مکھوٹا: نجیبہ عارف کا طلسم کدہ


”مکھوٹا“ نجیبہ عارف کا حال ہی میں چھپنے والا 128 صفحات کا ناول ہے۔ سلیم الرحمٰن کی خوبصورت شاعری اس کا دروازہ کھولتی ہے۔ چند سطور پر مشتمل انتساب کے بعد مصنف کے بارے میں جیسے خود اس کی اپنی تحریر کا ایک مختصر سا اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے جس سے اس کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کِس مزے کا ہے یہ ٹکڑا۔ ذرا پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔

سچ تو یہ ہے کہ مصنف کو ناول لکھنے کا کوئی تجربہ نہیں۔ اس نے یہ ناول اناڑی پن اور ہٹ دھرمی سے لکھا ہے۔ اسے طرح طرح کے تجربے کرنے اور ان تجربوں کے ذریعے خود کو سمجھنے کا جنون ہے۔ آپ کو کچھ بتانا یا سمجھانا اس کا مقصد نہیں۔ پھر بھی آپ یہ ناول پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی، مصنف کا ذمہ توش پوش۔

آپ نے دیکھ لیا نا مصنفہ کِس خوبی سے اپنا پلّہ چھڑا کر ایک طرف ہو گئی ہے۔ اب آپ جانیں کہانی جانے۔ داد کے ڈونگرے برسائیں یا تنقید کی سان پر چڑھائیں۔ اُسے کیا سروکار۔ واہ بڑی ہوشیار ہے یہ ذہین فطین لائق فائق لڑکی جس نے چھوٹی سی عمر میں بڑے بڑے کام کر ڈالے ہیں۔

مجھ جیسے نوسٹلجیا کے مارے قاری کے لئے کہانی کے فیز میں داخل ہونا کون سا کم سیاپا تھا کہ قاری بھی تو برصغیر کی تقسیم کے بعد نامساعد حالات کا سلیمہ بی بی ہی کی طرح اسیر تھا۔ پہلے چند صفحات میں ناول کی غریبڑی سی ہیروئن سلیمہ بی بی (طالب علم میونسپل کمیٹی سکول ) نے تختی پر ملی گاچی سکھاتے اور نظم پڑھتے ہوئے اِس غریبڑی سی قاری کو 70 سال قبل کے ظالم وقت کی ٹنل میں دھکا دیتے ہوئے کہا تھا۔ لو آئینے میں اپنی صورت بھی دیکھ لے اور اپنی یادوں کو بھی تازہ کر لے۔

اب جیسے جیسے ورق پلٹے بہت کچھ مشترکہ واقعات اور یادوں کی صورت سامنے آیا۔ سلیمہ بی بی کے والدین، رہائشی گھر، گلی محلہ، ہمسائے، پڑوسی، رشتے دار حتیٰ کہ سوچوں تک میں بہت سے مشترکہ پہلو گہری اپنائیت اور دلچسپی بیدار کرنے کے موجب تھے۔ چھوٹی سی سلیمہ بی بی کی خدا سے باتیں کر نے کا عمل کیسا معصومانہ سا تھا۔ قاری خاتون بھی تو ایسے ہی کرتی تھی۔ میٹھی سی یاد کُلکاری مارتے ہوئے سامنے آ گئی تھی۔ 1952 کا زمانہ جب دادی کے پاس عید منانے کے لئے جانا تھا۔ ایک ٹولی پہلے روانہ ہو گئی تھی۔ جس میں یہ قاری لڑکی بھی شامل تھی۔ جس کا چمکی کا سوٹ عید کے لئے بنا تھا۔ شلوار درزن نے سی دی تھی وہ بیچاری ساتھ لے آئی تھی۔ قمیض اماں نے لے کر آنی تھی۔ اب جان پر بنی ہوئی تھی۔ ایسے میں اللہ میاں کے سوا بھلا کون تھا جو اس کی ماں کو بار بار یاد دلاتا کہ قمیض کو بھولنا نہیں ہے۔ لڑکی کی جان سولی پر ٹنگی ہوئی تھی۔ اللہ میاں تھا، نیلا آسمان تھا جس میں وہ رہتا تھا۔ اور اس کی مضطرب نظریں جو پل پل اس سے باتیں کرتی اُسے یاد دلاتیں۔ پھر الہڑ پنے کے دور میں اُبالی قسم کی محبت کا پیدا ہونا بھی مزے کی تفصیلات تھیں۔ اب ایسے تجربات تو بلوغت میں داخل ہونے والوں کے اثاثے ہوتے ہیں جو ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا کے مصداق دامن دل کو کھینچنے کی بے پناہ کشش رکھتے ہیں۔ آئینے سے شناسائی کی گہرائی، شکل و صورت اور خد و خال پر تنقید اور خود سے ان پر تجزیے پھر کہانیوں کے چسکے اور شہزادیوں ملکاؤں پریوں اور خوبصورت شہزادوں کے خیالی روپ فلم دیکھنے کا تجربہ بھی کامن تھا۔ سلیمہ بی بی اگر ہیروئن کی زندگی جینے لگی تھی تو وہ کون سا کم تھی۔ اس کشتی میں اس نے بھی سواری کی تھی۔

