خواب کے سائے


ایک سرمئی شام تھی، سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا۔ کمرے میں ہلکی روشنی تھی اور دو ڈاکٹر پروفیسر جیکب پال کے بستر کے قریب کھڑے خاموشی سے اُن کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا، ”پروفیسر کے تمام اعضا ناکارہ ہو چکے ہیں۔ پھر بھی پتہ نہیں کیا بات ہے جو یہ ابھی تک زندہ ہیں۔“ دوسرا ڈاکٹر بھی الجھن میں تھا، ”یہ شاید ان کے دماغ کی طاقت ہو یا کوئی اور راز جو ہمیں سمجھ نہیں آ رہا۔“

پروفیسر جیکب پال کی سانسیں ہلکی تھیں، لیکن اُن کی آنکھیں بند تھیں، جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں ہوں۔ اُن کے دل کی دھڑکن آہستہ آہستہ دھیمی ہوتی جا رہی تھی، لیکن اُن کے شعور میں کوئی حرکت باقی تھی۔ اسی لمحے میں، بستر کی نرمی کو محسوس کرتے ہوئے، پروفیسر کا ذہن ایک مختلف دنیا کی جانب بہکنے لگا۔

میٹرس کی نرمی پروفیسر جیکب پال کی ایڑھیوں پر محسوس ہو رہی تھی، اور نجانے کب وہ شعور کی حدود سے باہر نکل گئے۔ نہ جانے کتنی دیر گزری، جب شعور نے دوبارہ دستک دی، تو پروفیسر نے خود کو ایک پراسرار دھند میں گھرا ہوا پایا۔ ہر شے کی سرحدیں دھندلی تھیں، حقیقت اور خیال کے درمیان فرق مٹ چکا تھا۔ قدموں تلے زمین بے یقینی کی حالت میں تھی، جیسے وہ کسی ناپائیدار خواب میں قید ہوں۔

”کیا یہ خواب ہے؟“ پروفیسر نے خود سے سوچا، جبکہ وہ حقیقت سے دور ہوتے جا رہے تھے۔

دور کہیں، کچھ سائے حرکت کرتے نظر آ رہے تھے، مگر وہ اتنے مبہم تھے کہ ان کی حقیقت پر یقین کرنا مشکل تھا۔ ہوا میں ہلکی سرگوشیاں تھیں، جیسے کوئی قدیم راز فضا میں تحلیل ہو کر اسے بوجھل کر رہا ہو۔ پروفیسر کے حواس دھیرے دھیرے اس عجیب ماحول کا حصہ بنتے جا رہے تھے، اور انھیں یہ احساس ہونے لگا کہ وہ ایک غیر حقیقی دنیا میں ہیں۔

لیٹے لیٹے پروفیسر نے آہستہ سے سر اٹھایا اور چاروں طرف نگاہ ڈالی تو ایک عجیب سا احساس ہوا کہ یہ خواب ان کے خوابوں جیسا نہیں تھا۔ یہ شاید کسی اور کا خواب تھا، اور وہ محض اس خواب میں قید تھے۔ انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

سرگوشیوں کو غور سے سننے کی کوشش کی، لیکن ان میں کوئی واضح الفاظ نہیں تھے۔ بس ایک بھاری سا احساس تھا کہ پروفیسر کا خواب کسی طرح دوسرے افراد کے خوابوں کے ساتھ گڈمڈ ہو گیا تھا۔ ان کے اور دوسرے لوگوں کے لاشعور آپس میں الجھ چکے تھے۔ پروفیسر نے اپنے ماضی کی یادوں کو ٹٹولا، جیسے کوئی ٹوٹا ہوا تسلسل جوڑنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ فوراً ہی ان کے ذہن میں وہ نفسیاتی نظریہ آیا جو برسوں وہ طلبہ کو پڑھاتے آئے تھے : کارل یونگ کا ”اجتماعی لاشعور“ کا نظریہ۔

اس نظریے کے مطابق، ہمارے لاشعور میں ایسی مشترکہ یادیں اور تجربات ہوتے ہیں جو ہم سب میں موجود ہوتے ہیں، اور کبھی کبھار خوابوں کے ذریعے ہم ان تجربات کو آپس میں بانٹتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پروفیسر کا خواب کسی اور کے لاشعور میں مدغم ہو چکا تھا، اور وہ سب ایک ہی خواب کی لامتناہی گہرائیوں میں موجود تھے۔

پروفیسر نے ایک گہری سانس لی۔ ”یہ ممکن ہے۔“ انھوں نے خود سے کہا۔ لیکن یہ خیال ان کے اندر ایک انجانی دہشت کو جنم دے رہا تھا۔ ”میں کس کے خواب میں ہوں؟ کیا میں ہمیشہ کے لیے یہاں قید ہوں؟“ یہ سوچ انھیں بے چین کر رہی تھی، کیوں کہ خواب میں زمان و مکان کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ کئی خدشات ان کے اندر جنم لے رہے تھے۔

پھر اچانک، دھند کے اندر سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ جیسے ہی وہ قریب آیا، پروفیسر کی نظریں ایک مکروہ چہرے پر جم گئیں۔ یہ کوئی اور نہیں، بلکہ گل کا بگڑا ہوا روپ تھا۔ ایک عفریت کی شکل میں ڈھلا ہوا۔ اُس کے سرخ آنکھوں میں نفرت اور انتقام کی چمک تھی، اور اُس کا وجود ہر اس لاشعور کو بگاڑ رہا تھا جو اس کے اجتماعی لاشعور سے جڑا ہوا تھا۔

پروفیسر کی سانسیں رکنے لگیں۔ یہ عفریت نہ صرف گل کی نفرت اور غصے کا عکس تھا، بلکہ ہر اس فرد کے لاشعور کو اپنی تاریکی میں گھسیٹ رہا تھا جو اس خواب سے جڑا تھا۔ پروفیسر کو یہ سمجھ میں آنے لگا کہ گل کا اندرونی زوال ہی اس عفریت کی شکل اختیار کر چکا تھا، اور اب وہ ان سب کو نگلنے کے درپے تھا۔

پروفیسر کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔ ”یہ کیسے ممکن ہوا؟“ وہ حیران تھے، لیکن جانتے تھے کہ اگر وہ اس عفریت کو نہیں روک سکے، تو یہ سب کچھ برباد کر دے گا۔ یہ خواب، یہ اجتماعی لاشعور، سب۔

ہوا بھاری ہو گئی، اور عفریت نے اپنی مکروہ ہنسی فضا میں بکھیر دی۔ پروفیسر کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ عفریت کا سامنا کرنے والے ہیں۔

دھند میں کچھ بدل رہا تھا، جیسے ہوا میں کوئی بھاری وجود سر اٹھا رہا ہو۔ ایک سایہ، بھاری اور خاموش، دھیرے دھیرے پروفیسر کے قریب آنے لگا۔ جب وہ سامنے آیا، تو اُس کی سرخ آنکھیں انتقام سے دہک رہی تھیں، جیسے برسوں کی دبی ہوئی نفرت نے شکل اختیار کر لی ہو۔ اس کی موجودگی نے پروفیسر کی سانسوں کو بوجھل کر دیا۔ اُس کے ہاتھ، جو برف کی مانند سرد تھے، پروفیسر کی طرف بڑھے، اور جیسے ہی اس کا لمس پروفیسر پر پڑا، انہیں لگا کہ ان کا وجود ٹوٹ کر بکھرنے لگا ہے۔ یہ غصہ تھا۔ خالص، بے قابو، اور سب کچھ نگلنے والا۔

پروفیسر کے ارد گرد سب کچھ دھندلا رہا تھا، یہاں تک کہ ان کے اپنے وجود کا احساس ختم ہونے لگا۔ اچانک، ایک جھٹکا محسوس ہوا۔ کسی نے ان کے پاؤں کو پکڑ کر کھینچا۔ لمحے بھر میں وہ سردی، وہ خوفناک عفریت، سب کچھ پیچھے رہ گیا۔

آنکھیں کھولتے ہی پروفیسر نے خود کو ایک حسین وادی میں پایا۔ ہر طرف خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں، رنگ برنگے پھول ہوا میں ہلکورے لے رہے تھے، لیکن ان کی خوشبو میں ایک عجیب سی کھوکھلی مٹھاس تھی۔ سورج کی سنہری کرنیں پہاڑوں کی چوٹیاں چھو رہی تھیں، لیکن ان کرنوں میں گرمی کی بجائے ایک مصنوعی چمک تھی، جیسے سچائی کی روشنی کہیں گم ہو چکی ہو۔ آسمان بے داغ نیلاہٹ لیے ہوئے تھا، مگر وہ نیلاہٹ کچھ زیادہ ہی بے عیب تھی، جیسے فطرت نے خود کو چھپانے کے لیے کوئی نقاب اوڑھ لیا ہو۔ پرندے نغمے گا رہے تھے، مگر ان کی آوازوں میں بے جان خوشی چھپی ہوئی تھی، اور ہوا کی نرمی ایسی تھی جیسے یہ سب کچھ صرف دکھاوے کے لیے ہو، خوف کو وقتی طور پر دبا کر اصل حقیقت کو چھپانے کا ایک چالاک جال۔

” تم ٹھیک ہو؟“ ایک مانوس سی آواز نے پروفیسر کے خیالات کی زنجیروں کو توڑا۔ پروفیسر نے چونک کر سر گھمایا تو کاشان کھڑا مسکرا رہا تھا۔

”کاشان؟“ پروفیسر حیرت سے بولے، آنکھوں میں بے یقینی۔ ”یہ کیا ہوا؟ تم مجھے یہاں کیسے لائے؟“

کاشان نے ایک پھول کاٹتے ہوئے کہا، ”تم وہاں سے بچ نہیں سکتے تھے، وہ عفریت تمہیں ختم کر دیتا۔ میں نے تمہیں یہاں کھینچ لیا، یہاں تم محفوظ ہو۔“

پروفیسر نے اپنی حیرت کو قابو میں کرتے ہوئے کہا، ”کاشان، تمہیں کیسے پتا تھا کہ میں مشکل میں تھا؟ اور یہ جگہ۔ کیا یہ خواب ہے؟“

کاشان ہنسنے لگا، اُس کی ہنسی میں ایک عجیب سی مصنوعی خوشی تھی، جیسے کسی نے کوئی پرانا پردہ اوڑھا ہو۔ ”خواب؟ نہیں، یہ سب اصلی ہے۔ دیکھو، تمہارے ارد گرد سب کچھ حقیقی ہے۔ میں ہمیشہ سے یہاں ہوں، اور یہاں کا ہر کردار بھی۔ یہ وادی، یہ پہاڑ، یہ سب ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔“

پروفیسر کے دل کی دھڑکن تھم گئی۔ کاشان کے لفظوں میں سچائی کی جھلک تھی، لیکن اس کے پیچھے کوئی گہرا راز تھا۔ کچھ غلط ضرور تھا۔ یہ وادی اتنی پُرسکون کیسے ہو سکتی تھی، جب ان کے اندر خوف اور اضطراب کا طوفان چل رہا تھا؟

پروفیسر نے گہری سانس لی اور سنجیدگی سے کہا، ”کاشان، تمہیں معلوم ہے کہ تم کون ہو؟“ ماضی کی یادیں ان کے ذہن میں ابھرنے لگیں۔

کاشان لمحے بھر کے لیے رکا، پھر ہلکا سا ہنسا، ”میں؟ میں تو کاشان ہوں، گل عباس کا دوست۔ ہم ہمیشہ سے ساتھ ہیں، یہی دنیا ہے۔“

پروفیسر کو اب سچائی سمجھ میں آنے لگی تھی۔ ”نہیں، کاشان، یہ دنیا وہ نہیں جو تم ظاہر کر رہے ہو۔ تم جانتے ہو کہ گل عباس کی دنیا میں یہ سب کچھ کیسے بدل گیا۔ تم نے اس کے اندر نفرت اور منافقت کا بیج بویا تھا۔“ پروفیسر کی آنکھوں میں گہری سوچ تھی۔ ”تم نے اس کی زندگی تباہ کر دی، اور اب تم مجھ پر ہمدردی کا نقاب اوڑھ کر میری دولت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہو۔“

کاشان کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی، اور اس کے چہرے پر سرد مہری چھا گئی۔ ”میں۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ گل خود ہی اپنے لاشعور میں بھٹک رہا تھا۔ میں نے صرف۔ اسے وہ راستہ دکھایا جو اس کے لیے بہتر تھا۔“

پروفیسر نے تلخی سے کہا، ”تم نے اسے راہ سے ہٹا دیا، کاشان۔ اور اب تم میرے قریب ہونے کی کوشش میں ہو، لیکن میں جانتا ہوں تم کیا چاہتے ہو۔ تم گل کے اندر کی نفرت کو استعمال کر کے سب کو برباد کرنا چاہتے ہو، اور تم نے اس اجتماعی لاشعور میں اپنا حصہ ڈالا ہے تاکہ ہر کوئی تمہاری مکر و فریب کی دنیا کا شکار ہو جائے۔“

کاشان نے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا، ”یہ تمہیں معلوم نہیں ہونا چاہیے تھا، پروفیسر۔ تم بہت زیادہ جانتے ہو۔“

پروفیسر نے سر اٹھا کر کاشان کی طرف دیکھا اور کہا، ”تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھے دھوکہ دے سکتے ہو؟ یہ خواب تمہارا جال ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ تم اس اجتماعی لاشعور کا فائدہ اٹھا کر میری دولت پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔ لیکن اب میں جاگ چکا ہوں۔“

کاشان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے غصہ چمکا، مگر پھر وہ مسکرا دیا۔ ”ہو سکتا ہے، پروفیسر، لیکن یاد رکھنا، ہر کوئی اتنی آسانی سے جاگ نہیں پاتا۔“

میں نے ایک لمبی سانس لی، دل میں پرانے قصے چلنے لگے۔ ”گل عباس۔“ میں نے دھیرے سے نام دہرایا، اور میرے ذہن میں سب کچھ واضح ہونے لگا۔ گل اور کاشان دونوں بیس سال پہلے میرے شاگرد تھے، دونوں اپنی جگہ بہترین، ذہین۔ لیکن کاشان کے اندر چھپی منافقت کو میں تب نہ دیکھ سکا۔ وہ جو گل کا دوست بنا رہا، اسی نے اس کے دل میں نفرت کا بیج بویا۔ گل نے کلاس میں میرے ساتھ بدتمیزی کی، اور میں نے اُسے نکال دیا۔ وہ اپنی ڈگری مکمل نہ کر سکا، اور غلط راستے پر چل پڑا۔ گل نے ہمیشہ مجھے قصور وار ٹھہرایا، لیکن میں جانتا تھا کہ اس کے لاشعور میں کاشان کی لگائی ہوئی نفرت کا بڑا ہاتھ تھا۔

”کاشان۔“ میں نے گہری سانس لے کر کہا، ”تم گل کے خواب کا حصہ ہو، تم حقیقت میں نہیں ہو، بلکہ اس کی خیالی دنیا میں قید ایک کردار ہو۔“

کاشان کے چہرے پر حیرت اور خوف چھا گیا۔ ”کیا؟ تم کیا کہہ رہے ہو؟ یہ سب اصلی ہے! میں اصلی ہوں!“ اُس کی آواز میں اب تھوڑا خوف اور غصہ آ گیا تھا۔

”نہیں، کاشان، تمہیں یہ لگتا ہے، لیکن یہ صرف ایک خواب ہے، گل عباس کا خواب۔ اور اس خواب میں تم وہ کردار ہو جس نے اُس کی زندگی برباد کرنے کی ابتدا کی تھی۔ تم حقیقت میں نہیں ہو، کاشان۔“

کاشان کی آنکھیں دھندلا گئیں، اور وہ پیچھے ہٹنے لگا، جیسے کسی نادیدہ طاقت نے اُسے جھنجھوڑ دیا ہو۔ ”نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔“ اُس کی ہچکی بھری آواز میں پچھتاوا تھا۔

میں نے اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا، ”تم نے اُس کے دل میں نفرت کا بیج بویا تھا، اور آج وہی عفریت اُس کے لاشعور سے نکل کر ہمیں نگل رہا ہے۔ تم نے مجھے اس سے بچایا کیوں کہ میں نے تم پر ہمیشہ احسانات کیے تھے، تمہاری کامیابی میں میرا حصہ تھا۔ لیکن اب وقت ہے تمہارے اعمال کا سامنا کرنے کا۔“

کاشان اب خاموش کھڑا تھا، جیسے اس حقیقت کو قبول کرنے میں مصروف ہو، اُس کی ہنسی کی چمک اب خوف اور پچھتاوے کے سائے میں دب گئی تھی۔

کاشان کی آنکھوں میں خوف اور پچھتاوے کی لہر تھی، جیسے حقیقت نے اس کے اندر گہرا زخم ڈال دیا ہو۔ ”یہ۔ یہ سب میری غلطی ہے۔“ اُس کی آواز لرز رہی تھی، جیسے الفاظ بھی اس کے منہ سے نکلنے سے خوفزدہ ہوں۔ ”میں نے گل عباس کے دل میں نفرت کا بیج بویا تھا۔ ایک مذاق کے طور پر، ایک لمحے کی نادانی تھی، اور اب یہ سب بگڑ چکا ہے۔ وہی نفرت آج ایک عفریت بن کر اسے اور ہمیں ختم کر رہی ہے۔“

عفریت ہمارے سامنے ہوا میں نفرت اور غصے کا طوفان لیے بڑھ رہا تھا، جیسے اس کا مقصد تباہی کے سوا کچھ نہ ہو۔ کاشان بے بسی میں کھڑا تھا، اُس کی اپنی تخلیق اب اُس کے قابو سے باہر ہو چکی تھی۔

”کاشان،“ میں نے گہری سانس لی، ”ہمیں اسے روکنا ہو گا۔ یہ عفریت محض ایک خوفناک مخلوق نہیں، یہ گل عباس کے اندر کی نفرت اور غصے کا عکس ہے۔ اگر ہم اس نفرت کو ختم نہ کر سکے، تو یہ ہمیں بھی نگل لے گا۔“

کاشان نے بے بسی سے سر ہلایا، آنکھوں میں خوف کے آثار تھے۔ ”لیکن ہم یہ کیسے کریں گے؟ ہم اُس کے خواب تک کیسے پہنچیں گے؟“

”یہ خوابوں کی دنیا ہے،“ میں نے مضبوطی سے کہا، ”یہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ ہمیں اُس کے لاشعور میں جانا ہو گا، وہیں سے اس عفریت کی طاقت شروع ہوئی ہے، اور وہیں اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔“

میں نے کاشان کا ہاتھ تھاما اور آنکھیں بند کیں۔ گل عباس کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میرے ذہن میں اُبھرنے لگے۔ اس کا وہ دن، جب اس نے غصے میں مجھ سے بدتمیزی کی تھی، وہ لمحہ جب میں نے اسے کلاس سے نکالا تھا۔ میرے ذہن میں اس کے اندر پلتی نفرت کے عکس واضح ہونے لگے، جیسے میں اُس کے لاشعور کے دروازے تک پہنچ چکا ہوں۔ ایک لمحے میں، ماحول بدلا، اور ہم اُس کے خواب میں داخل ہو چکے تھے۔

یہ ایک تاریک اور خوفناک جگہ تھی، جہاں ہوا میں بوجھل خاموشی اور خوف پھیلا ہوا تھا۔ سامنے ایک معصوم سا گل عباس کھڑا تھا، لیکن اُس کے چہرے پر نفرت اور غصے کی پرچھائیاں تھیں، جیسے وہ عفریت اُس کی روح کو نگل رہا ہو۔

میں نے آہستہ سے کہا، ”گل عباس۔“
گل نے چونک کر میری طرف دیکھا، اُس کی آنکھوں میں حیرت تھی، جیسے وہ ہمیں پہچاننے سے قاصر ہو۔

”یہ عفریت تمہاری اپنی تخلیق ہے،“ میں نے نرمی سے کہا، ”یہ تمہارے اندر کے خوف، غصے اور محرومی کا نتیجہ ہے۔ تمہیں اسے ختم کرنا ہو گا۔“

گل کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے، اور اُس کی آواز لرز رہی تھی، ”آپ نے مجھے نکال دیا تھا۔ میں اکیلا رہ گیا تھا۔ سب نے مجھے چھوڑ دیا تھا، یہاں تک کہ آپ نے بھی۔“

میں نے اس کے قریب آ کر اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، ”میں نے تمہیں سمجھنے میں غلطی کی، گل۔ تمہارے دل میں جو تکلیف تھی، وہ میں نے نہیں دیکھی۔ مگر تمہیں یہ نفرت چھوڑنی ہوگی، ورنہ یہ تمہیں کھا جائے گی۔ تمہیں اپنے اندر کے اس عفریت کا سامنا کرنا ہو گا، اسے معاف کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔“

گل کی آنکھوں میں مزید آنسو بھر آئے۔ وہ لرزتے ہوئے بولا، ”مگر میں۔ میں کیسے اسے چھوڑ دوں؟ یہ تکلیف ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے۔“

”تم اسے معاف کر دو،“ میں نے کہا، ”خود کو آزاد کرو۔ یہ عفریت تب تک زندہ ہے جب تک تم اسے اپنی تکلیف سے طاقت دیتے رہو۔ اپنے اندر کے درد کو تسلیم کرو اور پھر اسے جانے دو۔“

گل نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، اُس کے چہرے پر شدید کشمکش کا سایہ تھا۔ جیسے ہی اُس نے گہری سانس لی اور اپنی آنکھیں کھولیں، اُس کی آنکھوں میں سکون کی جھلک تھی۔

”میں معاف کرتا ہوں۔“ اُس نے دھیرے سے کہا، اور اسی لمحے، عفریت کی طاقت کم ہونے لگی۔ وہ نفرت اور غصے کا بھاری سایہ، جو پہلے ہماری دنیا کو نگل رہا تھا، آہستہ آہستہ دھند کی مانند تحلیل ہونے لگا۔

عفریت کا وجود بکھر کر ختم ہو گیا، جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھا۔ گل نے ایک گہری سانس لی، اور اُس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون چھا گیا۔

”میں آزاد ہوں۔“ گل نے دھیرے سے کہا، اور اُس کی آنکھوں میں پچھتاوے کی جگہ نئی امید چمک رہی تھی۔

کاشان، جو اس سارے منظر کا گواہ تھا، لرزتے قدموں سے پیچھے ہٹ رہا تھا۔ عفریت ختم ہو چکا تھا، لیکن حقیقت ابھی اس کے لیے باقی تھی۔

”کاشان۔“ میں نے اسے دیکھا۔ ”تم نے جو نفرت بوئی تھی، وہ تمہاری تباہی بننے والی ہے۔ تم نے گل کو اس حال تک پہنچایا، اور اب تمہیں اس کے اثرات کا سامنا کرنا ہو گا۔“

اچانک، کاشان کے چہرے پر خوف کا سایہ گہرا ہو گیا۔ وہ نفرت، جو گل عباس کے لاشعور میں پل رہی تھی، اب کاشان کے لاشعور کی طرف بڑھ رہی تھی، جیسے وہ اب اس کے وجود کو کھا جانے والی ہو۔ کاشان نے چیخ ماری، لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ اس کی اپنی بوئی ہوئی نفرت نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

کاشان نے آخری بار پروفیسر کی طرف دیکھا، اُس کی آنکھوں میں پچھتاوے اور خوف کا ملا جلا عکس تھا، اور پھر وہ بھی اسی دھند کا حصہ بن گیا، جو گل کے اندر تحلیل ہو چکی تھی۔

پھر اچانک، سب کچھ غائب ہونے لگا۔ پروفیسر کے ارد گرد کی وادی، پہاڑ، پرندے، سب تحلیل ہونے لگے۔ فضا میں معلق، دیواریں اور فرنیچر سب غائب ہو چکے تھے۔ وہ لامکان میں تھے۔ ایک بے کراں خلا، جہاں کوئی سمت نہ تھی، کوئی شے نہ تھی، بس ایک بے پایاں سناٹا، جیسے وقت اور وجود نے اپنی گرفت چھوڑ دی ہو۔

پروفیسر کی سمجھ میں آیا کہ عفریت صرف گل کے لاشعور کی پیداوار نہیں تھا، بلکہ ان کے اپنے اندر کے خوف اور پچھتاوے کا عکس تھا۔ گل کی نفرت نے ان کے خواب میں دراڑ ڈال دی تھی، اور وہی تاریکی ان کے لاشعور میں پلتے خوف کو بیدار کر چکی تھی۔

گل کے آزاد ہوتے ہی، پروفیسر کے خواب کی دنیا بھی تحلیل ہو رہی تھی۔ پروفیسر نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، وہ دھندلا رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ بھی اسی لامکانی خلا کا حصہ بننے والے تھے۔

پروفیسر جیکب پال نے ایک آخری سانس لی اور ای سی جی پر دل کی دھڑکن صفر ہو گئی۔
اجتماعی لاشعور میں ایک خواب ہمیشہ کے لیے ٹھہر چکا تھا۔

Facebook Comments HS