سندھ گُلال: دھرتی کی محبت اور تاریخ کے ادراک کا سفر!


سندھ، سندھو ماتھری، تہذیبِ سندھو اور اس کے لوگوں کی تاریخ بے شمار حُسناکیوں، نشیب و فراز، رومانوی اور رزمیہ قصوں کہانیوں اور داستانوں خواہ حادثات و المیات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف صدیوں سے نو آبادیاتی اور ان کے حواری مقامی حکمران طبقات اور گماشتوں نے سندھ اور سندھ کے لوگوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب سُمنگ چارن اور بھاگُو بھان کی لوک رزمیہ شاعری سے لے کر شاہ لطیف اور شیخ ایاز کی کلاسیکل اور جدید شاعری تک، سائیں جی ایم سید کی ”شعارِ سندھ“ سے محمد ابراہیم جویو کی ”شاہ سچل سامی“ تک سندھ کی تاریخ کو درست اور واضح طور پر پیش کرنے کی عالمانہ کوششوں، رسول بخش پلیجو کے انقلابی ”گنوارن کی باتیں“ اور ایک نئے سماج کے داعی ”دھراڑوں کی ضربیں“ میں سے پروان چڑھنے والے جدید عوامی انقلابی بیانیے اور سراج الحق میمن کے ناول ”پڑاڈو سوئی سڈ“ اور غلام نبی مغل کے ناول ”اوڑاھ“ تک سندھ کے جدید ادب کی جوابی تعبیرِ سندھ کی تشکیل دراصل مختلف ادوار کے غاصبوں کی گمراہ کن تاریخی تاویلوں کی جوابی تشکیل کا ہی تسلسل تھا۔

جب کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے ”جیئے سندھ اور جیئے سندھ جامِ محبت پیئے سندھ“ جیسی رہنما ترقی پسند اور وطن دوست نظم لکھی تھی تو وہ بھی دراصل نئے سندھ کا قومی ترانہ اور طبقاتی منشور تھا۔ جو کہ سکندر مقدونی سے لے کر ایرانیوں تک، عربوں سے ارغونوں، تُرخانوں، مغلوں، انگریزوں اور مذہب کے نام پر وہی سامراجی دھندھا کرنے والے قابض گروہوں اور صدیوں سے سندھ کے اندرونی اور عوام دشمن قبائلی، جاگیردارانہ، سرمائی دارانہ اور رجعت پسند حکمران طبقات سے لاتعلقی اور بغاوت کے حَسین اظہار کا تسلسل تھا۔

یہ بیانیہ جو کہ ایک نئے سندھ کی دریافت تھی۔ نئے سندھ کا مطلب ایک جدید، روشن خیال اور خودمختار ترقی پسند سندھ ہے۔ وہ دراصل اپنی تاریخی مقامیت کی آنکھ سے قومی اور عوامی انقلابی نقطہٴ نظر کی ازسرِ نو تشکیل اور تاریخ کا حساب کتاب درست کرنے کی بھرپور باغیانہ اور عوامی انقلابی فکری کوشش تھی۔ غاصبوں کے بدمست گھوڑوں کی ٹاپوں کے منحوس شور اور دھرتی کی مٹی اور سندھو کے پانی سے گوندے ہوئے مقامی لوگوں کے سُریلے الاپوں کا یہ جدل دورِ قدیم سے چلتا آ رہا رہے اور ان دونوں متضاد روایات کی یہ جنگ اور ان کی تعبیریں تاحال جاری ہیں۔ اور شاید طویل مدت تک جاری رہیں گی کہ سماج اب بھی جابر اور عوام دشمن قوتوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔

سندھو دریا جہاں جہاں سے بھی بہتا آتا ہے، اپنی ماتھری اور تہذیب کے نقوش اپنی زرخیز مٹی اور اپنے امرت جل سے گوندے لوگوں اور مقامات کی صورت میں انہیں جوڑتا، پالتا اور سنبھالتا آتا ہے۔ رانا محبوب اختر کے وجود کی تشکیل بھی سندھو کی اس خالص مٹی، اُس کے امرت جل اور سندھو تہذیب کے نمائندہ آتشی رنگ و روح یعنی سدھارتھ کے نروانی گیڑو رنگ سے گوندی ہوئی ہے۔ یہ مٹی گویا جدید سیاسی شعور اور قدیم تہذیبی ادراک کے کمہار کے لوک دانائی و ہنرمند ہاتھوں سے گوندھی ہوئی ہے۔

یہ شخص ملتان سے مشرق کی طرف واقع اُس شہر کوٹ ادُو سے تعلق رکھتا ہے، جسے دریاؤں کا شہر یا وسیب کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس کی وجودی تعمیر اور تراش سندھو کی مٹی اور اسی کے امرت پانی کے امتزاج سے ہوئی تھی، لہذا اس کے وجود کے ذرے ذرے میں سندھو نے اپنے اِتہاس، اپنی تاریخ کی سینکڑوں داستانیں، دلبریاں اور اَن کَہے درد منتقل کر دیے تھے۔ اس کے وجود کا جُز اپنے اِتہاس کے کُل سے اس طرح جُڑا رہا، جیسے لطیف سائیں نے کہا تھا کہ:

ڪَڙو مَنجھہ ڪَڙی، جیئن لوھارَ لَپیثیو،
منھنجو جیءُ جَڙی، سُپیرین سوگھو ڪیو۔

(ترجمہ: جیسے لوہار نے زنجیر کی کڑیوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے ویسے ہی محبوب نے میرے دل کو اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے )

اس کے داخلی وجود یعنی من کو چونکہ سندھو جیسے محبوب نے اپنے ساتھ جَڑ کر، قابو کر لیا تھا تو پھر اس نے بھی اس رشتے کو اپنی روح کی امانت سمجھ کر خوب سنبھالا ہے۔ ان کی حال ہی میں شایع شدہ کتاب ”سندھ گُلال“ اسی روحانی امانت کی شعوری پاسداری کا ایک تخلیقی اظہار ہے۔

”سندھ گُلال“ محض ایک کتاب نہیں ہے، یہ رانا محبوب کی بے پایاں محبت کے قدموں اور تاریخ کے ادراک کی آنکھوں سے کیا گیا طویل سفر ہے، جسے وہ سفرنامہ اس لئے نہیں کہتے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سفرنامہ غیر ملک کا کیا اور لکھا جاتا ہے اور سندھ تو ان کی روح اور وجود کا ازلی وسیب ہے، یہ تو سندھو کی تہذیب کا آخری مقام ہے، سندھو کے سفر کی وہ آخری آرام گاہ ہے، جہاں اُس کی مٹی حتمی طور پر سَکونَت پذیر ہوجاتی ہے، جہاں سندھو مہا ساگر ایک اور مہا ساگر کو بانہوں میں بھر کر ایسے ہم آغوش ہو جاتا ہے جیسے طویل ہجر کے بعد کوئی اپنے بچھڑے محبوب سے بے ساختہ اور کیف کی کیفیت میں گلے ملتا ہے۔

دراصل فطرت کے حوالے سے اسے ہی ”وحدتِ سندھ“ کہا جاتا ہے۔ سندھ ہزاروں سالوں سے اپنی ثقافتی تکثیریت اور ”تہذیبی وحدت“ اپنی لاکھوں اور کروڑوں سالہ قدیم ”فطری کثرت“ سے ہی جوڑتی چلی آ رہی ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر غلام اصغر خان نے اسی روحِ عصر کی بنیاد پر ٹیگور کو جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ”سندھ اخلاقی سطح پر باقی ہندوستان سے برتر ہے“ ۔ رانا محبوب نے بھی درست کہا کہ سندھ کی وحدت اُس کی کثرت سے قائم ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی سندھ کی ”روحِ عصر“ ہے۔

سندھ گُلال کے اس سفر میں سندھو اور سندھ کا ایک اور جدید لوک داناء، شاعر و ادیب رفعت عباس رانا محبوب اختر کے یوں ساتھ ساتھ رہا ہے، جس طرح ”ڈیوائین کامیڈی“ میں ڈانٹے کے ساتھ ورجل، ٹیگور کے ساتھ کالی داس اور اقبال کے ساتھ آسمانی سفر میں ”جاوید نامہ“ میں رومی ساتھ تھا۔ وہ جدید لوک داناء رفعت عباس، جو موئن جو دڑو کو ”زندہ دڑو“ کہتا ہے۔ رانا محبوب کی خوش بختی تھی کہ رفعت عباس کا ان سے نہ صرف فکری طور پر بلکہ اپنے کلی تخلیقی وجود سمیت ساتھ تھا۔

اس لئے سندھ گُلال سندھ کی مٹی اور اتہاس کے ادراک کا وہ ”سیر نامہ“ ہے، جس میں رانا محبوب کے بقول ظاہر اور باطن کی وحدت لازمی شرط ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر محض ظاہر ہو گا تو کتاب علم ہو جائے گا اور اگر محض باطن ہو گا تو کتاب ایک تخیل، خیال یا احساس ہو جائے گا، جب کہ سندھ گُلال ان تینوں عناصر کا تخلیقی اور جمالیاتی امتزاج ہے۔

ایک سوال اُٹھ سکتا ہے کہ کتاب کا نام ”سندھ گُلال“ ہی کیوں؟ ویسے تو گِلال کمہار کو بھی کہتے ہیں، گُلال گُلِ لالہ کو بھی کہا جاتا ہے، پہیے کو بھی گُلال کہا جاتا ہے، جس کے لئے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس کی ایجاد سندھو تہذیب میں ہوئی تھی، گُلال حَسین مگر غلام خواتین کے اُس خون کو بھی کہا جاتا تھا، جس سے حکمران دربار میں شاہی فرمان یا رومانوی شعر لکھواتے تھے۔ گُلال اُس لال رنگ کو بھی کہتے ہیں، جو صدیوں سے سندھو تہذیب میں سہاگنوں کی مانگ میں بطور سِندُور لگایا جاتا ہے۔

ہولی میں جس رنگ میں پُورے جہان کو رنگا جاتا ہے، اُسے بھی گُلال کہا جاتا ہے، مگر گُلال کا ایک المناک پہلو بھی ہے، کہ سندھ کی تاریخ کئی ادوار میں مظلوموں اور مقامی سُورماؤں کے خون سے رنگی رہی ہے۔ رانا محبوب نے لال رنگ اور گُلال لفظ کے ان تمام معنوی اور علامتی استعاروں کی کثرت کو ایک معنوی اور علامتی وحدت میں پرو کر کتاب کا نام ”سندھ گُلال“ رکھا ہے۔

اس کتاب کی بہت سی حُسناکیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ کتاب کسی لائبریری میں بیٹھ کر نہیں لکھی گئی ہے، ہرچند کہ ایسی کتابوں کی اپنی علمی حیثیت ہوتی ہے۔ اس کتاب کے لئے مصنف نے ہزاروں میل بار بار سندھ کے سفر کیے ہیں، تھر بر، پارکر، لاڑ، وسطی سندھ، کاچھو، کوہستان، شمالی سندھ، سیوہن اور کلاچی کے بار بار سیر کیے ہیں۔ وہ وہاں کے ہر علاقے اور ذات کے مقامی لوگوں سے ملے ہیں۔ وہ کولھیوں، باگڑیوں، بھِیلوں، اوڈوں، کمہاروں، ملاحوں، منگنہاروں، جتوں، ٹھکروں، راجپوتوں، سماٹوں، دراوڑوں، سندھی بلوچوں، سیدوں سمیت سندھ کے ہر رنگ، نسل اور مذہب کے مقامی لوگوں سے نہ صرف ملے ہیں بلکہ اُن کے ساتھ زمین پر پلتھی مار کر ان کے طویل گفت و شنید بھی کی ہے۔

اُنہوں نے سندھ کی تاریخ اور تہذیب کی حُسناکیوں، سُورماؤں، بہادروں اور المیات کو مقامی لوگوں کی آنکھ سے دیکھنے، سمجھنے اور لوک داستانوں میں مخفی معنویت اور تاریخیت کی گرہیں کھولنے کی کوشش کی ہے۔ رانا محبوب نے اُنہیں جائز طور پر معتبر اور اعلیٰ ذاتوں کے طور پر پیش کرنے کی تخلیقی اور فکری کوشش کی ہے، جنہیں صدیوں تک اَچھُوت سمجھا گیا، اُن سے تفریق آمیز اور ہتک آمیز رویہ اختیار کر کے اُن سے نفرت کی گئی۔

دراوڑوں سے نفرت تاریخ کے جبر کا اظہار تھی، یہ دراصل مٹی سے نفرت تھی کہ مٹی اور دراوڑوں کا رنگ ایک ہی ہوتا ہے، سانورا! رانا محبوب نے سندھ گُلال میں اُن کی محنت کش عظمت اور مقامی حیثیت کو پھر سے دریافت کرنے کی جستجو اور عکس بندی کی ہے۔ وہ جہاں دراوڑوں کی مقامیت اور اصل حیثیت کو نئی معنویت اور تاریخیت سے دریافت کرتے ہیں، وہاں وہ بعد میں آئے ہوئے غیر دراوڑ مقامی لوگوں کو دھرتی سے جدا نہیں کرتے کہ قومیت ایک زندہ اور نامیاتی سیاسی تصور ہے، وہ تو صرف اُنہیں جدا کرتے ہیں جو کہ صدیاں یا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس دھرتی اور مقامیت سے جُڑنے سے انکاری ہیں اور اپنی اس جھوٹی مفروضاتی ثقافتی برتری کے خول میں بند ہیں، جو خول حملہ آور مقامیت کو کمتر سمجھ کر، اپنے گرد بنا کر، خود کو محروم اور محدود کر لیتے ہیں۔ وہ تو سندھ کی اس ممتا جیسے کُشادہ اور شفیق آغوش سے محروم اُن بدنصیبوں کو جدا سمجھتے ہیں، جو اس آغوش کی مسحورکن گرمائش کے بخت کو محسوس کرنے سے محروم ہوتے ہیں۔ ماں کی گود کے لمس اور اس کے آغوش کی حرارت سے ہی زندگی میں تہذیبی اساس گرم لہو کی طرح رگوں میں محو رقص ہوتی ہے۔

سندھ گُلال کا بیانیہ ریاستی نصاب کو تاریخ کے روح کی نفی سمجھتا ہے اور تاریخ کی روحِ عصر کو مقامیت اور اَچھُوت قرار دیے گئے لوگوں کی داستانوں میں سے پھر سے دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہی رانا محبوب ہر دور کے سرکاری تصوف کو رد کرتے ہوئے عوامی تصوف کو اپنے اپنے دور کا متبادل عوامی، جوابی اور مزاحمتی بیانیہ سمجھتے ہیں۔ وہ عوامی اور مزاحمتی صوفیوں کے اس لئے بھی شارح اور عاشق ہیں کہ اُنہوں نے ہمیشہ حملہ آوروں کی زبان کی بجائے اپنے مقامی لوگوں کی زبان کو ترجیح دی اور غاصبوں کے مسلط کردہ موقف کی بجائے مظلوم مقامیت کے بیانیے کو ہی دھرتی کی پُکار، اُس کا شعور اور اُسکی آواز سمجھا اور وہی اس کے نقیب اور راہنما بنے۔

