ہر بنیادی سہولت سے محروم عوام کو بتاتے ہیں کہ وفاق اور ”پنجابی“ تم کو ترقی نہیں کرنے دیتے، تمہارا استحصال کرتے ہیں اور تمہاری ساری مصیبتوں کے اصل ذمہ دار وہی ہیں۔

عام سادہ لوح عوام کو اس راستے پر لگانے کے لیے اب کچھ تعلیم یافتہ ”مڈل مین اور مڈل وومنز“ بھی مقرر کر دیے گئے ہیں جو ان سرداروں کی یہاں سے غیر موجودگی میں عوام میں ان تعصبات، نفرتوں اور تشدد کو جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے مسلسل بھڑکاتے رہتے ہیں تاکہ اس خوف اور نفرت کی فضا کا تسلسل کسی طرح بھی ٹوٹنے نہ پائے، اور اس طرح ان سرداروں کا حکومت اور ریاست کو بلیک میل کر کے زیادہ سے زیادہ ذاتی مفادات کے حصول کا سلسلہ جاری رہ سکے۔

بلوچستان میں تقریباً تمام بڑے تعمیراتی منصوبے، کچھی کینال، ، سمال ڈیمز، بڑی مرکزی شاہرات، بشمول گوادر بندر گاہ مرکز کے فنڈز یا سی پیک کے فنڈز سے تعمیر ہو رہے ہیں۔ جہاں تک بلوچستان کے وسائل کی بات ہے تو بلوچستان میں پائی جانے والی معدنیات کی ماربل سے لے کر کوئلے تک تمام کانیں بلوچ مالکان کی ملکیت ہیں۔ سرحدی علاقوں میں وہاں کے عوام کو ان کو حاصل خصوصی تخصیص کے ذریعے ہمسایہ ملک ایران سے تیل بجلی اور دیگر اشیاء ضروریہ کے لانے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کا مطالبہ اب یہ ہے کہ ان کو یہ سمگل شدہ تیل اور اشیاء دوسرے صوبوں تک بھیجنے کی بغیر کسی ٹیکس اور ڈیوٹی کے کھلی اجازت دی جائے ایسے ہی مطالبات پر حال ہی میں مرکزی شاہرات ہر دھرنا دے کر ان کو کئی روز تک بند رکھا گیا۔

گویا وہاں بلیک میلنگ ہر طرف سے اس سارے سیاسی اور کاروباری کھیل کی بنیادی حکمت عملی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جہاں تک گمشدہ افراد کا معاملہ ہے یہ واقعی ایک اہم اور پیچیدہ معاملہ ہے اور اس پیچیدہ معاملے کے کئی پہلو ہیں۔ عام طور پر جب کسی کو سرکاری اداروں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے تو اس کا کچھ نہ کچھ پس منظر اور وجہ بھی ضرور ہوتی ہے۔ ملک کا قانون ان پر ہی نافذ ہو سکتا ہے یا کیا جا سکتا ہے جو اس کو مانتا ہو، جن کا مطالبہ ہی اس آئین اور قانون کو نہ ماننا اور مطالبہ علیحدگی ہو تو وہ کس طرح ملک کے آئین اور قانون کے تحت سلوک کرنے کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہو سکتے ہیں۔

دنیا کا کوئی ملک چاہے وہ کتنا ہی کمزور ہی کیوں نہ ہو علیحدگی پسندی کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر سکتا ہم نے دیکھا کہ سری لنکا جیسے چھوٹے اور کمزور ملک نے ”تامل ایلم“ جیسی طاقتور اور خطرناک دہشت گرد علیحدگی پسند تنظیم سے کس طرح ایک طویل جنگ لڑ کر ان کا مکمل اور حتمی طور پر خاتمہ کیا، ہمارے ہمسائے میں بھارت نے ایسی ہی علیحدگی پسندانہ مطالبات کی حامل تنظیموں سے نپٹنے کے لیے اپنی فوج کا ایک بہت بڑا اعلی، خصوصی تربیت یافتہ حصہ راشٹریہ رائفلز کے نام سے مختص کیا ہوا ہے۔ دنیا میں جمہوری رویوں کی علامت سمجھے جانے والے برطانیہ نے ”آئی آر اے“ جیسی تنظیم سے کس طرح ڈیل کیا تھا۔

بات گمشدہ افراد کی ہو رہی تھی ان میں وہ نوجوان بھی شامل کر لیے جاتے ہیں جو دہشت گردوں کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر ان کے فراری کیمپوں میں چلے جاتے ہیں۔ وہ وہاں سے اپنی وڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں جن میں وہ فخریہ طور پر ان مسلح کارروائیوں کا ذکر کرتے ہیں جو وہ فورسز یا عوام کے خلاف یا عمل میں لا چکے ہوتے ہیں یا ائندہ ان کا ایسا ارادہ ہوتا ہے جن دنوں محترمہ ماہ رنگ بلوچ صاحبہ گمشدہ افراد کی بازیابی اور رہائی کے لیے اپنا دھرنا لے کر اسلام آباد آ بیٹھی تھیں، اور یہاں کی سول سوسائٹی نے ان کے ساتھ بھر پور طور پر یک جہتی کا ثبوت دیا تھا۔

ان کے انٹرویو کئیے جا رہے تھے ان ہی دنوں بلوچستان میں دہشت گردوں کی طرف سے عام مسافروں کو بسوں سے اتار کر اور شناختی کارڈ چیک کر کے ہلاک کرنے کا ایک بڑا واقعہ ہوا، اس واقعے پر ایک خاتون رپورٹر جو محترمہ ماہ رنگ کا انٹرویو کر رہی تھیں بڑی کوشش کی کہ محترمہ ان بے گناہ ہلاکتوں کی رسمی ہی سہی مذمت کر دیں لیکن انٹرویور کی شدید کوشش کے باوجود محترمہ ماہ رنگ نے ان بے گناہ ہلاکتوں کی مذمت میں ایک لفظ تک کہنے سے بھی انکار کر دیا، ان ہی دنوں ایران کے سرحدی علاقے کے اندر قائم دہشت گردوں کے ایک ”فراری کیمپ پر پاکستان ائر فورس نے ایک حملہ کیا جس میں چند سرکردہ دہشت گرد ہلاک بھی ہوئے، اس پر محترمہ ماہ رنگ نے تسلیم کیا کہ ان ہلاک شدگان کے ورثاء ان کی تصاویر گمشدہ افراد کے طور پر اٹھائے اس دھرنے میں موجود ہیں۔

ان کے علاوہ بھی کئی نوجوان جن کے اہل خانہ ان کی تصاویر اٹھائے دھرنوں میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں تو وہ نوجوان کچھ عرصے بعد دہشت گرد تنظیم ”ماجید برگیڈ“ کی وردی میں ملبوس کسی فورسز کیمپ یا تنصیب پر حملے میں ملوث نکلتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل ایسا ہی ایک نوجوان جو گوادر کے پاس کہیں کسی کیمپ پر دہشت گردانہ حملے کے دوران ہلاک ہو گیا تو اس کے گھر والوں نے اس کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا، کچھ ہی عرصہ قبل ایک نوجوان کے ورثاء نے اس کو اٹھائے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑک بند کی، تو وہاں معلوم ہوا کہ اس نوجوان کو پہلے بھی تین بار ایسی سرگرمیوں اور رابطوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا لیکن تینوں بار سمجھا بجھا کر اور وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا لیکن وہ نوجوان اپنی سرگرمیوں سے باز نہ آیا تو اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

