یوم تکریم اساتذہ 5 اکتوبر


muhammad salim gujranwala

یوم اساتذہ پر کچھ لکھنے سے پہلے آپ کو استاذ اور استاد میں فرق بتا دیا جائے۔

کتابوں سے کسی قسم کا بھی علم سکھانے والوں کو استاذ کہتے ہیں۔ جسے اردو، انگریزی اسلامیات، طبعیات، کیمیا، ریاضی، معاشرتی علوم، علوم دین اور علوم سائنس وغیرہ۔

ایسا شخص جو دوسرے انسان کو ہنر یا فن سکھائے اسے استاد کہتے ہیں۔
جیسے۔ بجلی کا کام سکھانے والا
گاڑیاں کو ٹھیک اور مرمت کرنا سکھانے والا
اے سی اور فریج کا کام سکھانے والا
عمارتی کام سکھانے والا
کشتی کے داؤ پیچ سکھانے والا پہلوان
ڈرائیونگ سکھانے والا
اور کھانا پکانے سکھانے والا
مختصراً۔ استاذ علم سکھاتا ہے
اور استاد ہنر سکھاتا ہے۔
استاذ کی جمع۔ اساتذہ ہے
اور استاد کی جمع ہے اساتید یا استادوں ہے۔

ہر دو قسم کے سکھانے والے استاذ اور استاد قابل احترام اور قابل اتباع ہوتے ہیں۔ ان کو عزت اور احترام دینے والے زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔

دین اسلام کی ابتدا ہی پڑھنے سے ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کو رب کریم نے انسانوں کو تلاوت سکھانے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے مبعوث کیا۔ آپ نے ان دونوں مسلمانوں کو قابل رشک قرار دیا جو قرآن سکھائے اور سیکھے۔ عالم اور علم کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے ایک برابر نہیں ہو سکتے ہیں۔

استاذ ایک قوم کا معمار ہوتا ہے۔ بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے۔ بچے کی آئندہ زندگی کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری اساتذہ کے سر ہوتی ہے۔ شعور کی بالیدگی اور تربیت کے بغیر تعلم بے مقصد ہوتی ہے۔ استاذ کی اعلی شخصیت کا پرتو اس کے تربیت یافتہ شاگرد ہوتے ہیں۔

استاذ اگرچہ بادشاہ نہیں ہوتا لیکن وہ بادشاہ گر ہوتا ہے۔ استاذ کی مثال اس سڑک یا راستے کی ہوتی ہے جو منزل کے متلاشی لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہے اور خود اپنی جگہ پر ہی موجود رہتی ہے۔ اس کے ہاتھوں سے کتنے ہی انسان تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہو کر بطور

عالم، اساتذہ ڈاکٹرز، انجینئرز، ماہرین، ماہر فنون لطیفہ ماہر عمرانیات، محقق، سائنس دان اور سیاست دان بن کر فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ مائیں بچوں کو جنم دیتی ہیں اور اساتذہ انہیں تعلم و تربیت دیتا ہے، حق و باطل کی پہچان سکھاتا ہے اور ان کے شعور کو بلندی عطا کرتا ہے۔

ایک اچھا اور قابل استاذ اپنے طلباء میں تجسس اور کھوج کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ان کو سوال کرنے کا حوصلہ دیتا ہے اور ان کے ہر سوال کا جواب بھی دیتا ہے۔

کتابیں علم تو دیتی ہیں لیکن سوال کا جواب نہیں دیتی ہیں۔ یہ مشکل استاذ ہی حل کرتا ہے۔

اچھے طلبا کو ہر کوئی پڑھا اور سکھا سکتا ہے لیکن کم ذہین اور سست رفتار طلبا کو علم دینا ایک اچھے استاذ کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ تحمل بردباری، وسعت القلبی، اپنے مضمون پر گرفت، پابندی وقت، محنت اور خلوص اور اپنے طلباء کی سر پرستی کرنا ایک اچھے استاذ کی عالمی خصوصیات ہیں۔ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی منازل طے کی ہیں انہوں نے تعلیم اور تحقیق کے بنا پر ہی یہ مقام حاصل کیا ہے اور اس مقام تک پہچانے میں صرف اور صرف اساتذہ کی محنت اور لگن ہی کارفرما ہوتی ہے۔

ہم جیسے تہی دستوں کو آج جو تھوڑا بہت مقام اور عروج حاصل ہے وہ ہمارے انہی بے لوث اساتذہ کرام کی محنت اور لگن کے باعث حاصل ہے۔ آج ہمیں جو چند الفاظ لکھنے اور بولنے کی صلاحیت حاصل وہ ان ہی کی برسوں کی ریاضت و محنت کی رہین منت ہے۔ مجھے آج بھی اپنے ٹاٹ سکول کی پکی جماعت کی استاذ محترمہ منی بیگم یاد ہیں جنہوں نے جماعت میں اول آنے پر جماعت کے سامنے کھڑا کر کے مجھے 25 پیسے قیمت کے کرئیون کی ڈبی انعام میں عطا کی تھی جن کی اس حوصلہ افزائی نے مجھے زندگی کے ہر تعلیمی اور معاشرتی شعبے ہیں کامیاب و کامران کیا ہے۔

Facebook Comments HS