وہ شاہ لطیف کو سندھ کا فردوسی کہتے ہیں البتہ حقیقت یہ ہے کہ فردوسی نے پھر بھی شاہنامہ لکھا تھا، سندھ کے شاہ لطیف کے ہاں کینجھر کا تماچی، لسبیلہ کے سپڑ جام اور رائے ڈیاچ کی طرح اپنے طبقے کے خول کی عدم تشکیل کے بغیر قبولیت حاصل نہیں کرتا۔ شاہ لطیف نے شاہنامہ نہیں عشق نامہ، عورت نامہ اور ایک نئے آدرشی خاص انسان کا عام نامہ لکھا ہے۔ وہ شاہ لطیف کے لئے کہتے ہیں کہ ہر سندھی کو جنم سے ہی شاہ کے رسالے کی شہریت حاصل ہوتی ہے اور سندھ کا شاہ تہذیب کے اتہاس کی دانش کا وہ گھنا برگد کا درخت ہے، جس کے جڑیں دھرتی میں پیوست ہیں اور جس کا قد آسمان کو چھُوتا ہے۔

سندھ گُلال کا جو سیر رانا محبوب اختر نے سیوہن سے شروع کیا تھا، وہ سندھ کے دیہات، شہروں، مقامات اور لوگوں سے ہوتا ہُوا، تاریخ کے بہت سے ادوار سے گزرتا ہُوا، اتہاس کے عکس و کردار اپنے ساتھ لیتا ہُوا، سندھ کی تاریخ کے تہذیبی ادراک کی کھڑی پر بُنے ہوئے کدھر کے تھان کو اس طرح کھول کر رکھتے جاتے ہیں کہ زمان و مکان کی حدیں اور سرحدیں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ اس سیر میں ماضی، مستقبل اور حال ساتھ ساتھ سفر کرتے نظر آتے ہیں۔

کتاب کا مطالعہ کرتے وقت پڑھنے والا بھی زمان و مکان سے بیگانہ ہو کر اپنے انفرادی تخیل، تہذیبی وجود اور جمالیاتی شعور کو الگ محسوس نہیں کر سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ سندھ گُلال میں ڈاہر سے درازا تک مقامی باشندوں کے حق پر ہونے کے اَسرار پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ وادیٴ سندھ کیلاش سے کلاچی تک سحرانگیز اور حیرت انگیز ہے اور اُس نے اس کتاب میں ان حیرتوں کے جزیروں کو ازسرِ نو دریافت کر کے ان میں نئی معنوی اور جمالیاتی رعونت پیدا کرنے کی تخلیقی کوشش کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عمر بادشاہ کی مارئی کے ہاتھوں شکست اس محبت کی فتح ہے، جو سندھ کی تہذیب کی روح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دیوتاؤں کی عمر سندھ کے لوگوں سے چھوٹی ہے، کہ ان کے خالق سندھو تہذیب کے لوگ تھے۔ وہ سمبارا کے رقص کو تہذیب یعنی شہری زندگی کی کہانی سمجھتے ہیں۔ وہ ہر قسم کے اور ہر مذہب کے پنڈتوں کو مقامیت کے نہیں بلکہ غیروں کے مسلط کردہ بیانیوں کے نمائندے سمجھتے ہیں۔ اسی طرح وہ سمبارا سے سیوہن تک، شاہ عنایت سے اُڈیرو لعل اور وتایو فقیر تک، کارونجھر، مارئی سے روپلو کولھی تک اور اجرک سے شاہ کے راگ گانے والوں کے تنبورے تک سندھ کی تہذیب، اتہاس، اس کے لوگوں، مقامات، کرداروں، عوامی روایات، ان کی لوک دانش، ادب اور فن سے لے کر صوفیوں کے یکتارے اور موالیوں کے آستانوں تک تمام تر علامات کی نئی معنویت سے نئی پہچان پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی پہچان جو دھرتی اور اُس کے مقامی باشندوں کے تاریخی ورثے سے غیرمشروط محبت کی زمین سے کسی میٹھے پانی کے چشمے کی طرح بے ساختہ پھُوٹ کر عیاں ہو جاتی ہے۔

رانا محبوب کی کتاب سندھ گُلال ایسا بیانیہ ہے کہ گویا وجودی جُز اپنے تہذیبی کُل کا حُسناک تعارف کراتا ہے۔ رومی نے کہا تھا کہ صرف قطرہ سمندر میں نہیں ہوتا، سمندر بھی قطرے میں سمایا ہوتا ہے۔ سندھ گُلال پڑھ کر اس شعر کا مفہوم اپنی گِہرائی سے سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ یعنی ایک دیس کی تاریخ اور اُس کے بے شمار عکس، حُسناکیاں اور المیات اس طرح بھی کسی فرد کے تخیل اور شعور میں زندہ تجسیم رکھتے ہیں اور رکھ سکتے ہیں جیسے وہ سندھ گُلال میں رقم ہوئے ہیں۔

سندھ گُلال فنی لحاظ سے بھی ایک انتہائی حَسین کتاب ہے۔ اس کتاب کا اسلوب، علامت نگاری، جمالیاتی بیان، زبان اور ترکیبیں اس قدر دلکش اور اثر انگیز ہیں کہ اس کتاب کو کسی ایک صنف کی بندش میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ کتاب کی محاوراتی اردو ایک نئے اسلوب اور معنوی جمالیاتی آہنگ سے لبریز ہے۔ یہ کتاب سیر نامہ بھی ہے تو تاریخ بھی ہے، کسی ناول کی طرح بہت سی کہانیوں کا مجموعہ بھی ہے تو خود ایک بڑی رومانوی اور المیاتی کہانی بھی ہے، اس میں نثری شاعری کی طرح فنی ترکیبیں اور علامت نگاری کا کمال بھی ہے تو اس میں داستان گوئی کا مزاج بھی ہے۔

یہ کتاب تاریخیت، جمالیات اور تخیل کا حَسین امتزاج ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ کتاب کی علمی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کا ادبی مزاج اس کی سب سے بڑی حُسناکی ہے۔ ایسی کتاب لکھنے کے لئے محض علمی فرض کافی نہیں، اس کے لئے شدید محبت اور عشر کے معراج کا ہونا لازمی ہے۔ رانا محبوب اختر کہتے ہیں کہ لوگ سیر کرنا بھول چکے ہیں، چنانچہ اُنہوں نے اس کتاب میں دل سے سیر کرنے کی روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُنہوں نے لکھا ہے کہ وادیٴ سندھ کو سامراجی آنکھ سے نہیں بلکہ صرف مقامیت کی محبتی آنکھ سے دیکھنا اور سمجھنا ممکن ہے اور سندھ گُلال اس کا ایک زندہ اور حسین ثبوت اور اس کی جمالیاتی اور معنوی صورت ہے۔

سندھی اور سرائیکی باشندے سرمستی میں آ کر بے ساختہ رقص کرنے لگتے ہیں، جس کو دونوں وسیبوں میں جُھمر کہتے ہیں۔ اُن کے رقص میں بھی بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا کہ سندھی اور سرائیکی ثقافتوں میں ہے۔ جھُمر فاتحانہ غرور کا نہیں مقامیت کی انکساری اور وجد کا رقص ہے۔ یوں تو رانا محبوب بھی کبھی کبھی کیف کے ترنگ میں آ کر خوب رقص کرتے ہیں، لیکن سندھ گُلال سندھ کے اِتہاس میں اُن کے ادراک اور روح کا ویسا ہی رقص ہے۔

Facebook Comments HS

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com

jami-chandio has 11 posts and counting.See all posts by jami-chandio