استادوں کا اُستاد
یہ فیس بُک ہے، ایک بُلبُلہ یا وہ مصنوعی دنیا جو ہم سب نے اپنے گرد بنا لی ہے۔ اس بلبلے کے کچھ مکین اسے میدان جنگ سمجھتے ہیں اور کچھ پناہ گاہ جان کر بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ بات سُنی نہ گئی، بات کہی نہ گئی یہ ہمیشہ سے انسانوں کا مسئلہ رہا ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ آنے والے زمانے میں بھی رہے گا لہٰذا حقیقی دنیا میں جو بات ہم کسی سے کہہ سُن نہیں پاتے وہ یہاں لکھ ڈالتے ہیں اس امید پہ کہ شاید کوئی پڑھ لے۔ اندر کی گھٹن بڑھ جائے تو کتھارسس لازمی ہو جاتا ہے کہ لاوا اندر ہی اندر اُبلتا رہے تو آتش فشاں بن جاتا ہے۔ بقول چچا غالب،
پھر وضع احتیاط سے گھٹنے لگا ہے دم
مدت ہوئی ہے چاک گریباں کیے ہوئے
گریبان چاک کرنے کی ہمت تو چچا ہی کر سکتے تھے اپنے بس کی بات کہاں۔ اپنی پہنچ تو بس اُن دیواروں تلک ہی ہے جہاں مختلف ہاتھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچتے رہتے ہیں اور بزعم خود سمجھتے ہیں کہ یہ ایک شاہکار ہے۔ قصہ گو کا خیال اس کے برعکس ہے۔ یہ محض دیوار نہیں دیوار گریہ ہے جس پہ ان لکیروں کے ذریعے گزرتے وقت کا نوحہ لکھا جاتا ہے۔ وہ پرسنل ڈائری ہے جسے ہر کوئی پڑھ کر کچھ بھی معنی اخذ کر سکتا ہے۔ چچا سے معذرت کے ساتھ کہ اس معاملے میں عدم کی نصیحت پہ کان دھرنے میں ہی بہتری ہے،
اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ مُنکر نکیر ہوتے ہیں
حقیقی دنیا کی طرح یہ خود ساختہ دنیا بھی اضداد کا مجموعہ ہے۔ اس کا کوئی ایک رنگ نہیں گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا اس کی ادا ٹھہری۔ یہاں بہت کچھ اچھا بُرا دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس میدان کارزار میں ہر لحظہ ایک ہنگامہ بپا رہتا ہے۔ کبھی کبھی تو طرفین میں ایسی ٹھنتی ہے کہ مت پوچھو۔ لفظوں کی چھریاں چاقو تیز کیے ایک جم غفیر مارا ماری کرنے کو خدا جانے کہاں سے آن ٹپکتا ہے۔ کہیں دشنام طرازی اور علم الابدان کے بارے میں وہ معلومات کہ الامان و الحفیظ جو کبھی دیکھیں نہ سُنیں۔ دیکھنے کو کبھی کبھار قصہ گو بھی جاتا ہے کہ وہ بیچارہ ایک دور افتادہ ایسے پہاڑی گاؤں میں رہتا ہے جہاں زندگی ٹھہری ہوئی ہے۔ جب اداسی بڑھ جاتی ہے تو کبھی کبھی دریا کی لہروں سے پوچھتا ہے کہ
غزالاں تُم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
لہروں کی جانے بلا کہ کس ویرانے کا ذکر ہے اُلٹا اُس کی بیچارگی پہ اچھلتی کودتی ٹھٹھہ اُڑاتی گزر جاتی ہیں۔ چار و ناچار دیوار گردی ہی مقدر ٹھہرتی ہے۔ اس دنیا میں جہاں گردی کا ہم پلہ یہی ایک لفظ سمجھ میں آتا ہے۔ وہ روانہ ہوتا ہے دیوار گردی کے سفر پہ اس لا حاصل امید کے ساتھ کہ شاید کہیں سے دانش کے موتی سمیٹ لوں۔ یوں تھوڑی سی دیر میں جان جاتا ہے کہ یہ دائروں کا سفر ہے اور ان دائروں میں ہر کس و ناکس باہم دست و گریباں ہے۔ کھینچا تانی کے اس تماشے میں اس کا دم ایسا اُلٹتا ہے کہ الٹے قدموں پلٹ جاتا ہے۔ حقوق و فرائض کی گردان کرنے والے یہ بھول چُکے ہیں کہ جہاں اُن کی ناک ختم ہوتی ہے وہیں سے کسی دوسرے کی حد شروع ہوتی ہے۔ یہاں بہت سوچ سمجھ کر لکھنا پڑتا ہے۔ قلم ذرا سا پھسل جائے تو وہ پتھر برستے ہیں کہ پگڑی تو کیا سر بھی سلامت نہیں رہتا۔ یہ بات اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ الاپنے والوں کو کہاں سمجھ آتی ہے۔
کہیں ایسی تبلیغ کہ دل اُکتا جائے، ارے صاحب کیا بتلائیں کہ یہ تبلیغ مروجہ معنی کی وہ تبلیغ نہیں ہے جسے سمدھیانہ سمجھ کر دور بھاگنے میں عافیت جانی جائے۔ پورا محاورہ لکھنے میں عزت سادات جانے کا ڈر بدرجہ اتم موجود ہے لہٰذا آدھے پہ ہی پہ قناعت ہے۔ گئے وقتوں میں اس اصطلاح پہ ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری تھی مگر فی زمانہ ہر کوئی اس سے استفادہ کرنے کا استحقاق ببانگ دہل رکھتا ہے۔ ایک ہی بات کو ایسے رگڑے چلا جانا گویا وہ الہٰ دین کا چراغ ہو اور توقع یہ کہ ہر بار چراغ کا جن حاضر ہو کر کہے، جی میرے آقا! کہیں کہیں تو بزعم خود ارسطو، افلاطون، ڈارون، فرائڈ اور ینگ کے چیلے وہ وہ بقراطی چھانٹتے ہیں کہ دماغ گھوم جاتا ہے گویا دماغ نہ ہوا کباڑ خانہ ہوا کہ بھرے چلے جاؤ۔ قصہ گو جیسا سادھارن آدمی بے بسی سے کہتا ہے علموں یار، بس کر دے مگر اس نقار خانے میں یہ بڑبڑاہٹ اپنے کانوں سے آگے نہیں پہنچ پاتی۔
اسی میدان کارزار میں تیر و تفنگ سے پرے طعن و تشنیع سے مبرا کبھی کبھی کسی ایسے ہوا کے جھونکے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو دلِ ناشاد کو ایکا ایکی شاد کر جائے۔ خزاں کے زرد پتوں سے اٹے ہوئے دالان میں گویا بہار ایک چھبی سی دکھلا کر گزر جائے یا بے موسمی سرخ گلاب کھل جائے۔ محسوسات کا کوئی تو ایسا جھرنا ہو جو انسان کو اندر تک بھگو دے، مگر ایسا کم کم ہی ہوتا ہے۔ قصہ گو یہ سوچتا ہے کہ کیا اب دل نہیں رہا یا لوگوں نے دل کی بات کہنی چھوڑ دی ہے؟ مانا کہ غم دوراں غم جاناں سے اہم ہے مگر بقول شاعر
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
ہم حقیقی رشتے ناتوں سے کٹ کر اب اُن کے دن مناتے ہیں۔ کبھی ماں کا ، کبھی باپ کا اور کبھی استاد کا ۔ اور بھی بہت سے دن ہوتے ہیں مگر سب کا تذکرہ کیا کرنا۔ یوں تو یہاں ہر کسی کا کوئی نہ کوئی استاد ضرور ہوتا ہے۔ لوگ بڑھ چڑھ کر اُن کی وہ خوبیاں گنواتے ہیں جن کا علم شاید استاد کو بھی نہ ہو۔ اگر وہ پڑھ لیں تو کہیں کہ میاں ہم بُری الذمہ ہیں ہم نے تو تمہیں بندے کا پتر بنانے کی بہت کوشش کی تھی۔ وائے حسرت اُن غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔ قصہ گو پڑھتا جاتا ہے اور سر دھنتا جاتا ہے۔ اسی دوران کہیں سے یہ سوچ آن وارد ہوتی ہے کہ تیرا استاد کون ہے؟
ریاضی کے استاد، ارے ہٹاؤ بھئی اس مضمون میں تو نمبر کبھی چالیس سے اوپر نہ بڑھے۔ ڈرائنگ کی استانی صاحبہ ان کے نزدیک پہاڑ صرف مثلث کی شکل کے ہوتے تھے۔ وہ موصوفہ کبھی یہ سمجھنے کو تیار نہیں تھیں کہ نظر کا زاویہ مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ تینتیس سے اوپر ایک بھی نمبر آنا خواب و خیال ہی رہا۔ اُردو میں ایک مضمون تختہ سیاہ پہ لکھ دیا اور سب نے رٹ لیا۔ کالج میں بھی یہی حال تھا کہ اپنی مرضی کی تشریح کے نوٹس دے دیے اللہ اللہ خیر صلا کیا مجال جو ہم نے ذہن کو زحمت دی ہو کہ شاعر بیچارا جنوں میں کیا کیا بک رہا ہے۔ قصہ گو نے بڑی حسرت سے سوچا کہ ہمیں تو کوئی شفیق استاد میسر ہی نہ ہوا۔
بھر اُسے یاد آیا کہ ایک ہے تو سہی، پر کمبخت بڑا ظالم و جابر ہے۔ کمر پہ کوڑے برسانے کا کوئی موقع فروگذاشت نہیں کرتا۔ پہلے سے کچھ نہیں سکھاتا یعنی رٹنے کا کوئی موقع ہی نہیں دیتا مگر بعد ازاں کسی ماہر شکاری کی طرح اپنے پنجوں میں دبوچ کر کہتا ہے کہ سمایا کچھ اس اُلٹی کھوپڑی میں یا دوں ایک اور دھوبی پٹکا؟ ناہنجار ایسا کہ ہمیشہ سلیبس سے باہر کے ایسے سوال پوچھتا ہے جن کے جواب ہم ایسے رٹو طوطوں کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔
ایسے میں سیکھنا سکھانا تو کیا اُلٹا آئی مت چلی جاتی ہے۔ لفظوں کے وہ وہ تیر برساتا ہے کہ کلیجہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ قصہ گو چُپ رہتا ہے۔ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا ہے کہ کہے تو کیا کہے کہ بعد میں یاد آنے والا تھپڑ اپنا ہی گال لال کر سکتا ہے۔ بے چارگی کی حد یہ ہے کہ اس کا کچھ بگاڑا نہیں جا سکتا۔ بس یہی سوچ آتی ہے کہ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں شفیق استاد ملے اور اُن کی زندگی سنور گئی۔ اپنے ہاتھ تو وہی لگا ہے جو ہر لمحہ مٹھی سے ریت کی طرح پھسلا جاتا ہے۔ دراصل یہی استادوں کا وہ استاد ہے جس کا ذکر خیر کوئی نہیں کرتا۔ اب آپ کی مرضی کہ آپ اسے خراج تحسین سمجھیں یا کچھ اور۔


