مکالمہ ایک پروڈیوسر سے
میڈیا کنٹرولر دراصل اذہان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب کوئی یہ نہیں سمجھ پاتا کہ وہ رپورٹنگ بزنس کر رہے ہیں یا ذہن سازی کا پروپیگنڈا، تو پھر باشعور لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں انفارمیشن کے لئے ”ناسمجھ“ کو چھوڑ کر سمجھ کی جانب جانا ہے، کسی سمجھوتہ کی جانب نہیں۔ پرنٹ میڈیا ایک معتدل مزاج رفتار کا حامل تھا جس میں رک رک کر چیک کیا جاتا، غور کیا جاتا اور سمجھ لیا جاتا تاہم الیکٹرانک میڈیا وہ تیزگام ہے جس سے بات گولی کی طرح نکلتی ہے اور پھر پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں گلیمر کا بھی راج خبر اور تجزیہ کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ جہاں تک گیس لائٹنگ اور پوسٹ ٹرُتھ کی بات ہے اس کو جو بڑھاوا اور چڑھاوا الیکٹرانک میڈیا نے فراہم کیا وہ پرنٹ میڈیا نہ دے سکا، پرنٹ میڈیا نے دیا بھی تو بہت دیر لگی۔ خیر سوشل میڈیا تو رکھتا ہی امیبائڈ موومنٹ اور ”راکٹ“ سائنس ہے سو اس کا کیا کہنا۔
سن 2012 میں مجھے ”وقت“ ٹی وی میں وقت ملنا شروع ہوا۔ پھر وہ ”وقت نیوز“ ہی نہ رہا اور آخر 2018 میں وقت سے ناتا ٹوٹ گیا۔ نیوز لاؤنج میں ”نوائے وقت ٹوڈے“ وہ پروگرام تھا جو مارننگ شو کی دنیا میں ایک سنجیدہ باب کا اضافہ تھا، خبریں اور ان پر تبصرہ کو متعارف کرایا گیا۔ وقت صبح 8 بجے کا ہوتا، ایک گھنٹہ چلتا، ناظرین دفاتر کے لئے تیار ہوتے ہوتے تانک جھانک کر لیتے، جلدی جاگنے والوں کو موٹی موٹی سرخیاں مل جاتیں۔ نوائے وقت کے کالم نگار اور ایڈیٹرز کی ٹی وی شو ٹریننگ کے علاوہ نوائے وقت سے باہر کے لوگوں کے لئے بھی یہ ایک شاندار اور جاندار ورکشاپ تھی۔ جہاں کئی تجزیہ نگاروں نے اس پروگرام سے اپنے آپ کو تیکھا کیا وہاں بے شمار نیوز اینکرز کو بھی شہرت یافتہ اینکرز بننے میں بڑی مدد اور بہتر راہیں ملیں۔
”مکالمہ ایک پروڈیوسر سے“ جو کل پرسوں ہوا اس کی جانب بڑھنے سے قبل من ایک تاریخ میں اٹک کر رہ گیا، اس تاریخ سے مختصراً نمٹنے کے بعد پروڈیوسر کے اقوال زریں کی جانب آتے ہیں۔ تو ، ہم عرض کر رہے تھے نیوز لاؤنج اور وقت کا۔ میرا پہلا پروگرام امیر عباس اور مدیحہ الیاس کے سنگ تھا، چار پانچ پروگرام یہ چلے، پھر صرف امیر عباس رہ گئے۔ کوئی سال دو سال امیر عباس چلے، پھر احتشام الرحمٰن اور بعد ازاں انیقہ نثار نے کمانڈ سنبھالی، ایسے ہی ایک آدھ بار یہ پروگرام عبداللہ کو بھی کرنا پڑا کیونکہ وہ بھی نیوز اینکر تھے ادھر ہی سے پروگرام اینکر بنے۔ ایسے ہی عمران ثناءاللہ اور لقمان علی کو بھی ”وقت“ ہی نے تراشا اور خراشا۔ دیر تک عرفانہ سعید کے سنگ پروگرام کیے. اور ان کے علاوہ تین چار نام ذہن سے نکل گئے جن کے ساتھ پروگرام کیے تاہم سنہ 2012 سے 2018 تک کئی پروڈیوسرز سے بھی پالا پڑا۔ پہلے پروڈیوسر میاں عمران عباس تھے جن سے بہت سیکھا اور اعتماد پایا۔ ان کے علاوہ عتیق چوہدری، گل شیر صاحب، عرفان صاحب، ذیشان صاحب، رضوان صاحب، اور علی صاحب وغیرہ ایک لمبی لسٹ ہے۔ عرفانہ سعید کا معلوم نہیں باقی تمام اینکرز اور پروڈیوسرز اب بڑے اداروں کا انمول اثاثہ ہیں۔
پچھلے دنوں ہونے والے ایک دلربا پروڈیوسر سے مکالمہ ہی کا یہ اثر ہے کہ پیش کردہ تحریر قارئین کے سامنے ہے۔ نام نہیں بتاؤں گا تاہم میں نے پوچھا، پروڈیوسر صاحب! وہ کیا اوپن سیکرٹ ہے جو تجزیہ کار کو کمال، اداروں اور مقبولیت کے جمال تک پہنچا دیتا ہے؟
پہلا جواب تھا تعلقات۔
سوال دہرایا تو جواب ملا چینل کے مالک سے تعلق۔
جواب سن کر جب تسلی نہ ہوئی، تو پھر سے سوال داغ دیا کہ یار کوئی ٹیکنیکل بات بتائیے۔ جواب ملا : کسی ایک جماعت کا پلو پکڑ لیجیے۔ کسی ایک سیاسی جماعت کی لائن لیجیے۔ بس کافی ہے۔
پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو پوچھا کیا مطلب، تجزیہ؟ سچ؟ بڑے ادارے کی کالم نگاری؟ زبان و بیان؟ دلائل؟ طرزِ تکلم وغیرہ وغیرہ؟
اب تھوڑے سے غصہ میں لپیٹ کر ، جناب کا جواب تھا: مسلم لیگ نواز کی لائن یا تحریک انصاف کی لائن لینی ہوگی۔ ہم نے عرض کیا پیپلز پارٹی کی کیوں نہیں؟ جواب آیا پیپلز پارٹی کو ابھی کوئی نہیں اہمیت دے رہا، دوسرا پیپلز پارٹی کے چند لوگ سمجھتے ہیں کہ وہی کافی ہیں وضاحتوں اور ریاستوں کے لئے حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے جب تک تجزیہ کار ان کے حق میں نہیں بولیں گے تب تک ان کی سچی اور کھری بات کو بھی تقویت نہیں ملے گی۔
پروڈیوسر سے میرا کہنا تھا کہ نہیں یار، سنجیدہ طبقہ بھی ٹی وی دیکھتا ہے، ڈان، جنگ، دی نیوز، نوائے وقت، نیشن، دنیا، بزنس ریکارڈر اور نئی بات کے خشک خشک اور سنجیدہ سنجیدہ کالم پڑھنے والے بھی تو ناظرین میں شامل ہیں جو چٹکلے، دلیل سے عاری گفتگوؤں، اور پکی مثالوں سے خالی بات ہی نہیں سنتے سو انہیں مخصوص سیاسی لائن لینے والے یا جھگڑالو اور اینگری مین تجزیہ کاروں سے کیا؟
اس پر میرے دوست اور مہربان پروڈیوسر کا خیال یا جواب نہیں، باقاعدہ ردعمل تھا۔ کہنے لگے : عمران ریاض خان کو میں سنتا ہوں؟ رضوان رضی کا ولاگ میں سنتا ہوں؟ منصور علی خان کا میں دیوانہ ہوں؟ وہی ناظرین و قارئین ہیں جن کا تذکرہ آپ کر رہے ہیں۔
فرمانے لگے ”میں ایسے پڑھے لکھے، لٹریری افراد سے آشنا ہوں جنہیں صرف اردو کلاسک اور انگریزی ادب سے لگاؤ تھا حتیٰ کہ جن کا عربی ادب کی گہرائی اور فرینچ ادب کی اونچائی پر مسکن تھا، وہ یہ سب چھوڑ چھاڑ کر مخصوص خان یو ٹیوبر یا کملا مہربان یوٹیوبر ہی تک محدود ہو چکے ہیں۔ کیا یہ چینلوں پر فلسفہ، تاریخ، ادب اور دلیل کی دنیا کی تاب لانے جوگے رہ گئے ہیں؟ یہ سنسنی کی زلف کے اسیر قارئین اور ناظرین اب تجزیہ نہیں چٹ پٹی خبر کو پسند کرتے ہیں یا یہ اب مخالف کی خبر لینے والے کی بلائیں لیتے ہیں۔
اپنے سینئر پروڈیوسر ساتھی سے جب پوچھا کہ کچھ مثالیں دیں تو اس نے کہا فلاں تجزیہ کار کو سنا ہے وہ منہ سے کتنی آگ نکالتا ہے، اس لئے کبھی کہیں تو حکومت فائر بریگیڈ کو بھیجے کہ ایک دوسرے کو منہ لگا کر کچھ طے ہو کیونکہ اس حکومت نے اسے پی ٹی وی سے نکالا تھا سو اس کا نظریہ نہیں بول رہا معدہ بول رہا ہے۔ فلاں بندہ دیکھا ہے اس کا اِنڈور نظریہ کچھ اور ہے، اسکرین نظریہ کچھ اور، گویا وہ ”دوہرا نظریاتی“ ہے جو قوم کے غم کی بیماری میں مبتلا نہیں، اور نہ دانشور یا فلسفی ہے، وہ تو محض ریٹنگ سنڈروم کی بیماری کی آخری اسٹیج پر ہے۔
اب ہمارے دوست پروڈیوسر کی توپوں کا رخ میڈیا مالکان کی اقسام کی جانب ہونے ہی لگا تھا کہ ہم نے معافی مانگ لی اور کہہ دیا، بھائی! بھلے ہی ہم نے دریا کنارے ہی رہنا ہے لیکن مگر مچھوں سے بَیر اپنے بس کا روگ نہیں۔ اور نہ ہم یہ سمجھا سکتے ہیں کہ تجزیہ کار کو حق ہے کہ وہ اپنی سیاسی پسندیدگی سے لطف اندوز ہو مگر یہ فرض اس کا یہ ہے کہ تجزیہ دیتے وقت سچ بولے۔
ہمی نے اس بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مکالمہ سے جان چھڑائی ورنہ بڑے ادارے کے اس سینئر پروڈیوسر کے پاس تو ابھی پروڈکشن اور ڈائریکشن تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک دفعہ کہا تھا مِس انفارمیشن اور ڈِس انفارمیشن سیاسی جنگ کے ہتھیار ہیں، سوشل میڈیا نے اسے مزید بڑھوتری دی جس سے فیک نیوز کے پھیلاؤ میں تیزی آ چکی ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اس بات کی طرف دھیان دیتے ہیں کہ جو بناؤ کے دریچے کھولنے کا سوچتے ہیں، اور کتنے ہیں جن کا دین دھرم ریٹنگ ہے؟