باب 10 صفحات 42 سے 79 پر بکھری سلیمہ بی بی کی میٹرک کے امتحان میں غیر معمولی نمایاں کامیابی، مزید تعلیم کے لیے نئے منصوبے جہاں لاہور جیسے علمی مرکزی شہر جانے کے خواب۔ پاکستان کے دولتمند ہونے اور اسلامی سربراہی کانفرنس کا احوال اور ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے والے واقعات ناول کو بہت چابک دستی سے بھرپور تجسس کے ساتھ نئی راہیں کھولتے ہوئے قاری کو پوری گرفت میں لیے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا کہ سائے کے عنوان سے خالی صفحہ جس پر محمد عمر میمن کی ایک لائن تحریر تھی نے چونکا کر رکھ دیا۔

کیا کسی لکھنے والے کی تخلیقی کائنات میں کوئی دوسرا داخل ہو سکتا ہے۔ نظر کو گرفت میں لیتی ہے۔ یہ قاری کے لئے کسی گہرے پیغام کی نامہ تحریر تھی۔ یہ اشارہ کی کسی ٹرن کا نقیب تھا۔ خود سے سوال ہوا تھا۔ تاہم قاری اِسے ہر گز نہیں سمجھ سکتا وہ تو کہانی کی اڑان جو اب عروج کی طرف قلانچیں بھر رہی ہے کی جانب متوجہ ہے اور پل کے ہزارویں حصّے میں بھی یہ سوچ نہیں سکتا کہ مصنف اِس برق رفتاری سے سارے منظر کو ہی تبدیل کر کے رکھ دے گا۔

83 صفحہ نئے منظروں کے ساتھ قاری کی انگلی پکڑتا ہے اور عمر میمن کے الفاظ کے جواب میں یہ ضرور کہتا ہے مصنف کے دماغ میں گُھسنا ممکن نہیں پر اب جو نیا پٹارہ اُس نے کھولا ہے اُسے تو دیکھنا ضروری ہے۔ پٹارہ کُھلا تو ضرور مگر نئے رنگ ڈھنگ سے نئے کردار اور نئے نام کے ساتھ اِس درجہ دلچسپ اور انوکھے انداز طریق سے کہ اچھا بھلا سمجھ دار قاری بھی ان نئے منظروں کی پل پل بدلتی کیفیات میں ہکا بکا سا رہ جاتا ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق ناول کا پہلا حصہ ریلیزم تکنیک کے تحت لکھا گیا ہے۔ ماضی کی تہذیبی، سیاسی، ملّی اور معاشی طرز زندگی کو لوئر مڈل کلاس لڑکی کے شب و روز کو کسی شاطر جولاہے کی کھڈی پر چڑھے سوت کے تانوں بانوں میں دل کش ڈیزائن بنانے والے کرگھا کے ساتھ بہت مہارت اور چابک دستی سے بُنا گیا ہے۔

ناول نجیبہ کی گہری بصیرت اور پختہ قلم کی اظہار قوت کا بھرپور اظہار ہے۔ سچی بات ہے مجھے ناول کے اِس حصے پر نجیبہ کے برتول بریخت کے سٹیج ٹیکنیک والے نرالے انداز کا گمان گزار ہے۔ جو ہر وہ طریقہ اپناتا ہے جس سے کہانی کے کرداروں کی پر فارمنس سمے، دیکھنے والوں کے جذبات کے بہاؤ میں رخنہ پڑے۔ وہ رکے اور کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ اس نے بھی ان دس ابواب میں ہر باب کو قارئین کے لئے حیرت کدہ بنا دیا ہے آپ جان ہی نہیں پاتے ہیں وہ اگلے واقعے کو کیا رخ اور کس طرح نئے طلسم کدہ میں داخل کرنے والی ہے۔ سلیمہ بی بی رخسانہ، فرزانہ میں بدلتی ہے۔ ان کے کرداروں کے نئے نفسیاتی رُخ سامنے آتے ہیں۔ جیسے کوئی واقعاتی کھیل ہے۔ جس کا ہر ایکٹ پردہ اٹھنے کی منتظر نگاہ کا عکاس ایک نرالا اور انوکھا تماشا لے کر کھڑا ہے۔ جو رک رک کر آپ سوال جواب کرتا ہے۔ نجیبہ عارف آپ کو بہت مبارکباد۔

Facebook Comments HS