ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ”زبانِ یار مَن تُرکی“


بک کارنر جہلم ہمارے شہر سے نزدیک ترین کتابوں کا ایک بہت بڑا سٹور اور اس سے بھی بڑا اور منفرد اشاعتی ادارہ ہے۔ کتابوں کی تقریب رونمائی میں شرکت کے علاوہ بھی اکثر وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ چند دن پہلے ماہر لسانیات اور درجنوں کتابوں کے مصنف پروفیسر غازی علم الدین اور اپنے دوست ممتاز شاعر ذوالفقار علی اسد کی معیت میں بک کارنر جانے کا اتفاق ہوا۔ اسی دن ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ”زبانِ یار مَن تُرکی“ بک کارنر جہلم سے شائع ہوا تھا اور بک سٹور میں شیلف پر سب سے نمایاں جگہ پر آویزاں تھا۔ بک کارنر کے فیس بک پیج پر اس سفرنامے کا اشتہار میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ مجھے اندازہ بھی ہو گیا تھا کہ یہ کتاب چھ سات سو صفحات پر ضرور مشتمل ہو گی۔ کتاب پر پانچ ہزار کی قیمت کا ٹیگ لگا دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ یہ کتاب ایک سفرنامہ ہے تو شاید رنگین تصاویر زیادہ ہونے کی وجہ سے کتاب کی قیمت زیادہ رکھی گئی ہے۔

جس طرح خوبصورتی سب کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسی طرح خوبصورت کتاب بھی قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتی ہے۔ ”زبانِ یار مَن تُرکی“ واقعی ایک خوبصورت کتاب ہے۔ بہت ہی قابلِ دید سرورق کے ساتھ انتہائی قیمتی کاغذ کے 656 صفحات پر مبنی اس کتاب میں 206 صفحات پر سفر کے دوران کھینچی گئی سیکڑوں رنگین تصاویر شامل ہیں۔ کتاب پر انتہائی مستند ادیبوں اور مشہور کالم نگاروں کے اظہارِ خیال نے کتاب کی قدر و قیمت میں گراں قدر اضافہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر تصور بھٹہ صاحبِ ثروت آدمی ہیں جو اتنی قیمتی کتاب چھپوانے کی سکت رکھتے ہیں۔ مجھ جیسا فقیر تو اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور نہ ہی مجھ جیسے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے قاری اتنی مہنگی کتاب خرید سکتے ہیں۔

فارسی کی ایک کہاوت ہے۔ زبانِ یار مَن تُرکی و مَن تُرکی نمی دانم ( میرے محبوب کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا) ۔ میرے خیال میں اسی کہاوت سے متاثر ہو کر ڈاکٹر تصور بھٹہ نے اس سفر نامے کا نام رکھا ہے۔ قبل ازیں ڈاکٹر حسن منظر کی کتاب ”گزرے دن“ پر تبصرہ لکھتے ہوئے راقم نے لکھا تھا کہ میڈیکل کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے ڈاکٹر دوست جتنی مہارت اپنے شعبے میں رکھتے ہیں اتنے ہی اچھے لکھاری اور شاعر بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ایسا ہی خیال مجھے ڈاکٹر بھٹہ کا یہ سفر نامہ پڑھتے ہوئے بھی آیا۔

میرے اپنے خیال میں اچھا سفرنامہ نگار وہ ہوتا ہے جو سفر کے دوران دیکھی جانے والی جگہوں، مکینوں کے رہن سہن، بود و باش اور اس ملک کے میوزیم میں موجود نوادرات کے بارے میں انتہائی سادہ زبان میں اس طرح بیان کرے جس کو پڑھتے ہوئے قاری کو ایسا لگے جیسے وہ بھی سفرنامہ نگار کا ہم سفر ہے اور سب کچھ خود اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔ سفرناموں میں منظر نامہ اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر بھٹہ نے زبانِ یَار مَن ترکی میں ان سب باتوں کا خیال رکھا ہے۔

سفر نامے کا انتساب اپنے ابا جی کے نام کرنے کے روایتی طریقہ کار کو ترک کر کے اس میں جدت پیدا کرتے ہوئے سفرنامے کا آغاز اُنھوں نے منفرد انداز میں اپنے والد بزرگوار پرایک یاد گار مضمون لکھ کر کیا ہے۔ مجھے اس کتاب میں سب سے زیادہ پسند ”نہیں ریساں بابے دیاں“ آیا ہے، جسے پڑھ کر کوئی بھی بیٹا اپنے آنسو روک نہیں پاتا۔ میں ڈاکٹر تصور کو اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ان کے بابا جی کا سایہ تا دیر ان کے سر پر قائم رہا۔ بابے ایسے ہی ہوتے ہیں بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے والے۔ اللہ ان کو جنت میں جگہ عطا فرمائے۔

