قدیمی باشندوں سے معافی کا قومی دن


آج سے پچیس برس قبل جب میں اور طاہرہ اپنے تین ننھے ننھے بچوں کے ہاتھ تھامے کینیڈا کے اقتصادی اور ثقافتی مرکز ٹورانٹو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے (پیئرسن انٹرنیشنل) پر اُترے تھے تو دو صدیوں کے دوراہے پر موسم گرما کی وہ ڈھلتی شام پت جھڑ سے مصافحہ کر رہی تھی۔ ہمارے ابتدائی ایام ٹورانٹو کے جس مسلم اکثریتی علاقے میں گزرے اُسے یار لوگ از راہِ تفنن ”اسلامی جمہوریۂ تھارن کلف“ کہتے ہیں۔ وہاں گزارے دنوں کی تفصیل سے فی الحال گریز کرتے ہوئے قدم آگے بڑھاؤں تو قرطاسِ ذہن پر کتنے ہی شہروں کے نقشے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹورانٹو سے ہیملٹن، وہاں سے واٹرلُو، کچنر، گوئلف، پھرمسی ساگا، بریمپٹن اور وہاں سے واپس ہیملٹن اور اب بھی اسی شہر کے مضافاتی قصبہ واٹر ڈاؤن میں سکونت ہے۔

یہ سفر شہروں ہی کا نہ تھا، زندگی کے مراحل کا بھی تو تھا۔ کنڈر گارٹن کی عمر میں یہاں آنے والے ہمارے بچے اب ماشاءاللہ تعلیمی مراحل سے گزر کر اپنی خانگی اور پیشہ ورانہ زندگیوں کو ذمہ دارنہ انداز سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ مستقبل کی خوش آئند ہواؤں کے دوش پر پتنگ اُڑاتے ہوئے ہم نے ماضی کی ڈور کا سِرا کبھی اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑا۔ شاید اسی لیے ہمیں تو وقت کی فرضی اور تجریدی تقسیم ماضی، حال اور مستقبل کی سہ رنگ تختیاں اٹھائے ایک ہی دہلیز پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وقت تھم گیا ہے یا جامد ہو گیا ہے۔ وہ تو مست خرام ہے۔ بس ہمیں اس کی حرکت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے دبے پاؤں چلتا ہے یہ جیسے گاڑی کے اندر بیٹھے مسافر بظاہر حرکت کیے بغیر منزلیں پھلانگتے چلے جاتے ہیں۔

بس ایسے ہی گزر گئی ہماری رُبع صدی یہاں کینیڈا میں۔ اور اب اپنی یہاں آمد کی سلور جوبلی مناتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ گزشتہ پچیس برس کی تلخ و شیریں یادیں تازہ کرنے کو اُن مقامات کو ایک بار پھر سے دیکھا جائے جن سے اس سفر میں مڈبھیڑ ہوئی۔

چنانچہ ہر ویک اینڈ پر کسی نہ کسی دیکھے ہوئے خطے کی بازیافت یا بازدید کا پروگرام بنایا گیا۔ اس فکر انگیز مہم کے دوران میں ہم نے بہت کچھ بدلا ہوا پایا اور یہ تغیر حیران کُن مگر فطری تھا کہ "ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”۔

ایسے ہی ملے جلے احساسات کے جِلو میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہم نے اونٹاریو کے دارالحکومت ٹورانٹو میں صوبائی پارلیمان کی عمارت اور اس کے قرب و جوار کی سیر کا پروگرام بنایا۔ یہ سیر بھی یہاں کی پہلی سیر سے مختلف رہی۔ اِس بار یونیورسٹی ایونیو سے کوئن سٹریٹ کی طرف بڑھتے ہوئے پارلیمان کی سرخی مائل عمارت کے سبزہ زار میں ایک بڑا سا ”صندوق“ دکھائی دیا۔ عین اس مقام پر جہاں کینیڈا کے اولین وزیراعظم سر جان اے میکڈونلڈ کا مجسمہ سر اٹھائے کھڑا ہوتا تھا۔
سر جان کا وہ مجسمہ کیا ہوا؟ ”طاہرہ نے اس ’صندوق نما‘ کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا تھا۔“ آپ کو یاد نہیں شاید۔ کوئی چار برس ہونے کو آئے اُس خبر کو جب ملک کے کئی بڑے شہروں میں نوآبادیاتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بپا ہوئے تھے۔ یہ خبر کافی گرم تھی تب کہ بعض افراد نے مونٹریال کی طرح یہاں اس مجسمہ کو بھی منہدم کرنے یا مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ چنانچہ حکومت نے اس یادگار کو بچاؤ کی غرض سے ’ڈھانپے‘ رکھنے کا اقدام کیا تھا۔ ”رابعہ نے اپنی ماما کی یادداشت تازہ کی تھی۔

سو، اب سر جان اے میکڈونلڈ کا مجسمہ اسی باکس میں قید رہتا ہے۔ جب یہ مجسمہ آزاد تھا تو میں نے بھی اس کے ساتھ ایک تصویر بنوائی تھی۔ ”میں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ "وہ دیکھیے، اُدھر اس چوکھٹے کے باہر ایک وضاحتی تختی آویزاں دکھائی دیتی ہے۔“ طاہرہ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ کیا یہ احتجاج اور ردِ عمل کچھ زیادہ شدید نہ تھا؟ ہو سکتا ہے، کیوں کہ کچھ لوگ ایسا ہی سوچتے ہیں اور وہ سر جان اے میکڈونلڈ کی قومی خدمات کے زبردست معترف ہیں مگر بہت سوں کا خیال ہے کہ کینیڈا کے قدیمی باشندوں یعنی ایبوریجنل لوگوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے میں اس وزیرِ اعظم کا بھی ہاتھ تھا۔ ”اس بار بیٹے اریب نے وضاحت کی۔ جیسے انگریزوں نے ہندوستان کی مقامی آبادی کے ساتھ کیا تھا۔ ویسا ہی سلوک؟ ”طاہرہ نے دکھ بھرے لہجہ میں کہا۔ جی، شاید کچھ ایسا ہی۔ معترضین کا کہنا ہے کہ وہ متنازعہ قانون جس کے تحت رہائشی سکول بنے تھے انہی کے دورِ حکومت میں منظور ہوا تھا۔ حالانکہ تاریخ سے یہ ثبوت بھی نہیں ملتا کہ سر جان اے میکڈونلڈ براہِ راست کسی اقدام میں ملوث تھے۔ ہاں، یہ بات سچ ہے کہ قانون منظور انہی کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔ ”برخوردار زرناب نے بھی گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔

ظلم تو بہرحال ہوا۔ آپ دیکھیے نا، ایبوریجنل لوگوں کی زمینوں کو ہتھیا لیا گیا اور ان کے ننھے ننھے بچوں کو ماؤں سے الگ کر کے جبری طور پر رہائشی سکولوں میں بھرتی کر لیا گیا۔ ان بے چارے بچوں کا کیا قصور تھا جو ماؤں سے جدا کر دیے گئے! ”طاہرہ کے لہجہ میں ایک ماں کا دُکھ نمایاں تھا۔ اور اس طرح ان کی آنے والی نسلوں کو تعلیم و تہذیب کے نام پر اپنی ہی ثقافت و تہذیب سے بیگانہ کر دیا گیا۔ یہ کیا کم ظلم ہے؟ ”عمید نے اپنی عینک صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔

شکر ہے۔ اب ہمارے حکام کو ماضی میں کی گئی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ اسی لیے تو ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔ ان کی زمینیں لوٹانے کی بات ہو رہی ہے۔ زبانی اور تحریری معذرت نامے بھی داخل ہو رہے ہیں۔ قانونی چارہ جوئی کے راستے بھی ہموار کیے جا رہے ہیں۔ ”طاہرہ نے قدرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا۔ جی ہاں۔ اب ہر سال تیس ستمبر کو ملک بھر میں ”سچائی اور مفاہمت کا قومی دن“ منایا جانا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ ”میں نے کہا۔ یہ خاصا بھاری بھرکم سا نام ہے۔ میں تو اسے ’معافی کا دن ”کہتی ہوں۔ معافی ہی تو مانگی جا رہی ہے ان سے۔ نہیں کیا؟“ طاہرہ بولیں۔ ہاں بالکل۔ یہ بھی ٹھیک ہے ماما۔ ویسے بہت سے افراد اس روز نارنجی رنگ کی قمیضیں پہنتے ہیں اور اس احتجاجی دن کو ’اورنج شرٹ‘ کے نام سے مناتے ہیں مگر مقصد وہی ہے یعنی نام نہاد رہائشی سکولوں میں قدیمی آبادی کے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف احتجاج۔ ہمارے کالج میں بھی اس روز کئی سٹوڈنٹس اورنج رنگ کی شرٹس پہن کر آتے ہیں۔ ”رابعہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دن ویسے تو کینیڈا کے قدیمی باشندوں کے ساتھ روا جانے والے نوآبادیاتی طرز عمل کے اثرات کے حوالہ سے منایا جاتا ہے مگر اس میں ہر سطح پر جاری، ہر انداز کے ظلم و ستم اور غیر جمہوری حرکتوں کی مذمت کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ ”میں نے بھی ریڈیائی رپورٹ کے سے انداز میں اپنی بات کہہ دی تھی۔ یہاں تو یہ دن ابھی چار سال پہلے متعارف ہوا ہے جب رہائشی سکولوں میں مرنے والے بچوں کی اجتماعی قبروں کے ملنے کی دکھ بھری خبریں سامنے آئیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے جنوبی افریقہ میں اسی انداز کا دن انیس سو پچانوے سے قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔ ”اریب نے دھیمے لہجے میں کہا تھا۔ ہاں، میں نے بھی یہ کہیں پڑھا ہے۔ مگر حیرت ہے۔ اس قومی دن پر ہمارے صوبہ میں تو سرکاری چھٹی ہی نہیں ہوتی۔ ”طاہرہ کے لہجہ میں اب حیرت تھی۔

ہاں، یہاں چھٹی تو نہیں ہوتی جیسے کچھ دوسرے صوبوں میں ہوتی ہے مگر پھر بھی یہاں یہ دن پورے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے زیرِ اہتمام تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ خصوصی نشریات پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ و طالبات کو تاریخ کے اس اہم باب کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ ”زرناب اپنے بیٹے ایان کو گود سے اتارتے ہوئے وضاحت کی تھی۔

لیکن ہمارے شہر ہیملٹن میں تو جان اے میکڈونلڈ کا مجسمہ ڈاؤن ٹاؤن میں ابھی تک جوں کا توں ایستادہ ہے۔ آخری بار جب میں گور پارک کے قریب سے گزرا تھا تب تک تو وہیں تھا۔ ”عمید نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔ اُسے بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کے دوران نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی اور اسے وہاں سے ہٹانے کی تحریک بھی سامنے آئی مگر سٹی کونسل نے اکثریتی فیصلے سے اس مجسمہ کو اس کی جگہ سے نہ ہٹانے کا اعلان کیا۔ پتہ ہے کہ کب سے نصب ہے وہ اس جگہ؟ ”میں نے پوچھا تھا۔ 1893 سے جب وہ اونٹاریو کے شہر لندن سے بن کر آیا تھا تب سے۔ ”اریب نے جواب دیا تھا۔ آپ کی نظر تاریخ پر بھی اچھی ہے، بھائی۔ اکاؤنٹس والوں سے ویسے میں ایسی توقع تو نہیں رکھتی۔ ”رابعہ نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔
"آپ بھی ’خبرگیری‘ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں، آرٹسٹ صاحبہ۔ ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔“ اریب نے چھوٹی بہن کے حملہ کا دفاع برادرانہ مسکراہٹ کے ساتھ کیا تھا

کیسا اتفاق ہے کہ آج ہم اس متنازعہ مجسمہ کے قریب سیر کرتے ہوئے یہ سب باتیں کر رہے ہیں اور ”سچائی اور مفاہمت کا دن“ اور ماما کے الفاظ میں کہوں تو ’معافی کا دن‘ بھی اسی سوموار کو منایا جا رہا ہے۔ ہے نا، دل چسپ اتفاق وگرنہ اس بار ہم کہیں اور بھی تو جا سکتے تھے۔ ”زرناب نے کہا تھا۔ ہاں، یہ تو ہے۔ تو اگلی بار یہ ’اتفاق‘ کہاں ہونے جا رہا ہے؟ ”عمید کے لہجہ میں شرارت تھی۔“ میرا مطلب ہے اگلے ویک اینڈ کہاں جائیں گے ہم؟ ”

بہت سے مقامات باقی ہیں ابھی۔ اس کا فیصلہ کیا اس بار بھی مجھ پر چھوڑ دیا جائے گا یا پھر قرعہ اندازی کرنا چاہو گے؟ ”میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔“ پاپا، میرے خیال میں سب سے رائے لے کر ہی آپ کو فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ سبھی اس پروگرام کو اپنا سمجھیں۔ جمہوریت کا تقاضا تو یہی ہے۔ کیوں بھائی لوگو! رابعہ بیٹی نے دو ٹوک انداز میں کہتے ہوئے اپنے بھائیوں کی طرف دیکھا تھا

ہاں ہاں بالکل۔ حق رائے دہی تو سب کو حاصل ہونا چاہیے۔ میں سب کے فیصلے کا احترام کروں گا۔ ”اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا۔ میں نے فوراً کہا تھا۔ وہ تو کرنا ہی ہو گا۔ ورنہ یاد رکھیے کہ آپ کے خلاف بھی احتجاجی سلسلے کا آغاز ہو سکتا ہے طاہرہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

ہاں، بالکل۔ ویسے بھی جیتے جی کون ’صندوق‘ میں بند ہونا چاہے گا۔ ”میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا تھا۔“ اور سبھی کی نگاہیں بے ساختہ اس بڑے سے ’صندوق‘ کی جانب اٹھ گئی تھیں جس میں کینیڈا کے اوّلین وزیرِ اعظم کا مجسمہ محبوس ہے۔
ان نگاہوں میں تاسف تھا یا احتجاج؟ میرے لیے یہ جاننا آسان نہ تھا۔

Facebook Comments HS