ذاکر نائیک کا ملائشیا


ذاکر نائیک صاحب کو پاکستان کے بطور اسٹیٹ گیسٹ دورے پر بے انتہا عزت سے نوازا گیا، بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص کرم کر رکھا ہے، جو وہ بلا کے حافظے کے مالک ہیں، انہیں تمام بڑے مذاہب کی کتابیں ازبر ہیں، ”تقابل ادیان“ ان کا میدان ہے، گزشتہ کچھ دہائیوں سے انہوں نے بھارت اور دیگر ممالک میں کام کرتے ہوئے جس عمدہ طریقے سے دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ انہی کی کتابوں سے حوالوں کے ساتھ مکالمہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔

تاریخ میں ایسے بہت سے لوگ گزرے ہوں گے لیکن اب کیمرہ ایجاد ہو چکا ہے اور سوشل میڈیا بھی، تو ذاکر نائیک پوری دنیا میں مشہور ہو گئے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر خطے کے جیو پولیٹیکل حالات سے واقف ہیں، وہ ایک عام انسان ہیں اور سلیبرٹی بھی، وہ کوئی صوفی، درویش یا بزرگ نہیں ہیں، اس دورے کے دوران ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو سامنے آئے جو شاید پہلے چھپے ہوئے تھے۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ مجھے 15 ممالک سے نیشنلٹی کی آفر آئی لیکن انہوں نے ملائشیا کو چنا، کیونکہ آج کی تاریخ میں ملائشیا ایک ایسا ملک ہے جو تمام اسلامی ممالک میں سب سے بہتر ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اس بات کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے تھوڑا سا ملائشیا کا مطالعہ بنتا ہے۔

ملائشیا ان چند اسلامی ممالک میں شامل ہے جہاں جمہوریت ہے اور ترقی کی شرح تمام اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ ہے، ملائشیا اپنے آپ کو پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ کا نسٹیٹیوشنل منارک کہتا ہے، ملائشیا بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ایک مشہور مقام ہے، وہاں شراب، بارز، نائٹ کلب اور جوئے خانے لیگل اور اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں، دنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیاں وہاں کانفرنسز منعقد کرتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہاں انہیں ہر طرح کی آزادی میسر ہو گی، اسی بنا پر وہ ایک بزنس حب بن چکا ہے۔

kuala lumpur night life

ملائشیا میں خواتین ہر شعبے میں نمایاں نظر آتی ہیں، ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، وہ اپنی مرضی سے حجاب بھی کرتی ہیں، جینز بھی پہنتی ہیں اور دنیا بھر کے لباس زیب تن کرتی ہیں۔

ذاکر نائیک صاحب کو چاہیے کہ اگر وہ ملائشیا کے نظام کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں اور پاکستان سے بھی بہتر سمجھتے ہیں تو یہاں کے لوگوں کو اس نظام کو اپنانے کی تلقین بھی کرتے جائیں، ملیشیا کے مشہور جزیروں کے خوبصورت ترین ساحل، مغربی سیاحوں کی موجودگی میں جو روح پرور منظر پیش کرتے ہیں، بیچارے پاکستانی تو اس کا سوچ بھی نہیں سکتے، یہ اس خوبصورت اور عظیم نظام سے محروم کیوں ہیں، ذاکر نائیک صاحب یہ آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اس معاملے پر پاکستانیوں کے حق میں آواز اٹھائیں۔

ایک لڑکی کے سوال کے جواب میں ذاکر نائیک سیخ پا ہو گئے کہ تمہارا سوال ہی غلط ہے حالانکہ ایک سادہ سوال کہ جس معاشرے میں مسلمانوں کی تعداد اکثریت میں ہے وہاں بچوں کے ساتھ جنسی بد فعلی کیوں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہمارے علماء اس پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس کا سادہ سا جواب کہ اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو غلط کہتے ہیں، کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ دینے کی بجائے حضرت ذاکر نائیک اس لڑکی پر چڑھ دوڑے کہ وہ معافی مانگے۔

تقابل ادیان اور تقابل معاشرہ تو قطعی طور پر مختلف میدانوں کے نام ہیں، پاکستان جہاں 98 فیصد ایک ہی دین کے ماننے والے ہوں وہاں ذاکر نائیک صاحب جیسے علماء کی شاید اتنی ضرورت نہیں تھی، ہاں البتہ بین الاقوامی طور پر ان کی شہرت کو لے کر ہر کسی کی خواہش ہو سکتی ہے کہ وہ انہیں اپنے سامنے دیکھ سکے، ہاتھ ملا سکے، ان سے بات کر سکے یا ان سے کم از کم کوئی سوال پوچھ کر خوشی محسوس کر سکے۔

پھر پی آئی اے کے خلاف ایک تقریر میں خوب گر جے کہ پی آئی اے کے سی ای او کو میں نے خود کال کی کہ میں ذاکر نائیک بول رہا ہوں، میرے پاس ایک ہزار کلو وزن ہے لیکن پھر بھی اس نے میرے ایکسٹرا سامان کو فری نہیں کیا، میں نے اس کے منہ پہ مارا اور کہا کہ مجھے 50 پرسنٹ ڈسکاؤنٹ نہیں چاہیے، دینا ہے تو فری دو کیونکہ میں ذاکر نائیک ہوں، بجائے اس کے کہ وہ افسر کی تعریف کرتے کہ انہوں نے حضرت ذاکر نائیک مدظلہ علیہ کے لیے بھی اپنے قوانین کو نرم نہیں کیا جو کہ عین اسلامی بات تھی بلکہ اس کی خوب درگت بنائی۔

Langkawi Malaysia Beach

ایک عالم دین جس کو تمام مذہبی کتابیں زبانی یاد ہوں بلکہ رٹی ہوں، کیا اس کو اس قسم کا گلہ زیب دیتا ہے؟ دنیا کے کسی مذہب کی کسی کتاب کی کسی نمبر کی بھی ورس یا چیپٹر میں اس کی اجازت نہیں، بلکہ اسلام تو اقربا پروری اور بڑے لوگوں کے لیے قانون توڑنے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس کو گناہ قرار دیتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے انڈیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں کسی انڈیا کے ائرپورٹ پر ہوتا تو وہاں مجھے خوب رعایت دی جاتی، شاید اسی وجہ سے بھارت میں ذاکر نائیک کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیسز بھی بن چکے ہیں کہ وہ ائرپورٹ پر نقدی لانے اور لے جانے میں ملوث ہیں، یہ بھی حیران کن بات تھی کہ انہوں نے ملائشیا کے ائرپورٹ کا ذکر نہیں کیا۔

آج کی تاریخ میں ذاکر نائک بھارت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ انہیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے اور مختلف ائرپورٹس پر ان کے نام کے ساتھ تصویریں چسپاں کر دی گئی ہیں، اپ سے گزارش ہے کہ وہاں لینڈ کر کے تو دکھائیں، بے شک وہ غیر مسلم ہیں لیکن ایکسٹرا سامان تو کیا ہو سکتا ہے وہ اپ کا شاید ٹکٹ بھی بھر دیں اور مفت میں اٹھا کر کسی ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں ”نیل کر ائیاں نیلکاں تے میرا تن من نیلو نیل“ ہو جائے گا۔

ذاکر نائیک نے ایک بہت بڑی آرگنائزیشن بنا رکھی ہے جس کی چھتر چھایا میں وہ بہت سے کام کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنا رکھا ہے، ان کے بعد یہ پوری ایمپائر ان کے بیٹے کو منتقل ہو جائے گی، میرے خیال میں ملائشیا، ذاکر نائیک اور ان کے خاندان کے لیے رہنے کی ایک بہترین جگہ ہے کیونکہ یہ ایک زبردست کاروبار دوست ملک ہے، جہاں سرمائے کو لے کر بہت سی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

جہاں تک بات ہے پاکستان کی تو پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں دنیا کی بڑی طاقتوں کے جہاز غرق ہو گئے، بڑی بڑی شخصیات اور ممالک کے بھید کھل گئے، ان کے چہروں پر چڑھے مکھوٹے اتر کر اصلیت کی خود گواہی دینے لگے، ہمارے ملک کے علماء اور سیاست دان ایسے ٹیکنیکل خطے میں رہتے ہوئے بہت مردم شناس ہو چکے ہیں جو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں، ان میں سے بیشتر، حضرت ذاکر نائیک سے بالمشافہ پہلی دفعہ شرف ملاقات حاصل کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS