لینن اور چولہا بنانے والا


تحریر: چیبیکن روسٹیسلاؤ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔

مجھے یاد ہے کہ ایک چولہا بنانے والے آدمی یاکوف کونڈراٹی پیٹرووچ، سشینسکوئے (سائبریا) گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی مہارت اور ہنر کے باعث پورے ضلعے میں مشہور تھا۔ اس نے ہمیشہ بہترین چولہے بنائے۔ کیوں کہ اسے اپنا کام پسند تھا۔ وہ اکثر کہتا: ”اگر آپ کا چولہا ٹھیک کام نہیں کر رہا تو مجھ سے رابطہ کریں میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔“ اس باعث کونڈراٹی کو ہمیشہ بہت پیار اور احترام دیا جاتا تھا۔

ایک دن کونڈراٹی اپنے احاطے میں بیٹھا اینٹوں کے بارے میں سوچ رہا تھا اور ساتھ ہی کھیت کو بھی دیکھ رہا تھا۔ کھیت احاطے کے بالکل سامنے تھا، اچانک اس نے دیکھا کہ ٹوپی پہنے کوئی نوجوان اتنی تیزی سے کھیت میں بھاگ رہا ہے جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ ”اوہ یہ میرے تربوز خراب کر دے گا۔“ چولہا بنانے والا بڑبڑایا۔

یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے اس سال سشینسکوئے میں تربوز اگائے تھے۔ انہوں نے موسم بہار میں سوچا کہ ہم تربوز کیوں نہیں لگاتے؟ کیا ہم دوسرے لوگوں سے کمتر ہیں؟ لہذا وہ بندوق لینے کے لئے گھر میں بھاگا۔ میں اس بن بلائے مہمان کو سبق سکھاؤں گا۔ اس نے سوچا۔ آج کل دوسروں کے کھیتوں میں گھومنا عادت بن گیا ہے۔ میں شرط لگاتا ہوں کہ وہ تربوز نہیں اگا سکتا۔ میں اپنے تربوز خود اگا سکتا ہوں اور ان پر قلا بازی بھی کھا سکتا ہوں، لیکن کیا وہ واقعی بندوق لینے گیا تھا؟ یا صرف تذبذب کا شکار، اپنا سر کھجاتا اور سوچتا ہوا گھر کی طرف پلٹا تھا۔ آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہاں بوڑھے آدمی کے داخلی دروازے پر گھاس کے گٹھے پڑے ہوئے تھے، کیوں کہ وہ گھاس کاٹنے کے بعد انہیں ہٹانا بھول گیا تھا۔ آخر وہ ایک گٹھے کے سامنے رک گیا اور بڑبڑیا۔ ”یا مظہر العجائب! یہ تو لینن ہے۔“

کونڈراٹی پیٹرووچ نے کبھی لینن کو نہیں دیکھا تھا، مزید براں اس نے کبھی اس کے بارے میں نہیں سنا تھا۔ وہ لینن کے بارے میں بالکل بھی نہیں جانتا تھا۔ کیونکہ وہ ایک عام سیاہ فام محنت کش اور ان پڑھ آدمی تھا، لیکن لینن عالمی پرولتاریہ کا رہنما اور ایک روشن دماغ آدمی تھا۔ لہذا چولہا بنانے والے کو فوراً احساس ہو گیا کہ یہ لینن ہے۔ وہ فوراً بندوق کے بارے میں بھول گیا۔ پھر اسے دوبارہ کبھی یاد نہیں آیا کہ اسے بندوق کی ضرورت کیوں تھی۔ سوویت طاقت آنے والی تھی، لیکن کم تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اسے معلوم نہیں تھا۔ بس اسے خیال آیا کہ جلد از جلد الیچ سے مل کر بات کرنی چاہیے۔ وہ پلٹا اور الیچ کے پیچھے کھیت میں بھاگا۔

 یہ بتانا ضروری ہے کہ آپ تربوز کے کھیت میں آسانی سے نہیں بھاگ سکتے۔ وہ سڑک یا سرکس کا میدان نہیں ہے۔ وہ کبھی سرکس میں نہیں گیا تھا اور بہت تھکا ہوا بھی تھا، مگر لینن کھلی جگہوں پر دوڑتا رہتا تھا اور اسے تربوزوں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ لہذا یہ بالکل واضح تھا کہ چولہا بنانے والا اس ذہین آدمی کو نہیں پکڑ سکتا۔ بوڑھا دوڑ دوڑ کر تھک گیا۔ آخر آرام کرنے کے لیے ایک تربوز پر بیٹھ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ الیچ کو کیسے روکے؟ وہ کون ہے؟ چولہا بنانے والا۔ یقیناً ایک اچھا چولہا بنانے والا، مگر سادہ آدمی۔ اگرچہ لینن نرم مزاج آدمی تھا۔ وہ بچوں سے پیار کرتا تھا، لیکن وہ مستقبل کی کمیونسٹ پارٹی، مزدوروں اور کسانوں کی دنیا کی پہلی ریاست کا بانی بھی تھا۔ آخر سادہ لوح چولہا بنانے والے نے یہ بات سمجھ کر تعاقب بند کر دیا۔ بس تربوز پر بیٹھ کر آہیں بھرنے لگا، اچانک اس نے دیکھا کہ لینن کھیت میں سیدھا اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اوہ، یہ اچھا نہیں ہے۔ کونڈراٹی پیٹرووچ نے ہاتھ رگڑتے ہوئے سوچا۔ بلاشبہ وہ پیپلز کمیشنرز کونسل کا مستقبل کا چیئرمین ہے، لیکن وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ بوڑھا اپنے خیالوں سے آنکھیں چرانے لگا۔ لینن قریب آتا جا رہا تھا۔ اس کی نگاہیں چولہے بنانے والے پر جمی تھیں۔ چولہا بنانے والا بدحواس ہو گیا۔ لینن اس کے قریب آیا اور اچانک کان میں چلایا۔ ”انقلاب کی صبح طلوع ہو رہی ہے!“

لیکن آپ کو یہ بات بتانا ضروری ہے کہ کونڈراٹی پیٹرووچ اس کان سے بالکل بہرا تھا۔ اس نے کچھ نہیں سنا۔ بس وہ خوف سے سفید پڑ گیا اور اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔ پھر لینن دوسرے کان کی طرف گیا اور دوبارہ چیخا: ”انقلاب کی صبح طلوع ہو رہی ہے!“

پھر وہ حیران و پریشان بوڑھے کے سامنے کودنے لگا اور اس پر واضح کیا کہ انقلاب کی صبح کیسے طلوع ہوتی ہے۔ کیونکہ الیچ لوگوں کے بہت قریب تھا اور سائنسی کمیونزم کے نظریات ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔ آخرکار وہ تھک کر تربوز کے پاس بیٹھ گیا اور پیار سے کہا: ”ہیلو، میرے دوست! تم اس قصبے کے چولہا بنانے والے لگتے ہو؟“

”ہاں۔“ کونڈراٹی پیٹرووچ نے جواب دیا۔

”میرے دوست! کیا تم جانتے ہو عالمی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟“ پھر خود ہی جواب دیا۔ ”میرا چولہا۔ وہ کچھ بھی گرم نہیں کرتا۔ بس وقتاً فوقتاً دھواں چھوڑتا رہتا ہے۔ وہ بعض اوقات انتہائی ناخوشگوار ہوتا ہے۔ مثلاً سخت سردی میں۔ جب میں بیٹھا مادیت پرستی اور ایمپیریو تنقید لکھ رہا ہوتا ہوں۔ وہ گاڑھا دھواں میرے دماغ کو منتشر کرتا ہے، مجھ کو ، جیسے انسانی تاریخ کے ابتدائی غار میں لے جاتا ہے۔ کیا تم عالمی سرمایہ داری کو شکست دینے میں میری مدد کر سکتے ہو؟“

”جناب آپ کا ہمیشہ خیر مقدم ہے۔“ کونڈراٹی پیٹرووچ نے کہا۔ حالانکہ لفظ ایمپیریو تنقید کے بعد اس کی کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔

”تقریباً بیس منٹ بعد آؤ اور مجھ سے ملو۔“ لینن نے خوش دلی سے کہا اور فوراً میدان میں غائب ہو گیا۔ چولہا بنانے والے نے تیزی سے اندازہ لگایا کہ الیچ کہاں رہتا ہو گا۔ اس نے یقیناً گاؤں کی سب سے بوسیدہ جھونپڑی کا رخ کیا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، الیچ قریب ترین کونے سے نمودار ہوا اور اپنے بازو لہراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوپی تھی۔ پرولتاریہ رہنما کے ہاتھوں میں ایسی ٹوپی۔

”اندر آؤ میرے دوست! وہاں گودام میں تمہاری دلچسپی کا سامان موجود ہے۔“ وہ دھیرے سے مسکرا کر بولا۔

کونڈرائی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ حیران تھا کہ گودام میں چولہے کون بنواتا ہے، لیکن پھر اسے خیال آیا کہ لینن بہت دور اندیش اور ہوشیار آدمی ہے۔ وہ جو کچھ جانتا ہے ایک چولہا بنانے والا نہیں جانتا۔ وہ گودام میں داخل ہوا۔ وہاں نادیزداکر پسکایا بیٹھی چائے پی رہی تھی اور اس کے آس پاس تقریباً دس بچے تھے یا شاید زیادہ۔ بہرحال بوڑھے نے سوچا۔ لینن کتنا مہربان آدمی ہے۔ وہ بچوں سے اتنی محبت کرتا ہے جتنی میں نے اپنی جوانی میں بھی نہیں کی تھی۔

اس نے گودام میں ادھر ادھر دیکھا، لیکن وہاں کوئی چولہا نہیں تھا۔ اس نے دھیمی آواز میں لینن سے پوچھا: ”یہاں کوئی چولہا نہیں ہے۔ آخر آپ کا چولہا کہاں ہے؟“

الیچ نے چالاکی سے آنکھیں جھکا کر کہا: ”ہاں واقعی کوئی چولہا نہیں ہے۔ میں نے یہ کیوں محسوس نہیں کیا؟ ہاں، میرے دوست تم انتہائی باریک بین ہو۔ تم کو یقیناَ فیلکس ایڈمنڈوچ کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ کیا تم فیلکس ایڈمنڈوچ کو جانتے ہو؟ اس سے ضرور ملو۔ وہ بہت تجربہ کار آدمی ہے۔ اب کام شروع کرو۔ تم آ گئے ہو تو میں پرولتاریہ کو دخل دینے کی اجازت نہیں دوں گا۔ میں تم سے چولہا ضرور بنواؤں گا۔“

کونڈراٹی بہت حیران تھا، لیکن اس نے مزید کچھ نہیں کہا اور چولہا بنانا شروع کر دیا۔ سارا کام آسانی سے ہوتا چلا گیا۔ یہ دیکھنا باعث مسرت تھا کہ آس پاس کوئی اینٹیں، کوئی مسالہ نہیں تھا۔ سب کچھ گویا طلسماتی طور پر کہیں سے آیا۔ کونڈراٹی نے چولہا بناتے ہوئے کن انکھیوں سے الیچ کو دیکھا۔ الیچ حسب معمول کونے میں بیٹھا لکھ رہا تھا۔ الیچ کتنا مصروف آدمی ہے۔ بوڑھے نے سوچا۔ وہ اتنا مصروف ہے کہ اسے یہ بھی یاد نہیں کہ اس کے گھر میں چولہا ہے یا نہیں۔ لینن لکھتا رہا، لکھتا رہا، جتنا وہ لکھتا، اس کے قلم سے اتنا ہی دھواں نکلتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ جل رہا تھا اور اس کی حدت سے داڑھی چمک رہی تھی۔ کونڈراٹی نے چولہا بنانے میں اپنی پوری مہارت استعمال کی۔ پھر الیچ سے مخاطب ہوا: ”براہ کرم جناب! چولہا ملاحظہ فرمائیں۔“

لینن خفیف سا کانپا اور بولا: ”میں شریف آدمی نہیں ہوں میں انقلاب کا گہوارہ ہوں۔ مزید براں میرے دوست چولہا واقعی اچھا بنا ہے۔ اس میں وہ چنگاری جنم لے گی جس سے دنیا میں آگ بھڑک اٹھے گی، جو ان بورژوا طبقے پر افسوس کرے گی جو عالمی پرولتاریہ کا استحصال کرتا ہے، جو۔ ۔ ۔“

بوڑھے چولہا بنانے والے نے لینن کی بات سنی اور سوچنے لگا، شاید میں اس دن کو دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہوں گا، لیکن میرے بچے اس دن کو ضرور دیکھیں گے، لیکن درحقیقت کونڈراٹی کی کوئی اولاد نہیں تھی، یہ شاید حادثاتی طور پر یا اس کی جوانی کی وجہ سے تھا، لیکن اسے وہ وقت یاد نہیں تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، شاید سو یا کچھ اوپر۔ الیچ نے اپنی بات ختم کر کے چالاکی سے پلکیں جھپکائیں، جیسے وہ کوئی پہیلی سوچ رہا ہو یا کوئی بری منصوبہ بندی کر رہا ہو۔ آخر وہ گہری سوجھ بوجھ والا آدمی تھا۔ وہ تھوڑا سا جھکا اور اپنی جیب سے ایک سیب نکال کر چولہا بنانے والے کو دیا۔ ”کتریں۔“ اس نے کہا۔ ”میرے دوست، کترنا عادت بنائیں۔ آپ کے دانت عالمی انقلاب کے لیے انتہائی مفید ہوں گے۔“

کونڈراٹی کتر کتر کر سیب کھاتے ہوئے سڑک پر چل دیا۔ وہ لینن کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ سب سے بڑا انسانیت کا علمبردار ہے۔ میں بڑھاپے میں اس سے ملا ہوں۔ اگر میری اس سے ملاقات نہ ہوتی تو میں بے سکونی کی موت مرتا، مگر اب میں سکون سے مروں گا۔ بلکہ ابھی مر سکتا ہوں۔ یہ سوچ کر چولہا بنانے والا مرنے کے لیے سڑک پر لیٹ گیا، لیکن جب اسے یاد آیا کہ تربوزوں کو پانی اور مرغیوں کو دانہ نہیں دیا تو وہ اٹھا اور اپنے گھر چلا گیا اور ساری رات کمبل کے نیچے اس نے اپنی بیوی کو لینن کے بارے میں، عالمی انقلاب کے بارے میں، مادیت پرستی اور سامراجی تنقید کے بارے میں بتایا۔

اگلی صبح کونڈراٹی پیٹرووچ اپنے بہترین جوتے پہن کر باہر نکلا اور گاؤں کا چکر لگا کر سب کو لینن کے بارے میں بتانے لگا کہ وہ کتنا عقلمند آدمی ہے۔ وہ اس طرح چلتا رہا، میرا مطلب ہے ایک دیہی علاقے سے دوسرے دیہی علاقے تک۔ چولہا بنانے والا ایک گاؤں سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس نے لینن کو آتے دیکھا۔ لینن اسے کچھ خطرناک لگا۔ کونڈراٹی آنکھ بچا کر گیٹ وے کی طرف مڑا اور روسی لوک گیتوں کی دھن سیٹی پر بجاتا ہوا چل دیا، لیکن اچانک ایک بار پھر لینن سامنے آ گیا۔ وہ مسکرایا اور چالاکی سے بائیں آنکھ ماری۔ چولہا بنانے والا پلٹ گیا اور سبزیوں کے کھیتوں کی طرف نکل گیا، لیکن لینن بھی پیچھے نہیں رہا، ابھی وہ یہاں ہے ابھی وہاں، ابھی وہ شلجم سے ظاہر ہو رہا ہے، اب چقندر سے، یہاں تک کہ آلو سے بھی۔ چولہا بنانے والا تھک گیا۔ آخر ایک جگہ رک گیا، لینن وہاں بھی موجود تھا۔

”ہیلو!“ اس نے کہا۔ ”میرے دوست! کیا تم نے اگلے چھ ماہ کے لیے اسکرا کی تصدیق کروا لی ہے؟“

چولہا بنانے والا حیران رہ گیا کہ لینن کتنا مخلص اور توجہ دینے والا آدمی ہے۔ وہ بالکل خطرناک نہیں ہے۔ وہ مزید بولا۔ ”آپ جانتے ہیں میرے دوست میں کل بیٹھا ایک مضمون لکھ رہا تھا۔ جس کا موضوع ‘کمیونزم میں بائیں بازو کی بچپن کی بیماری’ تھا۔ میں کیا دیکھتا ہوں میرا چولہا کام نہیں کر رہا ہے، لیکن کمرہ دھواں دھار ہے۔ آپ جانتے ہیں آگ لگنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اگر عالمی پرولتاریہ کا لیڈر مارا گیا تو کیا ہو گا؟ اس کا نتیجہ واقعی برا ہو گا۔ کیا تم سمجھ رہے ہو میرے دوست؟ تم ایک مقامی چولہا بنانے والے لگتے ہو؟“

چولہا بنانے والا خوف سے سفید پڑ گیا۔ اس سے پہلے وہ کوے کی طرح کالا تھا، لیکن پھر اچانک سفید ہو گیا۔ کیا اس نے کل دھوکہ دیا تھا؟ کتنے افسوس کی بات ہے۔ میرے گاہک خراب ہوں گے۔

”مجھے معاف کر دیں کامریڈ لینن۔“ چولہا بنانے والا بڑبڑایا۔ ”اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے تو اسے فوری طور پر درست کیا جا سکتا ہے۔ آپ پلک بھی نہیں جھپکے گے اور چولہا بن جائے گا اور وہ تمام چولہوں کے لیے مثال ہو گا۔“

چنانچہ وہ اور الیچ گودام میں گئے۔ راستے میں لینن پوچھتا رہا کہ یہاں کے محنت کش اور غیر فعال کسان کیسے رہتے ہیں؟ وہ کیا کھاتے اور کیا پیتے ہیں؟ ان کا رہن سہن کیسا ہے؟ لیڈر نے لوگوں کی ضرورتوں کا جائزہ لیا۔ کیونکہ وہ ان کے لیے سب کچھ کرنا چاہتا تھا۔ ہر کوئی کہہ سکتا تھا کہ اس نے پوری زندگی عوام کے لیے وقف کر دی ہے۔ وہ دوبارہ گودام میں داخل ہوئے۔ وہاں بہت بڑا سماوار رکھا تھا اور اس کے ارد گرد کچھ چینی یا منگولائی بیٹھے چائے پی رہے ہیں۔

”میرے دوست! ان سے ملو۔“ الیچ نے کہا۔ ”یہ ہمارے رفیق اور ہم جماعت ہیں اور ایک وسیع میدانی مملکت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وہاں انقلاب لانا چاہتے ہیں اور مزدوروں اور کسانوں کی دنیا کی پہلی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ مگر میں ان سے کہتا ہوں ابھی نہیں، جب تک طلوع آفتاب روشنی پھیلانا شروع نہ کردے، اس وقت تک کمیونزم کے در پر مت آئیں۔“

کونڈراٹی نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں کوئی چولہا نہیں تھا، نہ اس کے کوئی آثار تھے، ایسا لگتا تھا جیسے وہاں کبھی چولہا بنا ہی نہیں۔ بوڑھے کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ خدا کی قسم چولہا یہاں تھا۔ وہ کہاں گیا؟ بدقسمت چولہا بنانے والا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پھر کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔ ”ولادیمیر الیچ! یہاں چولہا نہیں ہے۔ پھر یہاں دھواں کیوں جمع ہے؟“

الیچ نے نظریں چرائیں اور سوچتے ہوئے بولا: ”پیارے کونڈراٹی! تم سچ کہتے ہو۔ تم سمجھدار ہو، حقیقت میں کوئی چولہا نہیں ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ایک عام روسی آدمی ہمیشہ سب کچھ پہلے سے جانتا ہے، بعض اوقات پروفیسروں اور ماہرین تعلیم سے زیادہ۔ ہم عام روسی کے لیے ہی عالمی انقلاب لا رہے ہیں۔“

بوڑھا شرمندہ ہوا پھر دھیرے سے بولا۔ ”ٹھیک ہے کامریڈ! عالمی پرولتاریہ کے رہنما! مگر میں بالکل بھی روسی نہیں ہوں۔ میں ایک یہودی ہوں۔“

وہ وہیں کھڑا اپنی لمبی قلمیں انگلی سے گھماتا رہا۔

”کوئی مسئلہ نہیں۔“ الیچ نے کہا۔ ”یہودیوں کو بھی عالمی انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہم ان کے ساتھ مل کر سامراج کے چوغے میں اپنے افکار کے ذریعے سوراخ کریں گے، واقعی یہودیوں کے بغیر یہ کیسا عالمی انقلاب ہے؟ کامریڈ ٹراٹسکی بھی ایک یہودی ہے اور وہ کبھی کبھی پیسے بھی نہیں دیتا۔“

بوڑھا انگشت بدنداں تھا۔ وہ کیسا عظیم رہنما ہے جو سب کا خیال رکھتا ہے، یہاں تک کہ یہودیوں کا بھی، لیکن یہ کیا؟ وہ واقعی چولہے کے بارے میں بالکل بھول گیا؟ وہ جہاں کھڑا تھا وہیں چولہا بنانے لگا۔ اس دوران اس کے کانوں سے دھواں نکل رہا تھا۔ جبکہ الیچ اسے بہت پیار سے دیکھ رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ہمیشہ پیار سے دیکھتا تھا اور کبھی نرمی سے بھی۔ آخر اس نے بے ساختہ پوچھا۔ ”میرے دوست! میں دیکھ رہا ہوں، لیکن سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ چولہا کیسے بناتے ہیں، دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں؟“

بوڑھا سوچنے لگا۔ یہ خیال اسے کبھی نہیں آیا، نہ اس پر کبھی غور کیا۔ اس کے پاس عقل کم تھی، واضح طور پر بہت کم، وہ جدید ذہنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ آخر بہت سوچ و بچار کے بعد جواب دیا۔ ”ایسا لگتا ہے ولادیمیر ایلیچ! بائیں سے دائیں طرف۔ ہاں، بالکل بائیں سے دائیں۔ میں ہمیشہ اپنا دایاں ہاتھ سامنے رکھتا ہوں اور بایاں ہاتھ پیچھے۔“

لینن یہ سن کر پورا سبز ہو گیا اور اس پر سرخ دھبے پڑ گئے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ کیسا نظارہ تھا؟ عالمی پرولتاریہ کا سبز رہنما سرخ دھبوں سے ڈھکا ہوا۔

”آہ میرے دوست! تم ایک رد انقلابی ہو!“ ایلیچ بے ہودگی سے چیخا۔ آرچی، میرے دوست! تم کو یقیناَ گولی مار دی جائے گی، جیسے ہی تم کام ختم کرو گے ہم تمہیں گولی مار دیں گے۔ سب کچھ دائیں طرف ہونا چاہیے۔ سب کچھ دائیں طرف ہونا، بالکل سب کچھ، میرے دوست! ”

جب لینن دیوانہ ہو رہا تھا۔ کونڈراٹی نے ایک شاندار چولہا بنایا۔ ایسا جو عجائب گھر میں رکھنے کے لائق تھا۔ مسالے سے بنے سجاوٹی کنگوروں اور دیگر فنی اور تعمیراتی خصوصیات سے مرصع، دوہرے ستون اور کگریں۔ فن تعمیر کا ایک شاہکار۔ مائیکل اینجلو کے مجسمے کی طرح۔ یہ سچ ہے کہ آپ اس میں دلیہ بھی پکا سکتے تھے، لیکن بہتر ہوتا کہ براہ راست عجائب گھر بھیجا جائے۔ جیسے ہی لینن نے اسے دیکھا۔ وہ جہاں کھڑا تھا وہیں گر پڑا۔ تاہم چولہا بنانے والا بھی گر گیا اور اردگرد موجود ہر شخص گر گیا۔ زلزلہ آ رہا تھا، دوسرا سشینسکوئے زلزلہ۔ گھر گر رہے تھے، ہر کوئی ادھر ادھر بھاگ رہا تھا، دھواں ایک آمرانہ طاقت کی طرح تھا، بچے چیخ رہے تھے، مرغیاں انڈے دے رہی تھیں، ڈھیروں سونے کے انڈے، مگر کسی کو انڈوں کی پروا نہیں تھی۔ کاش میں انڈوں کے ساتھ جہنم میں رہ سکتا۔ کشف بہت مہلک ہے اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس دوران کس طرح الیچ کی گرجدار آواز سنائی دی: ”ہم کمیونسٹ! محنت کی فتح پر یقین رکھتے ہیں!“

اور پھر ہر طرف خاموشی چھاگئی۔

مگر چولہا برقرار تھا۔ اس کے علاوہ چاروں طرف کچھ نہیں تھا۔ پھر وہ پیٹر اور پال فورٹریس کی طرح ایک پہاڑی پر طلوع ہوا۔ اس پر عظیم رہنما اور استاد ولادیمیر الیچ لینن خود ایک ٹوپی میں موجود تھے اور دوسری ٹوپی ان کے ہاتھ میں تھی اور تیسری ان کی جیب میں، ایک اور ان کے دانتوں میں دبی تھی۔ الیچ نے بلند اور غیر انسانی آواز میں اعلان کیا: ”چھوٹے چولہے! پائیک کے حکم پر ! انقلاب کی پکار پر ! پیٹرو گراڈ کی طرف چل دو !“

اور چولہا، چمنی سے دھواں چھوڑتا ایسے بھاگ کھڑا ہوا، جیسے راکٹ ہو۔ یہ وہ چولہا تھا جو عظیم کونڈراٹی پیٹرووچ نے بنایا تھا۔

اس کے بعد بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ اگرچہ لینن ہمیشہ زندہ رہا پھر بھی مر گیا اور لوگ کہتے ہیں کہ اس کی موت سے پہلے وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا کسی چیز کی فکر کر رہا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ عظیم رہنما کی آخری خواہش کیا تھی۔ لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں یا تو لینن نے پینے کو مانگی، یا سٹالن کو طاقت نہ دینے کی التجا کی، یا کچھ اور۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ الیچ کو چولہے کے بارے میں سب کچھ یاد تھا جو اسے بغاوت کے آغاز پر پیٹرو گراڈ لے آیا۔ وہ ایک اندھیری رات تھی، لوگوں نے چولہے کو بکتر بند گاڑی سمجھا۔ لینن نے اس پر سے چھلانگ لگائی اور چلایا۔ ”چلو! ذمہ داری سنبھالیں۔“

آپ نہیں جانتے کہ کیا سچ ہے؟ کیا افواہیں اور کیا قیاس آرائیاں ہیں۔ اگر آپ جانتے ہیں اور ہر اس چیز پر یقین رکھتے ہیں جو وہ آپ کو بتاتے ہیں تو آپ کو پتلون کے ساتھ چھوڑا جاسکتا ہے۔

کونڈراٹی اب بھی زندہ ہے۔ وہ اب بھی سشینسکوئے میں رہتا ہے، چولہے بناتا ہے، چائے پیتا ہے اور الیچ کو یاد کرتا ہے۔ آپ بھی عالمی پرولتاریہ کے شاندار رہنما کو یاد کریں گے۔ وہ ہر گھر میں آئے گا اور وہ اپنی شاندار سوچ سے انہیں کیسے جگمگائے گا۔ یہ دیکھنے کے لیے کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS