نابینا کی شادی، رتن ٹاٹا، لمحہ سراب ہوا چاہتا ہے
آج کل بہاول پور کا موسم ملک کے سیاسی حالات کی طرح ”بے اعتبارا“ ہوا پڑا ہے۔ کسی رات تو اس قدر خنکی ہوتی ہے کہ چھت پہ سوئے ہوئے کمبل بھی کام نہیں کرتا اور اگلی رات قمیص اتار کر سوئے رہو بس فجر کے وقت تھوڑا ٹھنڈ لگتی ہے۔ نا جانے گلوبل کلائمٹ چینج کے اثرات ہیں؟ انڈیا اور پاکستان میں نئے لگنے والے ریڈارز اور آٹومیٹک ویدر سسٹم کی انسٹالیشن ایک وجہ ہے؟ فضا کے اوپر بڑی تعداد میں گزرنے والے سیٹلائٹس اور جاسوس ڈرونز سے آنے والی سگنلز لہروں کا اثر ہے؟ موبائل ٹاورز کی لہروں کے اثرات ہیں یا وہ عجیب و غریب روشنی چھوڑنے والی فضائی طشتری جو چند دن پہلے بہاول پور کی فضاؤں کے اوپر بہت ہی نچلی پرواز میں گزری تھی جسے مقامی عوام شہابِ ثاقب کہہ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں کس کا اثر ہے؟ خیر۔
بارہ اکتوبر 2024 کو فضا میں کھٹی میٹھی خنکی کو خالی سڑکوں پہ انجوائے کرنے کے لیے صبح صبح ہی سیر کے لیے نکل پڑا۔ راستہ میں چاٹی والی لسی پی۔ کچھ دیر پارک میں بیٹھا۔ پارک میں کوّں نے بہت سارے بچے دیے ہوئے ہیں۔ ایک بڑا بچہ چھوٹے بھائی کو بار بار ٹھونگے مار رہا تھا۔ میں نے اُسے کہا ”بندہ بن۔ روایتی پاکستانی اور بھارتی نہ بن“ ۔ پھر ”سڑکوں سڑکوں“ واک کرتا ہوا ایک دوست کی دکان پہ جا بیٹھا۔ چائے کا آرڈر دیا۔
سامنے سرکاری کالج میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام والوں نے غریب خواتین کو سرکاری امدادی رقم دینے کے لیے عارضی دفتر بنایا ہوا تھا۔ کالج کے گیٹ کے باہر فٹ پاتھ پہ پیشہ ور بھکاری ڈیرہ ڈالے بیٹھے تھے۔ بوسیدہ لباس اور ٹوٹی پھوٹی چپل پہنے ایک عورت اپنے حصّہ کی امداد لینے آئی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ گھروں میں بطور ماسی کام کرتی ہو گی۔ اس نے گیٹ کے باہر بیٹھے بھکاری کو دس روپے دیے اور گیٹ کے اندر بے نظیر انکم سپورٹ کے دفتر کی طرف چلی گئی۔ خیر۔
ابھی چائے کو ”سُڑک“ رہے تھے کہ ہمارے سامنے ایک نابینا بھکاری گزرا۔ دوست دکان دار نے آواز دے کر اُسے بازو سے پکڑ کر کرسی پہ بٹھا لیا ”آ جا تینوں چا پِلاواں“ (آ جا، تجھے چائے پلاؤں ) ۔ گپ شپ ہوئی۔ نابینا بھکاری کے سات بچے تھے۔ میں نے خود دیکھا اُس کی آنکھیں واقعی نابینا تھیں۔ بھائی! تیری شادی کیسے ہوئی؟ ”میری ماں نے رشتہ کرانے والی آنٹی کو کہا۔ بچہ ہے تو نابینا پر اس کی شادی کرا دو۔ میرے بعد کوئی اس کو سنبھالنے والا ہو“ ۔
پھر؟ ”وہ ہمیں چشتیاں اپنے رشتہ داروں کے ہاں باگڑی قوم کے گھر لے گئی اور بولی“ لے چھوری تَیں چھورے کو دیکھ لے اور چھورے تیں بھی چھوری کو دیکھ لے ”۔ میں نے نابینا آنکھوں سے کیا دیکھنا تھا؟ لڑکی بارہ جماعت پڑھی ہوئی تھی“ اونوں کوئی لیندا نئی سی تے مینوں کوئی دیندا نئی سی بس فِر ساڈی شادی ہو گئی ” (اُس کے رشتے آتے نہیں تھے مجھے کوئی رشتہ دیتا نہیں تھا بس پھر ہماری شادی ہو گئی) ۔
بیوی کے ساتھ گزارا کیسا ہو رہا ہے؟ ”بھائی! بھیک سے اکٹھے ہونے والے دو اڑھائی ہزار روپے روزانہ بیوی کے ہاتھ پہ رکھتا ہوں بائیس سال سے میرے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی ہے بس رات کو کہتی ہے“ تَیں دِنو ما نکلے راتو ما دش بجے گھر آوے پھر راتو ما گھر ما بھی اوور ٹائم لگاوے، مَنے تو شویرے نماج کے لیے بھی اُٹھنا ہووے ”۔ میں نے پوچھا“ اوور ٹائم سے کیا مراد ہے؟ ”تو نابینا قہقہہ مار کے زور زور سے ہنسا اور بولا“ پرا! لگدا، تُسی وی بھولے بادشاہ او ” (بھائی! لگتا ہے آپ بھی بھولے بادشاہ ہو) ۔
میں سوچ کے سمندر میں گم ہو گیا، نابینا بھکاری کی شادی ہو گئی اور بقول بی بی سی کے ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ اور دیگر عالمی میڈیا کے مطابق ایک سو پینسٹھ ارب ڈالر کی دولت و اثاثے چھوڑ کے مرنے والا رتن ٹاٹا ساری زندگی کنوارہ رہا۔ کیا یہ قدرت کا کوئی نظام ہے؟
انٹرویوز میں رتن ٹاٹا نے بتایا کہ اُس نے چار مرتبہ شادی کی کوشش کی لیکن بوجوہ نہ ہو سکی۔ اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ بیوی اور بچے نہ ہونے سے وہ تنہائی محسوس کرتا تھا۔ مجھے لگا کہ برسوں پہلے راقم نے ”لمحہ“ کے نام سے جو نظم لکھی تھی وہ رتن ٹاٹا کے ذہنی کرب کو بیان کرتی ہے۔
محبتیں بانٹ دو ساری
دل نواب ہوا چاہتا ہے
محفل نہیں تنہائی ہے
موسم عذاب ہوا چا ہتا ہے
پانا، پا کے کھو دینا
مِلن خواب ہوا چا ہتا ہے
ہوتا ہے غم کا اثر
پتھر آب ہوا چاہتا ہے
بے چین کو چَین واسطے
دل بے تاب ہوا چاہتا ہے
ڈھونڈنا وفا ایسے جیسے
سادہ پانی شراب ہوا چاہتا ہے
تھوڑا جی لو اکبر میاں
لمحہ سراب ہوا چاہتا ہے
احباب! زندگی تو بس ایک لمحہ ہی تو ہے۔ زبان، برادری، ذات پات اور مذہب کے نام پہ اسے دوسروں کے ساتھ نفرت اور تعصب میں نہ گزاریے۔ قدرت نے آپ کو جو کچھ دیا ہوا ہے اس پہ لاکھ لاکھ شکر ادا کیجیے۔ زندگی کو سکون کے ساتھ جینا چاہتے ہو نا تو پھر مثبت سوچ کو اپنا لو۔ حسد، لالچ اور تعصب کو اپنے اندر سے نکال دو۔ جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو۔


