جُز وقتی صحافی اور کینیڈا


جز وقتی صحافی اور کینیڈا مجھ سمیت بہت سے لوگ پارٹ ٹائم صحافت کے دعوے دار ہیں، تاہم اس کی متعدد اقسام ہیں، توصیفی صحافت، تعمیری صحافت، تنقیدی صحافت اور تحقیقاتی صحافت۔ ان سب میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے اچھی ریسرچ اور عمدہ تحریر۔ کسی ایک کی بھی کمی اسے سطحی اور غیر مستند بنا دیتی ہے۔

اس بحث میں جائے بغیر کہ اپنے آپ کو صحافی کہلوانے کے لئے کیا قابلیت درکار ہے، بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ایک اٹلانٹک کا سمندر ہے اور پی آئی اے سے سے آنا ہے۔ جی ہاں، جیسے ہی آپ نے سات سمندر پار پرواز بھری، اسی دن سے آپ اپنے آپ کو جو کچھ بھی کہلوانا چاہیں وہ کہلوا سکتے ہیں، کسی مائی کے لعل میں جرات نہیں کہ اس پر کوئی شک کرسکے۔

آئی پی ٹی وی (انٹرنیٹ) والی سرکار کی مشروم گروتھ، یعنی خود رو کیکر نے سونے پہ سہاگہ کے مصداق کام کیا ہے۔ ایک عدد کوٹ، مائک، لائٹ، کیمرہ اور ایکشن۔ پھر آپ کے جو جی میں آئے فرمائیے، کچھ ہی دنوں میں آپ محفلوں میں ایک منجھے ہوئے صحافی، یا میڈیا پرسن کہلائے جا سکیں گے۔ صبح کے ناشتے سے رات کے ڈنر تک اور بچوں کے عقیقے سے شادی ولیموں تک آپ کی رسائی ہو جائے گی۔

اگر کچھ لوگ کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کی گڈ بک میں آ جائیں تو ان کے کیا ہی کہنے، ان بے چارے ممبر پارلیمنٹ نے کون سا اٹلانٹک پار میڈیا پرسن کی جانچ کی ہوئی ہوتی ہے۔

تارکین وطن کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ان کا جغرافیہ بدلتا ہے ان کی وہاں کے بارے میں تاریخ بھی اسی دن سے شروع ہوتی ہے۔ وہ ہر ایک سے سوال کرتے پھرتے ہیں کہ بھئی میڈیا پرسن تو میں ہوں آپ کون؟ یہ ماضی سے مکمل کورے اور لا علم لوگ ہوتے ہیں۔

تو بات ہو رہی تھی پاکستانی نژاد کینیڈین سیاسی رہنماؤں کی۔ ان میں سینیٹر سلمی عطا اللہ جان انتہائی قابل عزت اور محترم نام ہے جو پاکستانی کمیونٹی میں ہر دلعزیز ہونے کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم انہیں بھی اپنے ارد گرد اٹلانٹک زدہ نام نہاد افراد سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، ویسے وہ خود بھی بے حد سمجھدار ہیں۔ تھوڑا کہے کو بہت جانیئے گا۔

مقبولیت کے درجے پہ فائز ہونے کے لئے اگر کسی کے پاس کوئی تعمیری فرصت نہیں تو وہ تنقید برائے تنقید کا راستہ اپنا لیتے ہیں۔ یہاں اختصار سے اس کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ایسے افراد کو یہاں کسی بھی طرح سے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور یہ اکثر آپ کو محفلوں میں ایک دوسرے کے کان میں انتہائی رازداری سے ایک دوسرے کا پول کھولتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی یہ کسی کاروباری ادارے پہ الزام لگا دیتے ہیں تو کبھی کسی چیریٹی پہ۔ معصوم عوام بھلا کیا جانے کہ ان کی تحقیقات کی بنیاد کیا ہے۔

چیریٹی کی بات نکل ہی پڑی ہے تو بس یہ جان لیں کہ کینیڈا کے وفاقی ادارے کے پاس سب کی معلومات ہیں۔ ویب سائٹ پہ ہر شے دستیاب ہے۔ آپ جب چاہیں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ کوئی بے قاعدگی نہیں ہے۔ اسی ڈیٹا کو مدعا بنا کر ایک عدد محدب عدسہ لگا کر اور اس میں سے بے بنیاد نکات نکال کر اپنی ”تحقیقاتی صحافت“ کی دکان لگاتے ہیں۔ جبکہ سرکار کی نظروں میں یہ سب کچھ قواعد کے مطابق اور مکمل قانونی ہے۔ اس نکتہ چینی کی وجہ سے بہت سے نیک مقاصد کے لئے کی جانے والی فنڈ ریزنگ اور چیریٹی و امدادی تنظیمیں بھی خوامخواہ مشکوک دکھائی دینے لگتی ہیں اور عوام کنفیوزڈ۔

کھارے اٹلانٹک کے پانی سے آلودہ یہ جُز وقتی صحافت سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ شریف لوگ خاموش رہ کر کچھ نہیں کہتے تو ان کا حوصلہ اور بڑھ جاتا ہے۔ انہیں یہ بات یاد نہیں کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پہ کنکر نہیں پھینکا جاتا۔ اگر دوسری طرف سے ایک بھی اینٹ آئی تو ساری اگلی پچھلی صحافت کرچی کرچی ہو کر بکھر جائے گی۔

کینیڈا ایک بہت خوبصورت معاشرہ ہے براہ مہربانی اسے اپنے بیگج میں ساتھ لائے ہوئی کیچڑ سے آلودہ نہ کریں۔ یاد رکھیں، دنیا کے سبھی لوگ خوبصورت ہیں۔ بدصورتی ہمارے رویوں اور سوچ میں ہے۔

Facebook Comments HS

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 27 posts and counting.See all posts by anis-farooqui