ترکی ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان ترکی اور ایران نے مل کر ایک تنظیم آر سی ڈی بنائی تھی۔ لیکن عالمی سیاست کی چیرہ دستیوں نے اس تنظیم کو غیر فعال کر دیا۔ سیاحت کے میدان میں ترکی ہم سے بہت آگے ہے۔ ترکی میں سیاحوں کو وہ تمام ضروری اور بنیادی سہولیات میسر ہیں جو کسی بھی ملک کی سیاحت کا لازمی جزو خیال کی جاتی ہیں۔ 2014 ء میں انتالیہ کی سیر کے دوران ہمیں ہمارے گائیڈ نے بتایا تھا کہ ترکی سیاحت سے سالانہ پچیس ارب ڈالر کماتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2022 ء میں چار کروڑ پچاس لاکھ سیاح ترکی کی سیر کرنے آئے۔ ان سیاحوں میں زیادہ تر کا تعلق یورپ، امریکہ اور برطانیہ سے تھا۔ ڈاکٹر تصور بُھٹہ بھی اُن میں سے ایک ہیں جنھوں نے آسٹریلیا سے ترکی کا سفر کیا۔ ترکی کے سفر کے یادگار لمحات کو تحریر کا روپ دے کر اُنھوں نے اپنے قارئین کو بھی اپنا ہم سفر بنا لیا ہے۔ اپنے سفر نامے میں انھوں نے استنبول، کیپاڈوشیا، انتالیہ، قونیہ اور برسہ جیسے تاریخی اہمیت کے حامل شہروں کی سیر کے دوران پیش آنے والے واقعات کو بیان کرنے کے علاوہ ان شہروں کی تاریخ، ثقافت اور اقدار کو بڑی مہارت سے قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔

”زبانِ یار مَن ترکی“ کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ استنبول شہر کی تاریخی اہمیت کی عمارات اور اس کے گرد و نواح کا احاطہ کرتا ہے۔ دوسرے حصہ میں کیپاڈوشیا، انتالیہ اور قونیہ شہروں کے بارے میں جب کہ تیسرے حصہ میں ارطغرل کے آبائی علاقے برسہ کے علاوہ سلطنت عثمانیہ اور ترکی کے دوسرے بادشاہوں کا ذکر شامل ہے۔

مشہور زمانہ تاریخی اہمیت کی حامل نیلی مسجد کی سیر کے ساتھ انھوں نے اپنے سفر نامے کا آغاز کیا ہے۔ استنبول کی نیلی مسجد (بلیو مسجد) ایک قدیم مسجد ہے۔ اس مسجد پر ڈاکٹر صاحب کا لکھا ہوا مضمون پڑھتے ہوئے مسجد کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے چلے گئے۔ سلطان احمد چوک میں واقع اس مسجد کے باہر سلطان احمد، مشہور زمانہ کسم سلطان اور ان کے خاندان کی قبریں موجود ہیں، سفر نامے میں اس قبرستان میں موجود تصویروں میں قبروں پر سبز رنگ کے غلاف نظر آتے ہیں۔

آیا صوفیہ بھی استنبول کی ایک قدیم ترین عمارت ہے جو 1500 سال تک عیسائیوں کی سب سے بڑی اور متبرک عبادت گاہ رہی۔ عیسائیوں کے نزدیک اس کی حیثیت وہی تھی جو مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دنیا کی اس قدیم ترین عمارت کی تاریخ بڑی تفصیل سے بیان کی ہے۔ 1453 ء میں اس عمارت میں قائم چرچ کو مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ پانچ سو سال بعد 1934 ء میں کمال اتاترک نے اس عمارت کی مسجد کی حیثیت ختم کر کے اسے میوزیم بنا دیا۔ 2020 ء میں ترکی سپریم کورٹ نے اتاترک کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر دوبارہ مسجد بنا دیا۔ اب اس میں سبز رنگ کا قالین بچھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی تحقیق کے بعد ان عمارتوں کی تاریخ بیان کی ہے۔ ہر زاویہ سے کھینچی گئی خوبصورت تصاویر پڑھنے والے کو استنبول کی تاریخی عمارتیں دکھا دیتی ہیں۔ آبنائے باسفورس پر ڈاکٹر صاحب کا مضمون بھی بہت جامع ہے۔ یہ پانچ ہزار سال پرانی نہر ہے جو ترکی اور استنبول کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ استنبول شہر کی جھلمل کرتی روشنیوں میں رات کو اس نہر میں کروز ڈنر لطف سے بھرپور ایک بہت اچھی تفریح ہے۔

آیا صوفیہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر توپ کاپی محل ہے۔ کبھی یہ ترکی کے سلاطین کا محل تھا۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کی طرح اب اس شاہی محل کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پچھلے سال تک اس میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ 950 لیرا کا تھا جو پاکستانی کرنسی میں دس ہزار سے زیادہ بنتے ہیں۔ اس کے باوجود روزانہ دس ہزار سے زیادہ سیاح تاریخی اہمیت کے حامل اس میوزیم کی سیر کو آتے ہیں۔ انتظامی دفاتر اور اسلامی نوادرات سے سجا یہ میوزیم دید کے قابل ہے۔ میوزیم میں ترکی کے مختلف ادوار کے بادشاہوں کے استعمال میں رہنے والی سونے سے بنی مختلف اشیاء، خوبصورت لائبریری، قرآن مجید کے تین ہزار سے زائد قلمی نسخے، پیغمبروں، رسول اکرمﷺ اور صحابہ اکرام کی تلواروں کے علاوہ رسول اکرمﷺ اور اہل بیت کے زیر استعمال دوسری بہت سی متبرک اشیاء اور قرآن مجید کی خطاطی کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ متبرک اشیاء کی تفصیل اور فوٹو بھی سفرنامہ کے حصہ اول میں دیے گئے ہیں۔

استنبول کے گرینڈ بازار کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ ان گنت دکانوں پر مشتمل یہ استنبول کا سب سے بڑا بازار ہے جس میں روزمرہ کے استعمال کی تمام اشیا آپ کو ملیں گی۔ ہم نے پچھلے سال اس بازار میں ایک دن گزارا تھا، بڑی محفوظ فضا میں انتہائی صاف ستھرا بازار دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی۔ اسی طرح کے ایک دوسرے بازار کا نام سپائس بازار ہے۔ ڈاکٹر بھٹہ صاحب کی اس بازار میں خریداری کے تجربات پر مبنی تفصیل بھی آپ کو اس حصہ میں ملیں گی۔

انتالیہ شہر کی تفصیل، شہر کے نزدیک قدیم یونانی شہر کے تین ہزار سالہ پرانی باقیات کی تفصیل، چھوٹی سی ندی میں رافٹ کی سیر، اصحاب کہف کا غار وہ مقامات ہیں جو اس علاقہ میں واقع ہیں جن کی تفصیل کتاب کے دوسرے حصہ میں موجود ہیں۔ کتاب کے آخری حصہ میں ترکی پر حکومت کرنے والے سلاطین اور بادشاہوں پر سیر حاصل مضامین بمعہ ان کی رنگین تصاویر کے موجود ہیں۔ کیپا ڈوشیا کی انتہائی خوبصورت غاروں، چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے اوپر گرم غباروں میں سیر انتہائی منفرد تجربہ ہے جس کے ساتھ ارطغرل کے آبائی علاقہ برسہ کی سفری روداد بھی شامل ہیں۔

اتنے طویل سفر نامے کا سرسری جائزہ لے کر اس پر تبصرہ لکھنا اس خوبصورت سفر نامے کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ میری یہ خوش قسمتی ہے کہ میں 2014 میں انتالیہ اور اس کے نواح میں واقع ایفیسس کے علاوہ قونیہ کی سیر کرنے کے ساتھ ساتھ پچھلے سال جولائی میں استنبول کی سیر بھی کر چکا ہوں۔ اس لیے جو بھی تفصیل میں نے بیان کی ہے میں یہ سب دیکھ چکا ہوں۔

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ نے سفر میں پیش آنے والے واقعات کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس سے قاری کی سفرنامے میں دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ساتھ میں خوبصورتی سے بنائی گئی ان مقامات کی تصاویر قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ سفرناموں کی دنیا میں یہ گراں قدر اضافہ ہے جس میں ادبی چاشنی بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اتنا خوبصورت سفر نامہ لکھنے پر ڈاکٹر صاحب کو مبارک باد۔ آخر میں پبلشرز کی توجہ کتابوں کی قیمتوں پر مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ایک مڈل کلاس قاری کے بس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اتنی مہنگی کتاب خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

(یہ مضمون ڈاکٹر محبوب کاشمیری کی طرف سے ”زبان ِیار من ترکی“ کی تقریب پذیرائی منعقدہ بھمبر آزاد کشمیر میں مورخہ 17 فروری 2024 کو پڑھا گیا۔ )

Facebook Comments HS