اللہ کا بڑا فضل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی بھی ایک لعنتوں کی لعنت تھی …. یعنی آخر گانا بھی انسانوں کا کام ہے …. تنبورہ لے کر بیٹھے ہیں اور گلا پھاڑ رہے ہیں۔ صاحب ، کیا گا رہے ہیں ، درباری کا نہڑہ، مالکونس، میاں کی ٹوڈی، اڈانہ اور جانے کیا کیا بکواس …. کوئی ان سے پوچھے کہ جناب آخر ان راگ راگنیوں سے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ آپ کوئی ایسا کام کیجیے جس سے آپ کی عاقبت سنورے۔ آپ کو کچھ ثواب پہنچے۔ قبر کا عذاب کم ہو۔

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. موسیقی کے علاوہ اور جتنی لعنتیں تھیں ان کا اب نام و نشان تک نہیں اور خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ یہ زندگی کی لعنت بھی دور ہو جائے گی۔

میں نے شاعر کا ذکر کیا تھا …. عجیب و غریب چیز تھی یہ بھی …. خدا کا خیال نہ آسکے رسول کی فکر نہ ہو بس معشوقوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی ریحانہ کے گیت گا رہا ہے کوئی سلمیٰ کے…. لاحول ولا، زلفوں کی تعریف ہو رہی ہے کبھی گالوں کی …. وصل کے خواب دیکھے جا رہے ہیں …. کتنے گندے خیالات کے تھے یہ لوگ، ہائے عورت وائے عورت …. لیکن اب اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان اول تو عورتیں ہی کم ہو گئی ہیں اور جو ہیں پڑی گھر کی چار دیواری میں محفوظ ہیں …. جب سے خطہ زمین شاعروں کے وجود سے پاک ہوا ہے فضا بالکل صاف اور شفاف ہو گئی ہے۔

میں نے آپ کو بتایا نہیں۔ شاعری کے آخری دور میں کچھ شاعر ایسے بھی پیدا ہو گئے تھے جو معشوقوں کے بجائے مزدوروں پر شعر کہتے تھے۔ زلفوں اور عارض کی جگہ ہتھوڑوں اور درانتیوں کی تعریف کرتے تھے …. اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان کہ ان مزدوروں سے نجات ملی، کم بخت انقلاب چاہتے تھے۔ سنا آپ نے ؟ تختہ الٹنا چاہتے تھے حکومت کا، نظام معاشرت کا ، سرمایہ داری کا اور نعوذ باللہ مذہب کا۔

اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ان شیطانوں سے ہم انسانو ں کو نجات ملی۔ عوام بہت گمراہ ہو گئے تھے۔ اپنے حقوق کا ناجائز مطالبہ کرنے لگے تھے۔ جھنڈے ہاتھ میں لے کر لادینی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے …. خدا کا شکر ہے کہ اب ان میں سے ایک بھی ہمارے درمیان موجود نہیں اور لاکھ لاکھ شکر ہے پروردگار کا اب ہم پر ملاﺅں کی حکومت ہے اور ہر جمعرات ہم حلوے سے ان کی ضیافت کرتے ہیں۔

آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ اس زمانے میں حلوے کا نام و نشان تک اڑ گیا تھا …. مسجدوں میں حجروں کے اندر بے چارے ملا ، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، پڑے حلوے کو ترستے تھے۔ ان کی لمبی لمبی نورانی داڑھیوں کا ایک ایک بال شیطانی استروں کی موت کی دعائیں مانگتا تھا۔ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ یہ دعائیں قبول ہوئیں۔ اب آپ کو اس کونے سے اس کونے تک چلے جائیے ساری دکانیں چھان مارئیے ، ایک استرا بھی آ پ کو نہیں ملے گا۔ البتہ حلوہ جوکہ ہمارے رہنما ملاﺅں کی مذہبی خوراک ہے آپ کو اب ہر جگہ اور ہر مقدار میں دستیاب ہو سکتا ہے۔

اللہ کا بڑا فضل ہے …. اب کوئی ٹھمری دادرا نہیں گاتا۔ فلمی دھنیں بھی مر کھپ گئی ہیں۔ موسیقی کا ایسا جنازہ نکلا ہے اور اس طور پر اسے زمین میں دفن کیا گیا ہے کہ اب کوئی مسیحا اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔ کتنی بڑی لعنت تھی یہ موسیقی۔ لوگ کہتے تھے آرٹ ہے۔ کیسا آرٹ ، کہاں کا آرٹ۔ یہ بھی کوئی آرٹ ہے کہ آپ نے کوئی گانا سنا اور دنیا کے دکھ تھوڑی دیر کے لیے بھول گئے۔ کوئی گیت سنا اور دل آپ کا بلیوں اچھلنے لگا …. حسن و عشق کی دنیا میں جا پہنچے …. لاحول ولا۔ آرٹ کبھی ایسا گمراہ کن نہیں ہو سکتا۔ ”گھونگھٹ کے پٹ کھول ….پائل باجی چھنن چھنن …. بابل نیر مورا چھوٹو جائے …. رتیاں کہاں گوائیں رے “ …. کوئی شرافت ہے ان بولوں میں …. اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اب ایسی خرافات موجود نہیں۔ الحمد للہ قوالی ہے۔ سنئے اور سر دھنیے۔ حال کھیلئے، ہُو حق کے نعرے لگائیے اور ثواب حاصل کیجئے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •