(2) کیا اسرائیل جنگ ہار چکا ہے؟


گزشتہ آرٹیکل میں ہم نے موجودہ جنگ کے اسرائیلی ریاست پر اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی تھی لیکن اختصار کی وجہ سے ایک تشنگی رہ گئی اور آج اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ذرا تفصیل بیان کرنے کی کوشش ہوگی۔

سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کو اسرائیل اور بین الاقوامی میڈیا نے ایک ”دہشت گرد کارروائی“ قرار دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں اسے ایک ”کامیاب ترین جنگی کارروائی“ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ رات دن اس کو دہشت گردی قرار دینا دراصل اسرائیل کی طرف سے اپنے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی ذمہ داری اپنی فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی سے ہٹا کر حماس پر ڈالنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی اور انتظامی قیادت کی نا اہلی سے بھی توجہ ہٹانا ہے۔ جب کہ دہشت گرد کا مقصد تو دشمن کو ایک ایسی غیر متناسب جنگ میں الجھا کر اس کی کمزوریوں کے خلاف اپنی طاقت کا استعمال اور اس طرح اپنی حکمت عملی اور دباؤ سے اپنے دشمن میں بے یقینی اور مایوسی کی کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے نا کہ اپنی بقا کو ہی خطرے میں ڈال دینا۔

سات اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ ”دہشت گردی کے خلاف“ روایتی آپریشن سے بہت مختلف شکل اختیار کر چکی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والا یہ بحران اب ایک ایسے کثیر الجہتی تنازعے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں اسرائیل کے خلاف حماس، لبنانی حزب اللہ، یمنی انصار اللہ المشہور ”ہوتی“ اور عراقی ملیشیا پر مشتمل ”مزاحمتی اتحاد“ کی شمولیت نے اس کو ہر لحاظ سے ایک علاقائی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے تو شاید سات اکتوبر کا حملہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا جس سے ابتدا میں چند ہزار لوگ ہی متاثر تھے لیکن حالیہ تاریخ میں اس کی جیو پولیٹیکل اہمیت کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔

سات اکتوبر نے واقعات کے تسلسل کا آغاز کیا۔ ان میں سے ایک نے اسرائیل کی فوجوں کو غزہ کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا جس میں سے نکلنا اب پالیسی سازوں کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ اسرائیلی فوجی حکمت عملی کے دو اور پہلووں سے پردہ ہٹا دیا جنہوں نے دنیا کے سامنے اسرائیلی فوج کا مکروہ چہرہ پوری سچائی سے ظاہر کر دیا۔ ان میں سے ایک تو یرغمالیوں کو چھڑانے کی ”Hannibal Doctrine“ ہے اور دوسری ”اجتماعی سزا“ کی پالیسی ”Dahiya Doctrine“ ہے۔

ان دونوں پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر اسرائیلی افواج کی ”دنیا کی سب سے زیادہ با اخلاق فوج“ ہونے کے دعویٰ کی قلعی نہ صرف کھل کر سامنے آ گئی بلکہ اسرائیلی فوج کی جڑوں میں راسخ ظالمانہ نیت، اور معصوم پر ظلم پر آمادگی پر تیاری نے فوج کے ساتھ ساتھ اسرائیلی قوم کے کردار کو بھی کھول کر رکھ دیا۔

سات اکتوبر سے پہلے اسرائیل اپنے اس مکروہ کردار کو دنیا کے سامنے چھپانے میں اس طرح کامیاب تھا کہ وہ اپنے ہر ظلم کو دہشت گردی کے خلاف ایک جائز اور متناسب کارروائی قرار دیتا تھا اور بین الاقوامی میڈیا اس کی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتا۔ آج ساری دنیا کے سامنے اسرائیل بطور ایک نسل کش اور نسل پرست ریاست (aparthied state) آشکار ہو چکا ہے۔ اور عالمی آگہی کے نتائج روز روشن کی طرح واضح ہو چکے ہیں۔ اب ان اثرات پر ذرا بات ہو جائے۔

ستمبر 2023 میں جی 20 کی سربراہی کانفرنس میں امریکی صدر بائیڈن نے ایک پالیسی پیش رفت کا اعلان کیا تھا جس کے تحت انڈیا، مشرق وسطیٰ یورپ کوریڈور (IMAC) کا قیام تھا جس میں ان علاقوں کو ریل، بحری جہاز، پائپ لائن اور ڈیجیٹل کے ذریعے جوڑنا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو ”موجودہ دور کی اہم ترین“ پالیسی قرار دیا تھا جس کے تحت علاقائی تعاون کے ذریعے ”مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کی ہیت ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی“۔

لیکن اب جب کے دنیا نے اسرائیلی ریاست کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا ہے تو اب یہ پیش رفت (IMAC) ایک خواب ہی رہے گی کہ اس پر عمل کم از کم مستقبل قریب میں تو ناممکن ہے۔ مثلاً سعودی عرب، جس نے کہ اس سلسلے میں بیس ارب ڈالر کی انوسٹمنٹ تک کا وعدہ بھی کر لیا تھا، نے اسرائیل سے تعلقات (جو کہ اس پیش رفت کے لیے بنیاد) کو اس جنگ کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل سے اس ریاست کی منظوری سے جوڑ دیا ہے۔ اس سال کے شروع میں اسرائیلی پارلیمنٹ فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف متفقہ قرار منظور کر چکی ہے یعنی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ اس اقتصادی نقصان کو شامل کریں تو جنگ کی لاگت سڑسٹھ ( 67 ) ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ جیسا کے گزشتہ ہفتے ذکر کیا تھا، اسرائیلی سیاحت کی صنعت میں اسی فیصد کمی ہو چکی ہے۔ یمنی انصار اللہ کی کارروائیوں کے نتیجے میں اسرائیلی بندرگاہ (پورٹ ایالت (Elat) غیر فعال ہو چکی ہے۔ شمالی اور جنوبی اسرائیل میں حزب اللہ اور حماس کے راکٹوں نے لاکھوں لوگوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً تین لاکھ فوجی رضاکاروں کی فوجی بھرتی نے صنعتی کارکردگی پر بہت اثر ڈالا ہے۔ ان تمام عوامل نے مل کر ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن کے زہریلے اثرات مدت تک اسرائیلی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ سرمایہ کاری میں کمی، سکڑتی معیشت اور اسرائیلی مستقبل پر اعتماد کی کمی نے اسرائیلی اقتصادی مندی کی راہ ہموار کردی ہے قصہ مختصر یہ کہ یورپی اور امریکی لوگوں کے لیے اسرائیل اب ایک محفوظ مقام نہیں رہا جہاں وہ اپنی فیملی کے ساتھ منتقل ہو سکیں، یا ریٹائر ہو سکیں یعنی وہ زمین جس میں ”دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھی، اب موجود نہیں ہے۔

اس سے اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے۔

علاوہ ازیں ایک قابل عمل ”یہودی ریاست“ ہونے کے لیے یہودی آبادی کا کم از کم اکثریت میں ہونا بھی ضروری ہے۔ اسرائیل کی موجودہ آبادی تقریباً پچانوے لاکھ کے قریب ہے۔ اس میں ساڑھے تہتر لاکھ تو یہودی ہیں جبکہ اکیس لاکھ عرب ہیں اور بقیہ آبادیوں میں دوسرے لوگ شامل ہیں۔ اسرائیلی مقبوضہ علاقوں (مغربی کنارہ اور غزہ) کی آبادی تقریباً اکیاون لاکھ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس سارے علاقے میں آبادی کا تناسب تقریباً 50 : 50 ہے۔ یہودیوں میں سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد یورپین ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے حامل ہیں اور تقریباً دو لاکھ امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے یورپین نژاد شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان ممالک کی شہریت حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے ان کو بس اتنا کرنا ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو اس بات کا ثبوت دکھا دیں کہ وہ یا ان کے آبا و اجداد ان ممالک میں رہ چکے ہیں۔ تقریباً پندرہ لاکھ اسرائیلی روسی نسل سے ہیں اور ان میں سے بہت سے تو ابھی بھی روسی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔

اگرچہ دوہری شہریت کا مقصد اقتصادی اور آسانی ہے لیکن بہت بڑی تعداد کے نزدیک یہ دوسرا پاسپورٹ دراصل ”ایک انشورنس پالیسی“ ہے جو اس وقت کام آئے گی اگر اسرائیل میں زندگی ناقابل برداشت ہو جائے۔ اور اسرائیل میں زندگی اب ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔

اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اسرائیل کی دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت کی پالیسیوں (بالخصوص عدالتی اصلاحات) سے تنگ آ کر چونتیس ہزار افراد گزشتہ سال جون اور اکتوبر کے درمیان اسرائیل مستقل طور پر چھوڑ چکے تھے۔ اگرچہ سات اکتوبر کے بعد فوری طور پر چند ہزار افراد اسرائیل شفٹ ہوئے لیکن ان کی تعداد گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کافی کم رہی۔

آج کل جب اسرائیل کے مختلف علاقوں پر لبنانی حزب اللہ، یمنی انصار اللہ اور پھر ایرانی میزائلوں، راکٹوں اور ڈرونوں کے حملے اب روزانہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں تو یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی کہ ان حملوں کے خلاف کوئی بھی قابل عمل دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔

آج کی صورت حال میں اگر اسرائیل ایران کا باہمی تنازعہ بڑھتا ہے ( اسرائیل نے شدید ردعمل کا عندیہ دیا ہے ) تو ایران نے بھی اسرائیل ریاست کے بنیادی ڈھانچے یعنی پاور پلانٹ، توانائی کے کارخانوں، پانی کی صفائی کے پلانٹ وغیرہ کو نشانہ بنانے کے دھمکی دے دی ہے اور ان دھمکیوں پر اگر عمل ہونا شروع ہو گیا تو اسرائیل پر بحیثیت ایک ماڈرن ریاست سوالیہ نشان اٹھ جائیں گے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب دوہری شہریت کے حامل افراد اپنی اپنی انشورنس پالیسیوں کو کیش کرانے پر مجبور ہوں گے۔ روس پہلے ہی اپنے شہریوں کو اسرائیل چھوڑنے کا کہہ چکا ہے۔ اور اگر اس انخلا پر عمل شروع ہوتا ہے تو اسرائیل کے لیے اپنے وجود کو بطور ایک یہودی ریاست برقرار رکھنا بہت ہی مشکل ہو جائے گا۔

آپ کو یہ سب باتیں شاید افسانہ ہی لگیں بالخصوص اس امر کی موجودگی میں کہ امریکہ اسرائیلی سلامتی کا سب سے بڑا ضامن سمجھا جاتا ہے اور اس کی حکمران اشرافیہ میں چاہے منتخب افراد ہوں ( کسی بھی پارٹی کے ) یا غیر منتخب اداروں میں با اثر افراد، سب کے سب اسرائیلی دفاع کے لیے موجود ہوتے ہیں، حکومتی پالیسیاں بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔

لیکن ایک ہی سال میں ”جمہوریت کی چمکتی مثال“ سے لے کر بین الاقوامی برادری میں اچھوت (Pariah) ریاست کے اس سفر نے امریکی پالیسی سازوں کے سامنے بھی اس کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ماضی کی سرد جنگ، جس کے دوران اسرائیل مشرق و سطیٰ جیسے حساس علاقے میں امریکی مفادات کا ضامن سمجھا جاتا تھا، کب کی ختم ہو چکی۔ امریکی بالا دستی کے مقابلے میں دنیا میں دوسرے مراکز سر اٹھا رہے ہیں اور جیسے جیسے امریکہ اس تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں اپنا اثر قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہوتا جائے گا اس کی ترجیحات میں تبدیلی لازمی ہے جن میں سر فہرست ناٹو، یورپ اور چند دوسری ریاستوں کے باہر دنیا کے لوگوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ دنیا کے سامنے اس کے آزاد دنیا کے لیڈر کی حیثیت پر اس اندھی حمایت نے سوالیہ نشانہ اٹھا دیے ہیں۔

سات اکتوبر کے بعد غزہ پر مظالم نے اسرائیل کا تصور ایک ایسی نسل کش ریاست کے طور پر اجاگر کر دیا ہے جو کہ انسانیت کے بنیادی تصور کی ضد ہے۔ یہاں تک کہ ہولوکاسٹ میں بچ جانے والے افراد ( جو چند ہی رہے گئے ہیں ) بھی یہ بات کہنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ موجودہ اسرائیل دراصل اس نسل کش نازی جرمنی کا عکس دکھائی دینے لگا ہے جس کے مظالم سے بچ جانے والوں نے اس ریاست کو بنایا تھا۔ اور دنیا میں اس حقیقت سے آگاہی کا عمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔

وقتی طور پر امریکہ میں اسرائیلی لابی اپنا پورا زور لگاتی نظر آتی ہے اور دامے درمے قدمے سخنے ان سیاسی لوگوں کی حمایت میں سرگرداں ہے لیکن میرا اندازہ ہے کہ امریکہ اسرائیلی حمایت میں خودکشی کی راہ نہیں لے گا کیونکہ اس طرح اس کا اخلاقی اور سفارتی اثر رسوخ خاک میں ملتا منظر آتا ہے۔

ابھرتی ہوئی کثیر الجئتی دنیا میں BRICS کے مقابلے میں اس حمایت کی اقتصادی قیمت بڑھتی چلی جائے گی کیونکہ BRICS میں شامل ہونے وال ممالک میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس میں شمولیت کے خواہاں ممالک کی فہرست طویل تر ہوتی جا رہی ہے اور ان میں اکثریت اسرائیلی ریاست کے خلاف کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کا مظاہرہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے لگایا جا سکتا ہے۔

امریکہ میں اسرائیلی مظالم سے متعلقہ بیداری اور بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی بے چینی سے آہستہ آہستہ لیڈر مقامی مسائل کی طرف توجہ دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اربوں ڈالر کی فوجی امداد کے بل جو اب چند گھنٹوں میں منظور ہو جاتے ہیں لیکن معاشی حالات ان نمائندوں کو اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ اگرچہ دوسرے فورمز پر سرمایہ دار اور با اثر افراد اپنی اسرائیل نواز کوششیں ابھی جاری رکھیں گے۔

آہستہ آہستہ عالمی سطح پر نسل کشی سے نفرت، ایرانی راہنمائی میں مزاحمتی تحاریک کی جہد مسلسل، معاشی مشکلات اور امریکی ریاست کی ترجیحات میں تبدیلی اسرائیلی ریاست کے خاتمے پر منتج ہوں گی۔ اسرائیلی ریاست کے خاتمے میں اس کے اپنے شہریوں کی کوششیں بھی شامل ہوں گی۔

اس میں کتنا وقت لگتا ہے، یہ مستقبل قریب میں بھی ہو سکتا ہے یا اس میں دسیوں سال لگ جائیں لیکن یہ ہو گا ضرور۔

اور یاد رہے اس کی ابتداء سات اکتوبر 2023 کو ہی تصور کی جائے گی جب قیدیوں نے اپنے قید خانے کی سنگلاخ دیواریں توڑ ڈالیں تھیں۔

Facebook Comments HS