ڈاکٹر خورشید رضوی کا نعتیہ مجموعہ ”نسبتیں“ ایک جائزہ

ڈاکٹر خورشید رضوی کا مجموعہ ”نسبتیں“ حمد، نعت، سلام اور منقبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ مجموعہ عصری لب و لہجہ، زبان و بیان اور انداز و اُسلوب سے مزین خاص رنگ و آہنگ کا مرہونِ منت ہے۔ چاروں اصناف میں زبان کی چاشنی اور خیال کی تازگی جھلکتی ہے۔ وہ اپنے دلکش پیرایۂ اظہار کی بدولت قاری کو گرفت میں لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہر صنف سخن میں انھوں نے کمال تکنیک کے ذریعے خیال کو ترتیب دینے کی سعی انجام دی ہے۔ اس اعتبار سے فنی پختگی اور فکری بالیدگی ازحد متاثر کن ہے۔ ”نسبتیں“ کی تمام اصناف نئے لکھنے والوں کو رہنما اُصول مہیا کرتی ہیں۔ یوں اُن کی تخلیقات عام سطح سے بلند تر دکھائی دیتی ہیں اور عصری منظر نامے میں سندِ امتیاز رکھتی ہیں۔
حمد میں مناظر فطرت کو سامنے رکھ ذات کا کھوج لگانے کی کوشش ملتی ہے۔ بندے اور خدا کے رستے میں کائنات جلوہ گر ہے۔ اس کائنات کا مطالعہ و مشاہدہ قربِ الٰہی کا مظہر ٹھہرتا ہے۔ یوں وہ خدا کی جستجو کرتے ہوئے ذات اور کائنات میں ہم آہنگی تلاش کرتے ہیں۔ انسان کہاں سے آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے؟ یہ ازلی ابدی سوالات خدا کی جستجو میں مدد دیتے ہیں۔ دیوار کے دوسری طرف دکھائی نہیں دیتا ہے اور یہ نکتہ اس بات کا مظہر ہے کہ دوسری طرف کچھ موجود ہے ورنہ پھر یہ دیوار کیوں ہے؟ وہ دوسری طرف کے منظر کو دیکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں :
حرم سے دور کوئی شے نگاہ میں نہ جچی
بہت ہے اُس کی جدائی گراں، وہیں کا ہوں میں
وہی جہاں ہے مرا اور آشیاں ہے مرا
زمیں ہے میری وہی آسماں، وہیں کا ہوں میں
اُسی محلے میں محوِ طواف رہتا ہوں
اُس کی سمت مسلسل رواں، وہیں کا ہوں میں
اُن کی نعت عقیدت و محبت کے کسی غیر معمولی مرحلے کی عکاس ہے۔ جہاں عجز کی انتہا، کیف کی معراج اور فقر کی بلندی جلوہ گر ہے۔ احساس کی لو مسلسل بڑھتی دکھائی دیتی ہے اور قدرو منزلت میں مسلسل اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ قاری اُن کے طرزِ کلام کے باعث مسحور سے زیادہ مخمور نظر آتا ہے۔ وہ داخلی و خارجی سطح پر یکساں تجربے و مشاہدے سے گزرتے ہیں۔ یوں اُن کا ہر شعر فنی و فکری سطح پر کمال ہنرمندی کی عکاسی کرتا ہے۔ زیادہ تر زمینیں بالکل نئی مگر مشکل ہیں۔ یہ زمینیں تازہ کاری اور بلند خیالی کا عمدہ نمونہ ہیں۔ شعر کے پہلے مصرعے کے بعد دوسرے مصرعے کی قرات سے بھرپور تلازمہ سرشاری بڑھا دیتا ہے۔
اب کوئی تازہ جہاں خود اسے ارزانی کر
کہ جہانِ دگراں سے نکل آیا ہے فقیر
ہو دِل میں اگر اسم محمد کا اُجالا
کافی ہے ہر اک دور کے ظلمات کی زد میں
بھیج اُن پہ درود اور سلام اتنے خدایا
ہو جن کی سمائی کسی حد میں نہ عدد میں
اُسی کا ذکر ہے بگڑے ہوئے دلوں کا طبیب
اُسی کی یاد زمانے کے زہر کا تریاق
سوائے وحی، کوئی کیا سراغ دے اُس کا
نہ عقل و فہم، نہ وجداں، نہ تیزیِ ادراک
نسبتیں کے فلیپ میں افتخار عارف کہتے ہیں :
”روحانی تجربوں کی اساس عقیدہ و عقیدت پر ہوتی ہے مگر شاعری میں اس کی داد کا معیار میرے نزدیک صرف ایک اور صرف اس کے شاعرانہ محاسن پر متعین کیا جانا چاہیے۔ خورشید رضوی کے ہنر کی چھوٹ ایک ایک مصرعے کو جگمگائے ہوئے ہے۔ “
ایک نعت بطورِ خاص توجہ طلب ہے۔ اس نعت کی ردیف ”زنگ آلود“ ہے۔ زنگ آلود کی معنوی حیثیت کو سامنے رکھ کر ممکنہ حد تک خیال کو تزئین کرنے کا ہنر کمال محنت کا مرہونِ منت ہے۔ اس نعت میں اتنے زاویے پیدا ہوئے ہیں کہ قاری حیران رہ جاتا ہے۔ یہ نعت عطا کا نمونہ قرار دی جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتہائی مشکل مضمون کو آسانی سے باندھا گیا ہے۔
لمس احمد کے لیے چشم برہ، زنگ آلود
خانۂ دل پہ پڑا قفل گنہ، زنگ آلود
یا نبی ﷺ ! ایک نظر جو اِسے محکم کر دے
جوشِ پیکار میں ہے میری زرہ، زنگ آلود
تیرے پیغام کی حدت نہیں کھلتی اِس پر
کتنی صدیوں سے ہے اُمت کی نگہ، ، زنگ آلود
ڈال دے پرتوِ انوارِ نبوت اپنا
کھول دے فکر کی ایک ایک گرہ، زنگ آلود
واقعہ کربلا کے تناظر میں اُردو ادب مالا مال ہے۔ شاعری خصوصاً سلام و مرثیہ کے حوالے سے گراں قدر کلام دستیاب ہے۔ خورشید رضوی نے بھی اس پس منظر میں حق و باطل کے معرکے کو بیان کیا ہے۔ اس بیان میں عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ فنا و بقا کے مضامین نمایاں ہیں۔ نوعِ انسانی کی تاریخ میں سب سے زیادہ آنسو امامؓ عالی مقام کے لیے بہائے گئے ہیں۔ ان آنسوؤں میں کچھ اور اضافہ ہو جاتا ہے جب ہم خورشید رضوی کے سلام و مرثیہ کو پڑھتے ہیں۔
اشک میں گھل گیا لہو، سرخ ہوا فضا کا رنگ
عرصۂ چاک پہ چھا گیا، پھر وہی کربلا کا رنگ
دھل نہ سکے گا تا ابد اب کفِ دستِ شام سے
خونِ دلِ شہید کا رنگ نہیں حنا کا رنگ
نئے برس کا نیا چاند آسماں پہ چڑھا
غم حسین میں دل خوں ہوا، سناں پہ چڑھا
لہو میں ڈوب کے آخر اُسی کی فتح ہوئی
کہ اُس کا نام دلوں میں رہا، زباں پہ چڑھا
مسدس کی ہیئت میں ایک مرثیہ بھی کتاب میں شامل ہے جو زبان و بیان اور اظہار و اسلوب میں میر انیس کی یاد دلاتا ہے۔
نسبتیں کے بیک ٹائٹل پر توصیف تبسم کہتے ہیں ”ہر لفظ کا ایک سایہ ہوتا ہے جس کو معنی کہتے ہیں۔ اچھا شاعر لفظ کو محسوس کر کے استعمال کرتا ہے کہ اس کے حقیقی معنی سننے اور پڑھنے والوں پر آئینہ ہو جاتے ہیں۔ کاریگری اور ہنر وری میں بڑا فرق ہے۔ کاریگری جب تخلیقی وفور کی آنچ سہتی ہے تو ہنروری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ خورشید رضوی کی نظم ہویا غزل ہو، نعت و منقبت ہو، اسی ہنر وری کی روشن مثالیں ہیں۔“
کتاب میں تین مناقب شامل ہیں۔ سید علی ہجویری، حضرت گنج شکر اور حضرت ابوالفتح، شاہ ابن کرمانی المعروف بدر چشتی کے مناقب میں اُن کی ذات و صفات اور کمالات و کشافات کا ذکر ملتا ہے۔ بزرگانِ دین سے خاص رغبت کی بنا پر اُن کے قلم میں حد درجہ عقیدت جھلکتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ حضرت گنج شکر کی منقبت فارسی جب کہ باقی دو مناقب اُردو میں لکھے گئے ہیں۔ سید علی ہجویری کی منقبت سے اشعار ملاحظہ کیجیے :
ضمیرِ دہر کا اظہار سیّد ہجویر
سپاہِ عشق کے سالار سیّد ہجویر
لٹا رہے ہیں گہر معرفت کے صدیوں سے
مثالِ ابرِ گہر بار، سیّد ہجویر
ڈاکٹر خورشید رضوی خاص نظریاتی وابستگی کی بنا پر اپنے اظہار میں مکمل واضح ہیں۔ وہ موجودہ ادبی منظر نامے میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ عربی و فارسی زبان پر دسترس نے ان کے شعری شعور کو جلا بخشی ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ خاص ادبی ذوق کا تقاضا کرتا ہے۔
آخر میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر خورشید رضوی کی یہ کتاب اُردو حمد، نعت، مرثیہ اور سلام میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اہلِ ذوق کے لیے اس کتاب میں بہت کچھ خاص موجود ہے۔

