ارتقائی علوم اور سماجی تبدیلیاں
سماجی تبدیلیاں ارتقائی اصولوں کے مطابق وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یہ حوالہ عام طور پر کارل مارکس سے جوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کارل مارکس ہی وہ پہلا فلسفی تھا جس نے مذکورہ حقیقت کو دریافت کر لیا تھا۔ مگر ہم احتیاطاً اسے کوئی حتمی یا ابدی دریافت تصور نہیں کر رہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اور یا ہم عصر فلاسفہ میں سے بھی کسی نے اس طرف کوئی اشارہ دیا ہو۔ مادے کے ارتقا کی بہترین شکل زندگی کا آغاز ہے جس میں جمادات، نباتات اور حیوانات کا مطالعہ ترتیب وار کیا جاتا ہے۔ حیوانات کے ارتقا کی بہترین شکل انسان ہے جو سوچتا ہے، شعور رکھتا ہے اور ماضی اور حال کے مشاہدات کے نتائج کی روشنی میں مستقبل کی پیش بینی اور منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ شعور انسان یا انسانیت کی بلند ترین سطح ہے اور یہی شعور سماجی تبدیلیوں کا محرک اور باعث تصور کیا جاتا ہے یا کیا جانا چاہیے۔ فکری سطح پر شعور کا برعکس عام طور پر جبلت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ انسان بسا اوقات اپنی جبلتوں کے زیر اثر معاشروں یا دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو تہہ و بالا کرنا شروع دیتا ہے، اس طرح کی سماجی تبدیلیوں کو تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ سماجی تبدیلی ایک مثبت عمل ہے جو شعور یا شعوری کوششوں سے ہی مشروط ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم میں سے ہی بیشمار لوگ اپنے جبلی تقاضوں کی تسکین کو ہی شعور کی اعلیٰ معراج سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسی قسم کی ”سماجی تبدیلیوں“ کا موجب بنتے ہیں جن کے آخر پر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ”ہمارا مطلب اور مقصد تو کچھ اور تھا“ ۔
ارتقا ایک وسیع و عریض اصطلاح ہے مگر ہمارے یعنی ترقی پسندوں کے ہاں اسے محض چارلس ڈارون یا پھر زیادہ سے زیادہ جین بیپٹسٹ ڈی لامارک کے ساتھ نتھی کر کے دیکھا گیا ہے اور بندروں کی کہانی لنگوروں سے شروع ہو کر بن مانسوں پر ختم کر دی جاتی ہے۔ آج کا انسان کھال، بال اور ناخنوں کی شکل میں اپنے نباتاتی دور کی نشانیاں یا باقیات اٹھائے گھوم رہا ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ارتقائی دور میں کبھی درخت بھی رہا ہے۔ یہ بندروں والا قصہ تو ماضی قریب کی بات ہے۔
ارتقا یا ارتقائی عمل کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کائنات کے ارتقا کو سمجھا جائے اس کے بعد ہی نظام شمسی کے ارتقا کی سمجھ آ سکتی ہے۔ زمین کیسے معرض وجود میں آئی اور اس میں سمندر، پہاڑ اور مٹی کیسے بنے، آکسیجن کہاں سے آئی اور سپر نووا (Supernova) جیسے واقعات نے زمین کو کس طرح زندگی کے قابل بنایا وغیرہ۔ زمین پر زندگی کا آغاز و ارتقا بہت بعد کی باتیں ہیں۔
یاد رہے کہ کائناتی، زمینی اور زندگی کے ارتقا کے اصول یا میکانیات آپس میں بالکل مختلف ہیں جہاں تک سوال ہے سماجی تبدیلیوں کا تو مفکرین نے اسے زندگی اور خاص طور پر انسان کے ارتقا سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ انسانی ارتقا کے بارے میں ماضی قدیم سے لے کر آج تک سوال و جواب ہوتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں سائنسی بنیادوں پر صرف دو مفکرین یعنی لامارک اور ڈارون کے باقاعدہ ارتقائی اصولوں کو وضع یا مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ڈارون کے بعد بھی ہیوگو ڈی ورائز، آگسٹ وائزمین، جارج جان رومنز نے ارتقا پر کام یا ریسرچ جاری رکھی اور ڈارون کے نظریات کو مضبوط کیا لہذٰا انہیں ڈارون کے مکتبہ فکر کے ساتھ ہی نتھی کیا جاتا ہے۔
سماجی تبدیلی مفکرین، علماء، فلاسفہ، ماہرین سماجیات و سیاسیات و معاشیات اور ماہرین بشریات، سیاسی و سماجی کارکنان کا مسئلہ تو ہو سکتا ہے مگر ارتقائی معاملات کے ماہرین اپنے وضع کردہ دائرے سے باہر کم ہی نکلتے ہیں۔ سماجی تبدیلی بذات خود ایک پیچیدہ علم اور عمل ہے اور اوپر سے کارل مارکس جیسے لوگوں نے سماجی تبدیلی کو ارتقائی اصولوں کے تابع کر کے معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
آج کا سیاسی و سماجی تبدیلی کا کارکن یا طالب علم شاید اپنے سماجی معاملات میں ارتقائی نظریات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے مگر اس کے راستے میں چند رکاوٹیں ہیں جن میں ارتقائی علوم سے ناواقفیت، مطالعہ نہ کرنا، اگر تھوڑا بہت مطالعہ ہو بھی جائے تو سمجھنا مشکل۔ ہیگل نے ایک دفعہ کہا تھا کہ۔ ”اس کا فلسفہ اس کا ایک شاگرد ہی سمجھا ہے مگر وہ بھی غلط ہی سمجھا ہے“ ۔ ارتقائی علوم کو سمجھ لینے کے بعد ان کی تشریحات اور ان کی سماجی توجیحات بیان کرنا بھی خاصہ پیچیدہ فن ہے۔ لامارک کارل مارکس سے تقریباً 70 سال پہلے ہو گزرا جبکہ ڈارون کارل مارکس کا ہم عصر تھا۔ کارل مارکس ذاتی طور پر کبھی ڈارون سے نہیں ملا مگر اس کے نظریات کو بہتر خیال کرتا تھا۔ کارل مارکس نے نہ ہی کبھی لامارک اور ڈارون کے نظریات کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور نہ ہی کسی کے حق میں فتویٰ صادر کیا۔ لامارک اور ڈارون کے ارتقائی نظریات بادی النظر میں ملتے جلتے نظر آتے ہیں مگر ان کی سماجی توجیحات بالکل ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ آج کا ترقی پسند سماجی و سیاسی کارکن فکری طور پر لامارک اور ڈارون کے نظریات کے کہیں درمیان میں پس رہا ہے اور فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ اپنے طریقہ کار میں کس کے خیالات سے استفادہ کرے۔ ترقی پسندی کے مخالفین فکری طور پر کسی بھی الجھن کا شکار نہیں ہیں وہ اپنے الہیاتی ارتقا پر ڈٹ کر قائم ہیں اور سماجی اور سیاسی طور پر طاقت میں ہیں۔ ترقی پسند اگر واقعی سماجی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں بھی فکری طور پر منظم ہونا ہو گا۔ فکری یا ذہنی تذبذب کو غلامی سے بھی بدتر تصور کیا جاتا ہے۔
سماجی تبدیلی کے طالب علم کے طور پر فکری استفادہ کے لیے ہم ڈارون کے نظریات کو ہی بہترین تصور کرتے ہیں۔ ڈارون کا بیشتر کام محض مشاہداتی بنیادوں پر قائم تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ لیبارٹری میں بھی ثابت ہوتا چلا گیا مثال کے طور پر علم جینیات نے انسانی جین یا ڈی این اے اور دوسرے حیوانات کے جین کے ساتھ مماثلت ثابت کر دی ہے۔ ڈارون کی تھیوری کے مطابق جو نوع یا انواع حالات سے مقابلہ کرتی ہیں وہی زندہ رہتی ہیں اس کی سماجی تشریح اس طرح سے کی جا سکتی ہے کہ نو آبادیوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے خلاف جمہوری یا مسلح جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی۔ زمانہ حال کی بات ہے نیپال میں ترقی پسند عوام نے جمہوری اور مسلح جدوجہد کر کے ملک سے بادشاہی نظام ختم کر کے جمہوریت بحال کی۔ یہاں جدوجہد سے مراد محض جنگ یا جلسے جلوس تک محدود نہیں اس کے اور رخ بھی ہو سکتے ہیں مثال کے طور پر عالمی بنک اور آئی ایم ایف پاکستان پر دباؤ بنا کر رکھتے ہیں یہاں ہماری جدوجہد کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ صنعت و حرفت کی ترقی کے ساتھ برآمدات میں اضافہ سے زیادہ سے زیادہ زر مبادلہ حاصل کر کے قرضوں اور سود کو چکتا کر کے معاشی آزادی کے ساتھ ساتھ دیگر آزادیوں کے حصول کی خاطر ہونی چاہیے۔
لامارک کی تھیوری کا اہم نقطہ ”نظریہ ضرورت“ ہے۔ پاکستان کے عوام اور ریاستی اداروں نے اس نظریہ کی پیروی میں اپنا خانہ ہی خراب کر لیا ہے تفصیل میں جانے کی شاید ضرورت نہیں ہے۔ لامارک کی تھیوری کے دوسرے نقاط بھی وقت نے حیاتیاتی اور سماجی طور پر غلط ثابت کر دیے ہیں۔
دنیا کی ترقی پسند تحریک کی بدقسمتی ہے کہ وہ آج بھی عملی طور پر بالعموم لامارکین نظریات پر کھڑی ہے۔ ہمارا ادنیٰ دعویٰ ہے اگر آج ترقی پسند تحریک لامارک سمیت دوسرے یوٹوپین نظریات سے جان چھڑا کر ڈارون کے نظریات کو اپنی سماجی تبدیلی کے ایجنڈوں اور طریقہ کار کی اساس بنا لے تو اس دنیا کو ایک بہتر دنیا بنایا جا سکتا ہے۔ جاتے جاتے اصغر گونڈوی ( 1884۔ 1936 ) کی شاعری دوستوں کی نذر، ہمارے خیال میں ارتقائی مسائل پر اردو زبان میں اس سے زیادہ اچھی نظم شاید لکھی ہی نہیں جا سکی۔
کیا ہوں میں؟
تمام دفترِ حِکمت اُلٹ گیا ہُوں میں
مگر کھُلا نہیں اب تک کہاں ہُوں، کیا ہُوں میں
کبھی سُنا کہ حقیقت ہے میری لاہُوتی
کہیں یہ ضِد کہ ہیولائے اِرتقاء ہُوں میں
یہ مجھ سے پوچھئے، کیا جستجُو میں لذّت ہے
فضائے دہر میں تبدیل ہو گیا ہُوں میں
ہٹا کے شیشہ و ساغر ہُجومِ مستی میں
تمام عرصہ عالم پہ چھا گیا ہُوں میں
اُڑا ہُوں جب، تو فلک پر لِیا ہے دم جا کر
زمیں کو توڑ گیا ہُوں، جو رہ گیا ہُوں میں
رہی ہے خاک کے ذرّوں میں بھی چمَک میری
کبھی کبھی تو سِتاروں میں مِل گیا ہُوں میں
کبھی خیال، کہ ہے خواب عالمِ ہستی!
ضمِیر میں ابھی فِطرت کے سو رہا ہُوں میں
کبھی یہ فخْر کہ، عالم بھی عکس ہے میرا
خود اپنا طرزِ نظر ہے کہ، دیکھتا ہُوں میں
کچھ اِنتہا نہیں نیرنگِ زیست کے میرے
حیاتِ محض ہُوں، پروردہ فنا ہُوں میں
حیات و موت بھی ادنیٰ سی اِک کڑی میری
ازل سے لے کے ابد تک وہ سِلسِلہ ہُوں میں
کہاں ہے؟ سامنے آ مشعَلِ یقیں لے کر
فریب خوردہ عقلِ گرُیزپا ہُوں میں
نوائے راز کا سِینے میں خُون ہوتا ہے
سِتم ہے لفظ پرستوں میں گِھر گیا ہُوں میں
سما گئے مِری نظروں میں، چھا گئے دل پر!
خیال کرتا ہوں اُن کو ، کہ دیکھتا ہُوں میں
نہ کوئی نام ہے میرا، نہ کوئی صُورت ہے
کچھ اِس طرح ہمہ تن دِید ہو گیا ہُوں میں
نہ کامیاب ہُوا میں، نہ رہ گیا محرُوم
بڑا غضب ہے کہ، منزِل پہ کھو گیا ہُوں میں
جہان ہے کہ نہیں، جسم و جاں بھی ہیں کہ نہیں
وہ دیکھتا ہے مجھے، اُس کو دیکھتا ہُوں میں
تِرا جمال ہے، تیرا خیال ہے، تُو ہے!
مجھے یہ فُرصَتِ کاوش کہاں کہ، کیا ہُوں میں


