عامر ہاشم خاکوانی اتنی جلدی میں کیوں رہتے ہیں؟


کچھ لوگ بچپن کا رومانس ہوتے ہیں، ان کی تحریریں خاصی متاثر کن لگتی ہیں، کبھی کبھار تو یہ سوچ بھی ابھرتی ہے کہ لیکھک اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں؟ ظاہر ہے اڑن کھٹولے اور جادوئی قالین کو حقیقت سمجھ لینے والی عمر کے اس ناپختہ سے پڑاؤ میں اس سے بڑھ کر اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے؟

دوسروں کی طرح عمر کے اس حصہ میں ہمیں بھی جاوید چوہدری، عامر خاکوانی، نسیم حجازی، ممتاز مفتی اور ”غازی یہ تیرے پراسرار بندے“ ٹائپ جذباتی میٹریل خاصا پسند تھا اور ہر وقت دنیا پر چھا جانے والی کیفیت میں سرشار رہا کرتے تھے۔

جب ذرا سی پختہ عمر میں پہنچے تو ذہنی باؤنڈری کا دائرہ کشادہ ہونے لگا تو تھوڑا سہمے سہمے سے انداز میں روایتی دیواروں سے باہر جھانکنا شروع کیا تو پتا چلا کہ ہمارے اس محدود سے تخیلاتی جہاں سے آگے بھی کئی سارے جہاں ہیں جو ہماری محدود بینی یا آندھی عقیدت کی وجہ سے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔

جب شعور کی آ نکھ کھلی تو خود کے زاویے سے دنیا کو دیکھنا شروع کیا تو بچپن کی محدود نظری اور جذباتیت کی قلعی کھل گئی اور تمام روایتی بت آہستہ آہستہ زمین دوز ہوتے گئے۔ حقائق کی دنیا میں داخل ہوئے تو بچپن کے سارے رومانس کہیں بہت پیچھے رہ گئے، مزید آ گے بڑھے تو اس حقیقت سے پالا پڑا کہ یہ معاشرہ تو کہانی گیروں، خیالی قصے کہانیاں سناتے والوں صالحین، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جوڑ کر ایک پرکشش سا خیالی محل تعمیر کرنے اور شخصیات کے بڑے بڑے دیو ہیکل بت بنانے اور ان کے گرد تعریفوں کے بڑے بڑے پل باندھ دینے والے دانشوروں، ادیبوں، صحافیوں اور روحانی ہستیوں میں خاصا مالامال بلکہ خود کفیل ہے۔

خیر یہ سب تو چلتا رہے گا ہمیں تو غرض اپنے بچپن کے رومانس عامر ہاشم خاکوانی سے ہے جن کو پڑھ کر ہم جوان ہوئے ہیں، وہ آج کل خاصی جلدی میں رہتے ہیں، لفظوں کی مالا بنتے ہیں اور کچھ سمے بعد معذرت کرتے ہیں اور پوسٹ میں رد و بدل کر دیتے ہیں اور ساتھ میں ریکارڈ کی درستگی کے لیے ڈس کلیمر کا بورڈ بھی لگا دیتے ہیں کہ "یہ سب قلمی دیانت کا اقبال بلند کرنے کے لیے کیا ہے، ورنہ میں خود اپنی نظروں میں گر جاتا۔“

پہلے پہل ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حق میں خوب لکھا، ان کے مخالفین کو خوب رگیدا اور لبرل طبقے کا باقاعدہ نام لے کر آداب مہمان نوازی کا درس دیا اور پھر تازہ ایڈٹ شدہ پوسٹ میں معزز مہمان کی شخصیت کے متعلق جو لکھا وہ بھی وال پر موجود ہے۔ اس سے پہلے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے حوالے سے بھی کافی کچھ لکھا اور بنا سوچے سمجھے خوب لکھا اور آ خر میں اپنی سخت بیانی پر معذرت کا پوسٹر چسپاں کر دیا۔ سویٹ ہوم والے معاملے اور یتیم بچیوں کے حوالے سے ڈاکٹر نائیک نے جو رویہ اختیار کیا اس پر موصوف نے نا صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ اپنے سورس پر اتراتے ہوئے ان لوگوں کے خوب لتے لیے جو ڈاکٹر نائیک کے اس رویے کی ببانگ دہل مذمت کر رہے تھے۔

اب اس عمل کو دانشورانہ پختگی تو نہیں کہا جا سکتا نا، اور نا ہی ہر بار معذرت یا تردید کر کے پیچھے ہٹنے کو کوئی مناسب رویہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس متلون مزاجی، جلد بازی اور بے احتیاطی کی وجہ تو وہ خود ہی بتا سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے مزاج، رجحان یا رویے کو نارمل کہا جا سکتا ہے؟ کیا آپ کی رائے اس قدر مقدم، معتبر یا اہم ہو سکتی ہے کہ بنا سوچے سمجھے یا توقف کیے شیئر کر دیں اور بعد میں وضاحتیں دیتے پھریں؟ کیا ایسا کرنے سے کسی شخص کی ذہنی و تحریری کریڈیبلٹی برقرار رہ سکتی ہے؟

زندگی میں ”ہارڈ اینڈ فاسٹ“ اور سو فیصد درست یا غلط یا پرفیکٹ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی اس قسم کے دعوے کرنے چاہئیں، سب ہمارے ذہنی مغالطے ہوتے ہیں جو ہم اپنی خیالی سی شخصیت کے بڑے پن کے زعم یا واہمے کے گرد قائم کر لیتے ہیں اور خود کو ویری امپورٹنٹ سمجھنے لگتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں کسی بھی شخص کے متعلق مافوق الذہن یا دیو مالائی قسم کے دعوے کرنا ویسے ہی بیوقوفی ہے، ڈاکٹر نائیک کی سب سے بڑی خوبی یہی بتائی گئی کہ وہ بڑے حاضر دماغ ہیں، حوالہ جات ازبر ہوتے ہیں اور بالمقابل کو کمپیوٹر کی سی رفتار کے ساتھ حوالے دیتے چلے جاتے ہیں اور عالم اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں اور لاکھوں غیر مذاہب کو مسلمان بنا چکے ہیں، اسی معلومات میں کمی بیشی کے ساتھ دوسرے مذہبی دوستوں کے علاوہ عامر خاکوانی بھی ان کی آ مد سے قبل یہی کچھ لکھ رہے تھے۔

اب یہ ساری باتیں خیالی طرز کی ہیں اور دعویٰ پر مبنی ہیں اور کوئی بھی کر سکتا ہے اور ضروری نہیں کہ کوئی ان دعویٰ نما خصوصیات کو تسلیم بھی کرے۔ سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا عالم اسلام ہے، تبلیغ و تلقین اور دوسروں کو اپنے دائرہ مذہب میں لانے کے علاوہ ہمارا کوئی اور کارنامہ بھی ہے یا ہمارے کریڈٹ پر کچھ ایسا ہے کہ جس سے عالم انسانیت کو مشترکہ فائدہ پہنچا ہو؟

حافظے کا تیز ہونا، شاطر دماغی، حوالہ جات کا ازبر ہونا یا مناظرانہ حس و قابلیت کا تیز ہونا ایسی خصوصیات تو کسی بھی مذہب کے ماننے والوں یا کسی بھی مذہب کے عالم میں ہو سکتی ہیں یا کسی غیر مذہبی انسان میں بھی ہو سکتی ہیں اس میں قابل ذکر یا حیرانی کا عنصر کیا ہے؟

چلیں یہ کریڈٹ لے لیں کہ انہوں نے لاکھوں لوگوں کو مسلمان کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں ڈھنگ کے انسان کتنے ہیں اور وہ عالم انسانیت کے لیے کیا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں؟

خواتین کھلاڑیوں کے متعلق بھی خاکوانی جی کا موقف تھا کہ وہ مہذب لباس زیب تن کریں، ناظرین میں مرد نہیں ہونے چاہئیں اور مرد کیمرہ مین بھی نہیں ہونے چاہئیں تاکہ وہ پر سکون ماحول میں اپنی گیم انجوائے کر سکیں۔ مطلب خواتین کو یہ بھرپور احساس دلائیں کہ وہ مردوں کو لبھانے والی کوئی چیز ہیں جن پر کوئی بھی جھپٹ سکتا ہے، اگر معاشرے کا دانشور خواتین کے متعلق اس قسم کی رائے رکھتا ہے تو عام لوگوں کی سوچ کیسی ہوگی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مطلب معاشرے کے مرد اگر خواتین کو محض جنسی کھلونا یا سیکس مشین سمجھتے ہیں تو ان کی بدنیتی یا بدنگاہی سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں سماج اور سماجی سرگرمیوں سے ہی الگ کر دو ۔

ہم اس سماج کو ایک ایسے دائرے میں بند کرنا چاہتے ہیں جس میں انسانوں کو ان کی جنس کے حساب سے الگ الگ ڈربوں میں بند کر دیا جائے۔

Facebook Comments HS