اسرائیل بمقابلہ ایران :جنگ کیا رخ اختیار کرے گی؟
خبروں کے مطابق اسرائیلی کابینہ آج ایرانی میزائل حملے کا جواب دینے کے لئے ووٹنگ سے فیصلہ کرنے والی تھی۔ گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے نصف گھنٹہ طویل بات چیت کی۔ وہائٹ ہاؤس نے اس گفتگو کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے لیکن عام قیاس یہی ہے کہ اس ملاقات میں صدر بائیڈن نے اسرائیل سے جوابی کارروائی میں متوازن رویہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم ماضی قریب کی طرح امریکی صدر کے مشورے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل غزہ یا حزب اللہ کے خلاف جنگ جوئی میں تو امریکہ کے مشورہ کو نظر انداز کر سکتا ہے لیکن ایران کے ساتھ تنازعہ بڑھاتے ہوئے اسے لازمی امریکی حکومت کی غیر مشروط اور مکمل اعانت و حمایت درکار ہوگی۔ اسرائیل پر ایران نے اب تک دو بار میزائل حملے کیے ہیں۔ پہلا حملہ اپریل میں کیا گیا تھا۔ یہ میزائل حملہ دمشق میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے متعدد ایرانی فوجی افسروں کی ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس وقت تین سو کے لگ بھگ میزائل اور ڈرون اسرائیل پر حملے کے لیے بھیجے گئے تھے تاہم اس بارے میں کئی گھنٹے پہلے مطلع کر دیا گیا تھا۔ اسرائیلی و امریکی فضائی دفاعی نظام نے اس حملے کو روکنے کے لیے پیش بندی کرلی تھی اور اس سے کوئی قابل ذکر نقصان نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ ایران نے ایک اسرائیلی فوجی ٹھکانے اور ہوائی اڈے کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔
یکم اکتوبر کو ایران نے دو سو کے لگ بھگ تیز رفتار بلاسٹک میزائلوں سے اسرائیل پر حملہ کیا۔ تہران کا کہنا تھا کہ یہ حملہ 31 جولائی کو تہران میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہنیہ کو پراسرار طور سے ہلاک کرنے کے علاوہ 27 ستمبر کو بیروت میں حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ کی اسرائیلی بمباری میں ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس بار حملہ کرتے ہوئے ایران نے پہلے سے وارننگ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور ایسے میزائل داغے گئے جو ایران اور اسرائیل کے درمیان لگ بھگ 1600 کلو میٹر کا فیصلہ سیکنڈوں میں طے کر کے ہدف تک پہنچ گئے۔ اس حملہ میں ایران نے زیادہ طاقت ور اور موثر میزائل استعمال کیے۔ پہلے کی طرح اس بار بھی امریکی بحریہ و فضائیہ نے ایرانی میزائل گرانے میں اسرائیل کا ساتھ دیا لیکن پہلے کے مقابلے میں زیادہ میزائل ہدف تک پہنچے اور نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ اسرائیل نے یہی ظاہر کیا ہے کہ اس ایرانی حملہ سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا اور اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر تمام ایرانی میزائلوں کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہا۔ تاہم متعدد میڈیا رپورٹس میں میزائل کا نشانہ بننے والی جگہوں پر جاکر معلومات فراہم کی گئیں جن میں نقصان کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ میڈیا نے بتایا تھا کہ اسرائیلی حکام نے میزائلوں سے پڑنے والے گہرے گڑھے فوری طور سے بھر دیے تاکہ عوام میں خوف پھیلنے کا اندیشہ نہ رہے۔
اس حملہ کے بعد سے اسرائیلی کمانڈر اور سیاسی لیڈر انتقام لینے اور اپنے طے کردہ وقت اور مقام پر ایران کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ گزرے ہوئے ہفتہ کے روز یہ خبریں آئی تھیں کہ اس رات شاید اسرائیل، ایران پر حملہ کرنے والا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آج اسرائیلی کابینہ میں اس معاملہ پر رائے دہی سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت اس بارے میں کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچی۔ اس میں تو کسی کو شبہ نہیں ہے کہ اسرائیل، ایران پر جوابی حملہ کرے گا تاہم پوری دنیا کو یہ تجسس ضرور ہے کہ اس حملہ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کیا شکل اختیار کرے گا اور مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کتنی سنگین ہو جائے گی۔ اسرائیل لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کو بھی غزہ اور بیروت یا جنوبی لبنان کی طرح ملبے کا ڈھیر بنا دے گا لیکن یہ دعویٰ کرنا جتنا آسان ہے، اس پر عمل کرنا اور اس کے حسب خواہش نتائج حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہو گا۔ اسی لیے اسرائیلی حکومت مسلسل بے یقینی کا شکار ہے۔
اپریل کے میزائل حملہ کے جواب میں اسرائیل نے اصفہان میں ایرانی تنصیبات کے قریب میزائل داغے تھے لیکن ان سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا تھا۔ البتہ اسے اسرائیل کا علامتی جواب سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ تاہم جنگ کی نوعیت اور اسرائیلی جارحیت غزہ کے علاوہ لبنان تک پھیلنے کے بعد اس بار اسرائیل کا جواب زیادہ نقصان دہ ہو گا۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل، ایران کی تیل کی تنصیبات یا جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ البتہ واشنگٹن اس بارے میں پوری طرح تک تل ابیب کی حمایت پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ چند روز پہلے صدر بائیڈن نے ایک میڈیا بیان میں اسرائیل کو ایران کی تیل تنصیبات پر حملہ سے باز رہنے کی تلقین کی تھی۔ اس دوران یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اسرائیل اس بار ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ البتہ امریکہ نے اس بارے میں اسرائیل کی کھل کر حمایت نہیں کی ہے۔ اگرچہ صدر بائیڈن اور امریکی حکومت ہر قیمت پر اسرائیل کی حفاظت کرنے اور ایران کے خلاف جنگ میں حمایت کا عزم ظاہر کرتے رہے ہیں۔ لیکن بیانات میں کہی گئی باتیں بسا اوقات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
دوسری طرف ایرانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ہم نے اسماعیل ہنیہ اور حسن نصراللہ کی ہلاکت کا بدلہ لیا ہے۔ البتہ اگر اس کے بعد اسرائیل نے براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ایران کا جواب تباہ کن ہو گا۔ اس انتباہ کو محض دھمکی نہیں سمجھا جاسکتا۔ ایران کو اس وقت پورے علاقے میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کی حفاظت کا چیلنج درپیش ہے۔ یکم اکتوبر کے میزائل حملے سے ایک پیغام یہ بھی دیا گیا تھا کہ ایران اپنے حامی عسکری گروہوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ایرانی حکومت کو اپنے ملک کے اندر بھی ایسی انتہاپسند رائے کا سامنا ہے جو زیادہ شدت سے اسرائیل کے خلاف جنگ جوئی میں حصہ لینے کی بات کرتے ہیں۔ یکم اکتوبر کا میزائل حملہ اس رائے کے حامل لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی تھا۔ ان حالات میں اسرائیل کے کسی شدید اور نقصان دہ حملہ کی صورت میں تہران کے لیے پسپائی اختیار کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
اسرائیل کے پاس ایران کو سزا دینے کے لئے عسکری طاقت موجود ہے۔ وہ نہ صرف میزائل اور ڈرون استعمال کر سکتا ہے بلکہ جدید امریکی طیاروں سے لیس اس کی فضائیہ بھی ایران پر مرضی کے ٹارگٹ پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔ ایران کا فرسودہ فضائی دفاعی نظام شاید ایسے اسرائیلی حملہ کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ البتہ ایران ایک بڑا ملک ہے جس نے میزائل ٹیکنالوجی میں بے حد ترقی کی ہے اور اس کے پاس ہر طرح کے مہلک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں اس کے حامی عسکری گروہ کافی طاقت ور ہیں جو اسرائیل کو طویل المدت اور مشکل جنگ میں الجھانے اور نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے حملہ کرنے سے پہلے اسرائیلی حکومت کو تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ہو گا۔ یہی مسئلہ امریکی حکومت کو بھی درپیش ہے۔
اس صورت حال میں ایک رائے تو یہ ہے کہ امریکہ نے ایران میں موجودہ مذہبی پیشوائیت پر مبنی حکومت کے خلاف گراؤنڈ ورک کیا ہوا ہے۔ ایرانی عوام کی بڑی اکثریت تہران حکومت کے جبر سے نالاں ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایرانی شہری بغاوت پر تیار ہیں۔ اس لیے ایک تجزیہ یہ ہے کہ امریکہ صرف مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ اسرائیل کے ذریعے ایران پر شدید حملہ کروائے گا جس کے نتیجہ میں ایران کے اندر بغاوت نمودار ہوگی اور موجودہ نظام تبدیل ہو جائے گا اور نئی حکومت معاملات سنبھال لے گی۔ اگر یہ اندازے درست ہیں تو اسرائیل کو ایران پر شدید ضرب لگانے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے۔ ایران میں حکومت تبدیل ہونے کے ساتھ ہی تہران کی حکمت عملی اسرائیل نواز بھی ہو سکتی ہے اور علاقے میں موجودہ حکومت کے تیار کیے ہوئے عسکری گروہوں کی اعانت سے دست برداری کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ایک اسرائیلی حملہ ایران اور خطے کی سیاسی صورت حال کو تبدیل کردے گا۔
البتہ یہ بات پورے یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایران میں امریکہ کی سرپرستی میں ایسا نیٹ ورک موجود ہے جو کسی حملہ کی صورت میں عوامی بغاوت کے حالات پیدا کر کے حکومت کا تختہ الٹ دے گا اور تہران میں امریکہ نواز حکومت اقتدار سنبھال لے۔ اس کے ساتھ ہی ’مرگ بر امریکہ‘ کہنے والے لیڈر کیفر کردار تک پہنچا دیے جائیں گے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں رہے۔ امریکہ کے پاس براہ راست ایران میں رابطے کرنے اور ہمدرد تلاش کرنے کے مواقع موجود نہیں ہیں۔ اس کا نیٹ ورک ان عناصر کے ذریعے استوار کیا جاتا ہے جو موجودہ نظام کے عتاب کا شکار ہو کر ایران چھوڑ کر امریکہ یا دیگر مغربی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ سب لوگ بھی کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہیں اور ایران میں ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں بھی یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کی صورت میں کسی ملک میں محض سول نافرمانی کے ذریعے حکومت تبدیل کرانا آسان نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے کوئی ایسی متبادل با اثر اور قابل احترام قیادت موجود ہونا ضروری ہے جو لوگوں کی رہنمائی کرسکے اور ایک حکومت کو گرانے کے بعد دوسری حکومت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ دریں حالات یہ صورت حال دکھائی نہیں دیتی۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایران کا قومی جذبہ بھی بیدار ہو گا اور اپنی خود مختاری کو چیلنج کرنے والے ملک کے خلاف غیر مقبول حکومت بھی عوامی حمایت حاصل کر لے گی۔ اس لیے اس قیاس پر ایران کو نشانہ بنانا کہ کاری ضرب لگانے سے مذہبی قیادت کی حکومت بکھر جائے گی، بہت بڑا جؤا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ان حالات پر غور کیے بغیر اسرائیل اگر غزہ اور بیروت میں اپنی نام نہاد کامیابیوں کے زعم میں ایران پر کاری وار کرتا ہے اور ایرانی حکومت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پورے خطے میں خوفناک اور طویل جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کی حدود کا تعین کرنا اسرائیل یا امریکہ کے اختیار میں نہیں ہو گا۔ ایسی حالت میں زخم خوردہ ایرانی حکومت اپنے اسلحہ خانہ میں بارود کا آخری گولہ بھی دشمن پر چلا دینے کا ارادہ کر سکتی ہے۔ ان حالات میں تہران اہداف کا تعین کرنے میں آزاد ہو گا۔ اس طرح ایک ناختم ہونے والی تباہی مشرق وسطیٰ کے علاوہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ امریکہ شاید ایسی تباہی کو دعوت دینے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ البتہ اندازے کی غلطی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی کسی غلطی کی قیمت ہمیشہ انسانوں نے اپنی جان و مال سے ادا کی ہے۔


