ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات اور ممکنہ حل
ضلع کرم جو کہ پاکستان کے جغرافیائی سیاسی تاریخی اور سماجی منظرنامے میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے قدرتی حسن اور ذخائر سے مالامال دلفریب وادی کئی دہائیوں سے اس خونریزی جنگ کے لپیٹ میں ہے۔ ضلع کرم میں بنیادی طور پر دو مکتبہ فکر کے لوگ آباد ہیں ایک اہل تشیع جو 43 فیصد ہے اور دوسرا گروہ اہل سنت کا ہے جو 57 فیصد ہے دونوں فریق ایک دوسرے کی خون کے پیاسے ہیں جس میں ایک بنیادی وجہ زمین کی غیر منصفانہ تقسیم کی ہے انگریز نے اپنی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو کی بنیاد پر غیر منصفانہ تقسیم کی تھی۔
اس تقسیم کا فیصلہ ایک مستقل فساد کی صورت میں سامنے آیا جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں جس میں شیعہ سکالر علامہ عارف حسینی کو 1988 میں مارا گیا تھا 1990 میں سنی مکتبہ فکر کے مولانا حافظ نواز کو اور 1996 میں نامور شاعر محسن نقوی کو بھی اس فسادات کی وجہ سے مارے گئے تھے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف قسم کے جرگے بھی ہوئے امن کمیٹی بھی بنائی گئی اور اس میں سب سے بڑا جرگہ جو 2008 کو مری میں ہوا تھا اور اس کو مری ایگریمنٹ کا نام دیا گیا تھا اس کے بعد 2011 میں طالبان کے سب سے طاقتور گروپ ک حقانی نے اہل تشیع کے ساتھ معاہدہ کیا جس میں دو منتخب اراکین پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی تھی اور 40 ملین رقم ضمانت کے طور پر حقانی گروپ کے ساتھ جمع کیا تھا۔
یہ سارے معاہدے اور جرگے کچھ وقت کے لیے ٹھیک تھی لیکن اس جنگ کا مستقل حل کسی نے نہیں نکالا ضلع کرم کے گاؤں بوشہرا کے رہائشی اقبال نے بتایا کہ اس چیز میں ریاست شامل ہے۔ اس جنگ میں مقامی با اثر لوگ بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے اس جنگ سے ان کو فائدہ ہے۔ ایک طرف اگر ایران اہل تشیع کے ساتھ کھڑا ہے تو دوسری جانب سعودی عرب اہل سنت کے ساتھ ہر قسم مدد کرتا ہے۔
بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال 2023 میں بوشہرا میں 100 کنال زمین پر جھگڑا شروع ہوا اس سو کنال پر دونوں فریقین کا دعوی تھا کہ یہ زمین ہماری ہے جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان جنگ چڑھ گئی جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نثار احمد خان نے کہا کہ حکومت نے موجودہ جھڑپیں شروع ہوتے ہی تیزی سے کارروائی کی تھی لیکن افغان بارڈر ڈیورنڈ لائن قریب ہونے کی وجہ سے یہاں کے دونوں فریقین کے ساتھ جدید ہتھیار آ گئے ہیں جو ہمارے سیکیورٹی اداروں والوں سے بھی بہتر ہے۔
نثار احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں ایک بڑی وجہ نیٹ ورک کا بھی ہے اگر ہم مقامی نیٹ ورک کو بند بھی کریں تو یہ لوگ کمیونیکیشن کے لیے افغان نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں اور پلاننگ میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
13 اکتوبر 2024 کو ایک مسافر قافلے پر حملہ ہوا جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔ جوابی کارروائی میں ایف سی کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس میں دو دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ یہ صورتحال کچھ نیا نہیں ہے اور نہ ان حملوں کی وجہ سے مقامی لوگ عادی نہیں ہے۔ بلکہ ان چیزوں کے ساتھ یہ لوگ عادی ہو چکے ہے اور اس کے پاس کوئی عملی حل نہیں ہے کیونکہ ان میں مقامی اور حکومت وقت کے با اثر لوگ شامل ہیں۔
ضلع کرم کی جغرافیائی حیثیت اس علاقے کو بین الاقوامی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز بناتی ہے۔ افغانستان سے ملحق ہونے کے باعث یہاں پر دہشت گرد گروہوں اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں بھی فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی سیاست بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ بعض قبائل اپنے سیاسی اور سماجی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں تاکہ دوسرے فرقے کے افراد کو کمزور کیا جا سکے۔
اس پر فرقہ ورانہ فسادات کی وجہ سے لوگ خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کاروباری عدم استحکام کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جسے طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہے جس کا نقصان خصوصاً غریب طبقے کو ہوتا ہے۔
اس تشدد فکر کو ختم کرنے کے لیے نصاب میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کو شامل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل میں نفرت اور تشدد کی بجائے محبت امن کی تعلیم عام ہو جائے۔ Awareness session ’s رکھا جائے جس کے ذریعے سے کرم کے لوگوں کو اور خصوصی طور پر نوجوان نسل کو اس چیز پر آمادہ کریں کہ مسئلے کا حل جنگ نہیں ہے۔
مقامی رہنماؤں کو آمن کی فضاء قائم کرنے کے لیے متحرک کیا جائے تاکہ وہ اپنے عوام کی صحیح سمت میں رہنمائی کریں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سنجیدگی کے ساتھ اس خونریزی جنگ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ اور اس میں شامل ہر قسم کے ملوث افراد کو عبرتناک سزائیں دی جائے۔
اس مسئلے کا حل محض مذہبی یا قبائلی سطح پر ممکن نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں حکومت، مقامی علماء، قبائلی رہنما، سیاسی رہنما اور عوام سب شامل ہو۔ تعلیمی اصلاحات تعلیمی نصاب کا ازسر نو جائزہ اور اقتصادی ترقی کے ذریعے اس علاقے میں امن اور استحکام کو لایا جا سکتا ہے۔


