نواز شریف کی سیاسی خاموشی


نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کی سیاست بھی نواز شریف ہی کے گرد گھومتی ہے ۔وہی مسلم لیگ ن کی سیاست کا بنیادی نقطہ ہیں اور پارٹی سے جڑے معاملات پر بھی ان ہی کی طرف دیکھا جاتا ہے ۔مگر نواز شریف موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کے معاملات پر کافی سیاسی تنہائی کا شکار ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ یا تو ان کے ہاتھ پاوں کافی حد تک بندھے ہوئے ہیں اور ان کے ارد گرد کافی سیاسی جکڑ بندیاں ہیں ۔ وہ سوچتے تو بہت ہیں اور بہت کچھ اندر ہی اندر کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں مگر عملی طور پر ان کی سیاسی بے بسی ان کی موجودہ سیاست کی بنیاد پر دیکھی جا سکتی ہے ۔وہ اقتدار کی سیاست میں ہیں ۔بھائی اور بیٹی ایک ہی وقت میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے منصب پر ہیں اور اقتدار ان کے گھر میں ہی محدود ہے ۔لیکن اس اقتدار پر ان کے گھر یا خاندان یا خود اپنے بھائی اور بیٹی کی گرفت میں کتنا ہے اس پر کئی طرح کے سوالیہ نشان ہیں۔

نواز شریف جانتے ہیں کہ اقتدار کی یہ بندر بانٹ یا اقتدار کے کھیل میں جو سہولت کاری ان کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملی یا بڑی طاقتوں کی مہربانی سے جو حکومتی سیاسی بندوبست کیا گیا ہے وہ کس حد تک اپنی سیاسی ، آئینی ، قانونی اور اخلاقی ساکھ رکھتا ہے ۔وہ اقتدار کے کھیل میں کم ازکم خود کو کئی دفعہ ایک سیاسی قیدی کے طور پر دیکھتے ہیں اور بخوبی ان کو اندازہ ہے کہ اس اقتدار کے کھیل میں ان کو سیاسی محاذ پر ایک بڑی سیاسی قربانی اپنی سیاست کی بھی ادا کرنا پڑی ہے ۔اگرچہ شریف خاندان مضبوط ہے اور ان میں آپس میں کوئی بڑی ایسی لڑائی نہیں کہ ان کی سیاسی تقسیم کی بات کی جائے ۔لیکن شہباز شریف اور مریم نواز شریف کی مفاہمتی سیاست ، اقتدار کے کھیل اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی کہانی میں نواز شریف کا سیاسی کردار کافی محدود ہوگیا ہے۔ کئی دفعہ یہ اعلان کیا گیا کہ وہ جلد ہی چاروں صوبوں کا دورہ کر کے پارٹی کی سطح پر جو بھی تنظیمی معاملات ہیں اس کی خود براہ راست نگرانی کریں گے یا پارٹی کو فعال کرنے کی ذمہ داری انہوں نے خود اپنے کندھوں پر اٹھا لی ہے ۔لیکن عملی طور پر وہ اس اقتدار کی بندر بانٹ کے کھیل کے بعد کچھ نہیں کرسکے یا ان کو کچھ کرنے کی اجازت ہی نہیں کہ وہ اپنی کریز سے باہر نکل کر کھیلیں یا طے شدہ ریڈ لائن کو کراس کریں۔

نواز شریف کبھی کبھی جاتی عمرہ یا مری میں لوگوں میں گھلتے ملتے ہیں یا کبھی پنجاب کی سطح پر حکومتی معاملات پر اپنی بیٹی وزیر اعلیٰ پنجاب کی سیاسی سرپرستی یا تھپکی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔لیکن اس وقت حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے طور پر یا ان کی اپنی حکومت کے بہت سے سنجیدہ یا اہم معاملات یا مشاورت میں وہ کہیں پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں ۔مرکز میں ان کی جگہ شہباز شریف اور پنجاب میں ان کی بیٹی مریم کے ہاتھ میں ہے اور دونوں کی سیاست بڑی طاقتوں یا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے کھڑی نظر آتی ہے ۔مسلم لیگ ن کو اس وقت بطور جماعت داخلی محاذ پر جو بڑے بڑے تنظیمی چیلنجز درپیش ہیں یا جو سیاسی چہرے ان کی پارٹی کی ساکھ کو بحال کر سکتے ہیں وہ کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے ۔پنجاب جو ان کی سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اب ان کے بیشتر مخالفین سمیت ان کے حامی جو پارٹی یا میڈیا کے محاذ پر موجود ہیں اعتراف کرتے ہیں اب پنجاب میں نواز شریف یا مسلم لیگ ن کی گرفت وہ نہیں جو کبھی ماضی میں تھی ۔ اب ایک نئی طاقت پی ٹی آئی کی صورت میں موجود ہے اور خود نواز شریف کی واپسی کے بعد 8فروری کے انتخابی نتائج جنھیں ایک ہی رات میں متنازعہ بنایا گیا کا منظر نامہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاست یا پاپولر سیاست کا ریموٹ کنٹرول نواز شریف کے ہاتھ سے نکل کر فی الحال عمران خان کے ہاتھ میں ہے اور ان کے موجودہ پاپولر سیاست یا کردار کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف ، شہباز شریف یا مریم نواز عمران خان کے مقابلے میں کوئی ایسا سیاسی بیانیہ نہیں بنا سکے جو ان کی کم ہوتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کرسکے ۔

ایک کمزور اقتدار کے سیاسی بندوبست کو قبول کر کے نواز شریف نے اپنے خاندان کے لیے اقتدار کی راہ تو ہموار کی مگر سیاسی راستوں میں وہ خود بھی تنہا ہوئے ہیں اور پارٹی کو بھی تنہا کیا ہے۔ اس وقت کیونکہ ان کی جماعت اقتدار میں ہے اس لیے بظاہر رسب اچھا ہی نظر آتا ہے مگر جو بھی سیاسی حرکیات کو سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی سیاست کہاں کھڑی ہے ۔شہباز شریف نے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوڑ توڑ کر کے اقتدار کے کھیل کو تو ہموار کر لیا مگر سیاسی جماعت کے طور پر ان کا کردار مثالی نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی سہولت کار کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے ۔شہباز شریف کی تقاریر سے بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ انھیں ہر قدم پر سہولت کاروں کے ساتھ نہ کھڑا ہونا ہے بلکہ سارا سیاسی حق بھی ان ہی کے نام کرنا پڑتا ہے ۔ اس اقتدار کے کھیل کی ایک بے بسی نواز شریف کو جہاں اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں دیکھنی پڑ رہی ہے وہیں ان کے اہم اتحادی پیپلز پارٹی کی سیاسی بلیک میلنگ یا آدھی حکومت اور آدھی حزب اختلاف کا دکھ بھی ان کے زخموں کو گہرا کرتا ہے کہ سب کچھ دے کر بھی ان کو پیپلز پارٹی سے جڑی دوہری سیاست یا حمایت کے معیارات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔مسلم لیگ نے خود کو سیاسی عمل میں پنجاب تک محدود کر لیا ہے اور پنجاب پر ان کی گرفت بھی کمزور ہے ۔یہ سب کچھ نواز شریف نے کیا او ر جو لوگ یہ الزام صرف شہباز شریف کو دیتے ہیں تو درست تجزیہ نہیں ۔کیونکہ نواز شریف بہت بھولے نہیں اور شہباز شریف کے تمام فیصلوں میں ان کو نواز شریف کی بڑی حمایت حاصل تھی اور اگر نہیں تھی تو پھر نواز شریف کی خاموشی خود ان کا بڑا جرم ہے ۔

نواز شریف کے اس سیاسی بندوبست میں سیاسی آپشن بہت محدود ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ ان کی اس اقتدار کے کھیل میں حیثیت ایک بڑے سیاسی تماشائی کی ہے ۔یعنی جس نے کھیل تو پورا دیکھنا ہے مگر اس کھیل میں اسے بولنے یا بگڑنے کی کوئی اجازت حاصل نہیں اور جہاں وہ خود سے اپنی ریڈ لائن کو کراس کریں گے تو اس کا نقصان ان کے خاندان کے اقتدار کو ہوگا اور نہ ہی خاندان کے لوگ چاہیں گے کہ نواز شریف وہ کچھ کرنے کی کوشش کریں جو ان کے اقتدار کے لیے نئے خطرات کو پیدا کر سکتا ہے ۔نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی بنیاد پر اب اقتدار کو عملاً عزت دو کی بنیاد پر کھڑے ہیں ۔مسلم لیگ ن اور ان کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہے یا اسٹیبلشمنٹ نے ان کو کنٹرول کیا ہوا ہے اور یہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو ان کو اسکرپٹ کے تحت دیا جائے گا۔یہ بات بجا ہے کہ نواز شریف عملی طور پر خاموش طبیعت کے مالک ہیں اور سب کچھ دیکھ کر خود کو قید رکھتے ہیں مگر یہ بوجھ جو انہوں نے اس وقت سیاسی بندوبست کے نام پر اٹھایا ہوا ہے اسے کب تک اٹھائیں گے اور اگر وہ اس بوجھ سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو کیسے باہر نکل سکیں گے ۔نواز شریف سمیت عمران خان کے تمام مخالفین کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا کہ عمران خان سختیوں کو برداشت نہیں کرسکے گا اور نہ ہی اس کی مقبولیت کا بھرم لمبے عرصہ تک قائم رہ سکے گا۔لیکن عمران خان کی جو مزاحمت دیکھنے کو مل رہی ہے اس نے بھی نواز شریف کی سیاست کو کمزور کیا ہے اور خود اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ مسلم لیگ ن کی یہ حکومت ہماری تمام تر حمایت کے باوجود ہماری مشکلات میں کمی کرنے کی بجائے اضافہ کا سبب بن رہی ہے ۔کیونکہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ پر جو تنقید بڑھ رہی ہے اس کا سیاسی مقابلہ موجودہ حکومتی بندوبست کا مسلم لیگ ن کے پاس نہیں ہے ۔وہ اسٹیبلشمنٹ تو کجا خود اپنی پارٹی کے حق میں کچھ نہیں کر پا رہے۔

نواز شریف ایک بڑی سیاسی طاقت سے ایک کمزور سیاست کا شکار ہوئے ہیں اور اس میں کسی اور سے زیادہ ان کی اپنی خامیوں کا قصور ہے کہ وہ سمجھوتوں کی سیاست یا مصلحت کے تحت وہ سیاست کرنے چلے تھے جس نے ان کو پہلے بھی کمزور کیا تھا اور اب پھر ان کو ایک کمزور سیاسی وکٹ پر کھڑا کردیا ہے اور یہ عمل ان کو مزید سیاسی تنہائی میں مبتلا کرے گا۔

Facebook Comments HS