دماغی فتور یا پیرانائڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر


Paranoid Personality Disorder

فیروز صاحب کے پاس بیوی بچے اور اچھا گھر بار وغیرہ سب تھے۔ لیکن اپنے ماضی کے تلخ حالات، غربت اور بچپن میں ماں باپ کی بے جا سختیوں کی وجہ سے ان کے اندر کچھ ایسے مسائل پیدا ہو چکے تھے جنہوں نے ان کی موجودہ دور کی زندگی کو بھی خراب کر رکھا تھا۔

ان کے تمام مسائل کی جڑ ایک ہی ذہنی مسئلہ تھا وہ یہ کہ وہ دوسروں پر ہمیشہ شک کرتے تھے۔ ان کو کبھی بھی یہ بات محسوس نہیں ہوتی کہ دوسرا انسان جو بات بھی کر رہا ہے وہ سچ ہے۔ اور اس کی بات کو سچ ہی مان لینا چاہیے۔

بعض اوقات فیروز صاحب ایک سادہ جملے کے اندر بھی کئی معنی ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک سادہ جملے میں بات کی جائے کہ کل طبیعت کچھ خراب تھی اور میں سوچ رہا ہوں کہ میں فلاں دوا استعمال کر لوں یا فلاں ڈاکٹر سے ملوں۔ تو وہ اس سادہ جملے کو اس طرح نہیں لیں گے بلکہ وہ اس بات میں اور مزید گمان اور پہلو ڈھونڈیں گے کہ مجھے طبیعت کی خرابی کا بتایا گیا ہے، شاید وہ مجھ سے دوا کے پیسے لینا چاہتا ہے، یا وہ میری ہمدردی لینا چاہتا ہے، یا وہ مجھ سے کوئی کام نکلوانا چاہتا ہے۔ یعنی جو بھی بات کریں گے وہ ہمیشہ شک اور شبہ ہی کرتے رہیں گے۔

ایسے انسان ہمیشہ ہائی الرٹ پہ رہتے تھے۔ ان کو یہ لگتا ہے کہ یہ دوسرے انسان مجھے کوئی نہ کوئی نقصان دے کے رہیں گے اور یہ میرے اور میرے بچوں کے دشمن ہیں۔ وہ کبھی بھی لوگوں کے لیے نیک گمان نہیں رکھتے تھے۔

کسی سے ملاقات کے بعد فیروز صاحب پورا سین اپنے گھر میں دوبارہ سے ری کرییٹ کرتے تھے۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر ہر واقعے کے بارے میں باریک بینی سے ہر تفصیل کا جائزہ لیتے تھے اور خود ساختہ نتائج اخذ کرتے تھے۔ اس چیز نے ان کی زندگی کو بہت مشکل اور پیچیدہ کر دیا تھا۔ ان کا دماغ ہمیشہ دو جمع دو کرتا رہتا تھا۔

یہ ایک ایسی ذہنی حالت ہے کہ جس میں انسان بغیر کسی وجہ کے دوسروں پر شک و شبہ کرتا ہے۔ یہ انسان ہمیشہ بہت زیادہ الرٹ رہتا ہے کیونکہ اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ دوسرے اس کو تکلیف دینے کی یا نقصان پہنچانے کی حتیٰ کہ مار دینے کی کوشش کریں گے۔

مگر ایسا سوچنے کی ان کے پاس کوئی مضبوط وجہ نہیں ہوتی۔ وہ کبھی بھی یہ نہیں جان پاتے کہ ان کے اپنے سوچنے کا انداز ہی غلط ہو سکتا ہے یا صرف ان کی اپنی ذاتی بدگمانی کی وجہ سے یہ سارا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔

ان کو ہم ای سینٹرک پرسنیلٹی ڈس آرڈر بھی کہہ سکتے ہیں۔

ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کو شیزوفرینیا کے مریض کی طرح کوئی وہم یا نظر کے دھوکے نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کو مینک ایپیسوڈز آتے ہیں بلکہ مائنڈ نیگیٹوٹی یا منفی سوچ ان کا اصل مسئلہ ہوتی ہے۔

علامات:

پیرانائڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر کی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں :
* ہمیشہ الرٹ رہنا کہ کوئی نہ کوئی مجھے نقصان دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
* ہمیشہ دوسروں پر الزام دھرنے کی عادت رکھنا۔
* معاشرتی زندگی کا نہایت محدود ہونا۔
* دوسروں کے خلوص اور وعدے پر اعتبار نہ کرنا۔
* اپنی ذاتی معلومات دینے سے ہمیشہ گریز کرنا کہ لوگ اس چیز کو میرے خلاف استعمال کریں گے۔
* لوگوں کو کبھی معاف نہ کرنا۔
* دل کے اندر ہمیشہ کینہ رکھنا۔
* حساسیت کا حد سے زیادہ بڑھ جانا۔
* تنقید کا برا منا جانا۔
* سادہ گفتگو کے اندر سے بھی چھپے ہوئے معنی اخذ کرنا۔
* دوسروں کی کردار کشی کی ہمیشہ کوشش کرنا۔
* اپنے زندگی کے ساتھی پر بھی ہمیشہ شک کرنا۔
* لوگوں سے حسد کرنا۔
* ہمیشہ اپنے آپ کو درست سمجھنا۔
*۔ کبھی پرسکون نہ ہو پانا۔
* نہایت ضدی ہونا۔
* ہمیشہ بحث مباحثے میں مبتلا رہنا۔
* ہمیشہ اور بہت جلد دوسروں کا دشمن بن جانا۔

وجوہات:

پیرانائڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر کی بنیادی وجوہات مندرجہ زیل ہیں :
بچپن کی ناآسودہ خواہشات۔
جذباتی طور پر نظر انداز کیا جانا۔
بہت زیادہ احساس کمتری کا احساس ہونا۔

بیماری کا پھیلاؤ:

یہ بیماری زیادہ تر 0.5 % سے 4.5 % لوگوں کو ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے مگر عموماً لیٹ ٹین ایج یا دور بلوغت میں شروع ہوتی ہے۔

زیادہ تر یہ ان لوگوں کو ہوتی ہے جو خط غربت کی سطح سے نیچے رہتے ہیں

اور دوسرے یہ ان لوگوں کو ہو سکتی ہے جو تنہا یا سنگل ہوں جیسے کہ طلاق یافتہ، بیوہ، رنڈوا یا جنہوں نے کبھی شادی ہی نہ کی ہو۔

پرہیز اور علاج:

پیرانائڈ پرسنیلٹی ڈس آرڈر والے لوگ عموماً مدد کے طلبگار نہیں ہوتے۔ یہ علاج معالجے کی طرف آتے ہی نہیں ہیں کیونکہ یہ خود کو بیمار نہیں سمجھتے۔

لیکن اگر یہ اپنے رویے کو ایک بیماری سمجھ لیں تو پھر ان کے لیے سائیکوتھیراپی، کوگنیٹو بیہیویئر تھیراپیCBT اور ڈائلیکٹڈ بیہیوئر تھیراپی/Dialectical Behavior Therapy/DBT ضروری ہوتی ہے۔ بعض سنگین صورتوں میں ان کو اینٹی سائیکوٹک ڈرگز دی جا سکتی ہیں۔

عموماً یہ لوگ دوسروں پر اعتبار نہیں کرتے تو اس لیے ایک ماہر نفسیات کو بھی ان کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔

 

 

Facebook Comments HS