ڈاکٹر ذاکر نائیک سے متاثر ہونے سے متاثرین ہونے کا سفر


جب میں نے پہلی دفعہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سنا تو بہت متاثر ہوا کہ ایک بندہ فرنگی لباس میں ایک متاثر کن تقریر پورے پورے حوالہ جات کے ساتھ فرما رہا ہے اور سامنے ہزاروں کا مجمع خوشی سے سرشار تالیاں پیٹ پیٹ کر ان کو داد کی صورت میں صدقے واری جا رہا ہے۔ مگر ، اگر ڈاکٹر صاحب کی دین فروعی یا فروغی ( اسے ابی دین فروشی نہ سمجھا جائے ) کا عمیق جائزہ لیا جائے تو چند دنوں کے بعد ہی بندے پر عقدہ کھلتا ہے کہ دس پندرہ اچھے رٹے والی تقاریر سے ارب پتی بننے کا فن ذاکر نائیک خوب جانتے ہیں کہ ایک عام ایم بی بی ایس سے اتنی کمائی ممکن ہی نہ تھی کہ جس سے اللہ بی خوش اور عبداللہ بھی خوش۔ نہیں یقین تو ان کی کہیں سے بھی کسی بھی موضوع پر تقاریر سننا شروع کر دیں آٹھ دس تقاریر سننے کے بعد آپ کو واضح طور پر ذاکر نائیک کے خطابات عالیہ میں رپیٹیشن نظر آنا شروع ہو جائے گی۔

جی! ڈاکٹر صاحب نے قرآن، بائیبل، گیتا، گرنتھ وغیرہ کی چند مشہور آیات، اور دیگر آسمانی و زمینی مقدس کتابوں سے اقتباسات کو پورے حوالہ جات کے ساتھ رٹا مار رکھا ہے اور وہ ان کو اپنی تقاریر میں نظریہ ضرورت کے تحت استعمال کر کے اپنی علمی دھاک بٹھانے کی کامیاب کوشش کرتے نظر آتے ہیں مثلاً قرآن مجید کی چند مشہور مختصر آیات یا اس جیسی دوسری آیات، جسے وہ بار بار استعمال کرتے ہیں آپ ان کی ملغوبہ تقاریر میں کئی دفعہ سن چکے ہوں گے جیسے

لا اکراہ فی‌الدین
الم نشرح لک صدرک
وقل جاء الحق وزھق الباطل ۚ ان الباطل کان زھوقا
اسی طرح کچھ احادیث جن کو سائنس کا تڑکہ لگا کر مضبوط دلیل گڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پھر توحید کے متعلق گیتا، مہابھارت، گرنتھ، بائیبل سے توحید سے متعلق وہ اقتباسات جو وہ ہندو، عسائی مبلغین وغیرہ کے سامنے بار بار دہراتے ہوئے بھی نظر آگے ہیں۔

اور اگر آپ ان کے شروع کے بیانات سے متاثر ہوں گے تو جلد آپ ان کی باقی رٹا شدہ دس بارہ تقاریر کا ملغوبہ بار بار سن کر آخر کار واضح بوریت محسوس کرنا بھی شروع ہوجائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کا ڈاکٹر صاحب سے متاثر ہونے کا سفر ان کے متاثرین ہونے پر منتج ہو۔

اگر آپ انڈیا کے اجتماعات دیکھیں تو وہاں موصوف اسلام اور ہندو ازم میں مشترکات تلاش کرتے نظر آئیں گے۔ کیونکہ وہاں ممبئی میں ٹھاکرے کے گڑھ میں ہندوؤں کے خلاف بقول انڈین مسلمانوں کے کبھی بولتے نظر نہیں آئیں گے۔ بلکہ وہاں ہندو کو کوئی مذہب قرار دینے کے اسے جغرافیائی نام قرار دے کر خود بھی ہندو ہونے پر فخر محسوس کریں گے۔ اور تو اور جب یہ خود ساختہ جلاوطنی کی صورت میں ملائشیاء میں وارد ہوئے تو انہوں نے جب ہندوؤں کے خلاف بولنے کی کوشش کی تو ملائشیاء کی حکومت نے انہیں سختی سے روک دیا۔ کیونکہ ملائشیاء میں ہندو آبادی کا اس کی اقتصادیات میں خاصہ اہم حصہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی ٹیم کے اہم ارکان جیسے کیمرا مین اور کئی رضاکاروں کے انکشافات کے مطابق ان کے اجتماعات میں سوالات سے لے کر اسلام قبول کرنے تک کا سارا سلسلہ سکرپٹڈ ہوتا تھا اور ہوتا ہے۔ اگر یقین نہیں تو جس جگہ ان سے سوال کیے جا رہے ہوتے ہیں وہاں ان سوالات کرنے والوں کے ساتھ جڑ کر کھڑے ان کے اپنے الرٹ کارندے مرد یا عورتیں کھڑے ہوتے ہیں تاکہ کہیں کوئی الٹی سیدھی بات نہ کردے اور اگر ایسا ہوتو ان سے فوراً مائیک لے لیا جاتا ہے۔

پھر کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ان کے دینی کاروبار میں پاکستانی دینی گروہوں کے عمائدین کی طرح ان کا بھی سارا اپنا خاندان ہی کرتا دھرتاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ تاکہ اس دین فروغی یا فروشی کا منافع اپنوں تک ہی محدود رہے۔ اس ضمن میں آپ نے یقیناً مشاہدہ کیا ہو گا کہ ان کی انڈیا کی تقاریر یا کسی مباحثے میں اینکر یا موڈریٹر ان کے اپنے برادر خورد یا کلاں یا ابا جان ہوتے تھے یا ہوتے ہیں اور اب انہوں نے پپا جانی کی طرح اپنا بیٹا جانشین بھی تیار کر لیا ہے۔

ان کی مقبولیت کی وجہ وہ میڈیا بھی ہے جس کی افادیت کو ڈاکٹر صاحب نے شروع سے ہی بھانپ لیا تھا کہ میڈیا پر ان کی تقاریر کی پروموشن نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیے اور ان کا ادیان کا تقابلی جائزہ اور حریفوں پر بزعم خود فتح اور متشککین کی، بقول ایک پاکستانی اداکارہ کے، بھرپور دین کی طرف واپسی انہیں بام عروج تک لے گئی کہ اب تو ان کے اپنے کئی چینل ہیں جہاں دن رات ان کی یہی دس بارہ تقاریر یا ان کو ملغوبہ بار بار نشر ہو رہا ہوتا ہے۔ بس کبھی کبھار ذائقہ بدلنے کے لیے کچھ پاکستانی عربی اور یورپی دینی بھائی بشمول مرحوم ڈاکٹر اسرار صاحب کی ریکارڈنگ بھی دکھا دی جاتی ہیں تاکہ پتہ چلے کہ ہم کس طرح کفار ہنود و قنود کے فتنہ جات کا مقابلہ کر رہے ہیں لہذا اصل صدقہ و زکواۃ کے بھی وہی حقدار ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کو انڈیا سے دیس نکالا، ان کے بے ضرر تقاریر سے نہیں بلکہ ان کے اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کی وجہ ملا۔ نہیں یقین تو گوگل پر سرچ کر کے دیکھ لیجیے۔ ورنہ تقاریر تو وہ برسوں سے کر رہے تھے۔

اسی طرح اگر موصوف کے سوال و جوابات پر نظر ڈالی جائے تو ان کے سوالوں کے جوابات ان کے اپنے مستند مکتبہ فکر کے لوگ انہیں سطحی بلکہ دین و فقہ سے نابلد قرار دے کر اس سے اظہار برات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اور ان کی تحقیق یا بغض اس وقت کھل کر سامنے آ گیا جب انہوں نے یزید کو ضعیف احادیث کے ذریعے جنتی قرار دینے کی کوشش کی کہ نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستانی بریلوی، اہل تشیع اور کئی وہابی مسلک کے مختلف گروہوں نے نہ صرف ان کی واضح الفاظ میں مذمت کی بلکہ ان کا احادیث کا علم بھی سطحی قرار دے دیا۔

بات یہیں نہیں رکتی اسلامی دین فقہ وغیرہ کا سطحی علم کے ساتھ ساتھ ان کے سائنسی حوالہ جات بھی بعض اوقات اتنے سطحی ہوتے ہیں کہ ایک یورپی تحقیق کار نے موصوف کی ڈارون کی تھیوری آف نیچرل سلیکشن پر گفتگو کے پانچ منٹ کے کلپ کا تجزیہ کیا تو وہ حیران رہ گیا کہ ڈاکٹر صاحب کس ڈھٹائی سے بلنڈر مارتے ہیں کہ جھوٹے خود ساختہ گڑے ہوئے سائنسدانوں کے نام اور حوالہ جات کے ساتھ ساتھ اس پانچ منٹ کے کلپ میں درجنوں جھوٹ بولے گئے ہوتے ہیں۔

تو کیا اس سے کسی سادہ لوح مسلمان پر اثر ہو گا؟ جی قطعاً نہیں کیونکہ سادہ لوح مسلمان کو آپ جیسے مرضی حوالے دے دیں وہ ڈاکٹر صاحب کی ریاکاری ماننے کو قطعاً تیار نہ ہو گا کیوں کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو تحقیق نظر سے نہیں بلکہ، آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر نہ صرف سن رہے ہوتے ہیں بلکہ سر بھی دھن رہے ہوتے ہیں لہذا وہ اپنے مذہبی گلیڈیئٹر پر اتنا بھروسا ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی حوالے کے صحیح یا غلط ہونے کی تصدیق کو ضروری ہی نہیں سمجھتا بے شک علامہ گوگل یا علامہ مصنوعی ذہانت چیخ چیخ کر کہے کہ ”کدھی عقل نوں وی ہتھ مار لیا کرو“ اور ہم سے کچھ پوچھ کر تو دیکھو سیکنڈوں میں جواب حاضر۔

ڈاکٹر صاحب چالاک اور ذہین تو ہیں ہی اس لیے یہ جانتے ہیں کہ کس ملک میں کیا اور کیسے بات کرنی ہے جیسے ان کا خطاب انڈیا میں ہو، بنگلادیش میں ہو، ملائشیاء میں ہو یا ملک عزیز پاکستان میں، وہ اپنا موضوع اس ملک کی عوام کی پسند کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں مثلاً پاکستان میں جہان ہندوں بچیوں کو اغوا کر کے مسلمان بنا کر اسلام کی خدمت کی جاتی ہے تو وہاں بطور ذمی ان کے حقوق بھی ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہوئے نظر آئے کہ کیسے اسلامی حکومت کو کچھ پیسے دے کر ذمی تاریخ میں سلطان ایوبی کے دور میں اپنی حفاظت حکومت سے کرواتے تھے یا حفاظت کروا سکتے ہیں۔

مگر کیا آپ نے کبھی کوئی ایسی تقریر سنی جہاں آپ نے کہا ہو کہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں وہ کیا ہندوؤں یا عیسائیوں یا سیکولر اسٹیٹ کے ذمی بن جائیں؟ یا پھر بقول ان کے وہ غیر مسلم ممالک کو ”دارالحرب“ قرار دے کر نہ کوئی مکان مورٹگیج ہر لیں نہ کوئی کریڈٹ کارڈ بلکہ اگر کاروبار ہی کرنا ہے تو مفتی احسان الحق جیسے ایماندار بندوں کے ساتھ بغیر سود کے کریں اور پھر ساری جمع پونجی لٹوا کر ہر نماز کے بعد اپنے رب کے حضور خشوع و خضوع سے اس کے عذاب کی بد دعا کریں۔

اور حقیقت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے لوگ جب کسی ایسے ملک میں ہوں جہاں مسلمان اقلیت میں ہوتے ہیں وہاں دین کا رخ کامیابی سے اپنی طرف موڑ لیتے ہیں کہ جیسے اگر اقلیت میں ہوں تو سیکولر ازم کو اپنی بقاء کا ضامن سمجھتے ہیں اور ایسے اگر وہ پاکستان جیسے ملک میں ہوں تو سیکولر ازم کو مطلقاً حرام بلکہ کفر سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے سوال و جواب میں تحمل اور برداشت کو یہ عالم ہے کہ پاکستان میں جب ایک خاتون نے خیبر پختون خواہ میں اپنے لوگوں کے بظاہر سخت قسم کے اسلامی طرز زندگی اور حقیقی کردار کے تضادات پر جب سوال اٹھایا (حالانکہ اس خاتون نے کسر نفسی سے کام لیا کیونکہ یہ مہلک معاشرتی بیماریاں پورے پاکستان میں بدرجہ اتّم موجود ہیں ) اور کہا کہ کیسے بظاہر مذہب کا لبادہ اوڑھے ان کا معاشرہ انسانیت کی بدترین خصلتوں جیسے بچے بازی اور سود خوری میں گِر چکا ہے تو ڈاکٹر صاحب بجائے اس تضاد یا معاشرتی منافقت پر پر کوئی دانشمندانہ تجزیہ دیتے وہ یہ سوال سن کر بھڑک اٹھے اور اس خاتون کو بھرے اجتماع میں بے عزتی کرنے لگے کہ تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کیونکہ اسلامی معاشرہ ایسا ہوتا ہی نہیں نہ ایسا ممکن ہو سکتا ہے لہذا اس خاتون کو فوراً معافی مانگنے کی مانگ کرنے لگے کہ اس نے پاکستان جیسے اسلامی ملک کے تاریک پہلو پر سے پردہ اٹھا کر گویا اسلام کی مبادہ توھین عظیم کردی ہو کیونکہ وہ ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ ایک پکے مسلمان معاشرے میں کوئی بھلا گناہ کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے لہذا اس خاتون کا سوال ہی رد کر دیا جواب تو دور کی بات ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو پاکستان میں مہمان بنانے کا مقصد کیا تھا؟ کیا عوام کی پی ٹی آئی کے مظاہروں یا اپنی اقتصادی حالت سے سے توجہ ہٹانا مقصد ہے؟ یا پاکستان میں کچھ رہے سہے سہمے ہندو عیسائیوں کو مسلمان بنانے کا مشن ہے تاکہ پاکستان میں بقول شخصے کوئی نجس قوم باقی نہ رہ جائے اور اپنے نام کے مصداق سارا پاکستان واقعی پاک ہو جائے؟ کیا پاکستان میں بزعم خود بڑے بڑے جغادری مناظر اور تبلیغیوں کی کمی ہے؟ کہ ڈاکٹر صاحب کی بطور ”رائل رمبل“ انٹری ضروری سمجھی گئی؟ اور ابھی تک تادم تحری ان کے آنے سے کیا مقاصد حاصل ہوئے؟ کیا پاکستان میں جو تھوڑے بہت ہندو، عیسائی یا دیگر غیر مسلم رہ گئے ہیں وہ سب مسلمان ہو گئے؟ یا ذاکر صاحب کی قابلیت کے پول اہل فکر و نظر کے آگے مزید کھل کر سامنے آ گئے۔

بعض دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ دیکھا جائے تو ہم کسی بھی ترقی کے میدان میں تو نہلے ہی ثابت ہو رہے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب کی آمد سے ایک بات ہم جیسے کم آمدنی والے پاکستانیوں پر واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے ہماری دنیا بے شک جہنم بنی رہے مگر جنت ہاری پکی ہے اور نہیں پکی تو کسی گستاخ کو مار کر تو پکڑ کر ہی سکتے ہیں۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب کے بقول تو اور بھی آسانی ہوجاتی ہے کہ مسلمان خواہ یزید کی طرح ظالم ہو یا حسین کی طرح مظلوم جائیں گے دونوں جنت میں ہی۔

اسی طرح اگر اسرائیل، فلسطینیوں، لبنانیوں، حوثیوں کو ادھیڑ رہا ہے تو گھبرانے کی بات نہیں جتنے بھی اسرائیل کے ہاتھوں مسلمان مر رہے ہیں وہ بھی سیدھے جنت جا رہے ہیں اور رہا نیتن یاہو کا انجام؟ تو جہاں مسلمان مار کھا کھا کر جنت کو سدھار رہے ہیں وہیں نیتن یاہو کا بھی بہت برا انجام ہونے والا ہے بس ذرا اس کی رسی اللہ تعالیٰ نے وقت ڈھیلی کی ہوئی ہے۔ جو جلد ہی کھینچ لی جائے گی۔ اگر ڈاکٹر صاحب جہاد کے جذبے کی بجائے اسلامی اخلاقیات سکھانے آئے ہیں تو اس کے علمبرداروں کی کیا پاکستان میں کوئی کمی ہے؟

یا پھر ڈاکٹر صاحب کی انگریزی سے ہم زیادہ متاثر ہیں کیونکہ شاید انگریزی میں تبلیغ سے غیر مسلموں پر زیادہ اثر ہوتا ہو گا۔ تو صاحبو! کسی کی زندگی ڈاکٹر صاحب کی تقاریر سے بدلے نہ بدلے مگر ڈاکٹر صاحب کے خاندان کا دین فروشی کا کام خوب چمک رہا ہے اور اسی وجہ سے ان کی دنیا بھی جنت اور آخرت بھی جنت جبکہ اب ہم جیسے گنہگار ہی رہ جاتے ہیں جن کی دنیا بھی خسارے میں اور آخرت بھی خسارے میں۔ جئے ڈاکٹر ذاکر نائیک۔

Facebook Comments HS