خود محترمہ ماہ رنگ بلوچ صاحبہ کے والد غفار لانگو جو ایک سرکاری ملازم ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچ دہشت گرد تنظیم ”بی ایل اے“ کے ایک سرگرم کمانڈر بھی تھے۔ ان کو بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا لیکن پھر ان کو وارننگ دے کر آزاد کر دیا گیا لیکن انہوں نے اپنی کارروائیاں ترک نہ کیں اور بدستور ”بی ایل اے“ کے ساتھ سرگرم کردار ادا کرتے رہے تب واضح ثبوت ملنے پر ان کو دوبارہ اٹھایا گیا اور پھر وہی انجام ہوا جو عام طور پر ایسے کاموں کا ہوا کرتا ہے لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محترمہ مہ رنگ بلوچ جنہوں نے اپنی میڈیکل کی تعلیم سرکاری وظیفے پر حاصل کی ان کا وظیفہ بدستور جاری رکھا گیا اور اسی سرکاری وظیفے کی مدد سے وہ اپنی میڈیکل ڈگری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

گمشدہ افراد کا یہ پیچیدہ مسئلہ کیونکہ احتجاجیوں اور دہشت گردوں کے سیاسی چہروں کے لیے ایک ایسا معاملہ بن چکا ہے جسے وہ بلوچستان میں اور بیرونی ممالک میں فورسز، حکومت اور ریاست کے خلاف پراپیگنڈے اور نفرت انگیزی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر حکومت اور اداروں کو اس معاملے میں اپنی پالیسی میں مزید شفافیت لانی چاہیے، جو افراد ان کی تحویل میں زیر تفتیش ہیں ان کے کوائف سامنے لائے جانے چاہئیں، ان کی ان کے اہل خانہ سے تحت ضابطہ ملاقاتیں کروائی جانی چاہئیں، جو کچھ لوگ مختلف وجوہات سے دوران تحویل ہلاک ہو چکے ہیں ان کے اہل خانہ کو واضح طور پر آگاہ کر کے ان کا مناسب خون بہا یعنی مناسب کمپنسیشن ان کے اہل خانہ کو دی جانی چاہیے اور اس کے علاوہ بھی جو بھی ممکن مراعات ان کو دی جا سکتی ہوں وہ ان کو دی جانی چاہئیں تاکہ ان کا نہ ختم ہونے والا انتظار تو ختم ہو سکے۔

اس ضمن میں بلوچستان کے وزیر اعلی میر سرفراز بگتی کی بہت سی تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں انہوں نے بجا طور ہر انتہائی درد مندی سے دہشت گردوں کے مذموم پراپیگنڈہ کا شکار ہونے والے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے اور تعلیم، روزگار کے حصول کے لیے اپنی حکومت کی پوری مدد اور تعاون کا یقین دلایا، ان کو اس موت اور تباہی و بربادی کے راستے پر چلنے سے منع کیا جس کا انجام ان کے اور ان کے پورے خاندانوں کے مستقبل کی تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

انہوں نے بجا طور پر یہ بھی فرمایا کہ گولی کی زبان میں بات کرنے والوں سے کیا بات ہونا ممکن ہے جو قتل و غارت اور دہشت گردی و تباہی کے علاوہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تو ان کو پھر اسی زبان میں موثر جواب دیا جائے گا جو وہ اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی جو نوجوان دہشت گردی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں واپس انا چاہیں ان کے لیے حکومت اور ریاست کی باہیں ہمیشہ کھلی ہیں ورنہ اگر حکومت اور ریاست کی طرف سے مناسب وقت پر مناسب اور موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پھر ایک عام محب الوطن پاکستانی کی طرف سے ایسا محسوس کیا جائے گا کہ یہاں کسی ”معجزے“ کا انتظار ہو رہا ہے کہ وہ رونما ہو گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

ایسے معاملہ زیادہ دیر نہیں چلے گا جس اگے بڑھ کر فتح حاصل کرنی ہے یا پھر خدانخواستہ مزید پسپائی اختیار کرنی ہے جس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، یا ہمیں دہشت گردوں کی طرف سے نہتے پاکستانی عوام اور فورسز کے افسران و اہلکاروں کے مسلسل بہتے خون پر ہی سیاست کرنی ہے اور مذمتی بیانات جاری کرنے ہیں۔ فیصلہ کر لیجئیے۔

 

Facebook Comments HS