نوجوان خواتین میں دل کی بیماریاں


 

ماہر امراض دل سے سوالات۔

خواتین میں دل کی بیماری سے شرح اموات کیا ہے؟ خواتین میں دل کی بیماری کی شرح کتنی ہے؟ سرکیڈین ردھم میں بے ترتیبی کیا خواتین میں دل کی بیماری کا باعث بن سکتی ہے؟ وہ افراد جنھیں رات کو جاگنا ضروری ہو جیسے چھوٹے بچوں کی مائیں بیمار افراد کے تیماردار یا نائٹ شفٹ میں نوکری کرنے والے وہ کس طرح اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہے سکتے ہیں؟ کیا خواتین خاموش دل کا دورہ پڑنے کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ خواتین میں دل کو دورہ پڑنے کی کم علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کیا خواتین کی شرح اموات زیادہ جبکہ مردوں کی کم ہے؟ کیا خواتین میں دل کے دورے یعنی ہارٹ اٹیک کی علامات مردوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں؟ کیا سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟ کیا خواتین کے پھیپھڑے سگریٹ سے زیادہ مقدار میں زہریلا مادہ جذب کرتے ہیں؟

نوجوان خواتین میں کون سی دل کی بیماریاں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟ کارڈیو مایوپیتھی اگر ایک دفعہ ہو جائے تو دوبارہ ہونے کے کیا عوامل ہوسکتے ہیں؟ کیا اس سے مکمل صحتیابی ممکن ہے؟ یورپین سوسائٹی فار کارڈیالوجی میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق دل کی بیماری سے متاثرہ ایسے مریض جو ڈپریشن کا بھی شکار ہوں ان کا ایک سال کے اندر اندر مرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا وہ لوگ جو زیادہ غصہ کرتے ہیں۔ ان کو دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر فائزہ فاروق ماہر امراض دل NICVD۔

سب سے پہلے سرکیڈین ردھم کیا ہوتا ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا پڑے گا اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم جب سوتے ہیں۔ رات میں تو ہمارے سونے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ اس میں نیند کی کئی اقسام ہوتی ہیں جس میں ہلکی درمیانی اور گہری نیند شامل ہے اور اس کے حساب سے ہمارے جسم میں ہارمون ریلیز ہوتے ہیں۔ ہلکی نیند میں الگ ہارمون پیدا ہوتے ہیں اور گہری نیند میں الگ اس دوران آپ خواب بھی دیکھتے ہیں جو گہری نیند کی علامت ہیں۔ نیند کو آدھی موت جیسا بھی تصور کیا جاتا ہے۔ صبح کے اوقات کے ہارمونز کی الگ اقسام ہیں۔ رات گہری نیند میں جو ہارمونز پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے جسم کو آرام ملتا ہے۔ جسم کے اعضاء اس دوران اپنی بحالی کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ آپ کا جسم حالت سکون میں آ جاتا ہے اور تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔

سرکیڈین ردھم اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ مختلف حالات میں مختلف ہارمونز کا اخراج اس کا کام ہے۔ تحقیق یہ بات ثابت کرتی ہے کہ پریشانی سے سرکیڈین ردھم ابنارمل ہوجاتا ہے اور اکثر اوقات سرکیڈین ردھم کی بے ترتیبی سے اسٹریس لیول بڑھ جاتا ہے جس سے ذہنی اور جسمانی بیماریوں کے ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس میں سر فہرست دل کی بیماریاں ہیں جو سرکیڈین ردھم کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔ مکمل نیند کی کمی کے باعث جسمانی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوران سفر بھی جو کہ اگر زیادہ طویل ہو تو اس سے بھی سرکیڈین ردھم متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ پریشانی کا شکار رہنے والے افراد کا ابنارمل سرکیڈین ردھم ہوجاتا ہے جس سے ذہنی اور اعصابی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ڈیمنشایا انزائمر ہو سکتا ہے اور دل پر یہ سب سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔

خواتین اور بزرگوں میں دل کے دورے کی علامات مردوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ دل کی دورے کی صورت میں سینے میں جلن ہوتی ہے۔ تھکن کا احساس ہوتا ہے۔ سانس لینے میں دقت ہونے لگتی ہے اور متلی جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ خواتین کو دل کے دورے کی ہلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ مردوں میں دل کے دورے کی علامات میں سینے میں تکلیف، جکڑن، گھبراہٹ اور بازوؤں، کمر، جبڑوں اور گردن میں تکلیف وغیرہ شامل ہیں۔ خواتین کو صرف سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔

غنودگی بھی طاری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سینے میں معمولی تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔ خواتین میں دل کے دورے کی علامات جُدا ہونے کا سبب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں مردوں سے مختلف شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ خواتین میں چھوٹی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے جب کہ مردوں کی عموماً بڑی یا مرکزی شریانوں میں دوران خون میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

خواتین اور بزرگوں کو اکثر ہسپتال لانے میں دیر ہوجاتی ہے اور طبی امداد دیر سے ملتی ہے۔ پہلے خواتین میں دل کے دورے کی وجہ سے شرح اموات زیادہ تھی۔ مگر اب اس میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔

نوجوان خواتین میں اگر آپ ذہنی پریشانی کا زیادہ شکار ہیں۔ آپ کے خاندان میں دل کی بیماری کی ہسٹری ہے۔ جیسے کارڈیو مایوپیتھی کی کچھ اقسام خاندانی بھی ہوتی ہیں اور کچھ دفعہ دوران حمل بھی یہ نوجوان خواتین کو ہوجاتا ہے۔

رومیٹک ہارٹ ڈیزیز بھی ایک عام بیماری ہے جس کا تعلق بچپن میں ہونے والی گلے کی بیماری سے ہے جس کا ٹھیک طرح علاج نہیں کیا جاتا تو پھر وہ دل کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کی بیماری ہے۔

بچپن میں کسی وقت پہ بچوں کو بخار ہوا جوڑوں میں درد ہوا اور وہ ختم ہو گیا اس کے بعد انہوں نے اس کو چھوڑ دیا پھر دس پندرہ سال گزر جاتے ہیں اور جب اس کے اثرات دل پہ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ علامات یہ ہوتی ہیں۔ عموماً کہ سانس لینے میں دشواری ہو گئی۔ دل کی دھڑکن بہت تیز چل رہی ہوگی، سانس نہیں لیا جائے گا۔ پاؤں میں سوجن آ جائے گی۔ اس میں آپ کے گلے پہ حملہ کیا ہوتا ہے۔ وہ اپ کے دل کے والز پہ حملہ کرتے ہیں۔ اسی وقت کرتے ہیں جب اپ کو گلے میں حملہ ہوا ہوتا ہے کیونکہ اپ نے اس کا علاج مکمل نہیں کیا ہوتا تو وہ اپ کے جسم اپ کے دل کے اندر والز کے اندر رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے اپ کے جو والز ہیں۔ وہ سکڑنے لگ جاتے ہیں اور جب وہ سکڑنے لگ جاتے ہیں تو بنیادی طور پر جو ایک کام ہوتا ہے۔ دل کا ایک دروازہ ہے جو پورا کھلتا ہے اور اس میں سے بلڈ باہر نکلتا ہے۔ اب وہ دروازہ پورا نہیں کھل رہا ہے۔ وہ کم کھل رہا ہے تو وہ بلڈ پولنگ ہو رہی ہوگی تو اس کی وجہ سے سارے سسٹمز متاثر ہوتے ہیں جو میں نے آپ کو بتایا کہ سانس لینے کی دشواری ہو گی۔ صرف دل کی دھڑکن بڑھے گی۔ بے ربط ہوگی، دل کے والز سے جڑے دل کے جو سٹرکچرز ہیں۔ ایٹریاز میں بڑے ہونے لگ جائیں گے۔ ویلوز اس کو کہتے ہیں۔ اس میں سب سے کامن ہوتے ہیں۔ میٹل سٹینوسس جو ہوتا ہے۔ اس کو ٹریک ایسپیٹسٹینوسس ہوتا ہے۔ ایونٹکس انوسس نہیں ایم آر ٹی آر بہت لیٹسٹ اس پہ سٹینوسز ہوتی ہیں جو ریگرز ہوتی ہیں۔ وہ بیسکلی کمپلیکیشن ہوتی ہے کہ اپ کا والز جب سخت ہو کے ان میں کیلشیم جمع ہو جاتا ہے۔ یہ بیماری ایکو سے تشخیص ہوتی ہے۔

کارڈیو مایوپیتھی میں آپ کے دل کے پٹھے ہوتے ہیں جو دل کے مسلز ہیں۔ وہ کمزور ہو جائیں گے جس کی وجہ سے آپ کے دل کا جو فنکشن ہوتا ہے جو کہ ایک ہم لوگ ایسس کرتے ہیں۔ گلوبل اسیسمنٹ کرتے ہیں کہ ایف اپ کا 60 پرسنٹ ہے۔ وہ کم ہونا شروع ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے اپ کے پٹھے کمزور ہو جائیں گے جس وجہ سے آپ کا دل صحیح طریقے سے پمپ نہیں کرے گا تو جس کی وجہ سے آپ کو بلڈ پولنگ شروع ہو جائے گی اور سانس لینے میں دشواری وہ سب ہو جائیں گے اور یہ رومیٹک ہارٹ ڈیزیز ہے۔ اس میں آپ کے جو دل کے والز ہوتے ہیں۔ وہ آپ کے سکڑ جائیں گے۔ اس میں کیلشیم جمع ہو جائے گا اور تھکننگ ہوگی سب کچھ ہو گا جس کی وجہ سے دل کو پمپ کرنے میں مسئلہ ہو گا۔

پیری پارٹم کارڈیو مایوپیتھی بنیادی طور پر خواتین کو حمل کے آخری مہینوں سے لے کر ڈلیوری کے چھ ماہ تک یہ بیماری ہوتی ہے اور اس میں کیا ہوتا ہے کہ حمل کے دوران سے ہی آپ کے ہی جسم کے جو کچھ اینٹیجنز ہیں۔ وہ آپ ہی کی باڈی کے خلاف ریگ کرتے ہیں اور اس کو آٹو امیون ڈیزیز کہتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کے دل کے پٹھے کمزور ہو جائیں گے۔ مسلز کمزور ہو جائے گا۔ آپ کو کارڈیو مایوپیتھی ہو جائے گی۔ یہ بہت خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے۔

ہمارے ملک میں بھی عام ہے۔ کافی خواتین کو ہوتی ہیں۔ پتہ نہیں چلتا صحیح وقت پر اکثر تشخیص نہیں ہو پاتی اور جب ایک دفعہ ڈائیگنوز ہو جائے تو اس کے بعد اگلی پریگننسی بالکل منع کردی جاتی ہے۔ فیٹل موٹیلٹی تو ہے جس مٹیرنل موٹیلٹی ہے۔ 90 پرسنٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں ریکوری بہت کم ہوتی ہے۔ ماں کی زندگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے ہمیں شوہر کی کونسلنگ کرنی ہوتی ہے۔ ایک دفعہ آپ کا دل متاثر ہوجاتا ہے تو بہت مشکل ہے کہ وہ پہلے جیسا کام کرسکے دس فیصد کیسیز میں مکمل صحتیابی ہوتی ہے۔ وہ خواتین نارمل زندگی گزار سکتی ہیں ورنہ اکثر خواتین کو ساری زندگی ادویات جاری رکھنی ہوتی ہیں۔

ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو کہ ہر بیماری کی وجہ ہو سکتی ہے۔ پریشان انسان زیادہ بیماریوں کا شکار بنتے ہیں۔ جن افراد کو زیادہ غصہ آتا ہے۔ ان کا غصہ کرنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے کی امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ بالکل ایک حقیقت ہے کہ جن کو زیادہ غصہ اتا ہے۔ ایسی شخصیت کے حامل افراد دل کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوان افراد میں دل کا دورہ پڑنے کی عمر اب چالیس اور تیس سے کم ہو کر پچیس اور بیس سال کی عمر تک ہو گئی ہے بلکہ کل ہم نے ایک سولہ سال کے لڑکے کے دل میں اسٹنٹ ڈالا ہے۔

سگریٹ نوشی آپ خود کر رہے ہوں یا کسی سگریٹ نوشی کرنے والے فرد کے ساتھ بیٹھے ہوں دونوں صورتوں میں آپ اس کے مضر اثرات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو۔ سگریٹ نوشی دل بیماریوں اور خاص طور پر دل کے دورے کا بڑا سبب ہے۔ اب خواتین میں بھی سگریٹ نوشی عام ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ خواتین فیشن کے طور پر بھی سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ الیکٹرک سگریٹ نوشی بھی ویسی ہی خطرناک ہے۔ جیسی عام سگریٹ نوشی۔

خواتین کو اپنے دل کی بہتر صحت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ خواتین کو تھوڑا محتاط رہنا جیسے میں نے بتایا نا کہ خواتین اور بزرگ افراد میں دل کے دورے کی علامات روایتی نہیں ہوتیں، خواتین کو اپنی صحت کا خود خیال کرنا ہے۔ ٹھیک ہے۔ یوٹیوب اور ڈرامہ دیکھنے سے بہتر ہے۔ اپ اپنی صحت کے بارے میں معلومات و آگاہی حاصل کریں کیونکہ خواتین میں دل کی بیماری کینسر کے بعد دوسری بڑی وجہ ہے۔ موت کی تو اپ کو اپنے اپ کو خود بچانا ہے۔

اس سے اگر آپ کے خاندان میں آپ کے والدین میں یا آپ کے بہن بھائیوں میں کسی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ پچاس سال کی عمر سے پہلے تو آپ کو زیادہ خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ دل کی بیماری کے، تو آپ کو ہائی الرٹ پہ رہنا چاہیے آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں، آپ واک کریں، ایکسرسائز کریں، سٹریس نہیں لیں اپنی رات کی نیند کو بہتر کریں اگر آپ دل کی بیماریوں سے محفوظ رہنا چاہتی ہیں تو آپ کو بہتر طرز زندگی اپنانا ہو گا۔

دل کی بیماری (CVD) ، خواتین میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جو کسی بھی دوسری حالت سے زیادہ جان لیتی ہے۔ سی وی ڈی خواتین کو کس طرح مختلف طریقے سے متاثر کرتا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کے بارے میں بصیرت انگیز معلومات حاصل کریں حقائق جانیں، خطرات کو پہچانیں، اور اپنے دل کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں، اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ اپنے دل کی صحت کے خطرات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کچھ وقت نکالیں اور اپنی صحت کا تجزیہ کریں اپنا خیال رکھیں۔

 

Facebook Comments HS