تیسری عالمی جنگ کے خطرات

امریکا بہادر اور برطانیہ کی ناجائز اولاد صہیونی ریاست اسرائیل نے اپنے قیام سے لے کر آج تک مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہونے دیا۔ 2020 میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی عراق ائرپورٹ کے قریب اسرائیلی میزائل حملے کے نتیجے میں شہادت کے بعد حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ ایران قاسم سلیمانی کی شہادت کا ضرور بدلہ لے گا۔ مگر ایرانی قیادت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔
حال ہی میں سابقہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسانی کی ناگہانی شہادت نے دنیا کو حیران پریشان کر دیا۔ کچھ زمانہ ساز دانشوروں کا خیال تھا کہ ان کے ہیلی کاپٹر کو اسرائیل نے براہِ راست حملے کے ذریعے ٹارگٹ کیا ہے اور کچھ کا کہنا تھا کہ سٹلائیٹ سگنلز کے ذریعے اس کے نظام کو جام کر کے گرایا گیا۔ جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ یہ خودکار تکنیکی مسئلے کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔ بہرحال، ایران یہ غم بھی سہ گیا۔ پھر ایران کی سرزمین پر اس کے ہی دارالحکومت تہران شہر میں ریاستی مہمان حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا واقعہ رونما ہوا۔ انتہائی پراسرار طریقے سے ان کا کمرہ بم پھٹنے کے نتیجے میں تباہ ہو گیا۔ اس پر بھی اسرائیل پر الزامات لگتے رہے۔ ایران کی بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی بھی ہوئی کہ یہ تو اپنے مہمانوں کی اپنے ہی دارالحکومت میں حفاظت کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم ایران اس سانحے کو بھی برداشت کر گیا۔ لیکن اب 27 ستمبر کو ایران کی دوست تنظیم حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کو لبنان میں اسرائیلی میزائل نے ہدف بنا کر شہید کر ڈالا۔
اسرائیلی میزائل ٹیکنالوجی کی سو فیصد درستگی سے تنگ آ کر لبنان میں حزب اللہ نے زیر زمین مورچے کھود کر اپنے دفاتر اور رہائش گاہیں قائم کر رکھی تھیں اور اوپر بلند و بالا عمارتیں بنا کر خود کو محفوظ کیا ہوا تھا۔ لیکن اسرائیل نے اب اپنی نئی ٹیکنالوجی کی بدولت میزائلوں سے زیر زمین بکتر بند دفاتر میں بھی حزب اللہ اور حماس کے لوگوں کو سو فیصد نشانے کی ایکوریسی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے اور اسی کی مدد سے انہوں نے حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کو ان کی بیٹی زینب اور چند ساتھیوں سمیت شہید کیا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اور ذہانت ہی ہے جس کی بدولت صرف 90 لاکھ کے قریب انسانوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے ناجائز ملک اسرائیل نے بالخصوص سارے عرب اور بالعموم ساری امت کو آگے لگا رکھا ہے۔
غزہ کو کھنڈر اور قبرستان بنانے کے بعد اب یہ لبنان میں اپنے زمینی فوجی دستے اتار چکا ہے، یمن اور شام پر اس کے ہوائی حملے جاری ہیں۔
ایران کی مسلسل خاموشی اسرائیل کی جارحیت کو لگاتار شہ دیے جا رہی تھی۔ صیہونی حکومت ایران اور اس کے حامی ممالک پر پے در پے حملہ آور ہوتی جا رہی تھی۔ اب کی بار ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا صبر جواب دے چکا تھا۔ نتیجتاً ایران کو اسرائیل پر یکم اکتوبر کی شام 200 میزائل داغنے پڑے اور ایرانی حکام نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل جارحیت سے باز نہ آیا تو ایران مصلحت پسندی کو ترک کر دے گا۔
بدلے میں اب صہیونی حکومت ایران کے ایٹمی پروگرام یا ایرانی تیل کی سہولیات کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ لیکن اسے امریکہ سے اس کی اجازت نہیں مل پا رہی۔ کیونکہ یہ حملہ ایران اسرائیل کو براہ راست اس جنگ میں دھکیل دے گا۔
اس نکتے پر رکیے اور سوچیے کہ کیا ایران بین الاقوامی سطح پر اس دنیا میں تن تنہا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہے۔ نہیں بالکل نہیں۔ روس اور چائنہ اس جنگ میں ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ ممالک کئی دفعہ امریکہ کو باور کروا چکے ہیں کہ ایران کو تنہا سمجھنے کی بالکل غلطی نہ کی جائے اور یہ کہ ایرانی سرزمین پر حملہ بلاشبہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل دے گا۔
اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو امریکہ کبھی بھی اسرائیل کو ایران پر براہِ راست حملے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ امریکن معیشت کا ایک بڑا حصہ چینی درآمدات پر منحصر ہے۔ چائنہ اور امریکا کی باہمی تجارت کا حجم تقریباً چھ سو بلین یو ایس ڈالرز کے قریب ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اسرائیل کی حمایت کرنے والے بیشتر یورپی ممالک کی ہے۔ چائنہ سے بیوپار کرنا دنیا کی مجبوری ہے۔ یہ ایک عالمی منڈی بن کر ابھرا ہے۔ اس کے ساز و سامان کی طلب دنیا کی تقریباً ہر منڈی میں ہے۔ لہذا، چائنہ کی جنگ میں شرکت سے اسرائیل کے جارحانہ اقدام کی حمایت کرنے والے تمام ممالک کی تیس فیصد معیشت ایک دم بیٹھ جائے گی اور یہ ممالک اس جنگ کا پہلا ہلا ہی برداشت نہیں کر پائیں گے۔
زمانہ جدید کے انسان کی نفسیات کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف چند رشتوں ناتوں کی استثناء کے ساتھ ہر تعلق میں سب سے پہلے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے۔ جبکہ مغربی ممالک تو ہر حال میں اپنے مقاصد اور مفادات کا تحفظ کرنے کے ماہر ہیں۔ اس اثناء میں یہ ممالک کبھی بھی اسرائیل کو ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں جانے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ یہ ہلکی پھلکی بموں کی موسیقی امریکہ کے ہتھیاروں کے کارخانوں کو متحرک رکھنے کے لیے چلتی رہے گی۔ اگر اب تک اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے تو یہ پہلے اپنی مخالف ریاستوں میں عوام کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے، مختلف طریقوں سے عوام اور فوج کے درمیان فاصلے بڑھاتا ہے، انہیں معاشی پسماندگی سے دوچار کرتا ہے، وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا ہے، حکومت مخالف تحریکوں کو فنڈنگ کرتا ہے، حکمرانوں اور عوام کو آپس میں لڑواتا ہے، وہاں خانہ جنگی جیسا سماں پیدا کر دیتا ہے، علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیموں کی تشہیر کرتا ہے، انہیں ناکام ریاست کے طور پر میڈیا میں پیش کرتا ہے، انہیں دنیا کو بطور دہشت گرد، جنگلی اور غیر تہذیب یافتہ باور کرواتا ہے۔ یہ ساری اسرائیلی جنگی چالیں اور سازشیں ابھی تک ایران میں کامیاب ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ان اسرائیلی طور طریقوں سے کلی طور پر آگاہ ہیں اور ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہے ہیں۔ اس لیے کسی بڑی جنگ کا امکان قطعی طور پر ممکن نہیں ہے۔ اتنے جدید جنگی اور ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ کا تصور ہی ہولناک ہے۔ خدا نخواستہ اگر ایسی کوئی انہونی ہو گئی تو پھر شاید ہی کرہ ارض پر کوئی ذی روح اس کی تباہی سے بچ پائے۔

