دس اکتوبر عالمی یوم ڈاک کے حوالے سے مضمون
ڈاک صندوق یا لیٹر بکس سے میری آشنائی بہت پرانی ہے، اس سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں۔ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا جب سے میں نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ بچوں کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں قلمی دوستی کا صفحہ بھی ہوتا تھا جس میں بچوں کی تصاویر اور ان کا مختصر تعارف چھپا ہوتا تھا۔ ان میں سے جو اچھا لگتا اسے خط لکھ کر قلمی دوستی شروع کر دیتے۔ اس وقت پوسٹ کارڈ دو تین پیسوں کا ہوتا تھا اور چٹھی آنے دو آنے کی آتی تھی۔ کم پیسوں کے باعث پوسٹ کارڈ لکھنے کو ہی ترجیح دی جاتی تھی۔
قلمی دوستی صفحہ کے کسی بھی دل پسند تعارف کے پتے پر خط لکھ کر اس کو ڈاک صندوق میں ڈالتے اور بعد میں اس کی کھڑکی پر لگے چھجے کو کھٹکٹھا کر خط کے اندر جانے کا اطمینان کر لیتا اور اس کے اوپر پھونک مار دیتا۔ اتنے برس بیت گئے ہیں، میں آج بھی ڈاک صندوق میں اسی طریقے سے خط ڈالتا ہوں اور بعد از اطمینان کے اس پر پھونک مار دیتا ہوں۔
خط حوالہ ڈاک کرنے کے بعد ، اس کے جواب کا انتظار شروع ہو جاتا۔ سائیکل پر سوار ڈاکیے کو دیکھ کر خوشی ہونا شروع ہو جاتی کہ یہ خط کا جواب لے کر آیا ہے، کبھی وہ جوابی خط دے جاتا اور کبھی ہاتھ کے اشارے سے بتا دیتا کہ کوئی خط نہیں ہے۔
کسی قلمی دوست کو لکھے ہوئے خط کا جواب ملتا تو انتہائی خوشی ہوتی۔ بار بار خط کو پڑھنے کا دل کرتا اور ہر بار خوشی دوبالا ہو جاتی۔ خط اور کتاب کی یہ خصوصیت کمال کی ہے کہ اس میں بیان کردہ باتوں کی چاشنی کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کیے جا سکتے ہیں، جب اور جتنی بار دل چاہے ان کو پڑھا جاسکتا ہے اور جتنے طویل عرصے کے بعد پڑھیں اتنا ہی لطف آتا ہے۔
کچھ قلمی دوستوں سے ایک دو خطوط کے بعد رابطہ ختم ہو جاتا، لیکن ایک دو ایسے ضرور ہوتے جن سے رابطہ قائم رہتا۔ ایسے ہی میرے آٹھویں جماعت کے ایک قلمی دوست غلام احمد ربانی ہیں، ان کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ ان کے ساتھ قلمی دوستی کو پروان چڑھے پینتالیس برس کا عرصہ بیت گیا ہے۔
اس بیتے عرصہ میں ہم دونوں نے اپنی تعلیم مکمل کی، ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوئے، ملازمتیں حاصل کیں، جو اب سبکدوشی کی جانب بڑھ رہی ہیں، بچوں کی شادیاں کیں، دادا اور نانا بن گئے، کچھ اعزاء و اقارب دنیا سے چلے گئے لیکن ہم دونوں کی دوستی ابھی تک جاری ہے، ہم اکثر اپنے بچوں اور بیگمات کے ہمراہ ملتے ہیں، سیر سپاٹے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں۔
مجھے آٹھویں جماعت سے ہی خطوط نویسی کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ عام طور پر خط لکھنے کو آدھی ملاقات سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن میں خطوط نویسی کو پوری ملاقات سے تعبیر کرتا ہوں اور ایسی ملاقات جس کو آپ بار بار دہرا لیں اور لطف اندوز ہو لیں۔ مجھے خطوط نویسی کا بہت تجربہ ہے۔
میں نے جرائد و رسائل، ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں ایڈیٹر کی ڈاک، دوسرے مسائل اور مختلف موضوعات پر بہت زیادہ خطوط لکھے ہیں۔ مجھے خط لکھ کر حوالہ ڈاک کرنے کے بعد اتنا اندازہ ہوتا تھا کہ مکتوب الیہ کی جانب سے خط کا جواب کب آئے گا اور اخبار میں کب چھپے گا۔ 95 فی صد سے زائد میرے اندازے درست ثابت ہوتے تھے۔ خطوط نویسی آپ کو دوسروں کا گرویدہ بنا دیتی ہے۔ میرے بہت سے کام، دوست اور بچوں کے رشتے اسی خطوط نویسی کے باعث ہوئے ہیں۔ ایک روز مجھے ایک کرنسی نوٹ ملا جس پر احمد رضا کے نام کی بمع عہدہ اور پتا مہر لگی ہوئی تھی۔ میں نے وہ نوٹ ڈاک لفافے میں بند کر کے ان صاحب کو بذریعہ ڈاک ارسال کر دیا۔ چند روز کے بعد ان صاحب کی طرف سے جوابی خط موصول ہوا کہ، جناب یہ نوٹ بھی آپ کا ہے اور اس جیسا ایک اور نوٹ بطور یادگار اور تحفہ بھی بھیج دیا۔ میرے بیٹے نے اپنی ایک ہم جماعت کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو میں نے بیٹی کے والد گرامی کو بذریعہ وٹس ایپ ایک خط لکھ کر رشتہ منظور کرنے کی درخواست کی۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا جوابی خط بذریعہ وٹس ایپ ملا کہ مجھے آپ کا بیٹا بھی قبول ہے اور آپ بھی، نہ میں نے انہیں دیکھا اور نہ انہوں نے مجھ سے ملاقات کی۔
ہر سال 10 اکتوبر کو جنرل پوسٹل یونین کے تحت عالمی یوم ڈاک منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں ڈاک، خطوط نویسی کے شعور کو اجاگر کرنا اور رکن ممالک کے درمیان ڈاک کی ترویج و ترسیل کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اطلاعی تیکنیک کی انتہائی تیز رفتار ترقی نے خطوط نویسی اور ڈاک کے نظام کو بہت حد تک کم کر دیا ہے۔ تاہم یہ ایک اعلیٰ اور باذوق شوق ہے جو آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ محکمہ ڈاک پاکستان کے ذمہ داران نے اکثر اوقات پاکستانی شہریوں میں خط نویسی کے رجحان کو بڑھانے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد اس دم توڑتی روایت کو پھر سے زندہ کرنا ہے۔ تو اٹھائیے کاغذ اور قلم اور لکھ دیں اپنے پیاروں کو محبت و خلوص بھرے نامے۔ کاغذ پر قلم سے نہیں لکھنا ہے تو فون، نیٹ کے پیغامات، برقی خطوط اور وٹس ایپ پر لکھیں اور ضرور لکھیں۔
براہ کرم اس مضمون میں بیان کردہ واقعات کو خود نمائی یا خود ستائی سے محمول نہ کیا جائے، یہ صرف اور صرف حقائق ہیں جن کا مقصد پرانی یادوں کو تازہ کرنا اور خطوط نویسی کی افادیت اور اس کے شوق کو اجاگر کرنا اور ابھارنا ہے۔
اک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

