ایس سی او کانفرنس: اے آمدنت باعث آبادی ما


15، 16 اکتوبر 2024 کو ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ”شنگھائی تعاون تنظیم“ ( SCO) کی 25 ویں دو روزہ سربراہی کانفرنس ہو رہی ہے۔ تقریباً تین عشروں بعد پاکستان میں عالمی نوعیت کا ایک بڑا ایونٹ ہے جو پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں KSE۔ 100 انڈیکس میں ڈالر کے لحاظ سے 27 فیصد اضافہ معاشی ترقی ملکی کرنسی کی استحکام، کم افراط زر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا نتیجہ ہے۔ یہ پاکستان کے معاشی بہتری کی طرف گامزن ہونے کی علامت ہے۔ اس میں ان حکومتی اصلاحات کا کردار ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے بہتر مواقع پیدا کر رہی ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس کی میزبانی کا شرف حاصل ہونا ایک بہت بڑا اعزاز اور خطے میں پاکستان کی اہمیت کی دلیل ہے۔ یہ ایک علاقائی، سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تنظیم ہے جسے چین اور روس نے 15 جون 2001 ء کو قائم کیا۔ آغاز میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان اور تاجکستان ایس سی او کے ممبر تھے۔ پاکستان اور بھارت نے جون 2017 ء، ایران نے 2023 ء اور بیلاروس نے 2024 ء میں مستقل ممبرز کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی، یوں SCO کے مستقل ارکان کی تعداد 10 ہے۔

اس کے علاوہ 3 ممالک مبصر اور 14 ممالک ڈائیلاگ پارٹنرز کی حیثیت سے تنظیم سے منسلک ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے ایس سی او دنیا کے تقریباً 80 فیصد رقبے پر محیط ہے۔ 2023 ء کے اعداد و شمار کے مطابق کہ اس تنظیم میں دُنیا کی تین ارب سے زائد آبادی (دُنیا کی کُل آبادی کا 40 فیصد ) شامل ہے۔ اس کی 24 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی ہے۔ یہ کانفرنس پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور یوریشیا کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ SCOدُنیا کا ایک اہم ترین معاشی فورم بھی ہے جس میں دُنیا کے تین ارب انسانوں کے مالی مسائل حل کرنے کا پوٹینشل ہے۔ اِس کی تخلیق کے دو بڑے مقاصد تھے :

1۔ ریجنل سطح کے مسائل خود حل کرنا 2۔ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا مل کر خاتمہ کرنا۔ کچھ عرصے قبل تنظیم نے اپنے ممبران کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کا عزم بھی شامل کر لیا ہے۔

اس کے اہداف میں رکن ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی، تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، سیاحت کے شعبوں میں تعاون، خطے میں امن و امان اور سلامتی کو مشترکہ طور پر یقینی بنانا شامل ہے۔ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط کرنے کا نادر موقع ہے۔ اگر یہ کانفرنس کامیاب رہی، تو عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے، جس سے ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ ایس سی او میں رُوس، ایران، ازبکستان اور تاجکستان جیسے توانائی پیدا کرنے والے ممالک کی شمولیت بھی ہے، جن میں دُنیا کے کُل تیل کا 20 اور گیس کا 40 فیصد حصہ پایا جاتا ہے۔ جس سے اِس فورم کی وساطت سے ممبر ممالک اپنی انرجی کی ضروریات بحسن و خوبی پوری کر سکتے ہیں۔

مغربی سامراجی قوتوں کی کوشش ہے کہ یہ فورم خود انحصاری کی راہ پر نہ چل پڑے۔ اِسی لیے تاحال پاکستان ایران تیل، گیس لائن سے مستفید ہونے کی راہ میں امریکا بار بارسد ِراہ بن رہا ہے۔ چین اِس فورم کے بانی ارکان میں شامل ہے، اس لیے امریکا اور مغربی ممالک پاکستان کو ”سی پیک“ سے مکمل استفادہ نہیں کرنے دے رہے۔ عمران کے ساڑھے تین سالہ دَور میں سی پیک امریکی خوشنودی کے لیے بند ہی کر دیا گیا تھا۔ اب اربوں ڈالر کے اِس اہم پروجیکٹ کے آگے بڑھنے کے امکانات روشن ہُوئے ہیں۔ ایم ایل وَن منصوبہ بھی اِسی نئے پروگرام کا حصہ ہے۔ چین BRIعالمی پروجیکٹ کے تحت دُنیا کے 350 شہروں میں 11 ہزار کلومیٹر لمبی ریلوے لائنز بچھا رہا ہے۔

ایس سی او سربراہی اجلاس کی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے اس کے پر امن انعقاد کے لیے وفاقی دارالحکومت میں فوج، رینجرز، ایف سی اور پولیس تعینات کر دی ہے۔

پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم، نریندر مودی، کو دعوت دی، مگر دونوں ملکوں کے مابین بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کے متعلق خصوصی شق ( 370 ) کے خاتمے کے بعد سفارتی بول چال اور تجارت بند ہے۔ اس لیے مودی کی جگہ بھارتی وزیر خارجہ، ایس جئے شنکر، اسلام آباد آ رہے ہیں۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں کسی بھی اہم بھارتی شخصیت نے پاکستان کا دَورہ نہیں کیا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف، سے ملنے بھارتی وزیر اعظم، مودی، لاہور آئے تھے۔ اِسے ”سرکاری ملاقات“ کے بجائے نجی ملاقات گردانا جاتا ہے اگرچہ پاک بھارت کشیدگی عروج پر ہے مگر انڈیا کو معلوم ہے کہ بھارت کے لیے 10 یوریشیائی ممالک کی متفقہ اور اہم ترین کانفرنس سے غیر حاضری سفارتی طور پر مہنگی پڑ سکتی ہے۔

2023 میں ایس سی او وزرائے خارجہ کانفرنس میں نہایت کشیدگی کے باوجود پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو شریک ہوئے تھے۔ پاکستان میں رہنے والے 4 سابقہ بھارتی ہائی کمشنرز، اجے بساریہ، ٹی سی رگھوان، گوتم بمبا والا اور شرت سبھروال نے بھی بیک زبان کہا ہے کہ بھارت کو اسلام آباد جانے کا یہ زریں موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔

تجارت کے فروغ کا سب سے کامیاب ماڈل ریجنل ٹریڈ ( علاقائی تجارت) ہے۔ اگر ہم اس کامیاب ماڈل کا موازنہ کریں تو نارتھ امریکن بلاک NAFTA کی باہمی تجارت 40 فیصد، یورپی یونین کے 27 ممالک کی 57، آسیان ممالک کی 27 جبکہ ایس سی او ممالک کی بمشکل 5 اور سارک ممالک کی باہمی تجارت 4 فیصد ہے۔ SCO اور سارک بلاک میں، پاکستان اور بھارت کے سیاسی اختلافات کی وجہ سے خطے کی تجارت فروغ نہیں پا سکی۔ پاکستان کی SCO ممالک سے ٹریڈ 24.6 ارب ڈالر ہے جس میں ایکسپورٹ 4.6 اور امپورٹ 20 ارب ڈالر ہے۔

اس ٹریڈ میں پاک چین تجارت 22 ارب ڈالر ہے یعنی دیگر ممالک سے ہماری تجارت صرف ایک فیصد ( 2.6 ارب ڈالر) ہے جو دنیا کے سب سے بڑے تجارتی بلاک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیاست، ڈپلومیسی اور تجارت کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ SCO اور سارک ممالک سے تجارت کے فروغ کے لئے ہمیں ممبر ممالک میں بینکنگ چینل کھولنے ہوں گے جبکہ وسط ایشیائی ممالک جن کی بندرگاہیں نہیں ان کی پاکستان سے زمینی تجارت کے فروغ کے لئے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سہولتوں کو بہتر بنانا ہو گا۔

NLC نے حال ہی میں وسط ایشیائی ممالک میں کنٹینرز کے ذریعے تجارت بڑھائی ہے۔ SCO کے دو اہم ممالک روس اور ایران سے پاکستانی تجارت نہایت کم ہے۔ روس کی فی کس آمدنی 13647 ڈالر اور ہماری تجارت بمشکل ایک ارب ڈالر ہے جبکہ ایران کی فی کس آمدنی 4662 ڈالر اور ہماری تجارت 1.8 ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح بھارت سے ہماری تجارت 531 ملین ڈالر ہے۔ SCO تنظیم کا مقصد دنیا میں تنہا سپر پاور کے نظریے کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ خطے میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے چینی وزیر خارجہ نے SCO کی وزرائے خارجہ کانفرنس میں تجویز پیش کی کہ SCO ممالک کو افغانستان سے گریٹر ڈائیلاگ کرنا چاہیے، پاکستان کے لئے یہ اہم موقع ہو گا کہ وہ اس سوچ کو SCO کے پلیٹ فارم سے عملی جامہ پہنائے اور افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے پر ڈائیلاگ کرے۔

اس موقع پر احتجاج اور دھرنے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ، کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس سے ملک سیاسی اور معاشی طور پر غیر مستحکم ہو رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے اس پس منظر میں، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو گا۔ اور وہ سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کو قومی مفاد کے مل کر کام کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS