کیا آپ عورتوں کے اسقاط حمل کے حق میں ہیں؟


کینیڈا میں جب میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میموریل یونیورسٹی نیوفن لینڈ آیا تو پہلے ہی دن میری ملاقات اپنے ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر جون ہونگ سے ہوئی۔ وہ مجھ سے بہت احترام سے پیش آئے اور مجھے اپنے ساتھ اپنے دفتر لے گئے۔ جب میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا تو فرمانے لگے ’ڈاکٹر سہیل میں آپ کو کینیڈا میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آج نو اکتوبر انیس سو ستتر ہے آپ یہاں چار سال نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے اور جب نو اکتوبر انیس سو اکیاسی کو آپ کی تعلیم مکمل ہوگی تو پھر آپ ہمارے ساتھ کام کریں گے اور ہمارے رفیق کار بن جائیں گے‘ ۔

ڈاکٹر ہونگ کی باتیں سن کر میرا حوصلہ اور اعتماد بڑھا۔ پھر وہ کہنے لگے ’اب میں اپنی پہلی مریضہ دیکھنے جا رہا ہوں۔ آپ چاہیں تو میرے ساتھ آ سکتے ہیں‘ ۔

میں ڈاکٹر ہونگ کے ساتھ دوسرے کمرے میں گیا جہاں جوئین نامی ایک سولہ برس کی لڑکی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ اس لڑکی نے ہمیں بتایا کہ وہ حاملہ ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کا اسقاط حمل کیا جائے۔ لڑکی کے جانے کے بعد ڈاکٹر ہونگ نے اس کی والدہ گریس کا انٹرویو لیا۔ گریس کہنے لگیں ’میں کیتھولک ہوں۔ میرا مذہب ہمیں اسقاط حمل کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر میری بیٹی اپنے بچے کی نگہداشت نہیں کرنا چاہتی تو وہ بچہ پیدا کر کے مجھے دے دے۔ میں اسے گود لے لوں گی اور ساری عمر اس کی دیکھ بھال کروں گی‘ ۔

جب گریس چلی گئیں تو میں نے ڈاکٹر ہونگ سے پوچھا حاملہ تو بیٹی ہے آپ نے ماں کا انٹرویو کیوں لیا؟ ڈاکٹر ہونگ نے مجھے کینیڈا کے اس دور کے قانون کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ’جوئین اسقاط تو کروا سکتی ہے لیکن اسقاط حمل کے آپریشن سے پہلے سرجن کو اسے اینستھیزیا دینا ہو گا۔ اور بیہوشی کی دوا کے فارم پر دستخط کے لیے اٹھارہ برس کا ہونا ضروری ہے۔ چونکہ جوئین کی عمر صرف سولہ برس ہے اس لیے ہمیں اس کی ماں کے دستخط چاہئیں۔ ‘

یہ میری نفسیات کی تعلیم اور ٹریننگ کی پہلی مریضہ تھی۔ جب میں نے ڈاکٹر ہونگ کو گہری سوچ میں ڈوبے دیکھا تو کہا ’اگر اجازت ہو تو ایک مشورہ دوں؟‘

’وہ کیا؟‘ ڈاکٹر ہونگ متجسس تھے۔ ’اگر آپ اس لیے فکرمند ہیں کہ جوئین کی ماں اجازت نہیں دے رہی تو آپ جوئین کے والد کو فون کریں وہ کاغذات پر دستخط کر دیں گے۔ ‘ ڈاکٹر ہونگ نے جوئین کے باپ کو فون کیا اور وہ دستخط کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ ڈاکٹر ہونگ خوش بھی ہوئے اور حیران بھی۔ مجھ سے پوچھنے لگے

’آپ نے جوئین کے والد سے ملے بغیر کیسے سوچا کہ وہ کاغذات پر دستخط کر دیں گے؟‘ میں نے کہا ’میرا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ مائیں اکثر مذہبی اور جذباتی ہوتی ہیں جبکہ اکثر والد منطقی اور حقیقت پسند ہوتے ہیں‘ ۔ ڈاکٹر ہونگ پہلے دن ہی مجھ سے متاثر ہو گئے۔

ڈاکٹر ہونگ نے مجھے کینیڈا کے اس صوبے کے قانون سے بھی متعارف کروایا کہ کسی لڑکی کو اسقاط حمل کروانے سے پہلے تین ڈاکٹروں کی منظوری ضروری ہے

1۔ فیمیلی ڈاکٹر
2۔ گائیناکولوجسٹ
3۔ ماہر نفسیات

جوئین کو تین ڈاکٹروں کی منظوری مل گئی اور اس کے والد نے کاغذات پر دستخط بھی کر دیے۔ جب جوئین کے آپریشن کا دن آیا تو مجھے یہ جان کر سخت حیرت ہوئی کہ ہسپتال کے باہر پادری، راہب اور راہبائیں بڑے بڑے بینر لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ان بینروں پر نوشتہ تھا

ABORTION IS MURDER
WE WANT ADOPTION NOT ABORTION

جوئین اور گریس کے انٹرویو کے بعد مجھے پشاور کے زنانہ ہسپتال کے وہ دن یاد آ گئے جب میں ڈاکٹر ممتاز خٹک اور ڈاکٹر شمیم مجید کے ساتھ ہاؤس جاب کیا کرتا تھا۔

ایک شام ایک مریضہ آئی۔ کہنے لگی ’میں ایک غریب عورت ہوں۔ میرے چھ بچے ہیں۔ اب میں پھر حاملہ ہوں۔ میرے پاس سات بچوں کو کھلانے پلانے کے پیسے نہیں ہیں۔ برائے مہربانی میرا اسقاط حمل کر دیں۔‘ مجھے اس عورت سے ہمدردی ہو گئی لیکن میری پروفیسر نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ پاکستان میں ابارشن غیر قانونی عمل ہے۔ جب وہ عورت جا رہی تھی تو میں دکھی محسوس کر رہا تھا۔

چند دن بعد وہ عورت ہسپتال میں داخل ہوئی تو بیہوش تھی۔ پتہ چلا کہ وہ ابارشن کرونے اندرون شہر کی تنگ گلیوں میں کسی دائی کے پاس گئی تھی۔ اس نے کوٹ کے ہینگر سے اسقاط کرنے کی کوشش کی جس سے اسقاط تو نہ ہوا عورت کی بچے دانی پھٹ گئی اور اتنا خون بہا کہ وہ بیہوش ہو گئی۔ چونکہ اس کی جان خطرے میں تھی اس لیے اسے داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹر شمیم مجید نے آپریشن کیا اسے خون کی بوتلیں لگائیں اور اس کی جان بچ گئی۔ اس دن جہاں مجھے اس کی جان کے بچنے کی خوشی تھی وہیں اس بات کا رنج بھی تھا کہ ہم نے اسے دو ہفتے پہلے داخل نہیں کیا تو وہ پشاور کی تاریک گلی میں گئی اور ایک بحران کا شکار ہو گئی۔ عین ممکن تھا کہ وہ عورت اس بحران میں مر بھی جاتی۔

میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ چاہے وہ کینیڈا ہو یا پاکستان۔ ہر ملک میں ہر ہفتے سینکڑوں عورتیں اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں کیونکہ انہیں اسقاط کی اجازت نہیں ملتی۔ عورتوں کو جب اپنے جسموں پر اختیار نہیں ہوتا تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں۔ نجانے کتنی عورتوں کی زندگیوں کے فیصلے مرد کرتے ہیں، چاہے وہ باپ ہوں یا بھائی، چاہے وہ شوہر ہوں یا بیٹے، چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا ماہر نفسیات۔

عورتوں کی آزادی و خود مختاری کی جنگ میں جہاں عورتوں نے مشکلات برداشت کی ہیں وہیں بہت سے مردوں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ کینیڈا میں ایسے مردوں کی ایک مثال ڈاکٹر ہنری مورگن ٹیلر تھے۔ جب ڈاکٹر مورگن ٹیلر نے کینیڈا کے مختلف صوبوں میں ابارشن کلینک کھولے تو اس وقت کینیڈا میں اسقاط حمل ایک غیر قانونی عمل سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ڈاکٹر ہنری مورگن ٹیلر کو کئی بار جیل جانا پڑا لیکن وہ اس وقت تک ڈٹے رہے جب تک کینیڈا کے قانون بدلنے سے عورتوں کو اسقاط حمل کا حق نہیں مل گیا۔ اب کینیڈا کی عورتوں کو اپنے جسموں پر اختیار ہے اور وہ ماں بننے یا نہ بننے کا فیصلہ خود کر سکتی ہیں۔

جہاں کینیڈا کی عورتوں کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کنزرویٹیو پارٹی بر سر اقتدار نہ آ جائے اسی طرح ان دنوں امریکہ کی ان گنت عورتوں کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ اگر ڈانلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کا صدر بن گیا تو کہیں وہ یہ حق کھو نہ دیں۔ اسی لیے ایسی عورتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اگلے الیکشن میں عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی علم بردار کمالا ہیرس کو ووٹ دیں گی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail