شادی۔ جلدی کریں یا صحیح بندے کا انتظار


dr tehreem javaid

شادی ٹھیک وقت پہ کرنی چاہیے یا ٹھیک انسان سے خواتین کے لیے یہ مسئلہ اچھا خاصا پیچیدہ بن جاتا ہے خاص کر آج کے زمانے میں وہ خواتین جو کچن چلانے کے لیے مرد کی طرف دیکھنے کی فکر سے آزاد ہیں۔ پرانے وقتوں میں ایک کماتا تھا تو دس جی کھاتے تھے۔ آج کے زمانے میں جہاں افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہاں ایک کے کمانے سے گھر چلنے کی متھ خواب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف مرد کی اپنی غلامی سے نکل جانے والی عورت کو شادی کے نام پہ کنٹرول کرنے کی خواہش زور آور ہو چکی ہے۔

جہاں تک وقت کی بات ہے تو ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی بلوغت کے آثار نظر آتے ہی کسی کھونٹے سے باندھ دینا مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ سکول جائے تو ڈانس نا شروع کر دے اور مختصر کہوں تو لڑکی ہاتھ سے نکل جانے کا خوف بچپن کی شادیوں کی بڑی وجہ ہے۔ جس بچی کا جسم ابھی پوری طرح بنا ہی نہیں ہوتا اس پہ ایک اور جسم کو نمو دینے کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ پاکستان ابھی تک ایک قبائلی سماج ہے اور بہت کم شہری علاقوں کو چھوڑ کر رسوم و رواج میں ڈوبا ہوا ہے۔

خاندان میں شادیاں ایک اور بڑا عذاب ہیں جسے بیشتر لڑکیوں کو جھیلنا پڑتا ہے۔ کیا اذیت ہے کہ ایک عورت کو پوری زندگی سونا کس مرد کے ساتھ ہے یہ فیصلہ باپ بھائی کرتے ہیں۔ عورت کی وجائنا میں چھپی ہوئی یہ نام نہاد غیرت یہیں پہ بس نہیں کرتی بلکہ زندگی میں آنے والے اگلے مرد کو یہ حق خود بخود مل جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس عورت نے کتنے بچے جننے ہیں۔ اپنا جسم کٹتا پھٹتا تو ہے نہیں جو جان سکیں کہ بچے پیدا کرنا ہر عورت کے لیے ایک جیسا عمل نہیں ہوتا۔ اس ملک کے اکثریتی علاقوں میں آج بھی دائیاں ہی بچے پیدا کرواتی ہیں بگڑے ہوئے کیس بڑے ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں۔ جس کی قسمت اچھی وہ بچ جاتی ہے نہیں تو مرد کو اور شادی کرنا کون سا منع ہے۔

یہ سارے مسئلے مسائل مملکتِ خداداد میں چل رہے ہیں اور ہمارے ڈراموں اور دانشوروں کا مسئلہ کیا ہے پڑھی لکھی خود کمانے والی آزاد خیال عورتیں جو نا جانے کس لیے ہر سال مارچ شروع کر دیتی ہیں حالانکہ اسلام نے تو سب حقوق دے ڈالے ہیں۔ اس سماج کو صرف ایسی عورت سے مسئلہ ہے جو دو وقت کی روٹی اور دو جوڑوں کے عوض بستر پہ نہیں لائی جا سکتی۔ ایسی عورتیں بدکردار ہوتی ہیں اور معاشرے میں بگاڑ کا موجب بنتی ہیں۔ یہ خواتین اس ملک کی عورتوں کا شاید دس فیصد بھی نہیں ہیں۔ لیکن تکلیف انہی سے ہے۔

بہت ہنسی آتی ہے جب ایسے مرد جن کے اپنے گھر کی خواتین کی بس یہی پہچان ہوتی ہے کہ وہ فلاں کی بیوی اور فلاں کی امی ہیں۔ ان مردوں سے یہ برداشت ہی نہیں ہو پاتا کہ کسی عورت کی اپنی بھی کوئی سوچ ہے یا وہ خود سے بھی بول سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ شادی کر لی ہوتی ہے غلط وقت پہ۔ جلدی جلدی میں جو بھی کزن ملتی ہے اسی سے تین بول پڑھوا لیتے ہیں پھر دس پندرہ سال بعد لیٹ شادی کرنے والے دوست احباب کی بیویاں نظر آتی ہیں تو دل کو یہی سوچ کر تسلی دیتے ہیں کہ ہمارے بچے تو جوان ہو گئے نا۔ یا دوسرے کیس میں فرمائیں گے کہ جو عورت اپنا گھر نا چلا سکی وہ اور کیا کرے گی۔ گھر چلانا کیا شوہر سے جوتے کھا کر اف نہ کرنا ہے۔ یا ایسے زہریلے ماحول میں بچوں کو پالنا اور مزید بچے پیدا کیے جانا کہاں کی انسانیت ہے۔

انسان کا سب سے بڑا وصف خود سے بہتر نسل چھوڑ جانا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں ایک بہتر معاشرہ جو بنتا ہے ایک گھر سے، جہاں عورت اور مرد ایک جتنی عزت کے حقدار ہوتے ہیں۔ ذمہ داریاں آپس میں بانٹتے ہوئے اولاد کی بہتر تربیت کرتے ہیں۔ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب شادی ذہنی بلوغت کے بعد کی جائے بجائے جسمانی بلوغت کے۔ جب تک عقل ہوش ٹھکانے آتے ہیں پاکستانی جوڑے سات آٹھ بچے جم چکے ہوتے ہیں۔ شہری علاقے کتنے ہیں دیکھ لیں وہاں تناسب فرق ہے لیکن ان کی تعداد کم ہے۔ یہاں پہلا بچہ جنسی صحت کا ثبوت ہوتا ہے۔ پہلی بیٹی ہو جائے تو جلد از جلد بیٹا پیدا کرنے کا جنون بھی کثرت اولاد کا سبب بنتا ہے۔

یہاں کھیل کے میدان اور لائبریری ڈھونڈے سے نہیں ملے گی بس ایک ہی کھیل رہ گیا ہے بچے پیدا کرنا۔ شادی کا بھی یہی مقصد ہے۔ جہاں مقصد ہی ایسا نیک ہو وہاں ذہنی مطابقت کون دیکھے گا۔ یا ایسا کوئی کیسے سوچ سکتا ہے کہ شادی کے بغیر بھی زندگی گزر سکتی ہے۔ شادی آخر کو ہمارا قومی فریضہ ہے۔ جو مرد یا عورت اس میں دلچسپی سے گریزاں ہوں ان کی زندگی جہنم کر دی جاتی ہے اور انسان پوچھ بھی نہیں سکتا کہ بھائی آپ نے یہ لڈو کھا کر کون سی توپ چلا لی ہے۔

دنیا کی بے پر کی سننے کی بجائے دماغ سے کام لیں۔ آپ مرد ہیں یا عورت، شادی کے لیے انسان ٹھیک ہونا چاہیے۔ انسان ٹھیک ہو تو وقت تو اپنے آپ ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS