ڈی سی آفس گجرات کے منشی خاں بھی رخصت ہوئے
1990 ء کی دہائی کے آخری سالوں میں گجرات میں ایک ڈپٹی کمشنر آ کر لگے جن کا نام ملک خیر محمد ٹوانہ تھا۔ سرگودھا کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ملک خیر محمد ٹوانہ 28 مارچ 1997 ء سے 23 نومبر 1999 ء تک پونے تین سال گجرات میں ڈی سی تعینات رہے۔ گجرات کا ڈی سی آفس ان دنوں انگریز دور میں تعمیر کی ہوئی ایک پرانی بلڈنگ میں واقع تھا۔ موجودہ ڈی سی آفس نئے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں منتقل ہو چکا ہے۔
ٹوانہ صاحب کے پاس ان دوران ضلع کونسل گجرات کے ایڈمنسٹریٹر کا اضافی چارج بھی تھا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالتے ہی ایکسین بلڈنگ گجرات کو اپنے دفتر بلایا اور ان سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ڈی سی آفس کی پرانی بلڈنگ کی رینویشن (تزئین و آرائش) چاہتے ہیں۔ اس لیے فوری طور پر کام شروع کروایا جائے۔ یہ ایک لحاظ سے خواہش کے ساتھ ساتھ آرڈر بھی تھا۔
کسی بھی ضلع کا ڈی سی بلحاظ عہدہ تمام ضلعی محکموں کا باس ہوتا ہے۔ دیگر سرکاری افسروں کو اپنی فیلڈ پوسٹنگز بڑی عزیز ہوتی ہیں۔ اس لیے بہت کم ضلعی افسر خاص کر ضلعی ترقیاتی محکموں کے افسران کسی ڈی سی کو انکار کی جرآت کر پاتے ہیں۔ اس لیے ایکسین بلڈنگ بھی رینویشن کے لیے مطلوبہ فنڈز نہ ہونے کے باوجود انکار نہ کر سکے۔ انجینئر تنویر انور ان دنوں گجرات میں ایکسین بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ تھے۔ جو بعد ازاں محکمہ مواصلات و تعمیرات پنجاب سے بطور چیف انجینئر ریٹائر ہوئے۔
خیر ڈپٹی کمشنر کے حکم کی بجا آوری کے لیے ایکسین صاحب نے متعلقہ سب ڈویژن کے ایس ڈی او و سب انجنئیر کو فوری طور پر نہ صرف کام کا تخمینہ لگانے، بلکہ تخمینے و کسی ٹینڈر کی منظوری کے بغیر ہی کام شروع کرنے کا کہہ دیا۔ میں ان دنوں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد محکمہ بلڈنگ میں اپنے کنٹریکٹر بھائی کے ساتھ مختلف کاموں میں ان کی اعانت کر رہا تھا۔
ایکسین تنویر صاحب نے ایک دن مجھے بلا کر کہا کہ آپ کی ایک فیور چاہیے۔ اور وہ یہ کہ ڈی سی آفس میں رینویشن کا کام شروع کروانا ہے۔ آپ میرے ساتھ ڈی سی آفس چلیں۔ وہاں تعینات ہونے والے نئے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرنی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کام جلدی شروع کرنا ہے۔ ٹینڈر وغیرہ کا پراسیس بعد میں ہو جائے گا۔ عموماً سرکاری عمارات کی سالانہ مرمت و رینویشن کا کام ایسے ہی ہوتا ہے۔ ہنگامی طور پر محکمہ کے ٹھیکیداروں سے ایڈوانس کام کروا لیا جاتا ہے۔ جس کا اکثر اوقات تخمینہ، اس کی منظوری، ٹینڈر یا کوٹیشن ورک بعد میں ہوتا رہتا ہے۔
ایکسین تنویر صاحب کے ساتھ نئے ڈپٹی کمشنر ملک خیر محمد ٹوانہ سے ملاقات خوشگوار رہی۔ وضعدار شخصیت کے مالک ملک خیر محمد ٹوانہ صاحب کو بڑا سادہ مزاج اور با اخلاق انسان پایا۔ دوران ملاقات انہوں نے اس وقت کے ضلع کونسل کے ایکسین چوہدری خوشی محمد کو بھی بلوا لیا۔ تنویر صاحب نے تین لاکھ جبکہ ضلع کونسل سے خوشی محمد صاحب نے پانچ لاکھ کے فنڈز کی یقین دہانی کروائی۔
ٹوانہ صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی کام معیاری ہونا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ایکسینز سے سنجیدگی سے کہا کہ آپ یا آپ کا عملہ میرے آفس کے کام کی کوئی کمیشن نہیں لے گا۔ انہوں براہ راست مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی آپ سے کمیشن طلب کرے تو میں یہ بات ان کے نوٹس میں لاؤں۔
مگر ”چھٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ سے لگی ہوئی“ کے مصداق ڈپٹی کمشنر کے کہنے کے باوجود سرکاری تعمیراتی محکموں کا عملہ ٹھیکیدار سے کمیشن نہ لے یہ ایک ناممکن سی بات تھی۔ جو بعد میں درست بھی ثابت ہو گئی۔ کیونکہ عملے کے پاس کوالٹی کے نام پر ٹھیکیداروں کو تنگ کرنے کے ایک سو ایک حربے ہوتے ہیں۔ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تو خیریت رہی کہ انہوں کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔
اب ہوا یوں کہ کام کو شروع ہوئے ابھی ہفتہ دس دن ہوئے تھے کہ ضلع کونسل کے ایک سب انجنئیر آ گئے۔ آتے ہی غصے سے کہنے لگے کہ آپ لوگ درست طور پر کام نہیں کر رہے۔ فرش میں شیشہ کے پینل بھی درست طریقے سے نہیں لگائے گئے۔ ان سب کو اکھاڑ کر دوبارہ سے نئے فرش ڈالیں۔
کام پر لگائے مستری مزدوروں کی آٹھ دس دیہاڑیوں کے علاوہ سیمنٹ و دیگر میٹیریل کے نقصان کی بات ہضم کرنی خاصی مشکل تھی۔ اس ناگہانی آفت پر بڑے بھائی سے بات کی تو انہوں نے کہا ڈی سی صاحب نے تو کمیشن نہ لینے کا کہہ دیا ہے مگر عملہ آپ کو ڈی سی کے آگے اپنی کارروائی ڈالنے کے لیے مختلف حیلے بہانوں سے گاہے گاہے ایسے ہی تنگ کرتا رہے گا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ یا تو بد دل ہو کر کام چھوڑ کر بھاگ جائیں گے یا پھر عملے کو کمیشن دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔
انہوں نے اس موقع پر مشورہ دیا کہ اگر تو محکمے میں مزید کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ساکھ کو بھی بہتر رکھنا ہے تو دوسرے آپشن پر عمل کریں۔ اور ڈی سی کو بتائے بغیر خاموشی سے انہیں کمیشن دینے کی یقین دہانی کروا دیں۔ پھر اچھے نتائج آپ کے سامنے ہوں گے۔ اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہم نے اگلے روز ضلع کونسل جا کر ایکسین و دیگر عملے کو یقین دہانی کروا دی کہ آپ فکر نہ کریں ڈی سی صاحب کو کچھ نہیں بتایا جائے گا۔ محکمے کی کمیشن کے حوالے سے جو روٹین مقرر ہے اس پر عمل ہو گا۔
یہ بات کہنے کی دیر تھی کہ فوری طور پر مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے۔ عملے کے چہروں پر خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ ان کے رویے بھی تبدیل ہوتے چلے گئے۔ انجنئیرنگ برانچ کے ایک افسر کہنے لگے آپ تو سمجھدار آدمی لگے ہیں۔ جائیں جا کر تسلی سے کام شروع کریں۔ حالانکہ کام تو پہلے ہی درست طور پر ہو رہا تھا۔ تاہم پھر ڈالے گئے وہی فرش نہ صرف کوالٹی کے اعتبار سے درست قرار پا گئے بلکہ پھر کبھی ضلع کونسل کے عملے کی جانب سے غیر ضروری طور پر تنگ نہیں کیا گیا۔ ملک خیر محمد ٹوانہ صاحب جو نیچے سے ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچے تھے فطرتاً ایک شریف آدمی تھے وہ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے آفس کے کام کی کمیشن نہیں لی گئی۔
تعمیراتی کام کے دوران ڈسی سی آفس میں اس دوران کئی لوگوں سے شناسائی ہوئی۔ ان میں دراز قد اور بارعب ڈی سی کے پی اے چوہدری اکرم، دھیمے مزاج کے آفس سپرنٹنڈنٹ امیر سلطان، ہیڈ کلرک باؤ حمید اور گورالی سے تعلق رکھنے والے خوش رو و خوش لباس ڈسٹرکٹ ناظر صغیر احمد میر سے کئی برس تک احترام کا رشتہ رہا۔
جبکہ دیگر سٹاف میں شامل خوش اخلاق عبدالخالق بھی تھے۔ عبد الخالق کئی سال تک ڈی سی کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔ بعد ازاں ان کے بیٹے نصیر احمد نے سی ایس ایس کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ”ان کی ایلوکیشن“ ان لینڈ ریونیو سروس ” (آئی آر ایس) گروپ میں ہوئی۔ اس پر عبدالخالق ہمیشہ فخر کرتے رہے۔ (عبدالخالق اور صغیر احمد میر اب اس دینا میں نہیں ہیں ) یہیں پر لیگل برانچ میں ملک نواز، جنرل برانچ میں ساجد بھٹی سے بھی تعارف ہوا۔ جبکہ درجہ چہارم کے ملازمین میں محنت سے کام کرنے والے منشی خان اور پرویز تو ڈی سی آفس میں کافی ہردلعزیز تھے۔
ڈی سی آفس میں آتے جاتے مجھے نرم خو اور دھیمی مسکراہٹ والے مجسمۂ اخلاق منشی خاں بہت اچھے لگے۔ جو اکثر و بیشتر صاف ستھرے شلوار قمیض کے اوپر واسکٹ اور سر پر جناح کیپ پہنے مسکراہٹ سے ملتے۔ دوران سروس ان کی زیادہ تر ڈیوٹی مختلف اوقات میں تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ رہی۔ وہ آنے والے مہمانوں کو چائے پانی کا پوچھتے۔ پرویز ان کی اعانت کے لیے ہمہ وقت ان کے ساتھ موجود ہوتا۔
ڈپٹی کمشنر سمیت منشی خاں کو دفتر میں سب ”حاجی صاحب“ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ مجھ سمیت دفتر میں کام کرنے والی ہماری لیبر کے ساتھ بھی مہربانی سے پیش آتے اور بغیر کسی لالچ یا صلہ کے کام کے دوران انہیں آسانیاں فراہم کرنے میں پیش پیش ہوتے۔
گجرات کا پرانا ڈی سی آفس انگریز دور میں تعمیر ہوا تھا۔ اس پرانی بلڈنگ کی رینویشن کا کام کئی ماہ تک چلتا رہا۔ جس میں بلڈنگ کے فرنٹ میں گٹکا ٹائلز، المومینم کی کھڑکیاں، ڈی سی آفس، ریٹرینگ روم، کانفرنس روم و ڈی سی کورٹ کی وال پینلنگ، فالس سیلنگ سمیت الیکٹرک و پلمبنگ و دیگر کام مکمل کیا گیا۔ کام ختم ہونے کے بعد بھی جب کبھی ڈی سی آفس جانا ہوا منشی خاں ویسے ہی عزت سے پیش آتے، چائے کا تو ضرور پوچھتے تھے۔
گزشتہ دنوں حاجی منشی خاں کے انتقال کی خبر دل کو اداس کر گئی۔ ایسے شفیق، مہربان اور اجلی شہرت کے حامل سرکاری اہلکار اب نایاب ہیں۔ منشی خاں کے دبئی میں مقیم صاحبزادے مرتضیٰ بٹ سے اظہار تعزیت کیا اور ان کے والد کے حالات زندگی سے مزید آگاہی ہوئی۔
مرتضیٰ بٹ نے بتایا کہ کشمیری النسل ان کے والد منشی خاں 18 مئی 1942 ء کو راجوری، جموں کشمیر میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت وہ اپنی فیملی کے ہمراہ جموں کشمیر میں تھے جب اچانک ان کے خاندان کو جموں سے پاکستان ہجرت کرنی پڑی۔ لیکن ان کے والد کامیاب نہ ہو سکے۔ کیونکہ ان کی والدہ جموں کشمیر چھوڑنے پر راضی نہ تھیں۔ ان کو بارڈر سے واپس جموں کشمیر لے جایا گیا۔ جبکہ ان کے خاندان کے کئی لوگ ہجرت کر کے پاکستان آچکے تھے مگر منشی خاں اپنی والدہ کے ساتھ جموں کشمیر میں رہ کر ان کی خدمت کرتے رہے۔ یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا۔ چونکہ خاندان کے زیادہ تر لوگ پاکستان آ گئے تھے۔ ان کے پاکستان آ جانے سے اب ان کی والدہ جموں کشمیر اداس رہتی تھیں۔
