جھونپڑی


فلک پر کالے بادل چھا رہے تھے اور ہوا کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ اس عالم میں کچھ لوگ اس نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔

” امّاں، تم آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیا بارش ہونے والی ہے؟“ شمائلہ کی آواز میں معصومیت اور اندیشے نجانے کب سے مدغم ہو چکے تھے۔

پینتیس سالہ ماں جو معاشرے کی مار کی وجہ سے پچاس سال سے بھی زیادہ عمر رسیدہ لگ رہی تھی بہت آہستہ سے بولی۔ ”بیٹی فکر نہیں کرو، یہ برسنے والے بادل نہیں لگ رہے۔ “

” مجھے بارش بہت بری لگتی ہے، ہر چیز گیلی ہو جاتی ہے اور رات کو بھی بھوکا سونا پڑتا ہے۔ “

شمائلہ سے چھوٹی بہن نے کہا۔ ”بڑی خالہ یہ کہہ رہی تھی کہ بارش تو خدا کی رحمت ہے۔ پھر ہم پہ کیوں یہ مصیبت بن کے آتی ہے؟“

پیچھے سے کھانستے ہوئے اس کے باپ کی آواز آئی۔ ”اس خالہ کی بچی کو بول کہ ایک دن اس جھونپڑی میں رہ کر گزارے۔ بارش ہو جائے تو میری دیہاڑی بھی ماری جاتی ہے۔ اس موٹی کے لئے ہو گی بارش رحمت۔ ہمارے لئے تو یہ نرا عذاب ہے عذاب۔ اس کو سائیں سے پیسے مل گئے تو اس نے پکا مکان بنا لیا۔ اب وہ اس لئے بڑ بڑ کرتی رہتی ہے۔ “

شمائلہ نے جھٹ بیچ میں بول کر کہا۔ ”ابو، تم سے بھی تو سائیں نے پیسے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پھر کیوں نہیں تم دوبارہ اس سے پیسے مانگتے؟“

باپ زمین پہ بچھے ہوئے بوسیدہ گدؔے پہ آٹھ کر بیٹھ گیا۔ ”سائیں کہتا ہے کہ اب فنڈ ختم ہو گیا ہے۔ “

” ہماری باری آئی تو پیسے ختم ہو گئے۔ “ ماں چولھے کی آگ بجھاتے ہوئے بولی۔ ”سائیں کی بیٹی نے ایک اور کار لینی ہو گی نا۔“

رات ڈھلے پانچوں بچے اس گندگی کے ڈھیر پہ سو رہے تھے۔ شمائلہ کے باپ نے آہستہ سے بیوی سے کہا۔ ”میں ان پانچ بچوں کو نہیں کھلا پلا سکتا۔ میں نے اس کا حل نکالا ہے۔ “

بیوی کا چہرہ ایک سوالیہ نشانہ بن گیا لیکن لب سلے رہے!
” کل جو میں نے جس کی زمین پہ کام کیا تھا، آس کے مزارع کا بیٹا، اس کو لڑکی چاہیے۔ “
” تو پھر!“ ہلکے اندھیرے میں بیوی کی پتلیاں پھیل گئیں۔
” تجھے تو پوری بات سننے سے پہلے ہی بولنے کی عادت ہے۔ شادی ہو گی شادی۔ “

” شادی، بارہ سالہ شمائلہ کی شادی۔ بارہ سالہ معصوم بچی کی شادی۔ شادی یو گی یا فروخت؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے! “

میں کبھی ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ نہیں نہیں۔ میں تو اس کو اسکول بھیجنا چاہتی ہوں۔ میں اس کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن، لیکن۔ ”

” آواز نیچی کر دولت بی بی۔ بچے سو رہے ہیں۔ “

پھر اس نے ایک لمبی آہ بھری۔ ”تو کیا سمجھتی ہے مجھے اس کا خیال نہیں ہے۔ دیکھ یہ بچے آج بھوکے سو رہے ہیں۔ کب تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔“ پھر اس کی آنکھوں بھیگ گئیں۔ ”اپنے گھر جانے گی تو پیٹ بھر کے کھانا تو کھائے گی۔ اور ہمیں لڑکے کا باپ تین لاکھ روپے دے گا۔ اس سے مکان کی دیواریں اور چھت بنوا لیں گے، اس جھونپڑی سے تو نجات ملے گی پھر۔“

دولت بی بی سسکیاں لینے لگ گئی۔ ”میری بچی شمائلہ۔ میری بارہ سال کی ننھی سی بیٹی۔“

مرغوں کی بانگوں کے شور سے اس جھونپڑی کے سب بچے عادی ہو چکے تھے۔ اور وہ اس وقت تک لیٹے رہتے جب تک کہ گرمی کی حدت یا یخ ہواؤں کی شدت انہیں اٹھنے پہ مجبور نہیں کر دیتی۔ لیکن آج شمائلہ جلد آٹھ گئی۔

ساری رات باپ کروٹیں بدلتا رہا تھا۔ کئی مرتبہ آنسو آئے اور چہرے پہ بکھر گئے۔ دو تین بار اس نے اندھیرے میں شمائلہ کو غور سے دیکھا۔

صبح توے پہ پکتی ہوئی روٹیوں سے جھونپڑی معطر ہو رہی تھی۔ سب بچے اٹھ کر بیٹھ گئے اور چولھے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگ گئے۔

” آٹا کہاں سے آیا، امّاں؟“

ماں نے دوپٹے سے پسینہ پہنچتے ہوئے کہا۔ ”تمہارے ابو نکڑ والی دکان سے ادھار لے کر آئے ہیں۔ بھلا ہو اس تندور کے مالک کا، کبھی انکار نہیں کرتا۔“

جب سب نے پانی میں ڈبو ڈبو کر روٹیاں کھا لیں تو ماں شمائلہ کے بالکل سامنے جا کر بیٹھ گئی۔
” تم میری طرف اس طرح غور سے کیوں دیکھ رہی ہو؟“ شمائلہ دوپٹے سے اپنے ہاتھ ملتے ہوئے بولی۔
” بیٹی، ہم تیری شادی کرنے والے ہیں اب تو بڑی ہو گئی نا۔“ ماں نے اور قریب آ کر کہا۔
” میں پہلے میٹرک تو کرلوں۔ ابھی تو میں چھوٹی ہوں۔ “ شمائلہ دوپٹے سے ہاتھ ملتی رہی۔

” میں تمہیں خود میٹرک کروانا چاہتی ہوں۔ لیکن ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں! “ ماں نے آگے بڑھ کر شمائلہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

” لیکن میں میٹرک ضرور کروں گی۔ امّاں۔ “ شمائلہ کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں آنسو ٹمٹمانے لگ گئے۔

” میری بچّی، میں تمہارے شوہر سے بات کروں گی کہ وہ تمہیں میٹرک کروا دے۔ “ ماں نے شمائلہ کے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا۔

شمائلہ کچھ لمحے دور گھورتی رہی۔ ”امّاں، شادی کے بعد میں کیا کروں گی؟“

” گھر سنبھالو گی تم، تمہارا اپنا گھر۔ منیر ایک اچھا لڑکا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ وہ اچھا کما لیتا ہے۔ “ اب ماں شمائلہ کا ہاتھ چھوڑ کر ہلکے ہلکے مسکرائی۔

” امّاں، امّاں، پھر تو وہ مجھے میک اپ کا سامان بھی لے کر دے گا۔“
” ضرور، ضرور لے کر دے گا۔ میری بچّی۔“
شمائلہ مسکرانے لگ گئی، ایک فرشتے کی مسکراہٹ۔
ماں کی آنکھوں سے پانی کی لڑیاں بہہ گئیں۔
اس نے آگے بڑھ کر شمائلہ کو بھینچ لیا۔

Facebook Comments HS