اہل غزہ کی قربانی:پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب


7 اکتوبر 2024 کو غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کو ایک سال ہو گیا۔ اس دوران اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے نسل کشی کا مرتکب بھی قرار دیا۔ اسرائیل کا بچوں، خواتین اور غیر جنگجو افراد کو نشانہ بنانے کا کھلا اعلان عالمی سطح پر ایک ایسی تشویشناک تبدیلی کا عکاس ہے، جہاں ”طاقت ہی سب کچھ“ کا نظریہ پروان چڑھ رہا ہے۔ درج ذیل اعداد و شمار اس کے گواہ ہیں۔

• اب تک 51,615 افراد، جن میں 16,756 بچے اور 11500 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی سفاکی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ 17,000 سے زیادہ بچے والدین میں سے ایک یا دونوں کھو چکے ہیں 97,303 افراد زخمیوں میں، 69 فیصد بچے اور خواتین ہیں۔ چند گھنٹے پہلے پیدا ہوک ر بم، گولی یا دھمک سے مرنے والے، بچے اسرائیل کے نزدیک دہشت گرد ہیں۔ زندہ بچے اور جو ماؤں کے پیٹ میں ہیں وہ بھی دہشت گرد ہیں۔ •ہلاک شدہ صحافیوں کی تعداد 175 ہے۔

• بیرونی راستوں کی بندش سے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی متعدد بار غزہ میں بے گھر کیے گئے۔

• 130 اجتماعی قبروں سے 520 لاشیں برآمد ہوئیں۔ الشفا ہسپتال کی اجتماعی قبر سے ملنے والی لاشوں کے سر کٹے ہوئے تھے۔ بیمار اور زخمیوں کے سروں کے اوپر دوسرے لوگ زندہ دفن کیے گئے۔

• جیلوں میں 20 ہزار سے زائد قیدی غیر انسانی سلوک اور تشدد کا شکار ہیں۔ موت ہو یا قید، بچے، جوان، بوڑھے، عورت، مرد سب برابر ہیں۔ 3,332 فلسطینی الزام یا مقدمے کے بغیر حراست میں ہیں۔

• 516000 رہائشی یونٹ ( 80 فیصد) مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور رہائش کے قابل نہیں۔ ان کی دوبارہ تعمیر میں 16 سال لگ سکتے ہیں۔ 3,000 کلومیٹر سے زیادہ بجلی نیٹ ورکس مکمل تباہ ہیں۔

•ایک سال میں، کم از کم 34 ہسپتالوں اور 80 صحت کے مراکز کو بند کیا گیا، 162 صحت کے ادارے اسرائیلی فورسز کی زد میں آئے اور 131 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا۔ ہسپتالوں پر اسرائیلی بمباری سے 986 طبی کارکن ہلاک ہوئے، جن میں 165 ڈاکٹرز، 260 نرسیں، 184 ہیلتھ ایسوسی ایٹس، 76 فارماسسٹ اور انتظامی اور معاون عملہ شامل ہیں۔

•غزہ کی آبادی کا تین چوتھائی ( 75 فیصد) صفائی کی کمی، کھلے سیوریج اور حفظان صحت تک ناکافی رسائی سے متعدی بیماریوں سے متاثر ہے۔ اسرائیل کے طبی سامان کی فراہمی سے انکار سے 350,000 دائمی بیماروں اور 10,000 کینسر کے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

•اسرائیل نے 123 سکول اور یونیورسٹیاں مکمل تباہ کیں اور 335 کو نقصان پہنچایا۔ 11,500 طلبہ 750 اساتذہ اور تعلیمی عملہ ہلاک ہو چکا ہے۔ گھروں کی تباہی کے بعد، سکولوں کے پناہ گاہوں میں تبدیل ہونے سے 625,000 بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

• 84 فیصد صحت کی سہولیات پر تباہ کن اثرات اسرائیلی 45000 سے زیادہ میزائلز اور بموں کا نتیجہ ہے، جو ہیروشیما پر گرائے چار ایٹم بموں سے زیادہ ہے۔

• گرائے گئے 45000 بموں میں سے 9 سے 14 فیصد بم پھٹ نہیں سکے جس کا مئی 2024 کے اوائل میں اقوام متحدہ کے مائن ایکشن سروس (UNMAS) نے اندازہ لگایا تھا۔ اس 12 ملین ٹن دھماکہ خیز مواد کی صفائی میں کم از کم 14 سال لگیں گے۔

•بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگ میں کسی آبادی کو عمدا بھوکا رکھنا جرم ہے اسرائیل نے بھوک سے مرنے والے فلسطینیوں کو امداد اور پانی دینے سے انکار کیا۔ 2.15 ملین افراد ( 96 فیصد آبادی) کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

• 95 فیصد آبادی مہینوں صاف پانی سے محروم تھی۔ مایوس ہو کر اہل غزہ کھارا پانی پینے، نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

• 25 جولائی 2024 کو امریکی کانگریس سے خطاب میں یاہو نے کہا ”اس دن کے بعد جب ہم حماس کو شکست دیں گے، ایک نیا غزہ ابھر سکتا ہے، میرا وژن ایک غیر مسلح غزہ ہے۔ اسرائیل غزہ کو پہلے کی طرح دوبارہ آباد کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔“

•غزہ گولہ بارود سپلائرز اور مینوفیکچررز کی ایک ”ٹیسٹنگ لیبارٹری“ بن چکی ہے۔ 2013 تا 2023 اسرائیل کو فراہم کردہ بڑے ہتھیاروں کا تخمینہ، 65.6 فیصد امریکہ، 29.7 فیصد جرمنی اور 4.7 فیصد اٹلی کا ہے جبکہ دیگر 10 ممالک نے بھی اسے اسلحہ دیا۔

•بائیڈن انتظامیہ نے اب تک اسرائیل کو گولہ بارود میں کم از کم 14,000 MK۔ 842000 بم، 6500۔ 500 پاؤنڈ بم، 3000۔ Hellfire پریسیژن گائیڈڈ ائر ٹو گراؤنڈ میزائل، 1000 بنکر بسٹر بم اور 2,600 ہوائی ڈراپ چھوٹے قطر کے بم اور فری فال ڈمب بم شامل ہیں، جو گرتے ہی تباہی مچاتے ہیں۔ سی این این کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں 50 فیصد ”ڈمب بم“ استعمال کیے۔

• ایک اور خطرناک بم JDAMs (جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک مونیٹیشن) ہے، یہ جی پی ایس کے ذریعے ہدف کو درست نشانہ بناتے اور پہلے دھماکے کے بعد فوری طور پر ثانوی حملے بھی کر سکتے ہیں، جس سے امدادی کارکن اور شہری بھی متاثر ہوتے ہیں۔

• غزہ میں بے رنگ سفید فاسفورس کیمیائی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔

• 80 فیصد مساجد، گرجے اور 40 فیصد قبرستان پیوند خاک کر دیے گئے۔ 8 دسمبر 2024 کو غزہ کی عظیم عمری مسجد کو فضائی حملے میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ اس کی 747 سال پرانی لائبریری جو قرآن کے نایاب نسخوں کا گھر تھی، کھنڈر میں تبدیل ہو گئی۔ • 410 کھلاڑی، اسپورٹس حکام یا کوچ مارے گئے اسرائیلی فورسز نے کم از کم 34 کھیلوں کی سہولیات، سٹیڈیم اور جم تباہ کیے ۔ ان میں سے 297 فٹبال کے کھلاڑی بھی تھے جن میں وہ 84 بچے شامل تھے جنہوں نے فلسطین کے لیے کھیلنے کے خواب دیکھے تھے۔

منطقی طور پر اب تک غزہ کی پوری آبادی کو ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر 23 میں سے 22 لاکھ انسانوں کا اب تک سانس لینا زندہ معجزہ ہے۔ اسرائیل حماس کی بالائی قیادت کے خاتمے اور مغرب کی لامحدود پشت پناہی کے باوجود غزہ میں ایک بھی عسکری ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ مغربی میڈیا کی یک طرفہ کوریج کے باوجود دنیا بھر کی سڑکوں اور یونیورسٹی کیمپس میں اسرائیل اپنی مظلومیت کا مزید پرچار کرنے سے قاصر ہے۔ بقول حنیف ساجد:

انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب

40 یہودی بچوں کے سر قلم کرنے کی فرضی کہانی اسرائیل نے پھیلائی تو بائیڈن نے بھی مذمت کردی مگر بعد میں منہ کی کھانی پڑی۔ رفح میں ایک فلسطینی اپنے ایسے کمسن بچے کی لاش اٹھائے ہوئے تھا جس کا سر دھڑ سے جدا تھا لیکن یہ دل دہلا دینے والا منظر مغربی میڈیا کی شہ سرخی نہیں بن سکا۔ 7 اکتوبر سے 25 نومبر تک گیارہ سو نیوز آرٹیکلز شائع ہوئے جن میں سے صرف دو میں مظلوم فلسطینیوں کا ذکر تھا۔ اسرائیل غصے میں کبھی عالمی عدالتِ انصاف پر مٹھیاں بھینچتا اور کبھی اقوامِ متحدہ کو یہود دشمنی کا گڑھ قرار دیتا ہے۔ اس کے سیکرٹری جنرل کی داخلے پر پابندی اسرائیلی بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ہے۔

• سلامتی کونسل کے 5 میں سے 3 ارکان امریکا، برطانیہ اور فرانس کی اندھی حمایت کے باوجود بھی آج کی نوجوان نسل ہٹلر کے روپ میں صرف نیتن یاہو کو جانتی ہے۔ اسرائیل عملاً نازی جرمنی کا دوسرا جنم ہے۔ ایک برس میں غزہ نے مغرب اور مغربی میڈیا ہی نہیں بلکہ خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے معاہدہِ ابراہیمی کی اصلیت سے بھی نقاب الٹ دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بقول خطے کا نقشہ بدلنے کا یہ سنہری موقع ہے، بقول کسے یہ خطہ عنقریب بدلے گا مگر اسرائیل کیا امریکہ سے بھی پہچانا نہیں جائے گا۔ اہل غزہ کی ثابت قدمی اس حقیقت کی دلیل ہے کہ :

میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا

Facebook Comments HS