سلگتا ساحل: گوادر


بلوچستان میں بطور سیکرٹری زراعت میری تقرری مئی 2005 ء میں ہوئی۔ زراعت کے شعبہ میں ملکی سطح سے شروع کیے گئے کئی منصوبوں میں صوبہ بلوچستان بہت پیچھے تھا۔ سب سے اہم اصلاح آبپاشی کا پروگرام تھا۔ فنڈ موجود تھے لیکن زمین پر کام کی رفتار سست تھی۔ اس رفتار کو باقی صوبوں کے مساوی لانے کا مشن سونپا گیا تھا۔ بہت محنت درکار تھی۔ مقام شکر ہے کہ دن رات کی محنت سے ہم پانچ چھ ماہ میں مطلوبہ رفتار حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے۔ جب رات والے اوقات بچنا شروع ہو گئے تو بلوچستان کے دیرینہ مسئلے کو سمجھنے کی سوجھی۔ ابتدائی چھان پھٹک اور راہ و رسم سے اندازہ ہوا کہ معاملے کی جہات وسیع اور جڑیں گہری ہیں اور باقاعدہ تحقیق کی متقاضی ہیں۔ پی ایچ ڈی کرنے کے پرانے شوق نے سر اٹھایا اور میں نے اپنا مدعا وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی سے جا بیان کیا۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور فیکلٹی آف آرٹس کے سابق ڈین اور سیاسیات کے قابل ترین استاد پروفیسر ایمریٹس محمود علی شاہ کو میری رہنمائی کے لیے مقرر کر دیا۔

اگلے دو برس پروفیسر محمود علی شاہ صاحب سے گہری رفاقت رہی۔ وہ ایک بلند پایہ علمی شخصیت ہیں۔ جھل مگسی جیسے دور افتادہ اور پسماندہ آبائی علاقے سے ابتدا کر کے اس منزل تک سراسر اپنے شوق، جستجو اور جدوجہد کے کارن پہنچے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے زیادہ تر مراحل انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے مکمل کیے۔ کچھ عرصہ وہ کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ میں پی ایچ ڈی پروگرام میں زیر تعلیم رہے لیکن موسم کی ناسازگاری کی وجہ سے واپس آنا پڑا۔ ان کی رہنمائی میں میری ریسرچ پروپوزل تیار ہو کر یونیورسٹی سے منظور ہوئی اور میں نے سروے کے لیے بہت عرق ریزی سے ایک سوالنامہ تیار کر لیا جو شاہ صاحب کو بہت پسند آیا اور انہوں نے یہ کہہ کر منظور کر لیا کہ یہ تو باقاعدہ کیمبرج یونیورسٹی کے معیار کے مطابق ہے۔

صوبے کے چیدہ چیدہ سرکردہ اشخاص کی اکثریت سے اس سوالنامے پر جوابات موصول ہو گئے، دوسرا ضروری مواد اکٹھا ہو گیا، میں نے مناسب تعداد میں کتابیں بھی پڑھ لیں اور مقالے کو لکھنے کی ابتدائی تیاری کرلی تو نئے قائم کردہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے پہلے تو پی ایچ ڈی کے لیے GRE پاس کر نے کی شرط رکھ دی جو کہ پوری کر دی گئی لیکن پھر دو سال کے کورس ورک کی شرط لگا دی۔ اس سے پیشتر بیرونی یونیورسٹیوں کی ڈگری رکھنے والے ریسرچ سکالر کو دو سالہ کورس ورک سے چھوٹ تھی۔ میں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اکنامکس میں ایم فل کر رکھا تھا اور میرے پاس ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے ایم پی اے کی ڈگری بھی تھی۔ مجھے جو چھوٹ حاصل تھی وہ جاتی رہی۔ اس اثنا میں میرا تبادلہ اسلام آباد ہو گیا اور یوں چھوٹ ختم ہونے سے میری پی ایچ ڈی کی ٹرین چھوٹ گئی جس کا رنج مجھے آج بھی ہے۔ تاہم میرا مطالعہ اور مشاہدہ ضائع نہیں ہوئے اور 2008 ء میں کام آ گئے۔

محمود علی شاہ کی شخصیت دین و دنیا، تفکر و تدبر، تعلیم و تعلم، یگانگی و بیگانگی اور خلوت و جلوت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ شاہ صاحب سے رفاقت رفتہ رفتہ دوستی میں بدل گئی اور میں نے بھانپ لیا کہ ان کی شخصیت میں غالب صوفیانہ رنگ کی موجودگی ان کو اپنے تجربات و تحقیقات کو منظر عام پر لانے سے روکتی ہے کہ اس سے خود نمائی کا پہلو اجاگر ہوتا ہے۔ میرا مقصود لیکن ان کے بیش بہا علم و تجربہ کو صحیح استفادہ کے لیے عام کرنا تھا۔ بہت رد و کد کے بعد میں نے شاہ صاحب کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اپنے تحقیقی کام کو مرتب کر کے میرے حوالے کر دیں اور اگلے تمام مراحل کی ذمہ داری مجھے سونپ دیں۔ میں اس دوران میں اسلام آباد سے ہوتا ہوا واپس لاہور تعینات ہو چکا تھا۔ وقفے وقفے سے میں نے شاہ صاحب کے چار مسودات کو مال روڈ ریگل چوک پر واقع مشہور ’کلاسیک پبلشرز‘ کے مالک آغا امیر حسین، جن سے میرے پرانے دوستانہ مراسم تھے، کے سپرد کیا۔ انگریزی میں دو معتبر کتابیں شائع ہوئیں

’Essays on Balochitan‘
اور
’Local Govt. in Balochistan From Raj to Musharaf‘
اردو میں دو کتابیں چھپیں ”آپ بیتی بلوچستان بیتی“ اور ”سفر نور“ ۔

ان کتابوں کی اشاعت کے لیے مکمل مالی تعاون فیصل آباد کے معروف صنعتی ادارے ”کسان“ کے میاں رشید صاحب نے کیا جن کا اب تک نہ کیا جا سکنے والا ذکر اور شکریہ واجب ہیں۔

انگریزی کی کتابوں کے میں نے ابتدائیے لکھے تھے جن میں بلوچستان پر میری تحقیقی کاوش کی کچھ جھلک موجود ہے مگر میرے مطالعے اور مشاہدے کا اصل نچوڑ کتاب ”آپ بیتی بلوچستان بیتی“ کے دیباچے میں در آیا۔ اس دیباچہ کی علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں پذیرائی ہوئی۔ بہاولپور میں رہنے والے شاہی قلعہ کے قید یافتہ ترقی پسند دانشور موسیٰ سعید صاحب نے آپ ہی آپ اس دیباچے کو کتابچے کی شکل میں چھاپا اور اپنے صحافتی اور سیاسی حلقوں میں بانٹا، پھر ان کے کہنے پر اگست 2009 ء میں مشہور کالم نویس حمید اختر نے روزنامہ ایکسپریس میں اپنے کالم ’پرسش احوال‘ میں ’ایک دیباچہ‘ کے عنوان سے نمایاں جگہ دی۔ ازاں بعد معروف کالم نگار نذیر ناجی نے تو اسے اپنے مقبول کالم ’سویرے سویرے‘ میں ’بلوچستان کی روح‘ کے نام سے پورے کا پورا چھاپ دیا۔

میں نے بلوچستان پر جو تحقیقی مواد جمع کیا تھا وہ 2013 ء میں کافی حد تک کام آ گیا جب لندن سکول آف اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیے ایک تحقیقی مقالہ

The Nexus of Federalism and Economic Development: A Politico-Economic Analysis of Balochistan (1947-2012)

لکھا گیا۔ اس تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ بلوچستان میں زیر مطالعہ 65 برسوں میں زیادہ وقت نہ تو وفاقیت کی صحیح روح کے مطابق کام کیا گیا اور نہ ہی مقامی حکومتوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا۔ جب تک ان دو بنیادی عوامل کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور صحیح سمت میں ٹھوس کام نہیں کیا جائے گا بلوچستان کے مسائل کم نہ ہو سکیں گے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد پچھلے گیارہ برس سے میں لاہور میں مقیم ہوں۔ میں نے محمود علی شاہ کی آپ بیتی والے دیباچے کے آخر میں گلہ کیا تھا کہ انہوں نے قلم روک کر لکھا ہے اور یہ ان کہی کتاب کا حاصل ہے لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ ان کہی کے کہنے کا وقت آ گیا ہے اور اگر اب بھی قلم رک گئے تو برے وقت کے بڑھتے ہوئے قدم نہیں رک سکیں گے۔

بلوچستان کا سرخیل مسئلہ سرکاری عمال کی رعونت ہے، سول محکموں میں بالعموم اور وردی والے محکموں میں بالخصوص۔ وردیوں کے رنگ اور اختیار میں تفریق برتاؤ میں تحقیر آمیزی کے فرق سے صاف نظر آ جاتی ہے۔ رعونت کا یہ رویہ اپنے عوام کو اپنی رعایا سمجھنے کے خناس سے پھوٹتا ہے۔ اس علاقے میں یہ رویہ تو بیرونی آقاؤں نے بھی روا نہیں رکھا تھا۔ اہانت وہ واحد چیز ہے جو بلوچ سے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہوتی۔ یہ اس کے دل و دماغ میں گولی کی طرح لگتی ہے۔ اس طرح سے اس کے اندر سیسہ اتارنے والا اگر کوئی یہ سمجھے کہ یوں اس کے خون کی حدت ٹھنڈی پڑ جائے گی تو ہر گز نہیں۔ یہ سیسہ اس کے اندر پارے میں بدل جائے گا اور اس کو سیماب پا کر دے گا۔ اس کا رد عمل آئے گا ضرور، وقت اور موقع آنے پر۔

نواب اکبر بگٹی والے عظیم سانحے کے کچھ ماہ بعد میں سرکاری کام کے سلسلے میں ان کے شہر ڈیرہ بگٹی گیا۔ کوئٹہ سے نکلے پانچ چھ گھنٹے کی مسافت کے بعد سندھ کے ضلع جیکب آباد میں سے ہوتے ہوئے دوبارہ بلوچستان کی حدود میں داخل ہو کر سوئی کے قصبے میں سستانے کے لیے رک گئے۔ یہ قصبہ ملک بھر میں کئی دہائیوں سے اپنے قدرتی گیس کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ تازہ دم ہو کر آگے چلے۔ ڈیرہ بگٹی کا ضلعی ہیڈ کوارٹر یہاں سے تقریباً پچاس کلومیٹر ہے۔ اس مختصر سے فاصلہ میں بلا مبالغہ نصف درجن کے قریب چیک پوسٹوں سے سابقہ پڑا۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں چل رہی تھیں۔ چند ایک مسافر ویگنیں بھی تھیں۔ میری سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی کو بھی ہر چیک پوسٹ پر روکا گیا۔ کچھ جگہوں پر تو ڈرائیور کے تعارف کروا دینے پر جانے دیا گیا۔ ایک دو پوسٹوں پر گاڑی کے اندر جھانک کر پڑتال کی گئی۔ آخری سے پہلے والی پوسٹ پر ہمیں اتار کر گاڑی کو اندر سے ٹٹولا گیا۔ شاید ہماری بھی ہلکی سی تلاشی ہوئی لیکن آخری پوسٹ پر ہمیں گاڑی سے اتر کر چیک پوسٹ کو پیدل عبور کرنے کا کہا گیا۔ جامہ تلاشی بھی لی گئی۔ میں اس سب کو سرکاری ڈرل سمجھ کر سہ گیا لیکن اصل معاملہ تو مسافر ویگنوں کا تھا۔
ہر چیک پوسٹ پر کوئی نہ کوئی ویگن رکی نظر آتی تھی کیونکہ ہر ویگن کی ہر سواری کو ہر چیک پوسٹ پر ویگن سے اتر کر باقاعدہ جامہ تلاشی دینا پڑتی تھی۔ اس باقاعدہ جامہ تلاشی کا منظر بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ میں آخری دو چیک پوسٹوں میں سے کسی ایک پر گاڑی سے اتر کر کھڑا تھا۔ سڑک کے بائیں کنارے پر چیک پوسٹ سے دس بارہ قدم دور ایک چھوٹا سا کمرا بنا ہوا تھا۔ اس طرح کے چھوٹے کمرے پیچھے بھی دیکھتا آیا تھا۔ کمرے کی سڑک کے رخ والی دیوار سے لے کر چیک پوسٹ تک وقفے وقفے سے مسافر قطار میں کھڑے تھے۔ اپنی باری پر ایک مسافر آگے بڑھتا، اپنے دونوں بازو پھیلا کر ہاتھوں کو بلند کر کے دیوار کے ساتھ لگا کر کھڑا ہوجاتا اور اپنی جامہ تلاشی دیتا۔ اسی دوران سنگین لگی رائفلیں تانے باوردی افراد چیک پوسٹ اور کمرے کے گرد حلقہ بنائے رکھتے۔ اپنے ملک، اپنے صوبے، اپنے علاقے اور اپنے شہر جاتی سڑک پر ایسی ہتک اور بار بار! میں اس منظر کی تاب نہ لا سکا۔ میری ٹانگیں جواب دینے لگیں اور میں کار میں اپنی پچھلی نشست پر بیٹھ گیا۔ دوسری طرف سے میرا بلوچ ڈائریکٹر جنرل بھی لرزتا ہوا آ کر بیٹھ گیا اور چیخ نما آواز میں بولا ”سر آپ نے دیکھا۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ بلوچ سرکش ہو رہے ہیں“۔ میں نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اس کو دیکھا اور اس کا ہاتھ تھپتھپایا، اس کا اندرونی ارتعاش بے قابو ہو رہا تھا۔ تب میں نے جان لیا کہ بلوچ دنیا میں بھونچال آ چکا ہے۔

اس بھونچال کو جانچنے، ماپنے اور نبٹانے والے محکموں کا اس وقت کا حال سن لیجیے۔ چیف منسٹر بلوچستان کے کمیٹی روم میں جائزہ اجلاس ہو رہا تھا جس کی صدارت جنرل پرویز مشرف صدر پاکستان نے کرنا تھی۔ چیف سیکرٹری، آئی جی، چیدہ چیدہ وزراء اور سیکرٹری اجلاس میں بلائے گئے تھے۔ میز پر میرے سے اوپر کی طرف ان دو محکموں کے صوبائی سربراہان کے نام کارڈ پڑے تھے جو ریاست اور حکومت کے لیے آنکھوں اور کانوں کا کام کرتے ہیں۔ اجلاس شروع ہونے میں کچھ وقت تھا۔ صدر صاحب کا انتظار ہو رہا تھا۔ میرے ساتھ والی کرسی سے اگلی نشست پر نام کارڈ والا افسر آ کر بیٹھ گیا۔ ذرا دیر بعد اطلاع ہوئی کہ میرے ساتھ والی کرسی پر رکھے ہوئے نام کارڈ والے محکمے کا سربراہ اجلاس میں نہیں آ رہا، چنانچہ وہ کرسی خالی رہ گئی۔ میں چند لمحوں میں یہ دیکھ کر سن ہو گیا کہ آئے ہوئے دوسرے صوبائی سربراہ نے خالی نشست والے نام لکھے کارڈ کو اٹھا کر فرش پر پھینک دیا اور اپنے پاؤں تلے مسلنے لگے۔ اجلاس شروع ہونے تک وہ یہ عمل کرتے رہے اور پھر اسے پاؤں سے پرے دھکیل دیا۔ بعد میں خوف بھری حیرت کے ساتھ جب میں نے اس کا ذکر اپنے حلقہ احباب میں کیا تو یہ جان کر میری سٹی گم ہو گئی کہ ان دونوں خصوصی محکموں کی باہمی مسابقت صحت مندانہ نہیں رہی بلکہ مخاصمت سے ہوتے ہوئے رقابت میں تبدیل ہو گئی ہے اور دونوں محکمے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے فیلڈ میں موجود ایک دوسرے کے قابل اعتماد اور باخبر ذرائع کو چن چن کر نشانہ بنا رہے ہیں اور اس ردعمل میں ریاست کو اندھا بہرا بنا رہے ہیں۔

دور کیا جانا تھا۔ اس چپقلش کے نتائج تو میں اس جائزہ اجلاس ہی میں دیکھ اور سن چکا تھا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) کے سربراہ میجر جنرل صوبہ بھر میں جاری بڑی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبہ جات پر بریفنگ دے رہے تھے اور تحسین سمیٹ رہے تھے۔ آخر میں صدر مملکت نے بہت اشتیاق سے پوچھا کہ قلات سے گوادر کی سمت جانے والے ایک راستے کے بہت اہم ٹکڑے پر، جس پر کام کرنے کا فیصلہ پچھلے سال کر لیا گیا تھا، کتنے کلومیٹر کام ہو چکا ہے۔ این ایچ اے کے سربراہ نے کچھ دیر خاموش رہ کر ہلکی آواز میں جواب دیا کہ اس ٹکڑے پر تو ابھی کام شروع نہیں ہو سکا۔ صدر پاکستان کے چہرے پر کئی رنگ آئے مگر اپنے منصب کے شایان شان متانت سے انہوں نے اس منصوبہ کو بلاتاخیر شروع کر نے کی ہدایت کر کے بات آگے بڑھا دی۔ ان کو پچھلے ایک سال میں شاید ان دونوں محکموں میں سے کسی نے بھی زمینی صورت حال سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

اسی اجلاس میں ایک سوال گوادر کے متعلق پوچھا گیا تھا۔ یہ سوال صدر پاکستان سے ایک وزیر نے بڑی جرات کر کے پوچھا تاہم بڑے سلیقے سے، شکر رنجی کے پیرائے میں۔ دو تین ماہ قبل گوادر بندر گاہ میں شاید پہلا جہاز لنگر انداز ہونے کی تقریب ہوئی تھی۔ افتتاح صدر مملکت نے کیا تھا۔ یہ سوال اسی تقریب سے متعلق تھا۔ نئی صدی کے آغاز ہی سے لیکن دو تین سال گزرنے کے بعد تو اور بھی شدت سے گوادر بندرگاہ اور گوادر شہر کے روشن مستقبل اور ترقی کے بہترین مواقع کے چرچے عام تھے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بڑے بڑے بل بورڈوں پر کمپیوٹر سے نکلی گوادر کے جگمگاتے شہر اور جھلملاتے ساحل کی تصویریں عام تھیں۔ رہائشی، تجارتی اور صنعتی پلاٹوں کی سکیمیں مشتہر کرنے میں ملک کے بڑے بڑے سیٹھوں میں مقابلہ ہو رہا تھا اور واقعی میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری آ رہی تھی۔ جیسے جیسے اس تقریب کے دن قریب آ رہے تھے پلاٹوں کی قیمتیں اور سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہے تھے جس کا نقطہ عروج یہی تقریب تھی۔ صدر پاکستان نے افتتاح کیا، شادیانے بجے اور پھر انھوں نے توانائی، مسرت اور تیقن سے بھرپور آواز میں خطاب کیا۔ گوادر شہر، بندرگاہ، ائرپورٹ، صنعتوں اور سرکاری سہولتوں کے متعلق بہت امید افزا تقریر کی۔ گوادر کے شہریوں اور ٹی وی کے ذریعے دکھائی جانے والی تقریر کے ملک بھر کے ناظرین کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے کہ بڑھتے ہوئے جوش میں صدر پرویز مشرف نے یکایک اعلان کر دیا کہ اسی پائے کی سرمایہ کاری سے دو اور بندر گاہیں بلوچستان کی گڈانی اور سندھ کی کیٹی بندرگاہ کو مساوی ترقی دی جائے گی۔ اس اعلان کے محض چند گھنٹوں بعد گوادر کی مارکیٹ منہ کے بل زمین پر آ گری۔ بھلا کراچی جیسے بڑے صنعتی اور تجارتی شہر کے شمال اور جنوب میں ساٹھ ستر کلومیٹر والی نئی برابر کی بندر گاہوں کو چھوڑ کر دس گنا دور چھ سو کلومیٹر پر واقع گوادر شہر میں سرمایہ کاری کیوں کر ہوتی؟

سوال اسی اعلان سے متعلق تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے افسوس بھرے لہجے میں انتہائی سادگی سے جواب دیا کہ میں تو گوادر بندرگاہ کے آغاز کی خوشی اور ترقی کے بہترین امکانات میں مگن اپنی تقریر کر رہا تھا کہ کسی نے مجھے یہ لکھی ہوئی چٹ پکڑا دی جو میں نے اسی ترقیاتی رو میں پڑھ دی۔ نجانے وہ چٹ مجھے کس نے پکڑائی تھی۔

یہ جاننے کے لیے کہ وہ مہلک غلطی کس نے کروائی تھی زیادہ افلاطونی کی ضرورت نہیں۔ تقریب بندر گاہوں اور جہاز رانی کی وزارت کے تحت ہو رہی تھی جو ہمیشہ ایک خاص سیاسی جماعت کی پسندیدہ رہی تھی اور دوسرا یہ کہ مہاجر تحریک کے بانی کا سیاسی اثر و رسوخ زوروں پر تھا لیکن آنکھوں اور کانوں والے وہ دونوں خاص محکمے کہاں تھے جو ایک دوسرے کو روند ڈالنا چاہتے تھے۔

ماضی کے مقبول قصے میں نورجہاں کے ہاتھ سے جہانگیر کا پکڑوایا ہوا ایک کبوتر اڑ جاتا ہے اور دوسرے کو وہ سوال کے جواب میں اڑا کر بتاتی ہے کہ ایسے اڑا۔ اس بھولپن میں چھپی ذہانت اسے ہندوستان کی ملکہ بنا دیتی ہے لیکن ہمارے بادشاہ کی سادگی میں نجانے کیا چھپا تھا کہ گوادر کی ترقی کا حال کنیز جیسا ہو گیا۔ جہانگیر والے کبوتر تو واپس آ گئے ہوں گے یا لائے گئے ہوں گے لیکن ہمارے صدر کے ہاتھوں اڑے گوادر کی ترقی کے کبوتر ابھی تک واپس نہیں آئے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ کبھی کبھی فضا میں آ منڈلاتے ہیں لیکن زمین پر نہیں اترتے۔ اتریں بھی تو کیسے نیچے تو پورا ساحل سلگ رہا ہے۔ بار خدایا! لگاوٹ اور رکاوٹ کی دنیاؤں میں اتنا فرق کیوں ہوتا ہے۔

اس ساحل کے سلگتے رہنے اور ترقیاتی عمل میں رکاوٹوں میں ہماری اپنی نادانیوں سے کہیں بڑھ کر غیروں کی شاطرانہ چالوں کا دخل ہے۔ ہمارے اطراف میں پڑے ہوئے دوست اور دشمن بلوچستان کی ترقی سے خائف بلکہ حاسد ہیں۔ پرانے، نئے اور ابھرتے سامراج کی نظریں اس کے دفینوں پر گڑی ہیں۔ ساتھ میں وہ پورے خطہ میں اس کے کرشماتی محل وقوع پر اپنا تسلط بھی چاہتے ہیں مگر جانتے ہیں کہ صدیوں کا تجربہ رکھنے والا بلوچ آسانی سے ان کے جال میں نہیں آئے گا، اس لیے وہ سارا زور اس کو گھر کے دوسرے بھائیوں سے متنفر کرنے پر لگا رہے ہیں۔ لالچ، بہکاوے اور کھوکھلی ہمدردی کا چلن عام ہے۔ دوسری طرف گھر کے دیگر بھائی اپنے بلوچ بھائی کو بلوچستان کے ترقیاتی عمل میں شرکت کا بر وقت اور بھرپور احساس نہیں دلا سکے۔ بلوچ اپنے ہاں ترقیاتی عمل سے جنم لینے والی بدلتی دنیا میں خود کو اجنبی، اکیلا اور غیر سمجھ رہا ہے۔

بجا کہ ملکی سطح پر یہ سمجھ لیا گیا ہے اور اسے نصاب کی طرح پڑھا پڑھایا اور بولا جاتا ہے کہ مملکت خداداد کی ترقی اس کے صوبے بلوچستان کی ترقی سے جڑی ہے اور یہ کہ بلوچستان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے لیکن یہ سمجھنے میں تاخیر ہو رہی ہے کہ بلوچستان کی ترقی کا ضامن اس کا ازلی اور ابدی باسی بلوچ ہے اور گویا بلوچ ہی پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔

بلوچ سے ضمانت حاصل کرنے کے لیے اس کی موجودہ غیریت اور تنہائی کے احساس کو دور کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ملک کے تمام اداروں اور طبقات کو اپنا اپنا کام کرنا ہو گا۔ ترقیاتی عمل میں بلوچ کی شرکت بلکہ شراکت کا خود کار نظام بنانا ہو گا اور یہ کام چنداں مشکل نہیں۔

اگست 2024 ء کے دوسرے ہفتے میں کوئٹہ میں ہونے والے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے انتخابات کے سلسلے میں لاہور سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے جلسے میں گیارہ بارہ سو انجینئروں نے شرکت کی۔ امیدوار نے انجینئرنگ کونسل کو ٹھیکیدار فرموں کے غلبے سے پہنچنے والے پیشہ ورانہ نقصانات پر تفصیلی روشنی ڈالی تو حاضرین نے ان کا کھل کر ساتھ دیا۔ بعد میں انتخابات میں ان کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ بھی دیے۔ میرے اس امیدوار دوست نے سراسیمگی اور پریشانی کے انداز میں بتایا کہ جب تقریر کے آخر میں انہوں نے ملک کا قومی نعرہ لگایا تو بھاری اکثریت جواب میں خاموش رہی۔

میرا موقف مگر مختلف ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ قومی نعرے کے جواب میں بھاری اکثریت خاموش رہی لیکن پنجاب جیسے مطعون کیے جانے والے علاقے سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو بھاری اکثریت نے ووٹ بھی تو دیا۔ اسلام آباد میں صدر دفتر اور ملک کے سبھی حصوں سے نمائندگی رکھنے والی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے انتخابی عمل میں سینکڑوں بلوچستانی انجینئروں کی شرکت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہاں کے پڑھے لکھے انجینئروں جیسے حساس طبقات بھی ہر اس عمل میں بھرپور شرکت کرتے ہیں جہاں انہیں یقین ہو کہ ان کا حق رائے دہی متعلقہ ادارے کی تشکیل میں اپنا وزن رکھے گا۔ پس واضح ہوا کہ یہ نعروں کا نہیں عمل کا وقت ہے۔

بلوچستان کے صحرا، پہاڑ اور ساحل بلند درجہ شخصیات کو جنم دیتے اور پروان چڑھاتے ہیں۔ قبائلیت بلوچ کی گھٹی میں پڑھی ہے۔ صدیوں تک اس کا قبیلہ اور سردار اس کو تحفظ، شراکت اور انصاف مہیا کرتے رہے ہیں۔ قبائلیت کو گہرا گھاؤ تقریباً ڈیڑھ صدی قبل انگریز نے رابرٹ سنڈیمن کے ذریعے لگایا جب اس نے اپنے مقاصد کے لیے سرداری کو موروثی بنا دیا اور یوں آزاد منش بلوچ سردار کو دوسرے علاقوں کے جاگیرداروں کی پست سطح پر لا گرایا۔ ایک دو نسلوں ہی میں قبیلے کا سردار اس کا آقا بن گیا اور فرد جو سردار کے انتخاب میں عمل دخل اور اس سے سوال جواب کی طاقت رکھتا تھا، اس کا باج گزار غلام بن گیا۔

آقائیت اور جدیدیت میں ٹکراؤ لازم ہے اور گردش دوراں کی روشن اکیسویں صدی میں اس کا غیر معینہ تسلسل ممکن نہیں۔ موروثی آقائیت کے خلاف پچھلی صدی میں شروع ہونے والے اضطراب نے اس مصنوعی دیوار کا جگہ جگہ سے پلستر اکھاڑ دیا ہے۔ موروثیت والے اس دیوار کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور عوامی بیداری کو غلط رخ پر ڈالنے کا پورا جتن کر رہے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ قبائلیت کی اصل روح سے ہم آہنگ یعنی سردار کے چناؤ اور احتساب کا اختیار دینے والا مقامی حکومتوں کا نظام بروئے کار لایا جائے اور اس کو بھرپور وسائل اور اختیار دیے جائیں۔ یہ حقیقی جمہوریت ہو گی اور اس کو کھل کر قائم ہونے اور کام کر نے کا موقع ملنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے شروع کی ایک دو باریوں میں کہیں کہیں موروثیت والے غالب رہیں لیکن بہت جلد صدیوں سے جمہوری مزاج رکھنے والے قبیلے اپنے بہترین افراد کو آگے لانا شروع کر دیں گے۔

قبائلیت، جمہوریت اور جدیدیت کے امتزاج سے بننے والا نظام اپنے قرنوں پرانے تجربے کی روشنی میں فوری اور سستے انصاف، انفرادی اور اجتماعی تحفظ اور امن عامہ کا کوئی نیا ڈھنگ بھی نکال لے گا۔ اس طرح پروان چڑھنے والا مقامی حکومتوں کا نظام اب تک کیے جانے اور ناکام رہنے والے کتابی تجربات سے الگ ڈھب کا ہو گا۔ یہ نظام ہماری اپنی مٹی اور روایات سے پھوٹے گا اور پائیدار ہو گا۔ یہی پائیداری ساحل اور اس کے عقب میں سلگی آگ پر ٹھنڈا پانی بنے گی۔

امید واثق ہے کہ خود داری، برابری، سادگی، قناعت، شجاعت، حریت، اجتماعیت، مشاورت اور مشرقیت کی معاشرتی اساس رکھنے والے لوگوں کے بنائے اور چلائے ہوئے مقامی حکومتوں کے با اختیار نظام کے سنگ سلگتا ساحل بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کا کہکشانی راستہ بنے گا اور اغلباً یہ نظام دوسرے صوبوں میں رہنے والے بوسیدہ سماجی روایات میں جکڑے ہوئے بھائیوں کے لیے مینارہ نور ہو گا۔

Facebook Comments HS