دوسری پگڈنڈی
فیض سہ پہر کی نارنجی دھوپ میں اس پگڈنڈی کی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک طرف گہرائی میں مچلتی ہوئی ندی اور دوسری طرف سبزے سے نہائی ہوئی کھائیاں، اس کے نشیب و فراز، اور خوبصورت موڑ، وہ اس سارے منظر سے مسحور ہو چکا تھا۔ وہ اس لمبی پگڈنڈی پہ مگن چلا جا رہا تھا۔ دور سے اسے ایک مرد اور عورت مخالف سمت سے آتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ فیض نے ان پر توجہ نہیں دی۔ لیکن جب وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے قریب سے گزر گئے تو اس کے دماغ میں ہیجان پیدا ہو گیا۔
اسے ایک اور پگڈنڈی کا خیال آیا۔ ”اِس پگڈنڈی پہ میں اکیلا اور وہ پگڈنڈی؟ اُس پہ بھی تنہا ہوں، مگر کب تلک! میری محبوبہ شاید مجھ سے دل لگی کر رہی ہے۔ وہ مجھ سے ساتھ نبھانے کا کوئی وعدہ نہیں کرتی۔“
فیض نے کئی بار بانو کے دل میں جھانکنے کی کوشش کی لیکن اس کے سب دروازے بند پائے۔
”کیا یہ دونوں پگڈنڈیاں ایک ہی ہیں؟ بانو اس میں کسی پہ بھی نہیں ہے۔“
اس کا ذہن چار سو بھٹک رہا تھا۔ اس کی سوچوں کے بحر میں ایک طوفان برپا تھا۔ وہ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا لیکن اس حسین منظر میں اس کی نگاہیں کہیں نہیں ٹک رہی تھیں۔
کیا وہ بانو کو محض ایک راہ چلتا ہوا مسا فر سمجھے جن کے راستے تھوڑی دور جا کر ہمیشہ کے لئے الگ ہو جائیں گے!
کیا وہ بانو کو ایک دوست سمجھے، ایک سچی دوست!
یا اس سے دور ہو جائے اور اسے بھول جائے۔ کیا وہ اسے بھول سکتا ہے؟
اس کی آنکھیں میں پانی تیرنے لگا۔ وہ کوئی فیصلہ نہ کر پا رہا تھا۔
آج ایک لمبے عرصے کے بعد فیض کو تنہائی کا احساس ستائے جا رہا تھا۔
فیض تھک کر ایک بڑے پتھر پہ بیٹھ گیا، اس کی ساخت کو سراہنے لگ گیا۔ اس کی ایک تصویر بنانے کے بارے میں سوچنے لگ گیا لیکن پھر بانو اور دوسری پگڈنڈی اس کے ذہن پہ سوار ہو گئی۔
شام ڈھلنے کو تھی۔ فیض ندی کے ہمراہ پگڈنڈی پہ بیٹھا ہوا دوسری پگڈنڈی میں کھویا ہوا تھا۔
”یہ کون سی پگڈنڈی ہے، کیا یہ دونوں ایک ہو گئی ہیں۔ بانو ان میں سے کسی پہ بھی نہیں ہے۔ “ اور وہ مخالف سمت میں چلنے لگ گیا۔ وہ کافی دیر چلتا رہا، چلتا رہا۔ پگڈنڈی ایک پل پہ جا کر ختم ہو گئی تھی۔ وہ پل پہ کھڑا بہتے ہوئے پانی کو اضطراب سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے سانس گہرے ہو رہے تھے۔ اس کو جرمن لکھاری ہرمن ہس کا ناول ’سدھارتا‘ یاد آ گیا۔ ”شاید یہ دریا مجھے کوئی پیغام دے گا، مجھے کوئی راہ دکھانے گا۔“ وہ غور سے لہروں اور ان کے شور میں محو ہو گیا۔
فون کی گھنٹی نے اسے چونکا دیا۔ فون بانو کا نام پکار رہا تھا۔ ”ہیلو۔“
”آج تم نے مجھے فون نہیں کیا؟“ بانو کی آواز ہمیشہ کی طرح زندگی سے بھر پور تھی۔
”کیا ضروری ہے کہ میں ہی تمہیں روز فون کروں! تم تو مجھے کبھی فون نہیں کرتی۔“
”لیکن تم ہی ہمیشہ فون کرتے ہو۔ فیض، آج تمہاری آواز میں اداسی کیوں جھلک رہی ہے؟“
فیض کا سانس پھول رہا تھا۔
”اور اگر میں نہ بھی فون کروں تو تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ یہ کہنے کے بعد فیض کو ملامت سی ہوئی۔ ”میں آج اپنی پسندیدہ پگڈنڈی پہ آیا ہوا ہوں۔ میں نے تم کو یہاں بہت یاد کیا۔“
”میں آ رہی ہوں، میرا انتظار کرو صرف پندرہ منٹ۔“
”تم صرف اس پگڈنڈی پہ میرا ساتھ دینا چاہتی ہو، لیکن دوسری پگڈنڈی پہ نہیں۔“
”کون سی دوسری پگڈنڈی؟“ بانو کی آواز میں کتنا ٹھہراؤ تھا۔
”آج میں نے زندگی کا اہم ترین فیصلہ کر لیا ہے۔“ فیض نے خود کو سنبھالتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
”کیا فیصلہ، کون سا فیصلہ؟ تمہیں آج کیا ہو گیا ہے؟ کون سی دوسری پگڈنڈی؟ میں وہاں آجاتی ہوں۔“
فیض کوئی جواب نہ دے سکا۔ اسے لگا کہ اِس پگڈنڈی یا اُس پگڈنڈی سے کوئی کانٹا آ کراس کے حلق میں پھنس گیا تھا۔


