اک اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی تلاش
نوابزادہ نصر اللہ خان کی وفات کے 21 سال بعد صدر آصف علی زرداری نے ان کی جمہوریت کے لئے خدمات کے اعتراف میں ”نشان امتیاز“ دینے کے لئے کابینہ ڈویژن کو ہدایات جاری کر دی ہیں سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کو ”نشان امتیاز“ بعد از موت دیا جائے گا پچھلے 21 سال کے دوران کسی حکومت کو ”بابائے جمہوریت“ نوابزادہ نصر اللہ خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کا خیال نہیں آیا یہ کار خیر مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر مشتمل حکومت میں صدر آصف علی زرداری کے ہاتھوں ہو نے جا رہا ہے 27 ستمبر کو نوابزادہ نصر اللہ خان کی 21 ویں برسی خاموشی سے گزر گئی کوئی تعزیتی ریفرنس ہوا اور نا ہی کسی اخبار نے ایڈیشن نکالا نا کسی ٹی وی چینل کو نوابزادہ نصر اللہ خان کی یاد آئی۔
نوابزادہ نصر اللہ خان سے تین چار دہائیوں سے یاد اللہ تھی ان سے چند ملاقاتیں نامور صحافی و دانشور آغا شورش کا شمیری کے ساتھ ہوئیں وہ جب کبھی اسلام آباد تشریف لاتے میں ان کو راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب ”میٹ دی پریس“ پروگرام میں مدعو کرتا یا ان کے ڈیرے پر جا کر حاضری دیتا نواب صاحب سے تعلق خاص اب ان کے صاحبزادے نواب افتخار علی خان سے قائم ہے جو اس وقت پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے رکن ہیں بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے نواب زادہ نصر اللہ خان کا تعلق پختونوں کی نورزئی شاخ سے تھا ان کے آبا و اجداد اٹھارویں صدی میں مظفر گڑھ کے قصبہ خان گڑھ میں آباد ہو گئے پھر اسی سرزمین کے حوالے سے ان کی شناخت بن گئی۔ قومی سوچ رکھنے والے سرائیکی لیڈر کی حیثیت سے ملک گیر شہرت پائی اور قومی سوچ کی وجہ سے انہیں عزت و توقیر سے دیکھا جاتا تھا۔
نوابزادہ نصر اللہ خان فرنگیوں کو بر صغیر پاک و ہند سے نکالنے کی تحاریک میں پیش پیش رہے انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز مجلس احرار سے کیا جہاں یہ جماعت، آزادی ہند کی علم بردار تھی وہاں اس جماعت کے پلیٹ فارم سے ختم نبوت کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا 1953 ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک میں پیش پیش رہے۔ انہیں 1951 میں خان گڑھ سے دو حلقوں سے پنجاب اسمبلی کا رکن بننے کا اعزا حاصل ہوا انہوں نے 1952، 1962، 1970، 1977، 1988، 1993، 1997 اور 2002 کے انتخابات میں حصہ لیا نوابزادہ نصر اللہ خان عوامی لیگ کے پلیٹ فارم پر سرگرم رہے عوامی لیگ دو حصوں میں منقسم ہو گئی تو نور الامین اور ائر مارشل اصغر خان کے ساتھ مل کر پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی بنائی لیکن یہ جماعت بھی زیادہ دیر متحد نہیں رہی نوابزادہ نصر اللہ خان کی ”ون مین پارٹی“ نوابزادہ صاحب کی شخصیت کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتوں پر بھاری تھی۔کبھی وہ پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے کبھی شکست کا سامنا کرنا پڑتا تاہم ان کی توانا آواز کی گونج پورے ملک میں سنائی دیتی تھی۔
ستمبر 2003 ء کے اواخر میں ان سے آخری ملاقات ان کی رہائش گاہ پر ہوئی اچانک ان کی طبیعت خراب ہونے کے باعث انہیں ہسپتال لے جایا گیا ان کی طبیعت کچھ سنبھلی تو انہوں نے 26 ستمبر 2003 کو ٔ اپنے معاون خاص جمشید سے کہا کہ سامان باندھیں گھر (خان گڑھ) واپس چلتے ہیں لیکن 26 اور 27 ستمبر کی درمیانی شب موت نے انہیں زندہ آبائی گھر جانے کا موقع نہیں دیا میں گنتی کے دو چار اخبار نویسوں میں ایک تھا جنہوں نے رات ایک بجے ان کا جسد خاکی اشک بار آنکھوں سے خان گڑھ کے لئے رخصت کیا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے 87 سال کی عمر میں وفات پائی ہے جب کوئی منچلا ان سے عمر کے بارے میں استفسار کرتا تو وہ ناگواری کا اظہار کرتے۔
نوابزادہ نصر اللہ خان نے تحریک خلافت میں ”ترکی ٹوپی“ کا استعمال شروع کیا تو پھر ترکی ٹوپی ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی اسی طرح حقہ نوابزادہ نصر اللہ خان کا جزو لاینفک تھا ان کے حقہ کو قومی سطح پر شہرت حاصل تھی وہ جس جگہ جاتے حقہ ان کے ساتھ ہوتا۔ نوابزادہ نصر اللہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں اسلام آباد سے واپس خان گڑھ روانہ ہوتے تو وہ رازداری سے کہا کرتے کہ خبر لگا دینا اگلے ہفتہ پھر واپس آ رہا ہوں۔ ان کا اشارہ آرمی ہاؤس کے مکین (پرویز مشرف ) کی طرف ہوتا تھا کہتے خبر لگ جانے سے ان کو پریشانی لگی رہے گی۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کو آئس کریم کھانے کا شوق تھا وہ ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود آئس کریم کا شوق فرماتے۔ ایک بار بے نظیر بھٹو نے ان سے ازراہ مذاق کہا کہ ”ہم نے آپ کی تمام کمزوریوں کو جاننے کی کوشش کی لیکن آئس کریم کی کمزوری کا علم نہ ہو سکا۔ وہ ایک پیدائشی سیاست دان تو تھے ہی لیکن شعر و ادب سے خوب لگاؤ تھا
عمر بھر آئین کی حکمرانی کی جدوجہد کرتے گزری ان کی زندگی قید و بند سے عبارت ہے صرف جنرل ضیا الحق کے دور میں ہی5 سال تک قید رہے۔ کم از کم نکات پر سیاسی اتحاد قائم کرنا نواب صاحب کی سب سے بڑی صلاحیت تھی، ایوب خان کے دور میں پارلیمنٹ میں قدم رکھا تو ڈی اے سی بنا دی اور بالآخر ان کو گھر بھجوا دیا انہوں نے جنرل ضیا الحق کی آمریت کے خاتمہ کے لیے ایم آر ڈی قائم کی انہوں نے بے نظیر کے دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ سے صدارتی انتخاب لڑنے سے انکار کر دیا۔ نوابزادہ نصر اللہ کو اس بات اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 23 مارچ 1940 ء کو منٹو پارک لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی نوابزادہ نصر اللہ سیاست میں دیانت کی علامت تھے ان کے دامن پر آلودگی کا کوئی نشان نہ تھا بھٹو حکومت میں ان کے اثاثوں کی تحقیقات کرائی گئی تو خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے اثاثوں میں کمی آئی، وہ اپنی آبائی اراضی فروخت کر کے سیاست کرتے تھے مال بنانا ان کی کتاب سیاست میں شامل نہیں تھا۔ ایوب خان کی آمریت ہو یا ذوالفقار علی بھٹو کی فسطائیت، بے نظیر بھٹو کی حکومت ہو یا نواز شریف کا راج نوبزادہ نصر اللہ خان اپوزیشن کو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہے ملک میں پرویزی مارشل لاء کے نفاذ کے بعد یہ نواب زادہ نصر اللہ خان ہی تھے جنہوں نے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ جب بھی کسی طالع آزما نے جمہوریت پر شب خون مارا تو نوابزادہ نصر اللہ خان شمشیر برہنہ کی طرح میدان میں نکل آتے اسی لئے انہیں بابائے جمہوریت کا خطاب دیا گیا۔ بدقسمتی سے 21 سال سے ملک میں سیاسی ماحول میں کشیدگی پائی جاتی ہے ملک میں متحارب سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے والی کوئی شخصیت نہیں 8 فروری 2024 ء کے انتخابات نے ملک میں سیاسی ماحول میں کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے ریاستی اداروں کے درمیان تصادم کی کیفیت ہے سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے والی نوابزادہ نصر اللہ خان جیسی شخصیت نہیں۔ مفتی محمود مرحوم کے سیاسی جانشین مولانا فضل الرحمٰن ایک ایسی شخصیت ہیں جو آئینی و سیاسی بحران کی شدت میں کمی پیدا کر سکتے ہیں لیکن وہ اپنا سیاسی وزن کسی پلڑے میں ڈالنے سے گریزاں ہیں ریاستی اداروں میں تصادم کی وجہ سے جمہوریت کو سنگین خطرات لاحق ہیں اس وقت ایک اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی ضرورت ہے جو جمہوریت کی کشتی کو طوفانی تھپیڑوں سے کمال مہارت سے نکالے۔


