میں ریپ کا درد نہیں سمجھ سکتا
ژاں پال سارتر ایک معروف فرانسیسی مفکر، ادیب اور فلسفی تھے۔ 1964 ء میں ان کے لیے نوبل انعام برائے ادب کا اعلان کیا گیا، جس کو انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ 1980 ء میں جب ان کی عمر پچھتر سال تھی، وہ فرانس ہی میں فوت ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل لکھتے ہیں کہ ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار افراد شریک تھے۔
ژاں پال سارتر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”انسان تمام جانوروں کی نسبت زیادہ مکروہ اور خون خوار درندہ ہے۔“ یہ ایک برہنہ حقیقت ہے۔ اگر میں ایک ہزار بار بھی اس کا انکار کروں، تب بھی ہر نئے دن کا طلوع ہونے والا سورج میری دلیلیں لپیٹ کر منہ پر مارے گا اور ایک نئی انسانی درندگی کی عینی گواہی دے گا۔ پنجاب کالج والا معاملہ تو حقیقت اور افواہ کے درمیان گم کر دیا گیا ہے، پر ہم ایک لحظہ کو سوچیں تو سہی کہ کیا ریپ ہر دفعہ صرف پنجاب کالج میں ہی ہوتا ہے؟
کیا یہ کالک ملنے والا مجرم ہر دفعہ ایک ہی ہوتا ہے؟ کیا ریپ صرف اکتوبر کے مہینے میں ہوتے ہیں؟ سال کے بارہ مہینے اور ہر ہر مہینے کا ایک ایک دن طلوع تو بڑی رعونت اور احساسِ برتری کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن غروب ہوتے وقت اس کی سماعتوں میں کئی بے بس چیخوں کی بے سُری لہریں گونج رہی ہوتی ہیں، اور وہ شرمندہ ہو رہا ہوتا ہے کہ روشنی کے قیمتی ذرات کن تاریک گاہوں پر اتار کر جا رہا ہوں۔ ریپسٹ ایکڑوں پر راج کرنے والا ایک جاگیردار بھی ہے اور اس کی پھینکی ہوئی دو روٹیوں پر پلنے والا کسان بھی، کروڑوں اربوں چرانے والا اشرافیہ زاد بھی ہے اور سو روپے کی کرپشن کرنے والا دکان دار بھی، ریپ تقدیس خانوں میں بھی ہو رہے ہیں اور رقص گاہوں میں بھی۔ اس حمام میں وہ بوڑھے بھی ننگے ہیں جن کی آنکھوں تلے جھریاں ناچ رہی ہیں اور وہ قریب البلوغ لونڈے بھی جو جنسیات کی ابجد تک سے ناواقف ہیں۔ گر تنہائی میسر آئی تو بدن نوچ لیے، ورنہ چلتی سڑک پر نظروں سے لمس محسوس کر لیے۔ عصمت پر چرکا نگاہوں سے بھی تو لگایا جا سکتا ہے۔
کسی جگہ پڑھا یا سنا تھا کہ عورت کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز اس مرد کے ساتھ سونا ہے جس کو وہ پسند نہیں کرتی۔ میں ایک مرد ہوں، اسی لیے اس تکلیف کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔ میرے تخیل کو وہ پیمانہ ودیعت ہی نہیں ہوا جو کرب اور غم کی اس شدت کو ماپ سکے کہ ایک ہی وقت میں جب بدن اور روح دونوں پر کاری ضربیں لگائی جا رہی ہوں تب احساسِ اذیت کس انتہا کو چھو رہا ہوتا ہے؟ جب عصمتوں کے محافظ آنچل لیر لیر ہو رہے ہوتے ہیں اور خوف سے آنکھیں باہر آ رہی ہوتی ہیں، ان لمحات کو فقط سوچا جا سکتا ہے، محسوس نہیں کیا جا سکتا۔
گولڑہ شریف میں بھائیوں کے ہاتھوں لُٹنے والی چودہ برس کی پری ہو یا گرجا روڈ راولپنڈی میں سگے باپ کی حاملہ بننے والی تتلی، پروں کو نوچے جاتے وقت اٹھنے والی درد کی ٹیسوں کو میں کیا جانوں۔ ہڈیوں کے پنجر میں رہنے والی دہلی کی چھیاسی سالہ دادی ہو یا لکھنؤ کی چار ماہ کی کلی، کلکتہ کی ڈاکٹر مومیتا ہو یا قصور کی زینب انصاری، میرا مردانہ جسم اس تکلیف کی تفسیر سمجھنے سے قاصر ہے۔
بھیڑیا نے ایک بکری کو دبوچا ہوا تھا، وہ پوری قوت سے منمنا رہی تھی، اس کے نرخرے سے خون نکل رہا تھا اور بھیڑیا مزے سے پیاس بجھا رہا تھا۔ انسان نے انسان کی بیٹی کو دبوچا ہوا تھا، وہ پوری قوت سے چلا رہی تھی اور انسان مزے سے پیاس بجھا رہا تھا۔ واقعی ژاں پال سارتر سے سچ کہا تھا کہ ”انسان تمام جانوروں کی نسبت زیادہ مکروہ اور خون خوار درندہ ہے۔“ ہم مجموعی طور پر وحشی ہو چکے ہیں۔ بظاہر نارمل دِکھنے والے نے بھی اپنے اندر کتنا بڑا خون خوار پال رکھا ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کبھی کبھی لگتا ہے evolution تھیوری اب ریورس گیئر لگا رہی ہے، وہ بھی ہائی اسپیڈ کے ساتھ۔
جانور کو انسان بننے میں کئی ملین سال لگے تھے، اب انسان سے جانور بننے کے مراحل دِنوں میں طے ہو رہے ہیں۔

