Palestine in Israeli School Books: Ideology and Propaganda in Education 


 کتاب کا نام:
Palestine in Israeli School Books: Ideology and Propaganda in Education
تبصرہ نگار: ڈاکٹر اصغر دشتی
تعارف مصنفہ  :

کتاب کی مصنفہ نورت پیلیڈ الہانان اسرائیلی یہودی شہری ہیں۔ الہانان ماہر لسانیات و تعلیم اور Hebrew یونیورسٹی یروشلم میں ادبیات و تعلیمات کی پروفیسر ہیں۔ الہانان کو یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے * ”سخاروف ایوارڈ برائے آزادیِ خیال“ * سے نوازا گیا ہے۔ الہانان اسرائیلی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے مشہور ہیں۔ الہانان اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جانب سے عالمی سطح پر چلائے جانے والے Boycott، Divestment and Sanctions (BDS) تحریک کی سرگرم اور پرجوش حامی ہیں۔ الہانان کا شمار اسرائیل کی ان چند خواتین ایکٹیوسٹس میں ہوتا ہے جو کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہیں۔

*تبصرہ۔ *

زیرِ نظر کتاب انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے۔ تبصرہ کرتے وقت طوالت سے بچنے کے لیے کتاب میں درج مخصوص واقعات کو تفصیلات و جزئیات کے ساتھ قلمبند کرنے کے بجائے مجموعی عمومی صورتحال کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نوریت پیلڈ الہانان کی کتاب اسرائیل میں عبرانی زبان کے سرکاری طور پر منظور شدہ نصاب میں تاریخ، جغرافیہ اور مدنیات (Civics ) کی نصابی کتب میں فلسطینیوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک جامع اور گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ کتاب میں ٹھوس اور واضح مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ صہیونی ریاست کے نظریاتی، نوآبادیاتی، سیاسی و سماجی مقاصد کا اظہار اسرائیلی یہودی بچوں کی سرکاری طور پر منظور شدہ نصابی کتب کے صفحات پر کیا گیا ہے۔

یہ کتاب اسرائیلی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ، جغرافیہ اور مدنیات کی کتابوں میں فلسطینیوں کے حوالہ سے پیش کردہ نظریات و افکار کا علمی اور تحقیقی جائزہ ہے۔ زیرِ نظر کتاب الہانان کی زبردست تحقیقی کاوش ہے جس نے اسرائیل کی صیہونی تعلیمی پالیسیوں کو عریاں کر کے منظرعام پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کتاب 280 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ کتاب تعارف و اختتامیہ سمیت چار ابواب پر مشتمل ہے۔

پہلا باب اسرائیلی نصابی کتب میں فلسطینیوں کی نمائندگی پر عمیق نظر ڈالتا ہے۔

باب دوم میں الہانان فلسطینیوں کے خلاف دشمنی اور اخراج کے نظریات پیدا کرنے میں جغرافیہ کی نصابی کتابوں کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے کثیر الجہتی تجزیہ کا استعمال کرتی ہیں۔

باب سوم میں ان واضح پیغامات کا جائزہ لیتی ہیں جو تاریخ کی نصابی کتابوں کی ترتیب کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔

باب چہارم میں الہانان نے تاریخ اور مدنیات کی نصابی کتابوں میں فلسطینیوں کے قتل عام کو قانونی حیثیت دینے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔

اپنے اختتامیہ میں الہانان نے اپنے تجزیے کے نتائج کا خلاصہ پیش کیا ہے اور ان کا موازنہ نصابی کتب کے نظریاتی/پروپیگنڈا کردار پر بین الاقوامی لٹریچر سے کیا ہے۔

کتاب کے دیباچہ میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ اسرائیل میں اسکول کی کتابیں ان نوجوانوں کے لیے لکھی جاتی ہیں جنہیں اٹھارہ سال کی عمر میں لازمی فوجی تربیت و خدمات کا حصہ بننے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور وہ جو اسرائیلی قبضہ گیری کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک فوجی کیا کرتا ہے؟ کیا وہ اطاعت کرتا ہے یا نافرمانی کرتا ہے؟ اسکول کی جو کتابیں بچپن میں اسے پڑھائی جاتی تھیں وہ انہیں ایک غیر انسانی ”دوسرے“ (یعنی غیر انسانی فلسطینیوں جو ان میں سے نہیں ) کے خوف سے دوچار کرتی ہیں۔

درحقیقت اسرائیلی اسکول کی کتابوں کے مواد یا متن کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کا استعمال اسرائیلی حکومت کے لیے بالکل جائز ہے کیونکہ ان اسکول کی کتابوں کے مطابق ”دوسرا“ یعنی فلسطینی درحقیقت ایک جعل ساز، سازشی اور بیرونی ہے جبکہ سپاہی یعنی اسرائیلی شہری حقیقی معنوں میں مقامی ہوتا ہے۔ اس طرح کی منطق کے ساتھ ایک اسرائیلی فوجی ”دوسرے“

(فلسطینی ) کو کیسے برابر کا درجہ دے گا۔ نصابی کتب میں یہودیوں کو ”گھر آنے والے مقامی باشندوں“ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسرائیلی نظام تعلیم کی جس طرح تشکیل کی گئی ہے وہ اپنے نصاب سے امن اور بقائے باہمی کی تعلیم کو خارج کر دیتا ہے۔

اسرائیل کے نوجوان مرد و خواتین کو حکومتی پالیسی کے تحت لازمی فوجی تربیت کرنا پڑتی ہے اور اس طرح انہیں اسرائیل۔ فلسطینی تنازع میں براہ راست شامل کیا جاتا ہے۔ یہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہے اس لیے اسرائیل کا تعلیمی نظام اپنے نوجوانوں کو اس تنازع کے لیے تیار کرتا ہے۔

مصنفہ نے اس کتاب میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ فلسطین اور وہ فلسطینی جن کے خلاف ان نوجوان اسرائیلیوں کو مستقبل میں ممکنہ طور پر طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا اسکول کے نظام میں اور کتابوں میں کیسے پیش کیا گیا ہے۔ الہانان دلیل دیتی ہیں کہ اسکول سسٹم میں استعمال ہونے والی نصابی کتابیں اسرائیل کے ریاستی نظریے سے متاثر ہیں اور وہ تاریخ، جغرافیہ اور مدنیات کی نصابی کتابوں میں تصاویر، نقشوں، ترتیب اور زبان کے استعمال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کس طرح ان کتابوں میں فلسطینیوں کو پسماندہ ثابت کرنے، اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو قانونی حیثیت دینے اور یہودی۔ اسرائیلی علاقائی شناخت کو تقویت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

زیر نظر کتاب اسرائیلی صیہونی بیانیہ کا تنقیدی جائزہ اور کثیر الجہتی مطالعہ پیش کرتی ہے کیونکہ اس بیانیہ کو اسکول کی تین مضامین کی کتابوں تاریخ، جغرافیہ اور مدنیات میں پیش کیا گیا ہے۔

زیر نظر کتاب ان مضامین کی کتابوں کے بصری اور زبانی متن کے تجزیے پر مشتمل ہے کہ مذکورہ مضامین کی کتابیں صیہونیوں کے مقابلے پر ’دوسروں‘ یعنی فلسطینیوں کی نمائندگی کو کس طرح پیش کرتی ہیں۔ مصنفہ نے کتاب میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیلی نصابی کتب میں فلسطینیوں کی نمائندگی کے حوالے سے بصری اور زبانی دونوں طرح سے نسل پرستانہ گفتگو کی گئی ہے۔

الہانان لکھتی ہیں کہ اسرائیلی اسکول کی تمام کتابوں میں فلسطینیوں اور تاریخ کے بارے میں کچھ مشترکہ مفروضے موجود ہیں۔ وہ زمین پر صرف یہودیوں کے تاریخی حقوق پر زور دیتے ہیں۔ کتابوں میں عربوں کو نفرت انگیز اور ریاست کے لیے خطرہ کے طور پر بتایا گیا ہے۔ نیز طالب علموں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ عربوں کی اکیس ریاستیں ہیں اور یہودیوں کی صرف ایک۔

فلسطینی شہریوں کو آبادیاتی مسئلہ (یا خطرہ) کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کتابوں سے یہ پیغام جاتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کو کنٹرول کرنا ہو گا ورنہ وہ اسرائیلیوں کو ماریں گے۔ لہٰذا واحد حل یہی ہے کہ ”ایک یہودی ریاست، یہودی اکثریت اور اسرائیلی کنٹرول“ کا ہونا لازمی ہے۔ چاہے اس کی بنیاد قبضہ گیری پر ہی کیوں نہ ہو۔

الہانان نے اس کتاب میں اسرائیلی معاشرے اور نفسیات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ وہ نصابی کتابوں کے ذریعے مخصوص ریاستی مقاصد کے لیے ’اجتماعی شعور‘ کی تخلیق اور ’قانونی علم‘ کی پیداوار کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک وسیع جائزہ بھی پیش کرتی ہیں۔

الہانان نے دکھایا ہے کہ کس طرح فلسطینیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور اکثر انھیں کارٹونز کی تصاویر میں نسل پرستانہ زبان کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ اصلاح پسند مصنفین کے کام کو شامل کرنے کے بجائے جس میں 1948 میں فلسطینیوں کی بے دخلی کی تفصیلات دی گئی ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلہ کو حل نہ کرنے کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت کے بجائے خود فلسطینی متاثرین اور عرب ریاستوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ کتابوں کے متن میں اس طرح کے پیغامات بھی دیے جاتے ہے کہ ”جب سے فلسطینیوں نے اپنی سرزمین چھوڑی ہے وہ اسے واپس لینے کے مستحق نہیں ہیں“ ۔

عام طور پر اسکول کی نصابی کتابوں اور خاص طور پر تاریخ، جغرافیہ اور مدنیات کے مضامین کو سوشلائزیشن اور سماجی عمل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے یہ مضامین سماجی علم کو پھیلانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ مزید برآں نصابی کتابیں طلبہ کے سماجی شعور کی پرورش بھی کرتی ہے۔

اگرچہ نصابی کتب کو عمومی طور پر غیر جانبدار، معروضی اور حقائق کے مطابق سمجھا جاتا ہے تاہم الہانان کا استدلال ہے کہ نصابی کتابوں میں ”تبدیل شدہ“ علم ہوتا ہے، جس میں ”جائز چھیڑ چھاڑ“ مثلاً معلومات کو حذف کرنا، متبادل بنانا، یکجا کرنا اور دوبارہ ترتیب دینا شامل ہوتا ہے۔ اس طرح یہ نصابی کتابیں ایک مخصوص ”قومی یادداشت“ اور ”قومی شعور“ پیدا کرتی ہیں۔

الہانان محسوس کرتی ہیں کہ نصابی کتابوں کی تحریریں طالب علموں میں نسل پرستانہ اور دقیانوسی تصورات کو جنم دیتی ہیں اور پورے منظر عام سے صرف فلسطینیوں کو خارج کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جماعت ایک سے چار تک کی اسکول کی کتابوں میں فلسطینیوں کو شاید ہی دکھایا جاتا ہے۔ اسرائیل کی نصابی کتب کے بارے میں الہانان کا مطالعہ بے مثال اور قابل رشک ہے کیونکہ وہ جو مثالیں پیش کرتی ہیں وہ کثیر الجہت ہوتی ہیں۔ وہ نصابی کتابوں کے ذریعے دیے گئے نظریاتی پیغامات کا بھی جائزہ لیتی ہیں۔ وہ نسل پرستی جیسے تصورات کو بھی موضوع بحث بناتی ہیں جن سے عام طور پر اسرائیل میں گریز کیا جاتا ہے۔ انھوں نے نصابی کتابوں میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی نسل پرستی کے کافی ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔

الہانان نے اپنی ملٹی ماڈل تحقیق میں سماجی سیمیوٹک انکوائری (Social Semiotic Inquiry) کا استعمال کیا ہے جس میں متن کے ہر جزو (زبانی، بصری، ترتیب) کو محرک کرنے والے مفادات، نقطہ نظر، اقدار اور نصابی کتب بنانے والوں کی پوزیشنوں کو جانچا گیا ہے جس کے ذریعے مطلوبہ تعلیمی، سماجی اور سیاسی نظریات اور پیغامات پہنچائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملٹی ماڈل تجزیہ کے ذریعے نہ صرف متن میں بلکہ تصاویر، فونٹ کی اقسام اور رنگ وغیرہ میں بھی سرایت شدہ معانی کی جانچ اور گفتگو کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ دریافت کیا ہے کہ سماجی طور پر تعمیر شدہ علم کو نمائندگی یا پراپیگنڈا کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

زیر نظر کتاب اسرائیل۔ فلسطینی بحث میں ایک مختلف علمی نقطۂ نگاہ فراہم کرتی ہے جو مشرق وسطیٰ کے مطالعہ اور سیاسی معاملات کو سمجھنے میں زیادہ معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

* (مبصر نوٹ) *

پاکستانی نصاب کی کتابوں میں بھی ”سیکیورٹی ڈاکٹرائن“ کے مطابق انڈیا دشمنی کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔ لفظ ”دشمن“ پاکستانی نصابی کتابوں کا لازمی حصہ ہے۔ نصابی کتابوں میں اقلیتوں کی نمائندگی کے بجائے تقسیم ہندوستان کے تناظر میں ان کے سازشی اور غدار ہونے کے تاثر کو ابھارا جاتا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں کانگریس اور مسلم لیگ کی انتخابی و اقتدار پسند سیاست اور سیاسی اختلافات کو بھی کفر اور اسلام کی جنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS