ایک سال میں سیکولر بنیئے
کیا آپ جلد اور فوری شہرت کے طلبگار ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی، مغربی، یورپی، امریکی و کینیڈین میڈیا کے ٹاک شوز میں آپ کو مدعو کیا جائے؟ کی آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو مسلمانوں کا اکلوتا نمائندہ تسلیم کر کے اخبارات اور تقریبات میں اعلیٰ مقام عطا کیا جائے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی گلابی انگریزی والے الفاظ پر مبنی مسودے کو بنا سنوار کے، سولہ سنگھار کر کے اعلیٰ معیار کی انگریزی میں کتاب کا درجہ دیا جائے اور اسے بیسٹ سیلر قرار دلوایا جائے؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو کسی بڑے مغربی تھنک ٹینک میں اہم ذمہ داری سونپی جائے؟ کیا آپ کو اپنے کسی میڈیا ہاؤس، اخبار، ٹی وی کے لئے فنڈنگ درکار ہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو سب سے پہلے اپنے ضمیر کو نیند کی گولیاں کھلا کر سلا دیجیئے اور شروع ہو جائیے۔
اب صرف آپ کو چند ایک بیانات، آرٹیکل اور پوسٹس لکھنی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل آپ کو سلمان رشدی کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہو گی اور شمالی امریکہ میں موجود ان کے سلسلہ مریدان کے ساتھ نسبت برقرار رکھتے ہوئے اپنی علیحدہ شناخت بھی بنانا ہو گی۔
دیر نہ کریں فوری طور پر اپنی تحریروں میں سب سے پہلے تو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل ثابت کیجیئے۔ اس کے لئے آپ کا آسان ہدف اسلامی و قرآنی تعلیمات پر اپنی عقلِ سلیم کے مطابق سوالات اٹھانا۔ ان کا مذاق اُڑانا۔ آیاتِ قرآنی کی اپنے مزاج کے مطابق تفسیر فرما کر قارئین کو نئی راہوں پر ڈالنے کی کوشش کرنا بہت لازمی ہے۔ اگر آپ زیادہ تیزی سے ترقی کرنے کے خواہش مند ہیں تو کوشش کیجئے کہ پیغمبرانِ اسلام کی سیرت پر بھی اپنی بصیرت کی مناسبت سے ہرزہ سرائی میں کوئی کمی نہ رہنے دیں۔
پاکستانی شہریت رکھنے والے خواتین و حضرات پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں قائد اعظم، علامہ اقبال اور اکابرین ملت کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری بھی اٹھانا ہو گی۔ بلوچستان کی علیحدگی پسند موومنٹ میں ہاتھ بٹانا ہو گا اور اگر ہو سکے تو پاکستانی پرچم پاؤں تلے روند کر اسے آگ لگانے والی تصویر میں پاکستان مردہ باد کے نعرے کی گونج میں سیکولرازم کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت بھی دینا ہو گا۔
ایک اور آسان نسخہ کیمیا بہت تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس میں عریانیت، ننگا پن اور فحاشی کو ماڈرن فیشن قرار دے کر فخر محسوس کرنا شامل ہے۔ سیکولر خواتین با آسانی ”گوری“ دوستوں جیسے ملبوسات زیب تن کر کے یہ فرض انجام دے سکتی ہیں بلکہ دے رہی ہیں۔ اللہ انہیں خوش رکھے! ویسے ان کی وارڈ روب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں بس اتنا یاد رہے کہ اس سے ان کی سیکولر ازمیت ثابت نہیں ہوتی۔
سوشل میڈیا پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ آج کے دور کے خان بہادر اور سر کے خطاب سے محروم رہ جانے والے یہ شوقین کسی حد تک درجہ بہ درجہ اپنے تئیں شہرت تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اکثر ان کے اپنے بظاہر ”سگے“ ان کے ساتھ سگ زدانہ سلوک کر کے ان کی پینٹ کی پچھلی جیب کے آس پاس کی نازک جگہ پر لات مار کر جلد یا بدیر یہ کہہ کر بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں جو اپنوں کا نہ ہو سکا وہ ہمارا کیا ہو گا۔ اس ہجوم سیکولران میں بہت کم ”دانشوارانِ مغرب“ اپنے مالک کا قربِ خصوصی حاصل کرنے کی سعادت پاتے ہیں۔
ترقی کے زینوں پر چڑھنے کا راستہ ہندوستانی سفارت خانے سے بھی گزرتا ہے۔ مغرب میں ہندوستانی سفیر، قونصل جنرل باہیں پھیلائے آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور اپنے دیش بھگت ہونے کا پوری نیک نیتی سے فرض انجام دے رہے ہیں۔ اور اس مد میں وہ آپ جیسوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ اس کے لئے وہ آپ کو اپنی سرکار کے خرچے پر بھارت یاترا بھی کروا سکتے ہیں۔ کچھ دوسرے ممالک کے سفارت خانوں میں بھی اسی نوعیت کی سروسز اپنے وطن اور مذہب سے نفرت کرنے اور پھیلانے والوں کے لئے وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ فیضیاب ہوں اور اپنا مستقبل سنواریں۔
ہماری کم علمی کہ اب تک ہم یہ ہی سمجھتے رہے کہ ریاست اور مذہب کو علیحدہ رکھنا ہی سیکولرازم ہے۔ لیکن پتہ چلا کہ دوسری ریاست میں رہ کر اپنے آپ کو اپنے ہی مذہب سے علیحدہ کرنا اور دوسروں کا بھی کروانا ہی اصل سیکولرازم ہے۔ آج کل کے نو وارد گھس بیٹھیئے کالم نویس، کمرشل فیس بک ”اسکالر“ اچھل اچھل کر ان اصولوں پر عمل کر کے اپنی وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں پر افسوس آج کے دور میں انہیں کوئی بھی خان بہادر کے خطاب سے سرفراز کرنے والا موجود نہیں۔ اصل اہلِ علم و فن اور کاروانِ قلم میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے یہ نالائق افراد شد و مد سے اپنی نا اہلی کو شور و غل کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر عوام الناس سے گالیاں کھا کر ان گالیوں کو بھی اپنے لئے ایوارڈ سمجھتے ہیں۔ شہرت کی ہوس انہیں اندھا، بہرا کر کے بے لگام زبان عطا کر دیتی ہے۔
ان تمام تیر بہدف نسخوں سے مستفید ہو کر آپ ایک سال میں پکے سیکولر بن سکتے ہیں لیکن اپنی ذات، شناخت اور پہچان سے ہاتھ دھونا ہوں گے۔
افسوس صد افسوس کہ زنگ آلود ذہنوں پر تھری پیس سوٹ پہنے یہ جہلا اپنے ذہنوں اور جسموں کو غیر کے پیرہن میں لپیٹے اپنی قدروں سے بغاوت کر رہے ہیں۔
کاش کہ یہ کبھی اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کی خواہش کریں ورنہ اقبال کی یہ بات انہیں پانی پانی کرنے کے لئے ہی کافی ہے کہ ”تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا، نہ تن“ ۔