1965 ء میں منشی خاں کو موقع ملا تو وہ اپنی والدہ اور اہلیہ کو لے کر پاکستان آ گئے۔ کیونکہ اس مرتبہ ان کی والدہ پاکستان آنے پر راضی ہو گئی تھیں۔ پاکستان واپس آ کر دوبارہ سے نئی زندگی شروع کرنا منشی خان کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ محنت اور لگن کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کی اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ ابتداء میں منشی خاں کو پاکستان ریلوے میں ڈیلی ویجز کی ایک ملازمت ملی، جس سے وہ اپنے خاندان کی کفالت کرتے رہے۔ بعد ازاں اپنے بڑے بھائی کی جان پہچان سے منشی خاں کو ڈی سی آفس گجرات میں درجہ چہارم میں نائب قاصد کی ملازمت مل گئی۔
یہ ایک سرکاری اور مستقل نوکری تھی۔ جس نے انہیں اپنی فیملی کو معاشی طور پر قدرے مستحکم کرنے اور بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں مدد دی۔ یہاں سے ان کی زندگی کا ایک اور روشن باب شروع ہوا۔ منشی خان محنت سے اپنا کام کرنے والے ایک خدا ترس، ایماندار اور صوم صلوٰۃ کے پابند انسان تھے۔ قرآن پاک کی تلاوت ان کا روز کا معمول تھا۔ اپنی محدود تنخواہ میں ساری زندگی انہوں نے رزق حلال سے اپنی اولاد کی کفالت کی اور اپنے بچوں کو اچھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔
1994 ء میں منشی خاں کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے معمولات زندگی کو مزید اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنے کو ترجیح دی۔ منشی خان کے چار بیٹوں میں سے دو بیٹے افضل بٹ اور مقصود بٹ بھی ڈی سی آفس گجرات میں ہی ملازمت کرتے ہیں۔ تیسرا بیٹا پاکستان میں پرائیویٹ ملازمت جبکہ چوتھا بیٹا مرتضیٰ بٹ یو اے ای میں مقیم ہے۔ منشی خاں کے بیٹے مرتضیٰ بٹ کے بقول ”انکے والد نے ساری زندگی نہ اپنی اولاد کو کبھی مارا، نہ جھڑکا۔ وہ ایک شفیق، مخلص اور محبت کرنے والے والد تھے۔” 1970 ء کی دہائی میں منشی خاں نے ڈی سی آفس گجرات میں ملازمت شروع کی۔ اپنی تیس سال سے زائد عرصہ ملازمت کے دوران وہ درجنوں ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ منسلک رہے۔ شرافت، ایمانداری اور اپنے کام کے ساتھ لگن کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ انہیں پسند کرتی تھی۔ اسی لیے اپنی ملازمت کا زیادہ عرصہ وہ ایک ہی سیٹ پر رہے۔ زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود وہ گہرا مشاہدہ رکھنے والے ایک زیرک انسان تھے۔ نئے آنے والے ڈپٹی کمشنرز جلد ان سے مانوس ہو جاتے اور کئی معاملات میں ان پر بھروسا کرتے تھے۔ غریب اور بے وسیلہ سائلین کی ڈپٹی کمشنر تک رسائی منشی خاں کی سال ہا سال اولین ترجیح رہی۔
سنہ 2002 ء میں ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے اپنا زیادہ وقت پابندی صوم و صلوٰۃ اور گھر میں اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے لیے وقف کیے رکھا۔ ایک سچے عاشق رسول ﷺ اور اجلے کردار کے حامل حاجی منشی خاں 31 جولائی، 2024 کو حسبِ معمول رات کو سوئے اور صبح فجر کے وقت سوتے میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ یکم اگست کو نمازِ جنازہ کے بعد انہیں گجرات کے نور پور والے قبرستان میں والدہ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے بیٹے نے بتایا کہ منشی خاں کی وفات کے بعد خاص کر ان کے پوتے پوتیاں اور اور نواسے نواسیاں انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کی نایاب ہوتی نسل کے کیا خوبصورت آدمی تھے منشی خاں۔


